Friday, 27 August 2010

اقوال ۳۹۱ تا ۴۲۰

اقوال ۳۹۱ تا ۴۲۰
391دنیا سے بے تعلق رہو ,تاکہ اللہ تم میں دنیا کی برائیوں کا احساس پیدا کرے .اور غافل نہ ہو اس لیے کہ تمہاری طرف سے غافل نہیں ہوا جائے گا .

392بات کرو ,تاکہ پہچانے جاؤکیونکہ آدمی اپنی زبا ن کے نیچے پوشیدہ ہے .

393جو دنیا سے تمہیں حاصل ہوا اسے لے لو اور جو چیز رخ پھیر لے اس سے منہ موڑ ے رہو .اور اگر ایسا نہ کر سکو تو پھر تحصیل و طلب میں میانہ روی اختیار کرو .

394بہت سے کلمے حملہ سے زیادہ اثر ونفوذ رکھتے ہیں .

395جس چیز پر قناعت کر لی جائے و ہ کافی ہے .

396موت ہو اور ذلت نہ ہو .کم ملے اور دوسروں کو وسیلہ بنانا نہ ہو ,جسے بیٹھے بٹھائے نہیں ملتا اسے اٹھنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا زمانہ دو2 دنوں پر منقسم ہے ایک دن تمہارے موافق اور ایک تمہارے مخالف .جب موافق ہوتو اتراؤ نہیں . اور جب مخالف ہو تو صبر کرو .

397بہترین خوشبو مشک ہے جس کا ظرف ہلکا اورمہک عطر بار ہے .

398فخر و سر بلندی کو چھوڑ دو ,تکبر و غرو ر کو مٹاؤ اور قبر کو یاد رکھو .

399ایک حق فرزند کا باپ پر ہوتا ہے اور ایک حق باپ کا فرزند پر ہوتا ہے .باپ کا فرزند پر یہ حق ہے کہ وہ سوائے اللہ کی معصیت کے ہر با ت میں اس کی اطاعت کرے اور فرزند کا باپ پر یہ حق ہے کہ اس کا نام اچھا تجویز کرے ,اچھے اخلاق و آداب سے آراستہ کرے اور قرآن کی اسے تعلیم دے .

400چشم بد ,افسوس ,سحر اورفال نیک ان سب میں واقعیت ہے .البتہ فال بد اور ایک بیماری کا دوسرے کو لگ جانا غلط ہے . خوشبو سونگھنا ,شہد کھانا,سواری کرنا اور سبزے پر نظرکرنا غم و اندوہ اور قلق و اضطراب کو دور کرتا ہے .
طیرہ کے معنی فال بد اور تفا ل کے معنی فال نیک کے ہوتے ہیں .شرعی لحاظ سے کسی چیز سے برا شگون لینا کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور یہ صرف توہمات کا کر شمہ ہے اس بد شگوفی کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ کیومرث کےبیٹوں نے رات کے پہلے حصہ میں مرغ کی اذان سنی اور اتفاق سے اسی رات کو کیومرث کا انتقال ہوگیا جس سے انہیں یہ تو ہم ہو ا کہ مرغ کا بے وقت اذان دینا کسی خبر غم کا پیش خیمہ ہوتاہے چنانچہ انہوں نے اس مرغ کو ذبح کر دیا ,اور بعد میں مختلف حادثوں کا مختلف چیزوں سے خصوصی تعلق قائم کرلیاگیا.
البتہ فال نیک لینے میں کوئی مضائقہ نہیں .چنانچہ جب ہجرت پیغمبر کے بعد قریش نے یہ اعلان کیا کہ جو آنحضرت کو گرفتار کرے گا ,تو اسے سو اونٹ انعام میں دیئے جائیں گے تو ابو بریدہ اسلمی اپنے قبیلہ کے ستر آدمیوں کے ہمراہ آپ کے تعاقب میں روانہ ہوا . اور جب ایک منزل پرآمنا سامنا ہوا توآنحضرت نے پوچھا تم کون ہو اس نے کہا کہ بریدہ ابن خصیب۔ حضرت نے یہ نام سنا تو فرمایا برادمرنا ہمار امعاملہ خوشگوار ہوگیا .پھر پوچھا کہ کس قبیلہ سے ہو ؟اس نے کہا کہ اسلم سے .تو فرمایا کہ سلمنا ہم نے سلامتی پائی .پھر دریافت کیا کہ کس شاخ سے ہواس نے کہا کہ بنی سہم سے .تو فرمایا کہ خرج سھمک تمہارا تیر نکل گیا .بریدہ اس انداز سے گفتگو اور حسن گفتار سے بہت متاثر ہوا .اور پوچھا کہ آپ کون ہیں فرمایا کہ محمّد ابن عبداللہ یہ سن کر بے ساختہ اس کی زبان سے نکلا .اشھد انّک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اور قریش کے انعام سے دستبردار ہوکر دولت ایمان سے مالا مال ہوگیا .
401لوگوں سے ان کے اخلاق و اطوار میں ہمرنگ ہونا ان کے شر سے محفوظ ہوجاناہے .

