<?xml version='1.0' encoding='UTF-8'?><?xml-stylesheet href="http://www.blogger.com/styles/atom.css" type="text/css"?><feed xmlns='http://www.w3.org/2005/Atom' xmlns:openSearch='http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/' xmlns:georss='http://www.georss.org/georss' xmlns:gd='http://schemas.google.com/g/2005' xmlns:thr='http://purl.org/syndication/thread/1.0'><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731</id><updated>2011-07-08T04:57:58.638-07:00</updated><category term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>نہج البلاغہ</title><subtitle type='html'></subtitle><link rel='http://schemas.google.com/g/2005#feed' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/posts/default'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default?max-results=100'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/'/><link rel='hub' href='http://pubsubhubbub.appspot.com/'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><generator version='7.00' uri='http://www.blogger.com'>Blogger</generator><openSearch:totalResults>69</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>100</openSearch:itemsPerPage><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-922149476619989947</id><published>2010-08-27T10:29:00.002-07:00</published><updated>2010-08-27T10:31:15.715-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>اقوال ۴۵۱ تا ۴۸۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;اقوال ۴۵۱ تا ۴۸۰&lt;br /&gt;451جو تمہاری طر ف جھکے اس سے بے اعتنائی برتنا اپنے خط ونصیب میں خسارہ کرنا ہے، اور جوتم سے بے رخی اختیار کرے، اس کی طرف جھکنا نفس کی ذلت ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;452اصل فقر و غنا (قیامت میں )اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہوگا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;453زبیر ہمیشہ ہمارے گھر کا آدمی رہا یہاں تک کہ اس کا بدبخت بیٹا عبداللہ نمودار ہوا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;454فرزند آدم کو فخر ومباہات سے کیا ربط، جب کہ اس کی ابتدائ نطفہ اور انتہا مردار ہے، وہ نہ اپنے لیے روز ی کاسامان کر سکتا ہے، نہ موت کو اپنے سے ہٹا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;اگر انسان اپنی تخلیق کی ابتدائی صورت اور جسمانی شکست و ریخت کے بعد کی حالت کا تصور کرے، تو وہ فخر وغرور کے بجائے اپنی حقارت و پستی کا اعتراف کر نے پر مجبور ہوگا۔ کیونکہ وہ دیکھے گا کہ ایک وقت تھا، کہ صفحہ ہستی پر ا س کا نام ونشان بھی نہ تھا کہ خدا وند عالم نے نطفہ کے ایک حقیر قطرہ سے اس کے وجود کی بنیاد رکھی جو شکم مادر میں ایک لوتھڑے کی صورت میں رونما ہوا۔ اور غلیظ خون سے پلتا اور نشونما پاتا رہا اور جب جسمانی تکمیل کے بعد زمین پر قدم رکھا تو اتنا بے بس اور لاچار کہ نہ بھوک پیاس پر اختیار، نہ مرض و صحت پر قابو، نہ نفع نقصان ہاتھ میں، اور نہ موت و حیات بس میں، نہ معلوم کب ہاتھ پیروں کی حرکت جواب دے جائے حس و شعور کی قوتیں ساتھ چھوڑ جائیں، آنکھوں کا نور چھن جائے اور کانوں کی سماعت سلب ہوجائے، او رکب موت روح کوجسم سے الگ کرے,اور اسے گلنے سڑنے کے لیے چھوڑجائے، تاکہ چیل، گدھیں اسے نوچیں، یاقبر میں اسے کیڑے کھائیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مابال من اولہ نطفۃ وجیفۃ اٰخر ہ یفخر ;&lt;br /&gt;455حضر ت سے پوچھا گیا کہ سب سے بڑا شاعر کون ہے ؟فرمایا کہ شعرا کی دوڑ ایک روش پر نہ تھی کہ گوئی سبقت لے جانے سے ان کی آخری حد کو پہچانا جائے، اور اگر ایک کو ترجیح دینا ہی ہے تو پھر ملک ضلیل (گمراہ بادشاہ)ہے۔&lt;br /&gt;مطلب یہ ہے کہ شعراء میں موازنہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے، جب ان کے توسن فکر ایک ہی میدان سخن میں جولانیاں دکھائیں اور جب کہ ایک روش دوسرے کی روش سے جدا اور ایک کا اسلوب کلام دوسر ے اسلوب کلام سے مختلف ہے، تو یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ کو ن میدان ہار گیا اور کون سبقت لے گیا۔ چنانچہ مختلف اعتبارات سے ایک دوسرے پر ترجیح دی جاتی ہے، اور اگر کوئی کسی لحاظ سے اور کوئی کسی لحاظ سے شعرا سمجھا جاتا رہا ہے جیسا کہ مشہور مقولہ ہے کہ :&lt;br /&gt;عرب کا سب سے بڑا شاعر امرئالقیس ہے جب وہ سوار ہوا اور اعشی جب وہ کسی چیز کا خواہشمند ہواور نابغہ جب اسے خو ف و ہراس ہو.&lt;br /&gt;لیکن اس تقیید کے باوجود امراء القیس حسن تخییل و لطف ومحا کات اور ان چھوتی تشبیہات اور نادر استعارات کے لحاظ سے طبقہ اولیٰ کے شعراء میں سب سے اونچی سطح پر سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کے اکثر اشعا ر عام معیار اخلاق سے گرئے ہوئے اور فحش مضامین پر مشتمل ہیں، مگر اس فحش نگار ی کے باوجود اس کی فنی عظمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے کہ فن کار صرف فنی زاویہ نگار سے شعر کے حسن و قبیح کو دیکھتا ہے اور دوسری حیثیات کو جوفن میں دخیل نہیں ہوتیں، نظر انداز کردیتا ہے۔&lt;br /&gt;بہرحال امر اء القیس عرب کانامور شاعر تھا، اور اس کا باپ حجر کندی سلاطین کندہ کے آخری فرد اورصاحب علم و سپاہ تھا اور بنی تغلب کے مشہور شاعر وسخن ران کلیباور مہلہل اس کے ماموں ہوتے تھے اس لیے فطری رجحان کے علاوہ یہ اپنے ننھیال کی طرف سے بھی شعر وسخن کا ورثہ دار تھا اور سرزمین نجد کی آزاد فضا اور عیش و تغم کے گہوارے میں تربیت پانے کی وجہ سے شورہ پستی و سرمستی اس کے ضمیر میں رچ بس گئی تھی۔ چنانچہ حسن وعشق اور نغمہء و شعر کی کیف آور فضاؤں میں پوری طرح کھو گیا۔ باپ نے باز رکھنا چاہا، مگراس کا کوئی نصیحت کار گر نہ ہوئی۔ آخر اس نے مجبو ر ہوکر اسے الگ کردیا الگ ہونے کے بعد اس کے لیے کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ پوری طرح عیش و عشرت دینے پر اتر آیا۔ اور جب اپنے باپ کے مارے جانے کی اسے خبر ہوئی تواس کے قصاص کے لیے کمر بستہ ہو ا او رمختلف قبیلوں کے چکر لگائے تاکہ ان سے مدد حاصل کرے اور جب کہیں سے امداد حاصل نہ ہوئی، تو قیصر روم کے ہاں جاپہنچا اور اس سے مدد کا طالب ہوا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ وہاں بھی اس نے ایک ناشائستہ حرکت کی جس سے قیصر روم نے اسے ٹھکانے لگانے کے لیے ایک زہرآلودہ پیراہن دیا۔ جس کے پہنتے ہی زہر کا اثر اس کے جسم میں سرایت کر گیا اور اسی زہر کے نتیجہ میں اس کی موت واقع ہوئی اور نقرہ میں دفن ہوا۔&lt;br /&gt;456کیا کوئی جوانمرد ہے جو اس چبائے ہوئے لقمہ (دنیا) کو اس کے اہل کے لیے چھوڑدے تمہارے نفسوں کی قیمت صرف جنت ہے۔ لہٰذاجنت کے علاوہ او ر کسی قیمت پر انہیں نہ بیچو.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;457دو ایسے خواہشمند ہیں جو سیر نہیں ہوتے طالب علم اور طلبگار دنیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;458ایمان کی علامت یہ ہے کہ جہاں تمہارے لیے سچائی باعث نقصان ہو، اسے جھو ٹ پر ترجیح دو,خواہ وہ تمہارے فائدہ کا باعث ہو رہا ہو، اور تمہاری باتیں، تمہارے عمل سے زیادہ نہ ہوں اور دوسرے کے متعلق بات کرنے میں اللہ کا خوف کرتے رہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;459تقدیر ٹھہرائے ہوئے انداز ے پر غالب آجاتی ہے۔ یہاں تک کہ چارہ سازی ہی تباہی و آفت بن جاتی ہے۔&lt;br /&gt;سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ مطلب اس سے مختلف لفظوں میں پہلے بھی گزر چکا ہے.&lt;br /&gt;460برد باری اور صبردونوں کا ہمیشہ ہمیشہ کا ساتھ ہے اور یہ دونوں بلند ہمتی کا نتیجہ ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;461کمزور کا یہی زور چلتا ہے کہ وہ پیٹھ پیچھے برائی کرے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;462بہت سے لوگ اس وجہ سے فتنہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ان کے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار کیاجاتاہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;463دنیا ایک دوسری منزل کے لیے پیدا کی گئی ہے نہ اپنے (بقاودوام کے) لیے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;464بنی امیہ کے لیے ایک مرودارواد (مہلت کا میدان )ہے جس میں وہ دوڑ لگا رہے ہیں جب ان میں باہمی اختلاف رونما ہو تو پھر بجو بھی ان پر حملہ کریں تو ان پر غالب آجائیں گے۔&lt;br /&gt;(سید رضی فرماتے ہیں کہ)مرودار واد مفعل کے وزن پر ہے اور اس کے معنی مہلت و فرصت دینے کے ہیں اور یہ بہت فصیح اور عجیب و غریب کلام ہے گویا آپ علیہ السّلام نے ان کے زمانہ مہلت کو ایک میدان سے تشبیہہ دی ہے جس میں انتہا کی حد تک پہنچنے کے لیے دوڑے جائیں گے تو ان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔&lt;br /&gt;یہ پیشن گوئی بنی امیہ کی سلطنت کے زوال کے متعلق ہے جو حر ف بحرف پوری ہوئی۔ اس سلطنت کی بنیاد معاویہ ابن ابی سفیان نے رکھی اور نوے برس گیارہ مہینے اور تیرہ دن کے بعد 132 ہجری میں مروان الحمار پر ختم ہوگئی بنی امیہ کا دور ظلم و ستم اور قہر و استبداد کے لحاظ سے آپ اپنی نظیر تھا۔ اس عہد کے مطلق العنان حکمرانوں نے ایسے ایسے مظالم کئے کہ جن سے اسلام کا دامن داغدار، تاریخ کے اوراق سیاہ اور روح انسانیت مجروح نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنے شخصی اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے ہر تباہی و بربادی کو جائز قرار دے لیا تھا مکہ پر فوجوں کی یلغار خانہ کعبہ پر آگ برسائی، مدینہ کو اپنی بیہمانہ خواہشوں کا مرکز بنایا اور مسلمانوں کے قتل عام سے خون کی ندیاں بہا دیں۔ آخر ان سفاکیوں اور خونریزیوں کے نتیجہ میں ہر طرف بغاوتیں اور سازشیں اٹھ کھڑی ہوئیں اور ان کے اندرونی خلفشار اور باہمی رزم آرائی نے ان کی بربادی کا راستہ ہموار کردیا۔ اگرچہ سیاسی اضطراب ان میں سے پہلے ہی سے شروع ہوچکا تھا مگر ولید ابن یزید کے دور میں کھلم کھلا نزاع کا دروازہ کھل گیا اور ادھر چپکے چپکے بنی عباس نے بھی پر پرزے نکالنا شروع کئے اور مروان الحمار کے دور میں خلافت الہیہ کے نام سے ایک تحریک شروع کردی اور اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے انہیں ابو مسلم خراسانی ایسا امیر سپاہ مل گیا جو سیاسی حالات و واقعات کا جائزہ لینے کے علاوہ فنون حرب میں بھی پوری مہارت رکھتا تھا۔ چنانچہ اس نےخراسان کو مرکز قرار دے کر امو یوں کے خلاف ایک جال بچھادیا اور عباسیوں کو برسر اقتدار لانے میں کامیاب ہوگیا۔&lt;br /&gt;یہ شخص ابتد اء میں گمنام اور غیر معروف تھا.چنانچہ اسی گمنامی و پستی کی بنا پر حضرت نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بجو سے تعبیر کیا ہے کہ جو ادنیٰ لوگوں کے لیے بطور استعارہ استعمال ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;465انصار کی مدح و توصیف میں فرمایا خدا کی قسم انہوں نے اپنی خوش حالی سے اسلام کی اس طرح تربیت کی، جس طرح یکسالہ بچھڑے کو پالا پوسا جاتا ہے۔ اپنے کریم ہاتھو ں اور زبانوں کے ساتھ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;466آنکھ عقب کے لیے تسمہ ہے۔&lt;br /&gt;سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب استعارات میں سے ہے گویا آپ نے عقب کو ظرف سے اور آنکھ کو تسمہ سے تشبیہہ دی ہے اور تسمہ کھول دیا جائے تو برتن میں جو کچھ ہوتا ہے۔ رک نہیں سکتا مشہور واضح ہے کہ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔ مگر کچھ لوگوں نے اسے امیر المومنین علیہ السلام سے بھی روایت کیا ہے چنانچہ مبرد نے اس کا اپنی کتاب »المقتضب«باب اللفظ بالحروف میں ذکر کیا ہے اور ہم نے اپنی کتاب »مجازات الآثار النبویہ«میں اس استعار ہ کے متعلق بحث کی ہے&lt;br /&gt;467ایک کلام کے ضمن آپ نے فرمایا:&lt;br /&gt;لوگوں کے امور کا ایک حاکم و فرماں روا ذمہ دار ہوا جو سیدھے پر چلا اور دوسروں کو اس راہ پر لگایا۔ یہاں تک کہ دین نے اپنا سینہ ٹیک دیا.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;468لوگوں پر ایک ایسا گزند پہنچانے والا دور آئے گا، جس میں مالدار اپنے مال میں بخل کرے گا حالانکہ اسے یہ حکم نہیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ »آپس میں حسن سلوک کو فراموش نہ کرو «اس زمانہ میں شریر لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نیکو کار ذلیل خوار سمجھے جائیں گے اور مجبور اور بے بس لوگوں سے خرید و فروخت کی جائے گی.