402ایک ہم کلام ہونے والے سے کہ جس نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر ایک بات کہی تھی ,فرمایا تم پر نکلتے ہی اڑنے لگے اور جوان ہونے سے پہلے بلبلانے لگے .
(سید رضی فرماتے ہیں کہ )اس فقرہ میں شکیر سے مراد وہ پر ہیں جوپہلے پہل نکلتے ہیں اور ابھی مضبوط و مستحکم نہیں ہونے پاتے , اور سقب اونٹ کے بچے کوکہتے ہیں اور وہ اس وقت بلبلاتاہے .جب جوان ہوتا ہے.
403جو شخص مختلف چیز وں کا طلب گار ہوتا ہے اس کی ساری تدبیریں ناکا م ہوجاتی ہیں .»طلب الکل فوت الکل «.

404حضرت سے لاحول ولا قوۃ الا باللہ (قوت وتوانائی نہیں مگر اللہ کے سبب سے )کے معنی دریافت کئے گئے تو آپ نے فرمایا کہ ہم خدا کے ساتھ کسی چیز کے مالک نہیں اس نے جن چیزوں کا ہمیں مالک بنایا ہے بس ہم انہیں پر اختیار رکھتے ہیں .تو جب اس نے ہمیں ایسی چیز کا مالک بنا یا جس پر وہ ہم سے زیاد ہ اختیا ر رکھتا ہے تو ہم پر شرعی ذمہ داریاں عائد کیں .اور جب اس چیز کو واپس لے گا تو ہم سے اس ذمہ داری کو بھی بر طرف کردے گا .
مطلب یہ ہے کہ انسان کو کسی شے پر مستقلاً تملک و اختیار حاصل نہیں بلکہ یہ حق ملکیت و قوت تصرف قدرت کا بخشا ہوا ایک عطیہ ہے اور جب تک یہ تملک و اختیار باقی رہتا ہے .تکلیف شرعی بر قرار رہتی ہے اور اسے سلب کرلیا جاتا ہے تو تکلیف بھی برطرف ہوجاتی ہے .کیونکہ ایسی صورت میں تکلیف کا عائد کرنا تکلیف مالایطاق ہے جو کسی حکیم و دانا کی طرف سے عائد نہیں ہوسکتی .چنانچہ اللہ سبحانہنے اعضا و جوارح میں اعمال کے بجالانے کی قوت و دیعت فرمانے کے بعد ان سے تکلیف متعلق کی .لہٰذاجب تک یہ قوت باقی رہے گی ان سے تکلیف کا تعلق رہے گا .اور اس قوت کے سلب کرلینے کے بعد تکلیف بھی برطرف ہوجائے گی ,جیسے زکوٰۃ کا فریضہ اسی وقت عائد ہوتا ہے جب دولت ہو ,اور جب دولت چھین لے گا .تو اس کے نتیجہ میں زکوٰۃ کا وجوب بھی ساقط کر دے گا .کیونکہ ایسی صور ت میں تکلیف کا عائد کرنا عقلاًقبیح ہے .
405عمار بن یاسر کو جب مغیر ہ ابن شعبہ سے سوال وجواب کرتے سنا تو ان سے فرمایا !اے عمار اسے چھوڑ دو اس نے دین سے بس وہ لیا ہے جو اسے دنیا سے قریب کر ے اور اس نے جان بوجھ کراپنے کو اشتباہ میں ڈال رکھا ہے تاکہ ان شبہات کو اپنی لغزشوں کے لیے بہانہ قرار دے سکے .

406اللہ کے یہاں اجر کے لیے دولتمندوں کا فقیروں سے عجز و انکساری برتنا کتنا اچھا ہے اور اس سے اچھا فقرا کا اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے دولتمندوں کے مقابلہ میں غرور سے پیش آنا ہے .

407اللہ نے کسی شخص کو عقل ودیعت نہیں کی ہے مگر یہ کہ وہ کسی دن اس کے ذریعہ سے اسے تباہی سے بچائے گا .

408جو حق سے ٹکرائے گا,حق اسے پچھاڑ دے گا .

409دل آنکھوں کا صحیفہ ہے .

410تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے .

411جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو .اور جس نے تمہیں راہ پر لگا یا ہے اس کے مقابلہ میں فصاحت ُگفتار کا مظاہرہ نہ کرو .

412تمہارے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو ,اس سے خود بھی پرہیز کرو .

413جو انمردوں کی طرح صبر کرے ,نہیں تو سادہ لوحوں کی طرح بھو ل بھال کر چپ ہوگا .

414ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اشعث ابن قیس کو تعزیت دیتے ہوئے فرمایا :اگر بزرگوں کی طرح تم نے صبر کیا تو خیر !ورنہ چوپاؤں کی طرح ایک دن بھول جاؤگے .

415دنیا کے متعلق فرمایا!
دنیا دھوکے باز ,نقصان رساں اور رواں دواں ہے .اللہ نے اپنے دوستوں کے لیے اسے بطور ثواب پسند نہیں کیا ,اور نہ دشمنوں کے لیے اسے بطور سزا پسند کیا.اہل دنیا سواروں کے مانند ہیں کہ ابھی انہوں نے منزل کی ہی تھی کہ ہنکانے والے نے انہیں للکارا ,اور چل دیئے .

416اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا :اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و .اس لیے کہ تم دو2 میں سے ایک کے لیے چھوڑ و گے .ایک وہ جو اس مال کو خدا کی اطاعت میں صرف کرے گا تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب بنا وہ اس کے لیے راحت وآرام کا باعث ہوگا.یاوہ ہوگا جو اسے خدا کی معصیت میں صرف کرے ,تو وہ تمہارے جمع کر دہ مال کی وجہ سے بد بخت ہوگا اور اس صورت میں تم خدا کی معصیت میںاس کے معین و مدد گار ہوگے ,اور ان دونوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ اسے اپنے نفس پر ترجیح دو .
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلا م ایک دوسری صورت میں بھی روایت کیا گیا ہے جو یہ ہے
جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے تم سے پہلے اس کے مالک دوسرے تھے .اور یہ تمہاربعد دوسروں کی طرف پلٹ جائے گا اور تم میں سے دو میں سے ایک کے لیے جمع کرنے والے ہو .ایک وہ جو تمہارے جمع کئے ہوئے مال کو خد اکی اطاعت میں صرف کرے گا .تو جو مال تمہارے لیے بدبختیکا سبب ہوا وہ اس کے لیے سعادت و نیک بختی کا سبب ہوگا وہ جو اس مال سے اللہ کی معصیت کرے تو جو تم نے اس کے لیے جمع کیا وہ تمہارے لیے بد بختیکا سبب ہوگا اور ان دونوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں کہ اسے اپنی پشت کو گرانبار کرو ,جو گزر گیا اس کے لیے اللہ کی رحمت اور جو باقی رہ گیا ہے اس کے لیے رزق الہی کے امیدوارر ہو .
417ایک کہنے والے نے آپ کے سامنے استغفراللہ کہا.تو آپ نے اس سے فرمایا .
تمہاری ماں تمہارا سوگ منائے کچھ معلوم بھی ہے کہ استغفار کیاہے ؟استغفار بلند منزلت لوگوں کامقام ہے اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو چھ باتوں پر حاوی ہے .پہلے کہ جو ہوچکااس پر نادم ہو ,دوسرے ہمیشہ کے لیے اس کے مرتکب نہ ہونے کاتہیا کرنا ,تیسرے یہ کہ مخلوق کے حقوق ادا کرنا یہاں تک کہ اللہ کے حضور میں اس حالت میں پہنچو کہ تمہارا دامن پاک و صاف اورتم پر کوئی مواخذہ نہ ہو.چوتھے یہ کہ جو فرائض تم پر عائد کئے ہوئے تھے ,اور تم نے انہیں ضائع کردیاتھا .انہیں اب پورے طور پر بجالاؤ .پانچویں یہ کہ جو گوشت (کل )حرام سے نشونما پاتا رہا ہے ,اس کو غم و اندوہ سے پگھلاؤیہاں تک کے کھال کو ہڈیوں سے ملادو کہ پھرسے ان دونوں کے درمیان نیا گوشت پیدا ہو,چھٹے یہ کہ اپنے جسم کو اطاعت کے رنج سے آشنا کرو .جس طرح اسے گناہ کی شیرینی سے لذت اندوز کیا ہے .تو اب کہو »استغفراللہ «.