حالانکہ رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے مجبور و مضطر لوگوں سے (اونے پونے )خریدنے کومنع کیا ہے۔&lt;br /&gt;مجبور و مضطر لوگوں سے معاملہ عموما ًاس طرح ہوتا ہے کہ ان کی احتیاج و ضرور ت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ان سے سستے داموں چیزیں خرید لی جاتی ہیں، اور مہنگے داموں ان کے ہاتھ فروخت کی جاتی ہیں۔ اس پریشان حالی میں ان کی مجبوری و بے بسی سے فائدہ اٹھانے کی کوئی مذہب اجازت نہیں دیتا اورنہ آئین اخلاق میں اس کی کوئی گنجائش ہے کہ دوسرے کی اضطراری کیفیت سے نفع اندوزی کی راہیں نکالی جائیں۔&lt;br /&gt;469میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاکت میں مبتلا ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ جانے والا اور دوسرا جھوٹ و افترا باندھنے والا۔&lt;br /&gt;سید رضی کہتے ہیں کہ حضر ت کایہ قول اس ارشاد کے مانند ہے کہ میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاک ہوئے ایک محبت میں غلو کرنے والا، اور دوسرا دشمنی و عناد رکھنے والا۔&lt;br /&gt;470حضرت سے توحید و عدل کے متعلق سوال کیاگیا توآپ نے فرمایا:&lt;br /&gt;توحید یہ ہے کہ اسے اپنے وہم و تصور کا پابند نہ بناؤ اور یہ عدل ہے کہ اس پر الزامات نہ لگاؤ.&lt;br /&gt;عقیدہ توحید اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک اس میں تنزیہ کی آمیزش نہ ہو۔ یعنی اسے جسم وصورت اور مکان و زمان کے حدود سے بالا ترسمجھتے ہوئے اپنے اوہام و ظنون کا پابند نہ بنایا جائے کیونکہ جسے اوہام و ظنون کا پابند بنایا جائے گا، وہ خدا نہیں ہوگا بلکہ ذہن انسانی کی پیداوار ہوگا اور ذہنی قوتیں دیکھی بھالی ہوئی چیزوں ہی میں محدود رہتی ہیں۔ لہٰذا انسان جتنا گڑھی ہوئی تمثیلوں اور قوت و اہمہ کی خیال آرائیوں سے اسے سمجھنے کی کوشش کرے گا، اتنا ہی حقیقت سے دور ہوتا جائے گا۔ چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے،&lt;br /&gt;جب بھی تم اسے اپنے تصور و وہم کا پابند بناؤگے وہ خدا نہیں رہے گا بلکہ تمہاری طرح کی مخلوق اور تمہاری ہی طر ف پلٹنے والی کوئی چیز ہوگی۔&lt;br /&gt;اور عدل یہ ہے کہ ظلم و فبح کی جتنی صورتیں ہوسکتی ہیں ان کی ذات باری سے نفی کی جائے اور اسے ان چیزوں سے متہم نہ کیا جائے کہ جو بری اور بے فائدہ ہیں اورجنہیں عقل اس کے لیے کسی طرح تجویز نہیں کرسکتی۔ چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے۔&lt;br /&gt;تمہارے پروردگار کی بات سچائی اور عدل کے ساتھ پوری ہوئی۔ کوئی چیز اس کی باتوں میں تبدیلی پیدا نہیں کرسکتی۔&lt;br /&gt;471حکمت کی بات سے خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں جس طرح جہالت کے ساتھ بات کرنے میں کوئی بھلائی نہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;472 طلب باراں کی ایک دعا میں فرمایا: بارِ الہٰا! ہمیں فرمانبردار ابروں سے سیراب کر، نہ اُن ابروں سے جو سرکش اور منہ زور ہوں&lt;br /&gt;سید رضی کہتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب فصاحت پر مشتمل ہے ۔ اس طرح کہ امیر المومنین علیہ السلام نے کڑک، چمک، ہوا اور بجلی والے بادلوں کو اُن اونٹوں سے تشبیہ دی ہے کہ جو اپنی منہ زوری سے زمین پر پیر مار کر پالان پھینک دیتے ہوں اور اپنے سواروں کو گرا دیتے ہوں ۔ اور ان خوفناک چیزوں سے خالی ابر کو ان اونٹنیوں سے تشبیہ دی ہے جو دوہنے میں مطیع ہوں اور سواری کرنے میں سوار کی مرضی کے مطابق چلیں ۔&lt;br /&gt;473 حضرت(علیہ السلام ) سےکہا گیا کہ اگر آپ سفید بالوں کو (خضاب سے) بدل دیتے تو بہتر ہوتا۔ اس پر حضرت(علیہ السلام ) نے فرمایا کہ خضاب زینت ہے اور ہم لوگ سوگوار ہیں ۔&lt;br /&gt;سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت نے اس سے وفاتِ پیغمبر ﷺ مراد لی ہے۔&lt;br /&gt;474 وہ مجاہد جو خدا کی راہ میں شہید ہو، اُس شخص سے زیادہ اجر کا مستحق نہیں ہے جو قدرت و اختیار رکھتے ہوئے پاک دامن رہے۔ کیا بعید ہے کہ پاکدامن فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہو جائے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;475 قناعت ایسا سرمایہ ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔&lt;br /&gt;سید رضی کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اس کلام کو پیغمبر ﷺ سے روایت کیا ہے۔&lt;br /&gt;476 جب زیاد ابن ابیہ کو عبد اللہ ابن عباس کی قائم مقامی میں فارس اور اس کے ملحقہ علاقوں پر عامل مقرر کیا تو ایک باہمی گفتگو کے دوران میں کہ جس میں اسے پیشگی مالگزاری کے وصول کرنے سے روکنا چاہا یہ کہا:&lt;br /&gt;عدل کی روش پر چلو۔ بے راہ روی اور ظلم سے کنارہ کشہ کرو کیونکہ بے راہ روی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ انہیں گھر بار چھوڑنا پڑے گا اور ظلم انہیں تلوار اٹھانے کی دعوت دے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;477 سب سے بھاری گناہ وہ ہے جسے مرتکب ہونے وال سُبک سمجھے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;478 اللہ نے جاہلوں سے اس وقت تک سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ سکھانے میں دریغ نہ کریں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;479 بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زحمت اٹھانا پڑے۔&lt;br /&gt;سید رضی کہتے ہیں کہ یہ اس لیےکہ مقدور سے زیادہ تکلیف، رنج و مشقت کا سبب ہوتی ہے اور جس بھائی کے لیے تکلف کیا جائے، اُس سے لازمی طور پر زحمت پہنچے گی۔ لہذا وہ بُرا بھائی ہوا۔&lt;br /&gt;480 جب کوئی مومن اپنے کسی بھائی کا احتشام کرے تو یہ اُس سے جدائی کا سبب ہو گا۔&lt;br /&gt;سید رضی کہتے ہیں کہ حشم واحشام کے معنی ہیں غضبناک کرنا، اور ایک معنی ہیں شرمندہ کرنا۔ اور احتشام کے معنی ہیں "اس سے غصہ یا خجالت کا طالب ہونا اور ایسا کرنے سے جدائی کا امکان غالب ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;اختتام&lt;br /&gt;سید رضی اس کتاب کے اختتام پر لکھتے ہیں :&lt;br /&gt;اب یہ ہمارا پایانِ کار کی منزل ہے کہ ہم امیر المومنین(علیہ السلام ) کے منتخب کلام کا سلسلہ ختم کریں ۔ ہم اللہ سبحانہ کی بارگاہ میں شکر گزار ہیں کہ اُس نے ہم پر یہ احسان کیا کہ ہمیں توفیق دی کہ ہم حضرت کے منتشر کلام کو یک جا کریں اور دور دست کلام کو قریب لائیں ۔ ہمارا ارادہ ہے جیسا کہ پہلے طے کر چکے ہیں کہ ان ابواب میں سے ہر باب کے آخر میں کچھ سادہ ورق چھوڑ دیں تاکہ جو کلام اب تک ہاتھ نہیں لگا اُسے قابو میں لا سکیں اور جو ملے اُسے درج کر دیں ۔ شاید ایسا کلام جو اس وقت ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ بعد میں ہمارے لیے ظاہر ہو اور دور ہونے کے بعد ہمارے دامن میں سمٹ آئے۔ ہمیں توفیق حاصل ہے تو اللہ سے اور اسی پر ہمارا بھروسا ہے اور وہی ہمارے لیے کافی اور اچھا کارساز ہے۔&lt;br /&gt;یہ کتاب ماہ رجب سن 400 ہجری میں اختتام کو پہنچی&lt;br /&gt;وصلی اللہ علی سیدنا محمد خاتم الرسل، والھادی الی خیر السبل والہ الطاہرین، و اصحابہ نجوم الیقین  &lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-922149476619989947?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/922149476619989947/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=922149476619989947' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/922149476619989947'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/922149476619989947'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_3552.html' title='اقوال ۴۵۱ تا ۴۸۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-5371436303647172884</id><published>2010-08-27T10:29:00.001-07:00</published><updated>2010-08-27T10:29:30.251-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>اقوال ۴۲۱ تا ۴۵۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;    &lt;br /&gt;اقوال ۴۲۱ تا ۴۵۰&lt;br /&gt;421اتنی عقل تمہارے لیے کافی ہے کہ جو گمراہی کی راہوں کو ہدایت کے راستوں سے الگ کر کے تمہیں دکھا دے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;422اچھے کا م کر و اور تھوڑی سی بھلائی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔ کیونکہ چھوٹی سی نیکی بھی بڑی اور تھوڑی سی بھلائی بھی بہت ہے۔ تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ اچھے کام کے کرنے میں کوئی دوسرا مجھ سے زیادہ سزاوار ہے۔ ورنہ خدا کی قسم ایسا ہی ہوکر رہے گا۔ کچھ نیکی والے ہوتے ہیں اور کچھ برائی والے۔ جب تم نیکی یا بدی کسی ایک کو چھوڑ دو گے، تو تمہارے بجائے اس کے اہل اسے انجام دے کر رہیں گے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;423جو اپنے اندرونی حالات کو درست رکھتا ہے خدا اس کے ظاہر کو بھی درست کر دیتا ہے۔ اور جو دین کے لیے سرگرم عمل ہوتا ہے، اللہ اس کے دنیا کے کاموں کو پوراکر دیتا ہے اور جو اپنے اور اللہ کے درمیان خوش معاملگی رکھتا ہے۔ خدا اس کے اور بندوں کے درمیان کے معاملات ٹھیک کردیتا ہے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;424حلم وتحمل ڈھانکنے والا پردہ اور عقل کاٹنے والی تلوار ہے۔ لہٰذا اپنے اخلاق کے کمزور پہلو کو حلم وبردباری سے چھپاؤ, اور اپنی عقل سے خواہش نفسانی کا مقابلہ کرو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;425بندوں کی منفعت رسائی کے لیے اللہ کچھ بندگان خدا کو نعمتوں سے مخصوص کرلیتا ہے۔ لہٰذا جب تک وہ دیتے دلاتے رہتے ہیں، اللہ ان نعمتوں کو ان کے ہاتھوں میں برقرار رکھتا ہے اور جب ان نعمتوں کو روک لیتے ہیں تو اللہ ان سے چھین کر دوسروں کی طرف منتقل کردیتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;426کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو چیزوں پر بھروسا کرے۔ ایک صحت اور دوسرے دولت کیونکہ ابھی تم کسی کو تندرست دیکھ رہے تھے، کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے بیمار پڑجاتاہے، اور ابھی تم اسے دولتمند دیکھ رہے تھے کہ فقیر و نادار ہوجاتاہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;427جو شخص اپنی حاجت کا گلہ کسی مرد مومن سے کرتا ہے۔ گویا اس نے اللہ کے سامنے اپنی شکایت پیش کی۔ اور جو کافر کے سامنے گلہ کرتا ہے گویا اس نے اپنے اللہ کی شکایت کی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;428ایک عید کے موقع پر فرمایا :&lt;br /&gt;عید صرف اس کے لیے ہے جس کے روزوں کو اللہ نے قبول کیا ہو، اور اس کے قیام (نماز )کو قدر کی نگاہ سے دیکھتاہو، اور ہروہ دن کہ جس میں اللہ کی معصیت نہ کی جائے عید کا دن ہے.&lt;br /&gt;اگر حس و ضمیر زندہ ہوتو گناہ کی تکلیف دہ یاد سے اطمینا ن قلب جاتا رہتا ہے۔ کیونکہ طمانیت و مسرت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب روح گناہ کے بوجھ سے ہلکی اور دامن معصیت کی آلائش سے پاک ہو اور سچی خوشی زمانہ اور وقت کی پابند نہیں ہوتی بلکہ انسان جس دن چاہے گناہ سے بچ کر اس مسرت سے کیف اندوز ہوسکتا ہے اور یہی مسرت حقیقی مسرت اور عید کا پیغام ہوگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہر شب شب قدر است اگر قدر بدانی!&lt;br /&gt;429قیامت کے دن سب سے بڑی حسرت اس شخص کی ہوگی جس نے اللہ کی نافرمانی کرکے مال حاصل کیاہو، اور اس کا وارث وہ شخص ہوا ہو جس نے اسے اللہ کی اطاعت میں صرف کیا ہو کہ یہ تو اس مال کی وجہ سے جنت میں داخل ہوا، اور پہلا اس کی وجہ سے جہنم میں گیا.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;430لین دین میں سب سے زیادہ گھاٹا اٹھا نے والا اور دوڑ دھوپ میں سب سے زیادہ ناکام ہونے والا وہ شخص ہے جس نے مال کی طلب میں اپنے بدن کو بوسیدہ کر ڈالا ہو۔ مگر تقدیر نے اس کے ارادوں میں اس کا ساتھ نہ دیا ہو۔ لہٰذا وہ دنیا سے بھی حسرت لیے ہوئے گیا اور آخرت میں بھی اس کی پاداش کاسامنا کیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;431رزق دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو خود ڈھونڈتا ہے اور ایک وہ جسے ڈھونڈا جاتا ہے چنانچہ جو دنیا کا طلبگار ہوتا ہے، موت اس کو ڈھونڈتی ہے۔ یہاں تک کہ دنیا سے اسے نکال باہر کرتی ہے اور جو شخص آخرت کاخواستگار ہوتا ہے، دنیا خود اسے تلاش کرتی ہے یہاں تک کہ وہ اس سے تمام و کمال اپنی روزی حاصل کر لیتا ہے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;432دوستان خدا وہ ہیں کہ جب لوگ دنیا کے ظاہر کو دیکھتے ہیں تو وہ اس کے باطن پر نظر کرتے ہیں اور جب لوگ اس کی جلد میسر آجانے والی نعمتوں میں کھو جاتے ہیں، تو وہ آخرت میں حاصل ہونے چیزوں میں منہمک رہتے ہیں اور جن چیزوں کے متعلق انہیں یہ کھٹکا تھا کہ وہ انہیں تباہ کریں گی، انہیں تباہ کرکے رکھ دیا اور جن چیزوں کے متعلق انہوں نے جان لیا کہ وہ انہیں چھوڑ دینے والی ہیں انہیں انہوں نے خود چھوڑ دیا اور دوسروں کے دنیا زیادہ سمیٹنے کوکم خیال کیا، اور اسے حاصل کرنے کو کھو نے کے برابر جانا۔ وہ ان چیزوں کے دشمن ہیں جن سے دوسروں کی دوستی ہے اور ان چیزوں کے دوست ہیں جن سے اوروں کو دشمنی ہے ان کے ذریعہ سے قرآن کا علم حاصل ہوا قرآن کے ذریعہ سے ا ن کا علم ہوا اور ان کے ذریعہ سے کتاب خدا محفوظ اور وہ اس کے ذریعہ سے برقرار رہیں۔ وہ جس چیز کی امید رکھتے ہیں اس سے کسی چیز کو بلند نہیں سمجھتے اور جس چیز سے خائف ہیں اس سے زیادہ کسی شے کو خوفناک نہیں جانتے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;433لذتوں کے ختم ہونے اور پاداشوں کے باقی رہنے کو یاد رکھو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;434آز ماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو۔&lt;br /&gt;سید رضی فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے اس فقرے کی جناب رسالت مآب سے روایت کی ہے، مگر اس کے کلام امیرالمومنین علیہ السّلام ہونے کے مویدات میں سے ہے وہ جسے ثعلب نے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن اعرابی نے بیان کیا کہ ماموں نے کہاکہ اگر حضرت علی علیہ السلام نے یہ نہ کہا ہوتا کہ »آزماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو «.تو میں یوں کہتا کہ دشمنی کرواس سے تاکہ آزماؤ.&lt;br /&gt;435ایسا نہیں کہ اللہ کسی بندے کے لیے شکر کا دروازہ کھولے اور (نعمتوں کی) افزائش کا دروازہ بند کر دے اور کسی بندے کے لیے دعا کا دروازہ کھولے اور درقبولیت کو اس کے لیے بند رکھے اور کسی بندے کے لیے تو بہ کا دروازہ کھولے اور مغفرت کا دروازہ اس کے لیے بندکردے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;436 لوگوں میں سب سے زیادہ کرم و بخشش کا وہ اہل ہے جس کا رشتہ اشراف سے ملتا ہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;437آپ سے دریافت کیا گیا کہ عدل بہتر ہے یا سخاوت؟ فرمایا عدل تمام امور کو ان کے موقع و محل پر رکھتا ہے، اور سخاوت ان کو ان کی حدوں سے باہر کردیتی ہے عدل سب کی نگہداشت کر تا ہے، اور سخاوت اسی سے مخصوص ہوگی۔ جسے دیا جائے۔ لہٰذا عدل سخاوت سے بہتر و برتر ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;438لوگ جس چیز کونہیں جانتے اس کے دشمن ہوجاتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;439(زہد کی مکمل تعریف قرآ ن کے دو جملوں میں ہے ) ارشاد الہی ہے۔ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے اس پر رنج و نہ کرو، اور جو چیز خدا تمہیں دے اس پر اتراؤ نہیں لہٰذا جو شخص جانے والی چیز پر افسوس نہیں کرتا اور آنے والی چیز پر اتراتا نہیں، اس نے زہد کو دونوں سمتوں سے سمیٹ لیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;440نیند دن کی مہموں میں بڑ ی کمزوری پیدا کر نے والی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;441حکومت لوگوں کے لیے آزمائش کا میدان ہے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;442تمہارے لیے ایک شہر دوسرے شہر سے زیادہ حقدار نہیں (بلکہ )بہتر ین شہر وہ ہے جو تمہارا بوجھ اٹھائے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;443جب مالک اشتر رحمتہ اللہ کی خبر شہادت آئی، تو فرمایا:&lt;br /&gt;مالک! اور مالک کیا شخص تھا۔ خدا کی قسم اگر وہ پہاڑ ہوتا تو ایک کوہ بلند ہوتا، اور اگر وہ پتھر ہوتا تو ایک سنگ گراں ہوتا کہ نہ تو اس کی بلندیوں تک کوئی سم پہنچ سکتا اور نہ کوئی پرندہ وہاں تک پر مار سکتا۔&lt;br /&gt;سید رضی کہتے ہیں کہ فنداس پہاڑ کو کہتے ہیں، جو دوسرے پہاڑوں سے الگ ہو.&lt;br /&gt;444وہ تھوڑا عمل جس میں ہمیشگی ہو اس سے زیادہ ہے، جو دل تنگی کا باعث ہو.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;445اگر کسی آدمی میں عمدہ و پاکیزہ خصلت ہو تو ویسی ہی دوسری خصلتوں کے متوقع رہو۔&lt;br /&gt;انسان میں جو بھی اچھی یا بری خصلت پائی جاتی ہے، وہ اس کی افتادہ و طبیعت کی وجہ سے وجود میں آتی ہے اور اگر طبیعت ایک خصلت کی مقتضی ہے، تو اس خصلت سے ملتے جلتے ہوئے دوسرے خصائل کی بھی مقتضی ہوگی۔ اس لیے کہ طبیعت کے تقاضے دونوں جگہ پر یکساں کار فرما ہوتے ہیں، چنانچہ ایک شخص اگر زکوٰۃ و خمس ادا کرتا ہے، تواس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی طبیعت ممسک و بخیل نہیں۔ لہٰذا اس سے یہ توقع بھی کی جاسکتی ہے کہ وہ دوسرے امور خیر میں بھی خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر کوئی جھوٹ بولتا ہے تو اس سے یہ امید بھی کی جاسکتی ہے، کہ وہ غیبت بھی کرے گا۔ کیونکہ یہ دونوں عادتیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔&lt;br /&gt;446فرزوق کے باپ غالب ابن صعصعہ سے باہمی گفتگو کے دوران فرمایا:&lt;br /&gt;وہ تمہارے بہت سے اونٹ کیا ہوئے؟ کہا کہ حقوق کی ادائیگی نے انہیں منتشر کردیا۔ فرمایا کہ :یہ تو ان کا انتہائی اچھا مصرف ہوا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;447جو شخص احکام فقہ کے جانے بغیر تجارت کرے گا، وہ ربا میں مبتلا ہوجائے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;448جو شخص ذرا سی مصیبت کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ اللہ اسے بڑی مصیبتوں میں مبتلا کردیتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;449جس کی نظر میں خود اپنے نفس کی عزت ہوگی وہ اپنی نفسانی خواہشوں کو بے وقعت سمجھے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;450کوئی شخص کسی دفعہ ہنسی مذاق نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ اپنی عقل کا ایک حصہ اپنے سے الگ کر دیتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;   &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-5371436303647172884?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/5371436303647172884/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=5371436303647172884' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/5371436303647172884'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/5371436303647172884'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_3941.html' title='اقوال ۴۲۱ تا ۴۵۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-4749464256400252268</id><published>2010-08-27T10:28:00.001-07:00</published><updated>2010-08-27T10:28:50.707-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>اقوال ۳۹۱ تا ۴۲۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;اقوال ۳۹۱ تا ۴۲۰&lt;br /&gt;391دنیا سے بے تعلق رہو ,تاکہ اللہ تم میں دنیا کی برائیوں کا احساس پیدا کرے .اور غافل نہ ہو اس لیے کہ تمہاری طرف سے غافل نہیں ہوا جائے گا .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;392بات کرو ,تاکہ پہچانے جاؤکیونکہ آدمی اپنی زبا ن کے نیچے پوشیدہ ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;393جو دنیا سے تمہیں حاصل ہوا اسے لے لو اور جو چیز رخ پھیر لے اس سے منہ موڑ ے رہو .اور اگر ایسا نہ کر سکو تو پھر تحصیل و طلب میں میانہ روی اختیار کرو .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;394بہت سے کلمے حملہ سے زیادہ اثر ونفوذ رکھتے ہیں .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;395جس چیز پر قناعت کر لی جائے و ہ کافی ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;396موت ہو اور ذلت نہ ہو .کم ملے اور دوسروں کو وسیلہ بنانا نہ ہو ,جسے بیٹھے بٹھائے نہیں ملتا اسے اٹھنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا زمانہ دو2 دنوں پر منقسم ہے ایک دن تمہارے موافق اور ایک تمہارے مخالف .جب موافق ہوتو اتراؤ نہیں . اور جب مخالف ہو تو صبر کرو .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;397بہترین خوشبو مشک ہے جس کا ظرف ہلکا اورمہک عطر بار ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;398فخر و سر بلندی کو چھوڑ دو ,تکبر و غرو ر کو مٹاؤ اور قبر کو یاد رکھو .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;399ایک حق فرزند کا باپ پر ہوتا ہے اور ایک حق باپ کا فرزند پر ہوتا ہے .باپ کا فرزند پر یہ حق ہے کہ وہ سوائے اللہ کی معصیت کے ہر با ت میں اس کی اطاعت کرے اور فرزند کا باپ پر یہ حق ہے کہ اس کا نام اچھا تجویز کرے ,اچھے اخلاق و آداب سے آراستہ کرے اور قرآن کی اسے تعلیم دے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;400چشم بد ,افسوس ,سحر اورفال نیک ان سب میں واقعیت ہے .البتہ فال بد اور ایک بیماری کا دوسرے کو لگ جانا غلط ہے . خوشبو سونگھنا ,شہد کھانا,سواری کرنا اور سبزے پر نظرکرنا غم و اندوہ اور قلق و اضطراب کو دور کرتا ہے .&lt;br /&gt;طیرہ کے معنی فال بد اور تفا ل کے معنی فال نیک کے ہوتے ہیں .شرعی لحاظ سے کسی چیز سے برا شگون لینا کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور یہ صرف توہمات کا کر شمہ ہے اس بد شگوفی کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ کیومرث کےبیٹوں نے رات کے پہلے حصہ میں مرغ کی اذان سنی اور اتفاق سے اسی رات کو کیومرث کا انتقال ہوگیا جس سے انہیں یہ تو ہم ہو ا کہ مرغ کا بے وقت اذان دینا کسی خبر غم کا پیش خیمہ ہوتاہے چنانچہ انہوں نے اس مرغ کو ذبح کر دیا ,اور بعد میں مختلف حادثوں کا مختلف چیزوں سے خصوصی تعلق قائم کرلیاگیا.&lt;br /&gt;البتہ فال نیک لینے میں کوئی مضائقہ نہیں .چنانچہ جب ہجرت پیغمبر کے بعد قریش نے یہ اعلان کیا کہ جو آنحضرت کو گرفتار کرے گا ,تو اسے سو اونٹ انعام میں دیئے جائیں گے تو ابو بریدہ اسلمی اپنے قبیلہ کے ستر آدمیوں کے ہمراہ آپ کے تعاقب میں روانہ ہوا . اور جب ایک منزل پرآمنا سامنا ہوا توآنحضرت نے پوچھا تم کون ہو اس نے کہا کہ بریدہ ابن خصیب۔ حضرت نے یہ نام سنا تو فرمایا برادمرنا ہمار امعاملہ خوشگوار ہوگیا .پھر پوچھا کہ کس قبیلہ سے ہو ؟اس نے کہا کہ اسلم سے .تو فرمایا کہ سلمنا ہم نے سلامتی پائی .پھر دریافت کیا کہ کس شاخ سے ہواس نے کہا کہ بنی سہم سے .تو فرمایا کہ خرج سھمک تمہارا تیر نکل گیا .بریدہ اس انداز سے گفتگو اور حسن گفتار سے بہت متاثر ہوا .اور پوچھا کہ آپ کون ہیں فرمایا کہ محمّد ابن عبداللہ یہ سن کر بے ساختہ اس کی زبان سے نکلا .اشھد انّک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اور قریش کے انعام سے دستبردار ہوکر دولت ایمان سے مالا مال ہوگیا .&lt;br /&gt;401لوگوں سے ان کے اخلاق و اطوار میں ہمرنگ ہونا ان کے شر سے محفوظ ہوجاناہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;402ایک ہم کلام ہونے والے سے کہ جس نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر ایک بات کہی تھی ,فرمایا تم پر نکلتے ہی اڑنے لگے اور جوان ہونے سے پہلے بلبلانے لگے .&lt;br /&gt;(سید رضی فرماتے ہیں کہ )اس فقرہ میں شکیر سے مراد وہ پر ہیں جوپہلے پہل نکلتے ہیں اور ابھی مضبوط و مستحکم نہیں ہونے پاتے , اور سقب اونٹ کے بچے کوکہتے ہیں اور وہ اس وقت بلبلاتاہے .جب جوان ہوتا ہے.&lt;br /&gt;403جو شخص مختلف چیز وں کا طلب گار ہوتا ہے اس کی ساری تدبیریں ناکا م ہوجاتی ہیں .»طلب الکل فوت الکل «.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;404حضرت سے لاحول ولا قوۃ الا باللہ (قوت وتوانائی نہیں مگر اللہ کے سبب سے )کے معنی دریافت کئے گئے تو آپ نے فرمایا کہ ہم خدا کے ساتھ کسی چیز کے مالک نہیں اس نے جن چیزوں کا ہمیں مالک بنایا ہے بس ہم انہیں پر اختیار رکھتے ہیں .تو جب اس نے ہمیں ایسی چیز کا مالک بنا یا جس پر وہ ہم سے زیاد ہ اختیا ر رکھتا ہے تو ہم پر شرعی ذمہ داریاں عائد کیں .اور جب اس چیز کو واپس لے گا تو ہم سے اس ذمہ داری کو بھی بر طرف کردے گا .&lt;br /&gt;مطلب یہ ہے کہ انسان کو کسی شے پر مستقلاً تملک و اختیار حاصل نہیں بلکہ یہ حق ملکیت و قوت تصرف قدرت کا بخشا ہوا ایک عطیہ ہے اور جب تک یہ تملک و اختیار باقی رہتا ہے .تکلیف شرعی بر قرار رہتی ہے اور اسے سلب کرلیا جاتا ہے تو تکلیف بھی برطرف ہوجاتی ہے .کیونکہ ایسی صورت میں تکلیف کا عائد کرنا تکلیف مالایطاق ہے جو کسی حکیم و دانا کی طرف سے عائد نہیں ہوسکتی .چنانچہ اللہ سبحانہنے اعضا و جوارح میں اعمال کے بجالانے کی قوت و دیعت فرمانے کے بعد ان سے تکلیف متعلق کی .لہٰذاجب تک یہ قوت باقی رہے گی ان سے تکلیف کا تعلق رہے گا .