418حلم و تحمل ایک پورا قبیلہ ہے .

4196بیچارہ آدمی کتنا بے بس ہے موت اس سے نہاں ,بیماریاں اس سے پوشیدہ اور اس کے اعمال محفوظ ہیں .مچھر کے کاٹنے سے چیخ اٹھتاہے ,اچھو لگنے سے مرجاتا ہے اور پسینہ اس میں بدبو پیدا کر دیتا ہے .

420وارد ہوا ہے کہ حضرت اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ,کہ ان کے سامنے سے ایک حسین عورت کا گزر ہوا جسے انہوں نے دیکھنا شروع کیا جس پر حضرت نے فرمایا:
ان مردوں کی آنکھیں تاکنے والی ہیں اور یہ نظر باز ی ان کی خواہشات کو برانگیختہ کرنے کاسبب ہے لہٰذا تم میں سے کسی کی نظر ایسی عورت پر پڑے کہ جو اسے اچھی معلوم ہوتو اسے اپنی زوجہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ عورت بھی اس عورت کے مانند ہے .یہ سن کر ایک خارجی نے کہا کہ خدااس کافرکو قتل کر ے یہ کتنا برا فقیہ ہے .یہ سن کر لوگ اسے قتل کرنے اٹھے.حضرت نے فرمایا کہ ٹھہرو !زیادہ سے زیادہ گالی کا بدلہ گالی ہوسکتا ہے ,یااس کے گناہ ہی سے درگزر کرو .


اقوال ۳۶۱ تا ۳۹۰

اقوال ۳۶۱ تا ۳۹۰
361جب اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرو، تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو، پھر اپنی حاجت مانگو، کیونکہ خداوند عالم اس سے بلند تر ہے کہ اس سے دوحاجتیں طلب کی جائیں اور وہ ایک پوری کردے اور ایک روک لے۔

362جسے اپنی آبرو عزیز ہو، وہ لڑائی جھگڑے سے کنارہ کش رہے۔

363امکان پیداہونے سے پہلے کسی کام میں جلد بازی کرنا اور موقع آنے پر دیر کرنا دونوں حماقت میں داخل ہیں۔

364جو بات نہ ہونے والی ہو اس کے متعلق سوال نہ کرو۔ اس لیے کہ جو ہے، وہی تمہارے لیے کافی ہے۔

365فکر ایک روشن آئینہ ہے، عبر ت اندوزی ایک خیر خواہ متنبہ کرنے والی چیز ہے، نفس کی اصلاح کے لیے یہی کافی ہے کہ جن چیزوں کو دوسروں کے لیے برا سمجھتے ہو ان سے بچ کر رہو۔

366علم عمل سے وابستہ ہے۔ لہٰذا جو جانتا ہے وہ عمل بھی کرتا ہے اور علم عمل کو پکارتا ہے۔ اگروہ لبیک کہتا ہے تو بہتر، ورنہ وہ بھی اس سے رخصت ہوجاتا ہے۔

367اے لوگو! دنیا کا سازوسامان سوکھا سڑا بھوسا ہے جو وبا پید ا کرنے والاہے۔ لہٰذ ا اس چراگاہ سے دور رہو کہ جس سے چل چلاؤ باطمینان منزل کرنے سے زیادہ فائدہ مند ہے اورصرف بقدر کفاف لے لینا اس دولت و ثروت سے زیادہ برکت والا ہے اس کے دولت مندوں کے لیے فقر طے ہوچکا ہے اور اس سے بے نیاز رہنے والوں کو راحت کا سہارا دیا گیا ہے۔ جس کو اس کی سج دھج لبھا لیتی ہے، وہ انجام کار اس کی دونوں آنکھوں کو اندھا کردیتی ہے اور جو اس کی چاہت کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ اس کے دل کو ایسے غموں سے بھر دیتی ہے جو دل کی گہرائیوں میں تلاطم برپا کر تے ہیں یوں کہ کبھی کوئی فکر اسے گھیرے رہتی ہے، اور کبھی کوئی اندیشہ اسے رنجیدہ بنائے رہتا ہے۔ وہ اسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کا گلاگھوٹاجانے لگتا ہے اور وہ بیابان میں ڈال دیا جاتا ہے اس عالم میں کہ اس کے دل کی دونوں رگیں ٹوٹ چکی ہوتی ہیں۔ اللہ کو اس کا فنا کرنا سہل اور اس کے بھائی بندوں کا اسے قبر میں اتارنا آسان ہوجاتا ہے.مومن دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتاہے اور اس سے اتنی ہی غذا حاصل کرتا ہے۔ جتنی پیٹ کی ضرورت مجبور کرتی ہے اور اس کے بارے میں ہر بات کو بغض و عناد کے کانوں سے سنتا ہے اگر کسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مال دار ہو گیا ہے تو پھر یہ بھی کہنے میں آتا ہے کہ نادار ہو گیا ہے اگر زندگی پر خوشی کی جاتی ہے تو مرنے پرغم بھی ہوتا ہے۔ یہ حالت ہے حالانکہ ابھی وہ دن نہیں آیا کہ جس میں پوری مایوسی چھا جائے گی۔

368اللہ سبحانہ نے اپنی اطاعت پرثواب اور اپنی معصیت پر سزا اس لیے رکھی ہے کہ اپنے بندوں کوعذاب سے دور کرے اور جنت کی طرف گھیرکرلے جائے.

369لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ان میں صرف قرآن کے نقوش اور اسلام کا صر ف نام باقی رہ جائے گا، اس وقت مسجدیں تعمیر و زینت کے لحا ظ سے آباد اور ہدایت کے اعتبار سے ویران ہوں گی۔ ان میں ٹھہرنے والے اور انہیں آباد کرنے والے تمام اہل زمین میں سب سے بدتر ہوں گے، وہ فتنوں کا سرچشمہ اور گناہوں کا مرکز ہو ں گے جو ان فتنوں سے منہ موڑ ے گا، انہیں انہی فتنوں کی طرف پلٹائیں گے اور جوقدم پیچھے ہٹائے گا، انہیں دھکیل کر ان کی طرف لائیں گے۔ ارشاد الہی ہے کہ »مجھے اپنی ذات کی قسم میں ان لوگوں پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس میں حلیم و بردبار کو حیران و سر گردان چھوڑ دوں گا «.
چنانچہ وہ ایسا ہی کرے گا، ہم اللہ سے غفلت کی ٹھوکروں سے عفو کے خواستگار ہیں۔

370جب بھی آپ منبر پر رونق افروز ہوتے تو ایسا اتفاق کم ہوتا تھا کہ خطبہ سے پہلے یہ کلما ت نہ فرمائیں۔
اے لوگو! اللہ سے ڈرو,کیونکہ کوئی شخص بے کار پیدا نہیں کیاگیا کہ وہ کھیل کود میں پڑ جائے، اور نہ اسے بے قید و بند چھوڑ دیا گیا ہےکہ بیہودگیا ں کرنے لگے اور دنیا جو اس کے لیے آراستہ و پیراستہ ہے اس آخرت کا عوض نہیں ہوسکتی جس کو اس کی غلط نگاہ نے بری صورت میں پیش کیا ہے وہ فریب خوردہ جو اپنی بلند ہمتی سے دنیا حاصل کرنے میں کامیاب ہو اس دوسرے شخص کے مانند نہیں ہوسکتا جس نے تھوڑا بہت آخرت کا حصہ حاصل کرلیا ہو۔