اور اس قوت کے سلب کرلینے کے بعد تکلیف بھی برطرف ہوجائے گی ,جیسے زکوٰۃ کا فریضہ اسی وقت عائد ہوتا ہے جب دولت ہو ,اور جب دولت چھین لے گا .تو اس کے نتیجہ میں زکوٰۃ کا وجوب بھی ساقط کر دے گا .کیونکہ ایسی صور ت میں تکلیف کا عائد کرنا عقلاًقبیح ہے .&lt;br /&gt;405عمار بن یاسر کو جب مغیر ہ ابن شعبہ سے سوال وجواب کرتے سنا تو ان سے فرمایا !اے عمار اسے چھوڑ دو اس نے دین سے بس وہ لیا ہے جو اسے دنیا سے قریب کر ے اور اس نے جان بوجھ کراپنے کو اشتباہ میں ڈال رکھا ہے تاکہ ان شبہات کو اپنی لغزشوں کے لیے بہانہ قرار دے سکے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;406اللہ کے یہاں اجر کے لیے دولتمندوں کا فقیروں سے عجز و انکساری برتنا کتنا اچھا ہے اور اس سے اچھا فقرا کا اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے دولتمندوں کے مقابلہ میں غرور سے پیش آنا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;407اللہ نے کسی شخص کو عقل ودیعت نہیں کی ہے مگر یہ کہ وہ کسی دن اس کے ذریعہ سے اسے تباہی سے بچائے گا .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;408جو حق سے ٹکرائے گا,حق اسے پچھاڑ دے گا .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;409دل آنکھوں کا صحیفہ ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;410تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;411جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو .اور جس نے تمہیں راہ پر لگا یا ہے اس کے مقابلہ میں فصاحت ُگفتار کا مظاہرہ نہ کرو .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;412تمہارے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو ,اس سے خود بھی پرہیز کرو .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;413جو انمردوں کی طرح صبر کرے ,نہیں تو سادہ لوحوں کی طرح بھو ل بھال کر چپ ہوگا .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;414ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اشعث ابن قیس کو تعزیت دیتے ہوئے فرمایا :اگر بزرگوں کی طرح تم نے صبر کیا تو خیر !ورنہ چوپاؤں کی طرح ایک دن بھول جاؤگے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;415دنیا کے متعلق فرمایا!&lt;br /&gt;دنیا دھوکے باز ,نقصان رساں اور رواں دواں ہے .اللہ نے اپنے دوستوں کے لیے اسے بطور ثواب پسند نہیں کیا ,اور نہ دشمنوں کے لیے اسے بطور سزا پسند کیا.اہل دنیا سواروں کے مانند ہیں کہ ابھی انہوں نے منزل کی ہی تھی کہ ہنکانے والے نے انہیں للکارا ,اور چل دیئے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;416اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا :اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و .اس لیے کہ تم دو2 میں سے ایک کے لیے چھوڑ و گے .ایک وہ جو اس مال کو خدا کی اطاعت میں صرف کرے گا تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب بنا وہ اس کے لیے راحت وآرام کا باعث ہوگا.یاوہ ہوگا جو اسے خدا کی معصیت میں صرف کرے ,تو وہ تمہارے جمع کر دہ مال کی وجہ سے بد بخت ہوگا اور اس صورت میں تم خدا کی معصیت میںاس کے معین و مدد گار ہوگے ,اور ان دونوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ اسے اپنے نفس پر ترجیح دو .&lt;br /&gt;سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلا م ایک دوسری صورت میں بھی روایت کیا گیا ہے جو یہ ہے&lt;br /&gt;جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے تم سے پہلے اس کے مالک دوسرے تھے .اور یہ تمہاربعد دوسروں کی طرف پلٹ جائے گا اور تم میں سے دو میں سے ایک کے لیے جمع کرنے والے ہو .ایک وہ جو تمہارے جمع کئے ہوئے مال کو خد اکی اطاعت میں صرف کرے گا .تو جو مال تمہارے لیے بدبختیکا سبب ہوا وہ اس کے لیے سعادت و نیک بختی کا سبب ہوگا وہ جو اس مال سے اللہ کی معصیت کرے تو جو تم نے اس کے لیے جمع کیا وہ تمہارے لیے بد بختیکا سبب ہوگا اور ان دونوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں کہ اسے اپنی پشت کو گرانبار کرو ,جو گزر گیا اس کے لیے اللہ کی رحمت اور جو باقی رہ گیا ہے اس کے لیے رزق الہی کے امیدوارر ہو .&lt;br /&gt;417ایک کہنے والے نے آپ کے سامنے استغفراللہ کہا.تو آپ نے اس سے فرمایا .&lt;br /&gt;تمہاری ماں تمہارا سوگ منائے کچھ معلوم بھی ہے کہ استغفار کیاہے ؟استغفار بلند منزلت لوگوں کامقام ہے اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو چھ باتوں پر حاوی ہے .پہلے کہ جو ہوچکااس پر نادم ہو ,دوسرے ہمیشہ کے لیے اس کے مرتکب نہ ہونے کاتہیا کرنا ,تیسرے یہ کہ مخلوق کے حقوق ادا کرنا یہاں تک کہ اللہ کے حضور میں اس حالت میں پہنچو کہ تمہارا دامن پاک و صاف اورتم پر کوئی مواخذہ نہ ہو.چوتھے یہ کہ جو فرائض تم پر عائد کئے ہوئے تھے ,اور تم نے انہیں ضائع کردیاتھا .انہیں اب پورے طور پر بجالاؤ .پانچویں یہ کہ جو گوشت (کل )حرام سے نشونما پاتا رہا ہے ,اس کو غم و اندوہ سے پگھلاؤیہاں تک کے کھال کو ہڈیوں سے ملادو کہ پھرسے ان دونوں کے درمیان نیا گوشت پیدا ہو,چھٹے یہ کہ اپنے جسم کو اطاعت کے رنج سے آشنا کرو .جس طرح اسے گناہ کی شیرینی سے لذت اندوز کیا ہے .تو اب کہو »استغفراللہ «.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;418حلم و تحمل ایک پورا قبیلہ ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;4196بیچارہ آدمی کتنا بے بس ہے موت اس سے نہاں ,بیماریاں اس سے پوشیدہ اور اس کے اعمال محفوظ ہیں .مچھر کے کاٹنے سے چیخ اٹھتاہے ,اچھو لگنے سے مرجاتا ہے اور پسینہ اس میں بدبو پیدا کر دیتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;420وارد ہوا ہے کہ حضرت اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ,کہ ان کے سامنے سے ایک حسین عورت کا گزر ہوا جسے انہوں نے دیکھنا شروع کیا جس پر حضرت نے فرمایا:&lt;br /&gt;ان مردوں کی آنکھیں تاکنے والی ہیں اور یہ نظر باز ی ان کی خواہشات کو برانگیختہ کرنے کاسبب ہے لہٰذا تم میں سے کسی کی نظر ایسی عورت پر پڑے کہ جو اسے اچھی معلوم ہوتو اسے اپنی زوجہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ عورت بھی اس عورت کے مانند ہے .یہ سن کر ایک خارجی نے کہا کہ خدااس کافرکو قتل کر ے یہ کتنا برا فقیہ ہے .یہ سن کر لوگ اسے قتل کرنے اٹھے.حضرت نے فرمایا کہ ٹھہرو !زیادہ سے زیادہ گالی کا بدلہ گالی ہوسکتا ہے ,یااس کے گناہ ہی سے درگزر کرو .&lt;br /&gt;   &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-4749464256400252268?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/4749464256400252268/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=4749464256400252268' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/4749464256400252268'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/4749464256400252268'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_2136.html' title='اقوال ۳۹۱ تا ۴۲۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-1440862534503634320</id><published>2010-08-27T10:27:00.000-07:00</published><updated>2010-08-27T10:28:02.370-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>اقوال ۳۶۱ تا ۳۹۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;اقوال ۳۶۱ تا ۳۹۰&lt;br /&gt;361جب اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرو، تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو، پھر اپنی حاجت مانگو، کیونکہ خداوند عالم اس سے بلند تر ہے کہ اس سے دوحاجتیں طلب کی جائیں اور وہ ایک پوری کردے اور ایک روک لے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;362جسے اپنی آبرو عزیز ہو، وہ لڑائی جھگڑے سے کنارہ کش رہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;363امکان پیداہونے سے پہلے کسی کام میں جلد بازی کرنا اور موقع آنے پر دیر کرنا دونوں حماقت میں داخل ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;364جو بات نہ ہونے والی ہو اس کے متعلق سوال نہ کرو۔ اس لیے کہ جو ہے، وہی تمہارے لیے کافی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;365فکر ایک روشن آئینہ ہے، عبر ت اندوزی ایک خیر خواہ متنبہ کرنے والی چیز ہے، نفس کی اصلاح کے لیے یہی کافی ہے کہ جن چیزوں کو دوسروں کے لیے برا سمجھتے ہو ان سے بچ کر رہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;366علم عمل سے وابستہ ہے۔ لہٰذا جو جانتا ہے وہ عمل بھی کرتا ہے اور علم عمل کو پکارتا ہے۔ اگروہ لبیک کہتا ہے تو بہتر، ورنہ وہ بھی اس سے رخصت ہوجاتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;367اے لوگو! دنیا کا سازوسامان سوکھا سڑا بھوسا ہے جو وبا پید ا کرنے والاہے۔ لہٰذ ا اس چراگاہ سے دور رہو کہ جس سے چل چلاؤ باطمینان منزل کرنے سے زیادہ فائدہ مند ہے اورصرف بقدر کفاف لے لینا اس دولت و ثروت سے زیادہ برکت والا ہے اس کے دولت مندوں کے لیے فقر طے ہوچکا ہے اور اس سے بے نیاز رہنے والوں کو راحت کا سہارا دیا گیا ہے۔ جس کو اس کی سج دھج لبھا لیتی ہے، وہ انجام کار اس کی دونوں آنکھوں کو اندھا کردیتی ہے اور جو اس کی چاہت کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ اس کے دل کو ایسے غموں سے بھر دیتی ہے جو دل کی گہرائیوں میں تلاطم برپا کر تے ہیں یوں کہ کبھی کوئی فکر اسے گھیرے رہتی ہے، اور کبھی کوئی اندیشہ اسے رنجیدہ بنائے رہتا ہے۔ وہ اسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کا گلاگھوٹاجانے لگتا ہے اور وہ بیابان میں ڈال دیا جاتا ہے اس عالم میں کہ اس کے دل کی دونوں رگیں ٹوٹ چکی ہوتی ہیں۔ اللہ کو اس کا فنا کرنا سہل اور اس کے بھائی بندوں کا اسے قبر میں اتارنا آسان ہوجاتا ہے.مومن دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتاہے اور اس سے اتنی ہی غذا حاصل کرتا ہے۔ جتنی پیٹ کی ضرورت مجبور کرتی ہے اور اس کے بارے میں ہر بات کو بغض و عناد کے کانوں سے سنتا ہے اگر کسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مال دار ہو گیا ہے تو پھر یہ بھی کہنے میں آتا ہے کہ نادار ہو گیا ہے اگر زندگی پر خوشی کی جاتی ہے تو مرنے پرغم بھی ہوتا ہے۔ یہ حالت ہے حالانکہ ابھی وہ دن نہیں آیا کہ جس میں پوری مایوسی چھا جائے گی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;368اللہ سبحانہ نے اپنی اطاعت پرثواب اور اپنی معصیت پر سزا اس لیے رکھی ہے کہ اپنے بندوں کوعذاب سے دور کرے اور جنت کی طرف گھیرکرلے جائے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;369لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ان میں صرف قرآن کے نقوش اور اسلام کا صر ف نام باقی رہ جائے گا، اس وقت مسجدیں تعمیر و زینت کے لحا ظ سے آباد اور ہدایت کے اعتبار سے ویران ہوں گی۔ ان میں ٹھہرنے والے اور انہیں آباد کرنے والے تمام اہل زمین میں سب سے بدتر ہوں گے، وہ فتنوں کا سرچشمہ اور گناہوں کا مرکز ہو ں گے جو ان فتنوں سے منہ موڑ ے گا، انہیں انہی فتنوں کی طرف پلٹائیں گے اور جوقدم پیچھے ہٹائے گا، انہیں دھکیل کر ان کی طرف لائیں گے۔ ارشاد الہی ہے کہ »مجھے اپنی ذات کی قسم میں ان لوگوں پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس میں حلیم و بردبار کو حیران و سر گردان چھوڑ دوں گا «.&lt;br /&gt;چنانچہ وہ ایسا ہی کرے گا، ہم اللہ سے غفلت کی ٹھوکروں سے عفو کے خواستگار ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;370جب بھی آپ منبر پر رونق افروز ہوتے تو ایسا اتفاق کم ہوتا تھا کہ خطبہ سے پہلے یہ کلما ت نہ فرمائیں۔&lt;br /&gt;اے لوگو! اللہ سے ڈرو,کیونکہ کوئی شخص بے کار پیدا نہیں کیاگیا کہ وہ کھیل کود میں پڑ جائے، اور نہ اسے بے قید و بند چھوڑ دیا گیا ہےکہ بیہودگیا ں کرنے لگے اور دنیا جو اس کے لیے آراستہ و پیراستہ ہے اس آخرت کا عوض نہیں ہوسکتی جس کو اس کی غلط نگاہ نے بری صورت میں پیش کیا ہے وہ فریب خوردہ جو اپنی بلند ہمتی سے دنیا حاصل کرنے میں کامیاب ہو اس دوسرے شخص کے مانند نہیں ہوسکتا جس نے تھوڑا بہت آخرت کا حصہ حاصل کرلیا ہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;371کوئی شرف اسلام سے بلند تر نہیں کوئی بزرگی تقویٰ سے زیادہ با وقار نہیں، کوئی پناہ گاہ پرہیز گاری سے بہتر نہیں، کوئی سفارش کرنے والا توبہ سے بڑھ کر کامیاب نہیں، کوئی خزانہ قناعت سے زیادہ بے نیاز کرنے والا نہیں کوئی مال بقدر کفاف پر رضا مند رہنے سے بڑھ کرفقر و احتیاج کا دور کرنے والا نہیں۔ جوشخص قدر حاجت پر اکتفا کرلیتا ہے وہ آسائش و راحت پالیتا ہے۔ اورآرام و آسودگی میں منزل بنا لیتا ہے۔ خواہش و رغبت، رنج و تکلیف کی کلید اور مشقت و اندو ہ کی سوار ی ہے.حرص تکبر اور حسد گناہوں میں پھاند پڑنے کے محرکا ت ہیں اور بدکرداری تمام برے عیوب کو حاوی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;372جابر ابن عبداللہ انصار ی سے فرمایا اے جابر! چارقسم کے آدمیوں سے دین و دنیا کا قیام ہے عالم جو اپنے علم کو کام میں لاتا ہو,جاہل جو علم کے حاصل کرنے میں عار نہ کرتا ہو,سخی جو داد و دہش میں بخل نہ کرتا ہو، اور فقیر جو آخرت کو دنیا کے عوض نہ بیچتا ہو۔ تو جب عالم اپنے علم کو برباد کرے گا، توجاہل اس کے سیکھنے میں عار سمجھے گا اور جب دولت مند نیکی و احسان میں بخل کرے گا تو فقیر اپنی آخرت دنیا کے بدلے بیچ ڈالے گا۔&lt;br /&gt;اے جابر ! جس پراللہ کی نعمتیں زیادہ ہوں گی لوگوں کی حاجتیں بھی اس کے دامن سے زیادہ وابستہ ہوں گی لہٰذا جوشخص ان نعمتوں پرعائد ہونے والے حقوق کو اللہ کی خاطر ادا کرے گا، وہ ان کے لیے دوام و ہمیشگی کا سامان کرے گا اور جو ان واجب حقوق کے ادا کرنے کے لیے کھڑا نہیں ہو گا وہ انہیں فنا و بربادی کی زد پر لے آئے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;373ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں عبدالرحمٰن ابن ابی لیلیٰ فقیہ سے روایت کی ہے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو ابن اشعث کے ساتھ حجا ج سے لڑنے کے لیے نکلے تھے کہ وہ لوگوں کو جہاد پر ابھارنے کے لیے کہتے تھے کہ جب اہل شام سے لڑنے کے لیے بڑھے تو میں نے علی علیہ السلام کو فرماتے سنا۔&lt;br /&gt;اے اہل ایمان ! جو شخص دیکھے کہ ظلم و عدوان پر عمل ہو رہا ہے اور برائی کی طرف دعوت دی جارہی ہے اور وہ دل سے اسے برا سمجھے، تو وہ (عذاب سے )محفوظ اور (گناہ سے) بری ہو گیا، اور جوزبان سے اسے برا کہے وہ ماجور ہے صرف دل سے بر اسمجھنے والے سے افضل ہے اور جو شخص شمشیر بکف ہو کر اس برائی کے خلاف کھڑا ہوتا کہ اللہ کا بول بالا ہو، اور ظالموں کی بات گر جائے تو یہی وہ شخص ہے جس نے ہدایت کی راہ کو پالیا اور سیدھے راستے پر ہولیا اور اس کے دل میں یقین نے روشنی پھیلا دی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;374اسی انداز پرحضرت کا ایک یہ کلام ہے لوگوں میں سے ایک وہ ہے جو برائی کو ہاتھ، زبان اور دل سے برا سمجھتا ہے۔ چنانچہ اس نے اچھی خصلتوں کو پورے طور پر حاصل کر لیا ہے اور ایک وہ ہے جو زبان اور دل سے براسمجھتا ہے لیکن ہاتھ سے اسے نہیں مٹاتا تو اس نے اچھی خصلتوں میں سے دوخصلتوں سے ربط رکھا اور ایک خصلت کو رائیگاں کر دیا اور ایک وہ ہے جو دل سے بر ا سمجھتا ہے لیکن اسے مٹانے کے لیے ہاتھ اور زبان کسی سے کام نہیں لیتا اس نے تین خصلتوں میں سے دوعمدہ خصلتوں کو ضائع کردیا، اور صرف ایک سے وابستہ رہا اور ایک وہ ہے جو نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے اور نہ دل سے برائی کی روک تھام کرتا ہے، یہ زندوں میں (چلتی پھرتی ہوئی )لاش ہے۔&lt;br /&gt;تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمام اعمالِ خیر اور جہاد فی سبیل اللہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقابلہ میں ایسے ہیں، جیسے گہرے دریا میں لعاب دہن کے ریزے ہوں یہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ایسا نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے موت قبل از وقت آجائے، یا رزق معین میں کمی ہوجائے اور ان سب سے بہتر وہ حق بات ہے جو کسی جابر حکمرا ن کے سامنے کہی جائے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;375ابو حجیفہ سے روایت ہے کہ انہوں نے امیر المومنین علیہ السّلام کو فرماتے سنا کہ !&lt;br /&gt;پہلا جہاد کہ جس سے تم مغلوب ہو جاؤگے، ہاتھ کا جہاد ہے۔ پھر زبان کا، پھر دل کا جس نے د ل سے بھلائی کو اچھائی اور برائی کو بر ا نہ سمجھا، اسے الٹ پلٹ کر دیا جائے گا۔ اس طرح کہ اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر کردیا جائے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;376حق گراں، مگر خوش گوار ہوتا ہے اور باطل ہلکا,مگر وبا پیداکرنے والا ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;377اس امت کے بہترین شخص کے بارے میں بھی اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن نہ ہو جاؤ.کیونکہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ »گھاٹا اٹھانے والے لوگ ہی اللہ کے عذاب سے مطمئن ہوبیٹھے ہیں «.اور اس امت کے بدترین آدمی کے بارے میں بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ کیونکہ ارشاد الہی ہے کہ »خداکی رحمت سے کافروں کے علاوہ کوئی اورناامید نہیں ہوتا «.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;378بخل تمام برے عیوب کا مجموعہ ہے اور ایسی مہار ہے جس سے ہربرائی کی طرف کھنچ کر جایاجا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;379رزق دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس کی تلا ش میں تم ہو، اور ایک وہ جوتمہاری جستجو میں ہے۔ اگر تم اس تک نہ پہنچ سکو گے، تو وہ تم تک پہنچ کررہے گا۔ لہٰذ ا اپنے ایک دن کی فکر پر سال بھر کی فکریں نہ لادو۔ جو ہر دن کارزق ہے وہ تمہارے لیے کافی ہے، تو اللہ ہر نئے دن جو روزی اس نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے وہ تمہیں دے گا اور تمہاری عمر کا کوئی سال باقی نہیں ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی طلبگارتمہارے رزق کی طرف تم سے آگے بڑھ نہیں سکتا اور نہ کوئی غلبہ پانے والا اس میں تم پر غالب آسکتا ہے اور جو تمہارے لیے مقدر ہوچکا ہے اس کے ملنے میں کبھی تاخیر نہ ہوگی.&lt;br /&gt;(سید رضی فرماتے ہیں کہ) یہ کلام اسی باب میں پہلے بھی درج ہوچکا ہے۔ مگر یہاں کچھ زیادہ وضاحت و تشریح کے ساتھ تھا,اس لیے ہم نے اس کا اعادہ کیا ہے اس قاعدہ کی بناء پر جو کتا ب کے دیباچہ میں گزر چکا ہے۔&lt;br /&gt;380بہت سے لوگ ایسے دن کا سامنا کرتے ہیں جس سے انہیں پیٹھ پھرانا نہیں ہوتا۔ اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ رات کے پہلے حصہ میں ان پر رشک کیا جاتا ہے اورآخر ی حصہ میں ان پر رونے والیوں کا کہرام بپاہوتا ہے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;381کلام تمہارے قید وبند میں ہے جب تک تم نے اسے کہا نہیں ہے اور جب کہہ دیا، تو تم اس کی قید و بند میں ہو۔ لہٰذا اپنی زبان کی اسی طرح حفاظت کرو جس طرح اپنے سونے چاندی کی کرتے ہو کیونکہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی بڑی نعمت کو چھین لیتی اور مصیبت کو نازل کردیتی ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;382جو نہیں جانتے اسے نہ کہو، بلکہ جوجانتے ہو، وہ بھی سب کاسب نہ کہو۔ کیونکہ اللہ سبحانہ نے تمہارے تمام اعضا پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں جن کے ذریعہ قیامت کے دن تم پر حجت لائے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;383اس بات سے ڈرتے رہو کہ اللہ تمہیں اپنی معصیت کے وقت موجود اور اپنی اطاعت کے وقت غیر حاضر پائے تو تمہارا شمار گھاٹا اٹھانے والوں میں ہو گا.جب قوی ودانا ثابت ہونا ہو تو اللہ کی اطاعت پر اپنی قو ت دکھاؤاور کمزور بننا ہو تواس کی معصیت سے کمزوری دکھاؤ.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;384دنیا کی حالت دیکھتے ہوئے اس کی طرف جھکنا جہالت ہے اور حسن عمل کے ثواب کا یقین رکھتے ہوئے اس میں کوتاہی کرنا گھاٹا اٹھانا ہے۔ اور پرکھے بغیر ہر ایک پر بھروسا کرلینا عجز و کمزور ی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;385اللہ کے نزدیک دنیا کی حقارت کے لیے یہی بہت ہے کہ اللہ کی معصیت ہوتی ہے تو اس میں اور اس کے یہاں کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں تو اسے چھوڑنے سے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;386جو شخص کسی چیز کو طلب کرے تو اسے یا اس کے بعض حصہ کو پالے گا۔ (جونیدہ یا بندہ )&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;387وہ بھلائی بھلائی نہیں جس کے بعد دوزخ کی آگ ہو۔ اور وہ برائی برائی نہیں جس کے بعد جنت ہو۔ جنت کے سامنے ہر نعمت حقیر، اور دوزخ کے مقابلہ میں ہر مصیبت راحت ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;388اس بات کو جانے رہو کہ فقر و فاقہ ایک مصیبت ہے، اور فقر سے زیادہ سخت جسمانی امراض ہیں اور جسمانی امراض سے زیادہ سخت دل کا روگ ہے۔ یاد رکھو کہ مال کی فراوانی ایک نعمت ہے اور مال کی فراوانی سے بہتر صحت بدن ہے، اور صحت بد ن سے بہتر دل کی پرہیز گاری ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;389جسے عمل پیچھے ہٹائے، اسے نسب آگے نہیں بڑھا سکتا (ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے )جسے ذاتی شرف و منزلت حاصل نہ ہو اسے آباؤ اجداد کی منزلت کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;390مومن کے اوقات تین ساعتوں پر منقسم ہوتے ہیں ایک وہ کہ جس میں اپنے پروردگار سے رازو نیاز کی باتیں کرتا ہے۔ اور ایک وہ جس میں اپنے معاش کا سروسامان کرتا ہے اور وہ کہ جس میں حلال و پاکیزہ لذتوں میں اپنے نفس کو آزاد چھوڑ دیتا ہے۔ عقلمند آدمی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ گھر سے دور ہو، مگر تین چیزوں کے لیے »معاش«کے بندوبست کے لیے یا امر آخرت کی طرف قدم اٹھانے کے لیے یا ایسی لذت اندوزی کے لیے کہ جو حرام نہ ہو.&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-1440862534503634320?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/1440862534503634320/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=1440862534503634320' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/1440862534503634320'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/1440862534503634320'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_6997.html' title='اقوال ۳۶۱ تا ۳۹۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-8493392397159901907</id><published>2010-08-27T10:26:00.000-07:00</published><updated>2010-08-27T10:27:27.682-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>اقوال ۳۳۱ تا ۳۶۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;اقوال ۳۳۱ تا ۳۶۰&lt;br /&gt;331 جب کاہل اور ناکارہ افراد عمل میں کوتاہی کرتے ہیں تو اللہ کی طرف سے یہ عقلمند وں کے لیے ادائے فرض کا ایک بہترین موقع ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;332 حکام اللہ کی سر زمین میں اس کے پاسبان ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;333 مومن کے متعلق فرمایا! مومن کے چہرے پر بشاشت اور دل میں غم و اندوہ ہوتا ہے۔ ہمت اس کی بلند ہے اور اپنے دل میں وہ اپنے کو ذلیل سمجھتا ہے سر بلندی کو برا سمجھتا ہے اور شہرت سے نفرت کرتا ہے اس کا غم بے پایاں اور ہمت بلند ہوتی ہے۔ بہت خاموش ہمہ وقت مشغو ل، شاکر، صابر، فکر میں غرق, دست طلب بڑھانے میں بخیل، خوش خلق اور نرم طبیعت ہوتا ہے اور اس کا نفس پتھر سے زیادہ سخت اور خود غلام سے زیادہ متواضع ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;334 اگر کوئی بندہ مدت حیات اور اس کے انجا م کو دیکھے تو امیدوں اور ان کے فریب سے نفرت کرنے لگے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;335 ہر شخص کے مال میں دو حصہ دار ہوتے ہیں۔ ایک وارث اور دوسرے حوادث.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;336 جس سے مانگا جائے وہ اس وقت تک آزاد ہے، جب تک وعدہ نہ کرے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;337 جو عمل نہیں کرتا اور دعا مانگتا ہے وہ ایسا ہے جیسے بغیر حلیہ کمان کے تیر چلانے والا.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;338 علم دو طرح کا ہوتا ہے، ایک وہ جو نفس میں بس جائے اور ایک وہ جو صرف سن لیا گیاہو اور سناسنایا فائدہ نہیں دیتا جب تک وہ دل میں راسخ نہ ہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;339 اصابتِ رائے اقبال و دولت سے وابستہ ہے اگر یہ ہے تو وہ بھی ہوتی ہے اور اگر یہ نہیں تو وہ بھی نہیں ہوتی.&lt;br /&gt;جب کسی کا بخت یاور اور اقبال اوج و عروج پر ہوتا ہے تو اس کے قدم خود بخود منزل مقصود کی طر ف بڑھنے لگتے ہیں۔ اور ذہن و فکر کو صحیح طریق کار کے طے کرنے میں کوئی الجھن نہیں ہوتی اور جس کا اقبال ختم ہونے پر آتا ہے وہ روشنی میں بھی ٹھوکریں کھاتا ہے اور ذہن وفکر کی قوتیں معطل ہوکر رہ جاتی ہیں۔ چنانچہ جب بنی برمک کا زوال شروع ہوا تو ان میں سے دس آدمی ایک امر میں مشورہ کرنے کے لیے جمع ہوگئے مگر پوری رد و کد کے بعد بھی کسی صحیح نتیجہ تک نہ پہنچ سکے۔ یہ دیکھ کر یحییٰ نے کہا کہ خدا کی قسم یہ ہمارے زوال کا پیش خیمہ اور ہمارے ادبار کی علامت ہے کہ ہم دس آدمی بھی کوئی فیصلہ نہ کر سکیں۔ ورنہ جب ہمارا نیر و اقبال بام عروج پر تھا تو ہمارا ایک آدمی ایسی دس دس گتھیوں کو بڑی آسانی سے سلجھا لیتا تھا۔&lt;br /&gt;340 فقر کی زینت پاکدامنی اور تونگری کی زینت شکر ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;341 ظالم کے لیے انصاف کا دن اس سے زیادہ سخت ہوگا، جتنا مظلوم پر ظلم کا دن۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;342 سب سے بڑی دولت مندی یہ ہے کہ دوسروں کے ہاتھ میں جو ہے اس کی آس نہ رکھی جائے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;343 گفتگوئیں محفوظ ہیں اور دلوں کے بھید جانچے جانے والے ہیں۔ ہر شخص اپنے اعمال کے ہاتھوں میں گروی ہے اور لوگوں کے جسموں میں نقص اور عقلوں میں فتور آنے والا ہے مگر وہ کہ جسے اللہ بچائے رکھے۔ ان میں پوچھنے والا الجھانا چاہتا ہے اور جواب دینے والا (بے جانے بوجھے جواب کی)زحمت اٹھاتا ہے جو ان میں درست رائے رکھتا ہے۔ اکثر خوشنودی و ناراضگی کے تصورات اسے صحیح رائے سے موڑ دیتے ہیں اور جو ان میں عقل کے لحاظ سے پختہ ہوتا ہے بہت ممکن ہے کہ ایک نگا ہ اس کے دل پر اثر کردے اور ایک کلمہ اس میں انقلاب پیدا کردے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;344 اے گروہ مردم! اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ کتنے ہی ایسی باتوں کی امید باندھنے والے ہیں جن تک پہنچتے نہیں اور ایسے گھر تعمیر کرنے والے ہیں جن میں رہنا نصیب نہیں ہوتا اور ایسا مال جمع کرنے والے ہیں جسے چھوڑجاتے ہیں حالانکہ ہوسکتا ہے کہ اسے غلط طریقہ سے جمع کیا ہو یا کسی کا حق دبا کر حاصل کیا ہو۔ اس طرح اسے بطور حرام پایا ہو اور اس کی وجہ سے گناہ کا بوجھ اٹھایا ہو، تو اس کا وبال لے کر پلٹے اور اپنے پروردگار کے حضور رنج و افسوس کرتے ہوئے جا پہنچے دنیا و آخرت دونوں میں گھاٹا اٹھایا۔ یہی تو کھلم کھلا گھاٹا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;345 گناہ تک رسائی کا نہ ہوتا بھی ایک صورت پاکدامنی کی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;346 تمہاری آبرو قائم ہے جسے دست سوال دراز کرنا بہا دیتا ہے۔ لہٰذا یہ خیال رہے کہ کس کے آگے اپنی آبرو ریزی کر رہے ہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;347 کسی کو اس کے حق سے زیادہ سراہنا چاپلوسی ہے اور حق میں کمی کرنا کوتاہ بیانی ہے یا حسد.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;348 سب سے بھاری گناہ وہ ہے کہ جس کا ارتکاب کرنے والا اسے سبک سمجھے۔&lt;br /&gt;چھوٹے گناہوں میں بے باکی و بے اعتنائی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان گناہ کے معاملہ میں بے پرواہ سا ہوجاتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ عادات اسے بڑے بڑے گناہوں کی جرات دلا دیتی ہے اور پھر وہ بغیر کسی جھجک کے ان کا مرتکب ہونے لگتا ہے۔ لہٰذا چھوٹے گناہوں کو بڑے گناہوں کا پیش خیمہ سمجھتے ہوئے ان سے احتراز کر نا چاہیے تاکہ بڑے گناہوں کے مرتکب ہونے کی نوبت ہی نہ آئے۔&lt;br /&gt;349 جو شخص اپنے عیوب پر نظر رکھے گا وہ دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہے گا۔ اور جو اللہ کے دیئے ہوئے رزق پر خوش رہے گا، وہ نہ ملنے والی چیز پر رنجیدہ نہیں ہو گا۔ جو ظلم کی تلوار کھینچتا ہے وہ اسی سے قتل ہوتا ہے جو اہم امور کو زبردستی انجام دینا چاہتا ہے۔ وہ تباہ و بر باد ہوتا ہے، جو اٹھتی ہوئی موجوں میں پھاندتا ہے، وہ ڈوبتا ہے، جو بدنامی کی جگہوں پر جائے گا، وہ بدنام ہوگا، جو زیادہ بولے گا، وہ زیادہ لغزشیں کرے گا اور جس میں حیا کم ہو اس میں تقویٰ کم ہوگا اور جس میں تقویٰ کم ہوگا اس کا دل مردہ ہوجائے گا۔ اور جس کا دل مردہ ہوگیا وہ دوزخ میں جا پڑا۔ جو شخص لوگوں کے عیوب کو دیکھ کر نا ک بھول چڑھائے اور پھر انہیں اپنے لیے چاہے اور سرا سرا حمق ہے قناعت ایسا سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ جو موت کو زیادہ یاد رکھتا ہے وہ تھوڑی سی دنیا پر بھی خوش ہو رہتا ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کاقول بھی عمل کا ایک جز ہے، وہ مطلب کی بات کے علاوہ کلام نہیں کرتا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;350 لوگوں میں جو ظالم ہو اس کی تین علامتیں ہیں :وہ ظلم کرتا ہے اپنے سے بالا ہستی کی خلاف ورزی سے، اور اپنے سے پست لوگوں پر قہر و تسلط سے اور ظالموں کی کمک و امداد کرتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;351جب سختی انتہا کوپہنچ جائے تو کشائش و فراخی ہوگی اور جب ابتلاء ومصیبت کی کڑیاں تنگ ہوجائیں تو راحت و آسائش حاصل ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;352اپنے اصحاب میں سے ایک سے فرمایا زن و فرزند کی زیادہ فکر میں نہ رہو، اس لیے کہ اگر وہ دوستان خدا ہیں تو خدا اپنے دوستوں کو برباد نہ ہونے دے گا اور اگر دشمنان خدا ہیں تو تمہیں دشمنان خدا کی فکروں اور دھندوں میں پڑنے سے مطلب ہی کیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;353سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ اس عیب کو بر ا کہو، جس کے مانند خود تمہارے اندر موجود ہے۔&lt;br /&gt;اس سے بڑھ کر اور عیب کیا ہوسکتا ہے کہ انسان دوسروں کے ان عیوب پر نکتہ چینی کرے جو خود اس کے اندر بھی پائے جاتے ہوں، تقاضائے عدل تو یہ ہے کہ وہ دوسروں کے عیوب پر نظر کرنے سے پہلے اپنے عیوب پر نظرکرے اور سوچے کہ عیب، عیب ہے وہ دوسرے کے اند ر پایا جائے یا اپنے اندر&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہمہ عیب خلق دیدن نہ مروت است و مروی نگہے بخویشین کن کہ ہمہ گنا ہ داری&lt;br /&gt;354حضرت کے سامنے ایک نے دوسرے شخص کو فرزند کے پید ا ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ »شہسوار مبارک ہو«.جس پر حضرت نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ تم بخشنے والے (خدا) کے شکر گزار ہوئے یہ بخشی ہوئی نعمت تمہیں مبارک ہو، یہ اپنے کمال کو پہنچے اور اس کی نیکی و سعادت تمہیں نصیب ہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;355حضرت کے عمال میں سے ایک شخص نے ایک بلند عمار ت تعمیر کی جس پر آپ نے فرمایا۔ چاندی کے سکوں نے سر نکالا ہے۔ بلاشبہ یہ عمار ت تمہاری ثروت کی غمازی کرتی ہے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;356حضرت سے کہا گیا کہ اگر کسی شخص کو گھر میں چھوڑ کر اس کا دروازہ بند کردیا جائے تو اس کی روزی کدھر سے آئے گی؟ فرمایا:&lt;br /&gt;جدھر سے اس کی موت آئے گی۔&lt;br /&gt;اگر خداوند عالم کی مصلحت اس امر کی مقتضی ہو کہ وہ کسی ایسے شخص کو زندہ رکھے جسے کسی بند جگہ میں محصور کردیاگیا ہو، تو وہ اس لیے سروسامان زندگی مہیا کرکے اسے زندہ رکھنے پر قادر ہے اور جس طرح بند دروازے موت کو نہیں روک سکتے، اسی طرح رزق سے بھی مانع نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ اس قادر مطلق کی قدرت دونوں پر یکساں کار فرما ہے.&lt;br /&gt;مقصد یہ ہے کہ انسان کو رزق کے معاملہ میں قانع ہونا چاہیے کیونکہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ جہا ں کہیں بھی ہوگا، اسے بہر صورت ملے گا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;می رسد در خانہ در بستہ روزی چوں اجل حرص داردایں چنیں آشفتہ خاطر خلق را&lt;br /&gt;357حضرت نے ایک جماعت کو ان کے مرنے والے کی تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ »موت کی ابتداء تم سے نہیں ہوئی ہے اور نہ اس کی انتہا تم پر ہے یہ تمہارا ساتھی مصروف سفر رہتا تھا۔ اب بھی یہی سمجھو کہ وہ اپنے کسی سفرمیں ہے اگر وہ آگیا تو بہتر، ورنہ تم خود اس کے پاس پہنچ جاؤگے«۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;358اے لوگو! چاہیے کہ اللہ تم کو نعمت و آسائش کے موقع پر بھی اسی طرح خائف و ترساں دیکھے جس طرح تمہیں عذاب سے ہراساں دیکھتا ہے۔ بیشک جسے فراخ دستی حاصل ہو، اور وہ اسے کم کم عذاب کی طرف بڑھنے کا سبب نہ سمجھے تو اس نے خوفناک چیز سے اپنے کو مطمئن سمجھ لیا اور جو تنگدست ہو اور وہ اسے آزمائش نہ سمجھے تو اس نے اس ثواب کو ضائع کردیا۔ کہ جس کی امید وآرزو کی جاتی ہے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;359اے حرص و طمع کے اسیرو! باز آؤ کیونکہ دنیا پر ٹوٹنے والوں کو حوادث زمانہ کے دانت پیسنے ہی کا اندیشہ کرنا چاہیے۔&lt;br /&gt;اے لوگو! خود ہی اپنی اصلاح کا ذمہ لو, اور اپنی عادتوں کے تقاضوں سے منہ موڑلو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;360کسی کے منہ سے نکلنے والی بات میں اگر اچھائی کاپہلو نکل سکتا ہو، تو اس کے بارے میں بدگمانی نہ کرو۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-8493392397159901907?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/8493392397159901907/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=8493392397159901907' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/8493392397159901907'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/8493392397159901907'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_1115.html' title='اقوال ۳۳۱ تا ۳۶۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-4893862366485647770</id><published>2010-08-27T10:25:00.000-07:00</published><updated>2010-08-27T10:26:04.710-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>اقوال ۳۰۱ تا ۳۳۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;    &lt;br /&gt;اقوال ۳۰۱ تا ۳۳۰&lt;br /&gt;301 تمہارا قاصد تمہاری عقل کا ترجمان ہے اور تمہاری طرف سے کامیاب ترین ترجمانی کرنے والا تمہارا خط ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;302 ایسا شخص جو سختی و مصیبت میں مبتلا ہو۔ جتنا محتاج دعا ہے، اس سے کم وہ خیر وعافیت سے ہے۔ مگر اندیشہ ہے کہ نہ جانے کب مصیبت آجائے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;303 لوگ اسی دنیا کی اولاد ہیں اور کسی شخص کو اپنی ماں کی محبت پر لعنت ملامت نہیں کی جاسکتی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;304 غریب و مسکین اللہ کا فرستادہ ہوتا ہے تو جس نے اس سے اپنا ہاتھ روکا اس نے خدا سے ہاتھ روکا اور جس نے اسے کچھ دیا اس نے خدا کو دیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;305 غیر ت مند کبھی زنا نہیں کرتا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;306 مدت حیات نگہبانی کے لیے کافی ہے۔&lt;br /&gt;مطلب یہ ہے کہ لاکھ آسمان کی بجلیا ں کڑکیں، حوادث کے طوفان امڈیں، زمین میں زلزلے آئیں اور پہاڑ آپس میں ٹکرائیں، اگر زندگی باقی ہے تو کوئی حادثہ گزند نہیں پہنچا سکتا اور نہ صرصر موت شمع زندگی کو بجھا سکتی ہے کیونکہ موت کا ایک وقت مقرر ہے اور اس مقررہ وقت تک کوئی چیز سلسلہ حیات کو قطع نہیں کر سکتی، اس لحاظ سے بلا شبہ موت خود زندگی کی محافظ و نگہبان ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;»موت کہتے ہیں جسے ہے پاسبان زندگی «&lt;br /&gt;307 اولاد کے مرنے پہ آدمی کو نیند آجاتی ہے مگر مال کے چھن جانے پر اسے نیند نہیں آتی.&lt;br /&gt;سید رضی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اولاد کے مرنے پر صبر کر لیتا ہے مگر مال کے جانے پر صبر نہیں کرتا۔&lt;br /&gt;308 باپوں کی باہمی محبت اولاد کے درمیان ایک قرابت ہواکرتی ہے اور محبت کوقرابت کی اتنی ضرورت نہیں جتنی قرابت کو محبت کی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;309 اہل ایمان کے گمان سے ڈرتے رہو، کیونکہ خداوند عالم نے حق کو ان کی زبانوں پر قرار دیا ہے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;310 کسی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک اپنے ہاتھ میں موجود ہونے والے مال سے اس پر زیادہ اطمینان نہ ہو جو قدرت کے ہاتھ میں ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;311 جب حضرت بصرہ میں وارد ہوئے تو انس بن مالک کو طلحہ و زبیر کے پاس بھیجا تھا کہ ان دونوں کو کچھ وہ اقوال یاد دلائیں جو آپ علیہ السّلام کے بارے میں انہوں نے خود پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے ہیں۔ مگر انہوں نے اس سے پہلوتہی کی، اور جب پلٹ کر آئے تو کہا کہ وہ بات مجھے یاد نہیں رہی اس پر حضرت نے فرمایا اگر تم جھو ٹ بول رہے ہو تو اس کی پاداش میں خداوند عالم ایسے چمکدار داغ میں تمہیں مبتلا کرے، کہ جسے دستار بھی نہ چھپا سکے۔&lt;br /&gt;(سید رضی فرماتے ہیں کہ) سفید داغ سے مراد برص ہے چنانچہ انس مر ض میں مبتلا ہوگئے جس کی وجہ سے ہمیشہ نقاب پوش دکھائی دیتے تھے.&lt;br /&gt;علامہ رضی نے اس کلام کے جس مورد و عمل کی طرف اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ جب حضرت نے جنگ جمل کے موقع پر انس ابن مالک کو طلحہ وزبیر کے پاس اس مقصد سے بھیجا کہ وہ انہیں پیغمبر کا قول انکما استقاتلان علیا و انتھالہ ظالمان (تم عنقریب علی علیہ السّلام سے جنگ کر و گے اور تم ان کے حق میں ظلم و زیادتی کرنے والے ہوگے )یاد دلائیں، تو انہوں نے پلٹ کر یہ ظاہر کیا کہ وہ اس کا تذکر ہ بھو ل گئے تو حضرت نے ان کے لیے یہ کلمات کہے۔ مگر مشہور یہ ہے کہ حضرت نے یہ جملہ اس موقع پر فرمایا جب آپ پیغمبر صلعم کے اس ارشاد کی تصدیق چاہی کہ:&lt;br /&gt;“جس کا میں مولا ہوں اس کے علی بھی مولا ہیں۔ اے اللہ جو علی کو دوست رکھے تو بھی اسے دوست رکھ اور جو انہیں دشمن رکھے تو بھی اسے دشمن رکھ۔”&lt;br /&gt;چنانچہ متعدد لوگو ں نے اس کی گواہی دی۔ مگر انس بن مالک خاموش رہے جس پر حضرت نے ان سے فرمایا کہ تم بھی تو غدیر خم کے موقع پر موجود تھے پھر اس خاموشی کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا یا امیرالمومنین علیہ السّلام میں بوڑھا ہوچکا ہوں اب میری یاد داشت کا م نہیں کرتی جس پر حضرت نے ان کے لیے بددعا فرمائی۔ چنانچہ ابن قیتبہ تحریر کرتے ہیں کہ:&lt;br /&gt;“لوگوں نے بیان کیا ہے کہ امیرالمومنین علیہ السّلام نے انس ابن مالک سے رسول اللہ کے ارشاد اے اللہ جو علی کو دوست رکھے تو بھی اسے دوست رکھ اور جو انہیں دشمن رکھے تو بھی اسے دشمن رکھ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور اسے بھول چکا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم جھوٹ کہتے ہو تو خدا تمہیں ایسے بر ص میں مبتلا کرے جسے عمامہ بھی نہ چھپا سکے۔”&lt;br /&gt;ابن ابی الحدید نے بھی اسی قول کی تائید کی ہے اور سید رضی کے تحریر کردہ واقعہ کی تردید کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ:&lt;br /&gt;سید رضی نے جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے حضرت نے انس کو طلحہ و زبیر کی طرف روانہ کیا تھا ایک غیر معروف واقعہ ہے اگر حضرت نے اس کلام کی یاد دہانی کے لیے انہیں بھیجا ہوتا کہ جو پیغمبر نے ان دونوں کے بارے میں فرمایا تھا تو یہ بعید ہے کہ وہ پلٹ کر یہ کہیں کہ میں بھول گیا تھا۔ کیونکہ جب وہ حضرت سے الگ ہوکر روانہ ہوئے تھے تو اس وقت یہ اقرار کیا تھا کہ پیغمبر کا یہ ارشاد میرے علم میں ہے اور مجھے یاد ہے پھر کس طرح یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ایک گھڑی یا ایک دن کے بعد یہ کہیں کہ میں بھول گیا تھا، اور اقرار کے بعد انکا ر کریں۔ یہ ایک نہ ہونے والی بات ہے۔(شرح ابن ابی الحدید، جلد 4، صفحہ 388)&lt;br /&gt;312 دل کبھی مائل ہوتے ہیں اور کبھی اچاٹ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا جب مائل ہوں، اس وقت انہیں مستحبات کی بجا آوری پرآمادہ کرو۔ اور جب اچاٹ ہوں تو واجبات پر اکتفا کرو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;313 قرآن میں تم سے پہلے کی خبر میں تمہارے بعد کے واقعات اور تمہارے درمیانی حالات کے لیے احکام ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;314 جدھر سے پتھر آئے اسے ادھر ہی پلٹا دو کیونکہ سختی کا دفیعہ سختی ہی سے ہوسکتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;315 اپنے منشی عبیداللہ ابن ابی رافع سے فرمایا :&lt;br /&gt;دوات میں صو ف ڈالا کر و، اور قلم کی زبان لانبی رکھا کرو۔ سطروں کے درمیان فاصلہ زیادہ چھوڑا کرو اور حروف کو ساتھ ملا کر لکھا کرو کہ یہ خط کی دیدہ زیبی کے لیے منا سب ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;316 میں اہل ایمان کا یعسوب ہوں اور بدکرداروں کا یعسوب مال ہے۔&lt;br /&gt;(سید رضی فرماتے ہیں کہ )اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان والے میری پیروی کرتے ہیں اور بدکردار مال و دولت کا اسی طرح اتباع کرتے ہیں جس طرح شہد کی مکھیا ں یعسوب کی اقتدا کرتی ہیں اور یعسوب اس مکھی کو کہتے ہیں جو ان کی سردار ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;317 ایک یہودی نے آپ سے کہا کہ ابھی تم لوگوں نے اپنے نبی کودفن نہیں کیا تھا کہ ان کے بارے میں اختلاف شروع کردیا۔ حضرت نے فرمایا ہم نے ان کے بارے میں اختلا ف نہیں کیا۔ بلکہ ان کے بعد جانشینی کے سلسلہ میں اختلاف ہوا مگر تم تو وہ ہوکہ ابھی دریائے نیل سے نکل کر تمہارے پیر خشک بھی نہ ہوئے تھے کہ اپنے نبی سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی ایک ایسا خدا بنا دیجئے جیسے ان لوگوں کے خدا ہیں۔ توموسیٰ علیہ السّلام نے کہا کہ بیشک تم ایک جاہل قوم ہو.&lt;br /&gt;اس یہودی کی نکتہ چینی کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے باہمی اختلاف کو پیش کر کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کو ایک اختلافی امر ثابت کرلے، مگر حضرت نے یہ لفظ فیہ کے بجائے لفظ عنہ فرماکر اختلاف کا مورد واضح کر دیا کہ وہ اختلاف رسول کی نبو ت کے بارے میں نہ تھا بلکہ ان کی نیابت و جانشینی کے سلسلہ میں تھا۔ اور پھر یہودیوں کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جو آج پیغمبر کے بعد مسلمانوں کے باہمی اختلاف پر نقدکر رہے ہیں خود ان کی حالت یہ تھی کہ حضرت موسیٰ کی زندگی ہی میں عقیدہ توحید میں متزلزل ہوگئے تھے چنانچہ جب وہ اہل مصر کی غلامی سے چھٹکارا پاکر دریا کے پار اتر ے تو سینا کے بت خانہ میں بچھڑے کی ایک مورتی دیکھ کر حضرت موسیٰ سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی ایک ایسی مورتی بنا دیجئے۔ جس پر حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے کہا کہ تم اب بھی ویسے ہی جاہل ہو, جیسے مصر میں تھے تو جس قوم میں توحید کی تعلیم پانے کے بعد بھی بت پرستی کا جذبہ اتنا ہو کہ وہ ایک بت کو دیکھ کر تڑپنے لگے اور یہ چاہے کہ اس کے لیے بھی ایک بت خانہ بنا دیا جائے اس کو مسلمانوں کے کسی اختلاف پر تبصرہ کرنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔&lt;br /&gt;318 حضرت سے کہا گیا کہ آپ کس وجہ سے اپنے حریفوں پرغالب آتے رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں جس شخص کا بھی مقابلہ کر تا تھا وہ اپنے خلاف میری مدد کرتا تھا۔&lt;br /&gt;(سید رضی فرماتے ہیں کہ )حضرت نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ کی ہیبت دلو ں پر چھا جاتی تھی۔&lt;br /&gt;جو شخص اپنے حریفوں سے مرعوب ہو جائے، اس کا پسپا ہونا ضروری سا ہوجاتا ہے کیونکہ مقابلہ میں صرف جسمانی طاقت کا ہونا ہی کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ دل کا ٹھہراؤ اورحوصلہ کی مضبوطی بھی ضروری ہے۔ اور جب وہ ہمت ہار دے گا اور یہ خیال دل میں جما لے گا کہ مجھے مغلوب ہی ہونا ہے تو مغلوب ہو کر رہے گا۔ یہی صورت امیر المومنین علیہ السّلام کے حریف کی ہوتی تھی کہ و ہ ان کی مسلمہ شجاعت سے اس طرح متاثر ہوتا تھا کہ اسے موت کا یقین ہو جاتا تھا۔ جس کے نتیجہ میں اس کی قوت معنوی و خود اعتمادی ختم ہوجاتی تھی اورآخر یہ ذہنی تاثر اسے موت کی راہ پر لا کھڑا کرتا تھا۔&lt;br /&gt;319 اپنے فرزند محمد ابن حنفیہ سے فرمایا ! اے فرزند ! میں تمہارے لیے فقر و تنگدستی سے ڈرتا ہوں لہٰذا فقر و ناداری سے اللہ کی پناہ مانگو۔ کیونکہ یہ دین کے نقص، عقل کی پریشانی اور لوگوں کی نفرت کا باعث ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;320 ایک شخص نے ایک مشکل مسئلہ آپ سے دریافت کیا، تو آپ نے فرمایا۔ سمجھنے کے لیے پوچھو، الجھنے کے لیے نہ پوچھو۔ کیونکہ وہ جاہل جو سیکھنا چاہتا ہے مثل عالم کے ہے اور وہ عالم جو الجھنا چاہتا ہے وہ مثل جاہل کے ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;321 عبد اللہ ابن عباس نے ایک امر میں آپ کو مشورہ دیا جو آپ کے نظر یہ کے خلاف تھا۔ تو آپ نے ان سے فرمایا۔ تمہارا یہ کام ہے کہ مجھے رائے دو۔ اس کے بعد مجھے مصلحت دیکھنا ہے۔ اور اگر میں تمہاری رائے کو نہ مانوں، تو تمہیں میری اطاعت لازم ہے۔&lt;br /&gt;عبداللہ ابن عباس نے امیر المومنین علیہ السّلام کو یہ مشورہ دیا تھا کہ طلحہ و زبیر کو کوفہ کی حکومت کا پروانہ لکھ دیجئے اور معاویہ کو شام کی ولایت پر برقرار رہنے دیجئے، یہاں تک کہ آپ کے قد م مضبوطی سے جم جائیں اور حکومت کو استحکام حاصل ہوجائے جس کے جواب میں حضرت نے فرمایا کہ میں دوسروں کی دنیا کی خاطر اپنے دین کو خطرہ میں نہیں ڈال سکتا لہٰذا تم اپنی بات منوانے کے بجائے میری بات کو سنو اور میری اطاعت کرو۔&lt;br /&gt;322 وارد ہوا ہے کہ جب حضرت صفین سے پلٹتے ہوئے کوفہ پہنچے تو قبیلہ شبام کی آبادی سے ہوکر گزرے۔ جہاں صفین کے کشتوں پر رونے کی آواز آپ کے کانوں میں پڑی اتنے میں حرب ابن شرجیل شبامی جو اپنی قوم کے سربرآوردہ لوگوں میں سے تھے، حضرت کے پاس آئے تو آپ نے اس سے فرمایا ! کیاتمہارا ان عورتوں پر بس نہیں چلتا جو میں رونے کی آوازیں سن رہا ہوں اس رونے چلانے سے تم انہیں منع نہیں کرتے؟ حرب آگے بڑھ کر حضرت کے ہمرکاب ہو لیے درآں حالیکہ حضرت سوار تھے تو آپ نے فرمایا ! پلٹ جاؤ تم۔ ایسے آدمی کا مجھ ایسے کے ساتھ پیادہ چلنا والی کے لیے فتنہ اور مومن کے لیے ذلت ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;323 نہروان کے دن خوارج کے کشتوں کی طرف ہو کر گزرے تو فرمایا ! تمہارے لیے ہلاکت و تباہی ہو جس نے تمہیں ورغلایا، اس نے تمہیں فریب دیا۔ کہاگیاکہ یا امیر المومنین علیہ السّلام کس نے انہیں ورغلایا تھا؟فرمایا کہ گمراہ کرنے والے شیطان اور برائی پر ابھارنے والے نفس نے کہ جس نے انہیں امیدوں کے فریب میں ڈالا اور گناہوں کا راستہ ان کے لیے کھول دیا۔ فتح و کامرانی کے ان سے وعدے کئے اور اس طرح انہیں دوزخ میں جھونک دیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;324 تنہائیوں میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرنے سے ڈرو۔ کیونکہ جو گواہ ہے وہی حاکم ہے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;325 جب آپ کو محمد ابن ابی بکر رحمتہ اللہ علیہ کے شہید ہونے کی خبر پہنچی توآپ نے فرمایا ہمیں ان کے مر نے کا اتنا ہی رنج و قلق ہے جتنی دشمنوں کو اس کی خوشی ہے۔ بلاشبہ ان کا ایک دشمن کم ہوا۔ اور ہم نے ایک دوست کو کھو دیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;326 وہ عمر کہ جس کے بعد اللہ تعالیٰ آدمی کے عذر کو قبول نہیں کرتا، ساٹھ برس کی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;327 جس پر گناہ قابو پا لے، وہ کامران نہیں اور شرکے ذریعہ غلبہ پانے والا حقیقتاً مغلوب ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;328 خدا وند عالم نے دولتمندوں کے مال میں فقیروں کا رزق مقرر کیا ہے لہٰذا اگر کوئی فقیر بھوکا رہتا ہے تو اس لیے کہ دولت مند نے دولت کو سمیٹ لیا ہے اور خدائے بزرگ و برتر ان سے اس کا مواخذہ کرنے والا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;329 سچاعذر پیش کرنے سے یہ زیادہ دقیع ہے کہ عذر کی ضرورت ہی نہ پڑے۔&lt;br /&gt;مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنے فرائض پر اس طرح کار بند ہونا چاہیے کہ اسے معذرت پیش کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ کیونکہ معذرت میں ایک گونہ کوتاہی کی جھلک اور ذلت کی نمود ہوتی ہے، اگرچہ وہ صحیح و درست ہی کیوں نہ ہو۔&lt;br /&gt;330 اللہ کا کم سے کم حق جو تم پر عائد ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کی نعمتوں سے گناہوں میں مدد نہ لو.&lt;br /&gt;کفران نعمت وناسپاسی کے چنددرجے ہیں۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان نعمت ہی کی تشخیص نہ کرسکے، جیسے آنکھوں کی روشنی، زبان کی گویائی، کانوں کی شنوائی اور ہاتھ پیروں کی حرکت کو سن اللہ کی بخشی ہوئی نعمتیں ہیں۔ مگر بہت سے لوگوں کو ان کے نعمت ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان میں شکر گزاری کا جذبہ پیدا ہو. دوسرا درجہ یہ ہے کہ نعمت کو دیکھے اور سمجھے۔ مگر اس کے مقابلہ میں شکر بجا نہ لائے. تیسرادرجہ یہ ہے کہ نعمت بخشنے والے کی مخالفت و نافرمانی کرے۔ چوتھا درجہ یہ ہے کہ اسی کی دی ہوئی نعمتوں کو اطاعت و بندگی میں صرف کر نے کے بجائے اس کی معصیت و نافرمانی میں صرف کرے یہ کفران نعمت کا سب سے بڑا درجہ ہے۔