371کوئی شرف اسلام سے بلند تر نہیں کوئی بزرگی تقویٰ سے زیادہ با وقار نہیں، کوئی پناہ گاہ پرہیز گاری سے بہتر نہیں، کوئی سفارش کرنے والا توبہ سے بڑھ کر کامیاب نہیں، کوئی خزانہ قناعت سے زیادہ بے نیاز کرنے والا نہیں کوئی مال بقدر کفاف پر رضا مند رہنے سے بڑھ کرفقر و احتیاج کا دور کرنے والا نہیں۔ جوشخص قدر حاجت پر اکتفا کرلیتا ہے وہ آسائش و راحت پالیتا ہے۔ اورآرام و آسودگی میں منزل بنا لیتا ہے۔ خواہش و رغبت، رنج و تکلیف کی کلید اور مشقت و اندو ہ کی سوار ی ہے.حرص تکبر اور حسد گناہوں میں پھاند پڑنے کے محرکا ت ہیں اور بدکرداری تمام برے عیوب کو حاوی ہے۔

372جابر ابن عبداللہ انصار ی سے فرمایا اے جابر! چارقسم کے آدمیوں سے دین و دنیا کا قیام ہے عالم جو اپنے علم کو کام میں لاتا ہو,جاہل جو علم کے حاصل کرنے میں عار نہ کرتا ہو,سخی جو داد و دہش میں بخل نہ کرتا ہو، اور فقیر جو آخرت کو دنیا کے عوض نہ بیچتا ہو۔ تو جب عالم اپنے علم کو برباد کرے گا، توجاہل اس کے سیکھنے میں عار سمجھے گا اور جب دولت مند نیکی و احسان میں بخل کرے گا تو فقیر اپنی آخرت دنیا کے بدلے بیچ ڈالے گا۔
اے جابر ! جس پراللہ کی نعمتیں زیادہ ہوں گی لوگوں کی حاجتیں بھی اس کے دامن سے زیادہ وابستہ ہوں گی لہٰذا جوشخص ان نعمتوں پرعائد ہونے والے حقوق کو اللہ کی خاطر ادا کرے گا، وہ ان کے لیے دوام و ہمیشگی کا سامان کرے گا اور جو ان واجب حقوق کے ادا کرنے کے لیے کھڑا نہیں ہو گا وہ انہیں فنا و بربادی کی زد پر لے آئے گا۔

373ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں عبدالرحمٰن ابن ابی لیلیٰ فقیہ سے روایت کی ہے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو ابن اشعث کے ساتھ حجا ج سے لڑنے کے لیے نکلے تھے کہ وہ لوگوں کو جہاد پر ابھارنے کے لیے کہتے تھے کہ جب اہل شام سے لڑنے کے لیے بڑھے تو میں نے علی علیہ السلام کو فرماتے سنا۔
اے اہل ایمان ! جو شخص دیکھے کہ ظلم و عدوان پر عمل ہو رہا ہے اور برائی کی طرف دعوت دی جارہی ہے اور وہ دل سے اسے برا سمجھے، تو وہ (عذاب سے )محفوظ اور (گناہ سے) بری ہو گیا، اور جوزبان سے اسے برا کہے وہ ماجور ہے صرف دل سے بر اسمجھنے والے سے افضل ہے اور جو شخص شمشیر بکف ہو کر اس برائی کے خلاف کھڑا ہوتا کہ اللہ کا بول بالا ہو، اور ظالموں کی بات گر جائے تو یہی وہ شخص ہے جس نے ہدایت کی راہ کو پالیا اور سیدھے راستے پر ہولیا اور اس کے دل میں یقین نے روشنی پھیلا دی۔

374اسی انداز پرحضرت کا ایک یہ کلام ہے لوگوں میں سے ایک وہ ہے جو برائی کو ہاتھ، زبان اور دل سے برا سمجھتا ہے۔ چنانچہ اس نے اچھی خصلتوں کو پورے طور پر حاصل کر لیا ہے اور ایک وہ ہے جو زبان اور دل سے براسمجھتا ہے لیکن ہاتھ سے اسے نہیں مٹاتا تو اس نے اچھی خصلتوں میں سے دوخصلتوں سے ربط رکھا اور ایک خصلت کو رائیگاں کر دیا اور ایک وہ ہے جو دل سے بر ا سمجھتا ہے لیکن اسے مٹانے کے لیے ہاتھ اور زبان کسی سے کام نہیں لیتا اس نے تین خصلتوں میں سے دوعمدہ خصلتوں کو ضائع کردیا، اور صرف ایک سے وابستہ رہا اور ایک وہ ہے جو نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے اور نہ دل سے برائی کی روک تھام کرتا ہے، یہ زندوں میں (چلتی پھرتی ہوئی )لاش ہے۔
تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمام اعمالِ خیر اور جہاد فی سبیل اللہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقابلہ میں ایسے ہیں، جیسے گہرے دریا میں لعاب دہن کے ریزے ہوں یہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ایسا نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے موت قبل از وقت آجائے، یا رزق معین میں کمی ہوجائے اور ان سب سے بہتر وہ حق بات ہے جو کسی جابر حکمرا ن کے سامنے کہی جائے۔

375ابو حجیفہ سے روایت ہے کہ انہوں نے امیر المومنین علیہ السّلام کو فرماتے سنا کہ !
پہلا جہاد کہ جس سے تم مغلوب ہو جاؤگے، ہاتھ کا جہاد ہے۔ پھر زبان کا، پھر دل کا جس نے د ل سے بھلائی کو اچھائی اور برائی کو بر ا نہ سمجھا، اسے الٹ پلٹ کر دیا جائے گا۔ اس طرح کہ اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر کردیا جائے گا۔

376حق گراں، مگر خوش گوار ہوتا ہے اور باطل ہلکا,مگر وبا پیداکرنے والا ہوتا ہے۔

377اس امت کے بہترین شخص کے بارے میں بھی اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن نہ ہو جاؤ.کیونکہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ »گھاٹا اٹھانے والے لوگ ہی اللہ کے عذاب سے مطمئن ہوبیٹھے ہیں «.اور اس امت کے بدترین آدمی کے بارے میں بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ کیونکہ ارشاد الہی ہے کہ »خداکی رحمت سے کافروں کے علاوہ کوئی اورناامید نہیں ہوتا «.

378بخل تمام برے عیوب کا مجموعہ ہے اور ایسی مہار ہے جس سے ہربرائی کی طرف کھنچ کر جایاجا سکتا ہے۔

379رزق دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس کی تلا ش میں تم ہو، اور ایک وہ جوتمہاری جستجو میں ہے۔ اگر تم اس تک نہ پہنچ سکو گے، تو وہ تم تک پہنچ کررہے گا۔ لہٰذ ا اپنے ایک دن کی فکر پر سال بھر کی فکریں نہ لادو۔ جو ہر دن کارزق ہے وہ تمہارے لیے کافی ہے، تو اللہ ہر نئے دن جو روزی اس نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے وہ تمہیں دے گا اور تمہاری عمر کا کوئی سال باقی نہیں ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی طلبگارتمہارے رزق کی طرف تم سے آگے بڑھ نہیں سکتا اور نہ کوئی غلبہ پانے والا اس میں تم پر غالب آسکتا ہے اور جو تمہارے لیے مقدر ہوچکا ہے اس کے ملنے میں کبھی تاخیر نہ ہوگی.
(سید رضی فرماتے ہیں کہ) یہ کلام اسی باب میں پہلے بھی درج ہوچکا ہے۔ مگر یہاں کچھ زیادہ وضاحت و تشریح کے ساتھ تھا,اس لیے ہم نے اس کا اعادہ کیا ہے اس قاعدہ کی بناء پر جو کتا ب کے دیباچہ میں گزر چکا ہے۔
380بہت سے لوگ ایسے دن کا سامنا کرتے ہیں جس سے انہیں پیٹھ پھرانا نہیں ہوتا۔ اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ رات کے پہلے حصہ میں ان پر رشک کیا جاتا ہے اورآخر ی حصہ میں ان پر رونے والیوں کا کہرام بپاہوتا ہے.

381کلام تمہارے قید وبند میں ہے جب تک تم نے اسے کہا نہیں ہے اور جب کہہ دیا، تو تم اس کی قید و بند میں ہو۔ لہٰذا اپنی زبان کی اسی طرح حفاظت کرو جس طرح اپنے سونے چاندی کی کرتے ہو کیونکہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی بڑی نعمت کو چھین لیتی اور مصیبت کو نازل کردیتی ہیں۔

382جو نہیں جانتے اسے نہ کہو، بلکہ جوجانتے ہو، وہ بھی سب کاسب نہ کہو۔ کیونکہ اللہ سبحانہ نے تمہارے تمام اعضا پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں جن کے ذریعہ قیامت کے دن تم پر حجت لائے گا۔

383اس بات سے ڈرتے رہو کہ اللہ تمہیں اپنی معصیت کے وقت موجود اور اپنی اطاعت کے وقت غیر حاضر پائے تو تمہارا شمار گھاٹا اٹھانے والوں میں ہو گا.جب قوی ودانا ثابت ہونا ہو تو اللہ کی اطاعت پر اپنی قو ت دکھاؤاور کمزور بننا ہو تواس کی معصیت سے کمزوری دکھاؤ.

384دنیا کی حالت دیکھتے ہوئے اس کی طرف جھکنا جہالت ہے اور حسن عمل کے ثواب کا یقین رکھتے ہوئے اس میں کوتاہی کرنا گھاٹا اٹھانا ہے۔ اور پرکھے بغیر ہر ایک پر بھروسا کرلینا عجز و کمزور ی ہے۔

385اللہ کے نزدیک دنیا کی حقارت کے لیے یہی بہت ہے کہ اللہ کی معصیت ہوتی ہے تو اس میں اور اس کے یہاں کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں تو اسے چھوڑنے سے۔

386جو شخص کسی چیز کو طلب کرے تو اسے یا اس کے بعض حصہ کو پالے گا۔ (جونیدہ یا بندہ )

387وہ بھلائی بھلائی نہیں جس کے بعد دوزخ کی آگ ہو۔ اور وہ برائی برائی نہیں جس کے بعد جنت ہو۔ جنت کے سامنے ہر نعمت حقیر، اور دوزخ کے مقابلہ میں ہر مصیبت راحت ہے۔

388اس بات کو جانے رہو کہ فقر و فاقہ ایک مصیبت ہے، اور فقر سے زیادہ سخت جسمانی امراض ہیں اور جسمانی امراض سے زیادہ سخت دل کا روگ ہے۔ یاد رکھو کہ مال کی فراوانی ایک نعمت ہے اور مال کی فراوانی سے بہتر صحت بدن ہے، اور صحت بد ن سے بہتر دل کی پرہیز گاری ہے۔

389جسے عمل پیچھے ہٹائے، اسے نسب آگے نہیں بڑھا سکتا (ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے )جسے ذاتی شرف و منزلت حاصل نہ ہو اسے آباؤ اجداد کی منزلت کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔

390مومن کے اوقات تین ساعتوں پر منقسم ہوتے ہیں ایک وہ کہ جس میں اپنے پروردگار سے رازو نیاز کی باتیں کرتا ہے۔ اور ایک وہ جس میں اپنے معاش کا سروسامان کرتا ہے اور وہ کہ جس میں حلال و پاکیزہ لذتوں میں اپنے نفس کو آزاد چھوڑ دیتا ہے۔ عقلمند آدمی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ گھر سے دور ہو، مگر تین چیزوں کے لیے »معاش«کے بندوبست کے لیے یا امر آخرت کی طرف قدم اٹھانے کے لیے یا ایسی لذت اندوزی کے لیے کہ جو حرام نہ ہو.