&lt;br /&gt;   &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-4893862366485647770?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/4893862366485647770/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=4893862366485647770' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/4893862366485647770'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/4893862366485647770'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_2029.html' title='اقوال ۳۰۱ تا ۳۳۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-3663034409347650551</id><published>2010-08-27T10:24:00.002-07:00</published><updated>2010-08-27T10:25:21.127-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>اقوال ۲۷۱ تا ۳۰۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;    &lt;br /&gt;اقوال ۲۷۱ تا ۳۰۰&lt;br /&gt;271 روایت کی گئی ہے کہ حضرت کے سامنے دو آدمیوں کو پیش کیا گیا جنہوں نے بیت المال میں چوری کی تھی ایک تو ان میں غلام اور خود بیت المال کی ملکیت تھا، اور دوسرا لوگوں میں سے کسی کی ملکیت میں تھا۔ آپ نے فرمایا کہ »یہ غلام جو بیت المال کا ہے اس پر حد جاری نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ کا مال اللہ کے مال ہی نے کھایا ہے لیکن دوسرے پر حد جاری ہوگی۔ چنانچہ اس کا ہاتھ قطع کردیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;272 اگران پھسلنوں سے بچ کر میرے پرجم گئے تومیں بہت سی چیزوں میں تبدیلی کر دوں گا۔&lt;br /&gt;اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پیغمبر اسلام کے بعد دین میں تغیرات رونما ہونا شروع ہوگئے اور کچھ افراد نے قیاس و رائے سے کام لے کر احکا م شریعت میں ترمیم و تنسیخ کی بنیاد ڈال دی۔ حالانکہ حکم شرعی میں تبدیلی کا کسی کو حق نہیں پہنچتا، کہ وہ قرآ ن و سنت کے واضح احکام کو ٹھکر ا کر اپنے قیاسی احکا م کا نفاذ کرے۔ چنانچہ قرآن کریم میں طلاق کی یہ واضح صورت بیان ہوئی ہے کہ “الطلاق مرّتٰن” طلاق ( رجعی کہ جس میں بغیر محلل کے رجوع ہوسکتی ہے )دو مرتبہ ہے مگر حضرت عمر نے بعض مصالح کے پیش نظر ایک ہی نشست میں تین طلاقوں کے واقع ہونے کا حکم دے دیا۔ اسی طرح میراث میں عول کا طریقہ رائج کیا گیا اورنماز جنازہ میں چار تکبیروں کو رواج دیا یونہی حضرت عثمان نے نماز جمعہ میں ایک اذان بڑھا دی اور قصر کے موقع پر پوری نماز کے پڑھنے کا حکم دیا اور نماز عید میں خطبہ کو نماز پر مقدم کر دیا.اور اسی طرح کے بے شمار احکام وضع کرلیے گئے جس سے صحیح احکام بھی غلط احکام کے ساتھ مخلوط ہوکر بے اعتماد بن گئے۔&lt;br /&gt;امیرالمومنین علیہ السلام جو شریعت کے سب سے زیادہ واقف کار تھے وہ ان احکام کے خلاف احتجاج کرتے اور صحابہ کے خلاف اپنی رائے رکھتے تھے چنانچہ ابن ابی الحدید نے تحریر کیا ہے کہ :&lt;br /&gt;ہمارے لیے اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ امیرالمومنین علیہ السّلام شرعی احکام و قضایا میں صحابہ کے خلاف رائے رکھتے تھے.&lt;br /&gt;جب حضرت ظاہری خلافت پر متمکن ہوئے تو ابھی آپ کے قد م پوری طرح سے جمنے نہ پائے تھے کہ چاروں طر ف سے فتنے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان الجھنوں سے آخر وقت تک چھٹکارا حاصل نہ کرسکے جس کی وجہ سے تبدیل شدہ احکام میں پوری طرح ترمیم نہ ہوسکی، اور مرکز سے دور علاقوں میں بہت غلط سلط احکام رواج پاگئے۔ البتہ وہ طبقہ جو آپ سے وابستہ تھا، وہ آپ سے احکام شریعت کو دریافت کرتا تھا، اور انہیں محفوظ رکھتا جس کی وجہ سے صحیح احکام نابو د اور غلط مسائل ہمہ گیر نہ ہوسکے۔&lt;br /&gt;273 پورے یقین کے ساتھ اس امر کو جانے رہو کہ اللہ سبحانہ نے کسی بندے کے لیے چاہے اس کی تدبیریں بہت زبردست اس کی جستجو شدید اور اس کی ترکیبیں طاقت ور ہوں اس سے زائد رزق قرار نہیں دیا جتنا کہ تقدیر الہی میں اس کے لیے مقرر ہوچکا ہے۔ اور کسی بندے کے لیے اس کمزوری و بے چارگی کی وجہ سے لوح محفو ظ میں اس کے مقررہ رزق تک پہنچنے میں رکاوٹ نہیں ہوتی۔ اس حقیقت کو سمجھنے والا اور اس پر عمل کر نے والا سود و منفعت کی راحتوں میں سب لوگوں سے بڑھ چڑھ کر ہے اور اسے نظر انداز کرنے اوراس میں شک و شبہ کرنے والا سب لوگوں سے زیادہ زیاں کاری میں مبتلاہے بہت سے وہ جنہیں نعمتیں ملی ہیں، نعمتوں کی بدولت کم کم عذا ب کے نزدیک کئے جارہے ہیں، اور بہت سوں کے ساتھ فقر فاقہ کے پردہ ہیں اللہ کا لطف وکرم شامل حال ہے لہٰذا اسے سننے والے شکر زیادہ اور جلد بازی کم کر اور جو تیری روزی کی حدہے اس پر ٹھہرا رہ.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;274 اپنے علم کو اور اپنے یقین کو شک نہ بناؤ جب جان لیا تو عمل کرو، اور جب یقین پیدا ہوگیا تو آگے بڑھو۔&lt;br /&gt;علم و یقین کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے مطابق عمل کیا جائے اور اگراس کے مطابق عمل ظہور میں نہ آئے تواسے علم ویقین سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا چنانچہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مجھے یقین ہے کہ فلاں راستہ میں خطرات ہیں اور وہ بے خطر راستہ کو چھوڑ کر اسی پر خطر راستہ میں راہ پیمائی کرے، تو کون کہہ سکتاہے کہ وہ اس راہ کے خطرات پر یقین رکھتا ہے۔ جبکہ اس یقین کا نتیجہ یہ ہو نا چاہیے کہ وہ اس راستہ ہر چلنے سے احتراز کرتا۔ اسی طرح جو شخص حشرونشراور عذاب و ثواب پر یقین رکھتا ہو وہ دنیا کی غفلتوں سے مغلوب ہو کر آخرت کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ عذاب و عقاب کے خوف سے عمل میں کوتاہی کا مرتکب ہوسکتاہے۔&lt;br /&gt;275 طمع گھاٹ پر اتارتی ہے مگر سیراب کئے بغیر پلٹا دیتی ہے۔ ذمہ داری کا بوجھ اٹھاتی ہے مگر اسے پورا نہیں کرتی۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پانی پینے والے کو پینے سے پہلے ہی اچھو ہوجاتا ہے۔ اور جتنی کسی مرغوب و پسندیدہ چیز کی قدر و منزلت زیادہ ہوتی ہے اتنا ہی اسے کھودینے کا رنج زیادہ ہوتا ہے۔ آرزوئیں دیدہ و بصیرت کو اندھا کردیتی ہیں اور جو نصیب میں ہوتا ہے پہنچنے کی کوشش کئے بغیر مل جاتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;276 اے اللہ !میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میرا ظاہر لوگوں کی چشمِ ظاہر بین میں بہتر ہو اور جو اپنے باطن میں چھپائے ہوئے ہوں، وہ تیری نظروں میں برا ہو۔ درآں حالیکہ میں لوگوں کے دکھاوے کے لیے اپنے نفس سے ان چیزوں سے نگہداشت کروں۔ جن سب سے تو آگا ہ ہے۔ اس طرح لوگوں کے سامنے تو ظاہر کے اچھا ہونے کی نمائش کروں اور تیرے سامنے اپنی بداعمالیوں کو پیش کر تا رہوں جس کے نتیجہ میں تیرے بندوں سے تقرب حاصل کر ں، اور تیری خوشنودیوں سے دور ہی ہوتا چلاجاؤں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;277 (کسی موقع پرقسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا)اس ذات کی قسم جس کی بدولت ہم نے ایسی شبِ تار کے باقی ماندہ حصہ کو بسر کردیا۔ جس کے چھٹتے ہی روز ِدرخشاں ظاہر ہوگا ایسا اور ایسا نہیں ہوا.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;278 وہ تھوڑ اعمل جو پابندی سے بجالایا جاتا ہے زیادہ فائدہ مند ہے اس کثیر عمل سے کہ جس سے دل اکتا جائے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;279 جب مستحبات فرائض میں سدِ راہ ہوں تو انہیں چھوڑ دو.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;280 جو سفرکی دوری کو پیش نظر رکھتا ہے وہ کمر بستہ رہتاہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;281 آنکھوں کا دیکھنا حقیقت میں دیکھنا نہیں کیونکہ آنکھیں کبھی اپنے اشخاص سے غلط بیانی بھی کرجاتی ہیں مگر عقل اس شخص کو جو اس سے نصیحت چاہے کبھی فریب نہیں دیتی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;282 تمہارے اور پند و نصیحت کے درمیان غفلت کا ایک بڑا پردہ حائل ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;283 تمہارے جاہل دولت زیادہ پاجاتے ہیں اور عالم آئندہ کے توقعات میں مبتلا رکھے جاتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;284 علم کا حاصل ہوجانا، بہانے کرنے والوں کے عذر کو ختم کردیتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;285 جسے جلدی سے موت آجاتی ہے وہ مہلت کا خواہاں ہوتا ہے اور جسے مہلت زندگی دی گئی ہے وہ ٹال مٹول کرتارہتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;286 لوگ کسی شے پر »واہ واہ «نہیں کرتے مگر یہ کہ زمانہ اس کے لیے ایک برا دن چھپائے ہوئے ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;287 آپ سے قضا و قدر کے متعلق پوچھا گیا تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا ! یہ ایک تاریک راستہ ہے اس میں قدم نہ اٹھاؤ.ایک گہرا سمندر ہے۔ اس میں نہ اترو اللہ کا ایک راز ہے اسے جاننے کی زحمت نہ اٹھاؤ.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;288 اللہ جس بندے کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اسے علم و دانش سے محروم کردیتاہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;289 عہد ماضی میں میر اایک دینی بھائی تھا اور وہ میری نظروں میں اس وجہ سے باعزت تھا کہ دنیااس کی نظروں میں پست و حقیر تھی۔ اس پر پیٹ کے تقاضے مسلط نہ تھے۔ لہٰذا جوچیز اُسے میسر نہ تھی اس کی خواہش نہ کرتا تھا اور جو چیز میسر تھی اسے ضرورت سے زیادہ صرف میں نہ لاتا تھا۔ وہ اکثر اوقات خاموش رہتا تھا اور اگر بولتا تھا تو بولنے والوں کو چپ کرادیتا تھا اور سوال کرنے والوں کی پیاس بجھا دیتا تھا۔ یوں تو وہ عاجز و کمزور تھا، مگر جہاد کا موقع آجائے تو وہ شیر بیشہ اور وادی کا اژدھا تھا۔ وہ جو دلیل و برہان پیش کرتا تھا، وہ فیصلہ کن ہوتی تھی۔ وہ ان چیزوں میں کہ جن میں عذر کی گنجائش ہوتی تھی، کسی کو سرزنش نہ کرتا تھا جب تک کہ اس کے عذر معذرت کو سن نہ لے وہ کسی تکلیف کا ذکر نہ کرتا تھا، مگر اس وقت کہ جب اس سے چھٹکارا پا لیتا تھا، وہ جو کرتا تھا، وہی کہتا تھا اور جو نہیں کرتا تھا وہ اسے کہتا نہیں تھا.اگر بولنے میں اس پر کبھی غلبہ پا بھی لیا جائے تو خاموشی میں اس پر غلبہ حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا.وہ بولنے سے زیادہ سننے کا خواہشمند رہتا تھا اور جب اچانک اس کے سامنے دوچیزیں آجاتی تھیں تو دیکھتا تھا کہ ان دونوں میں سے ہوائے نفس کے زیادہ قریب کون ہے تو وہ اس کی مخالفت کرتا تھا۔ لہٰذا تمہیں ان عادات و خصائل کو حاصل کرنا چاہیے اور ان پر عمل پیرا اور ان کا خواہشمند رہنا چاہیے اگر ان تما م کا حاصل کرنا تمہاری قدرت سے باہر ہو تو اس بات کو جانے رہو کہ تھوڑی سی چیز حاصل کرنا پور ے کے چھوڑ دینے سے بہتر ہے۔&lt;br /&gt;حضرت نے اس کلام میں جس شخص کو بھائی کے لفظ سے یاد کرتے ہوئے اس کے عادات و شمائل کا تذکرہ کیا ہے اس بعض نے حضرت ابو ذر غفار ی، بعض نے عثمان ابن مظعون اور بعض نے مقداد ابن اسود کو مراد لیا ہے مگر بعید نہیں کہ اس سے کوئی فرد خاص مراد نہ ہو کیونکہ عرب کا یہ عام طریقہ کلام ہے کہ وہ اپنے کلام میں اپنے بھائی یا ساتھی کا ذکر کرجاتے تھے، اور کوئی معین شخص ان کے پیش نظر نہیں ہوتا تھا۔&lt;br /&gt;290 اگر خداوند عالم نے اپنی معصیت کے عذاب سے نہ ڈرایا ہوتا، جب بھی اس کی نعمتوں پر شکر کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی معصیت نہ کی جائے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;291 اشعث ابن قیس کو اس کے بیٹے کا پرسا دیتے ہوئے فرمایا:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اے اشعث !اگرتم اپنے بیٹے پر رنج وملال کرو تو یہ خون کا رشتہ اس کا سزا وار ہے، اور اگرصبر کرو تو اللہ کے نزدیک ہر مصیبت کا عوض ہے۔ اے اشعث !اگرتم نے صبر کیا تو تقدیر الہی نافذ ہوگی اس حال میں کہ تم اجر و ثواب کے حقدار ہو گے اور اگر چیخے چلائے، جب بھی حکم قضا کا جاری ہو کر رہے گا۔ مگر اس حال میں کہ تم پر گناہ کا بوجھ ہوگا۔ تمہارے لیے بیٹا مسرت کا سبب ہوا حالانکہ وہ ایک زحمت و آزمائش تھا اور تمہارے لیے رنج واندوہ کا سبب ہوا حالانکہ وہ (مرنے سے )تمہارے لیے اجر و رحمت کا باعث ہوا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;292 رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کے دفن کے وقت قبر پر یہ الفاظ کہے۔&lt;br /&gt;صبر عموماًاچھی چیز ہے سوائے آپ کے غم کے اور بیتابی و بے قراری عموما ًبری چیز ہے سوائے آپ کی وفات کے اور بلاشبہ آپ کی موت کا صدمہ عظیم ہے، اور آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آنے والی مصیبت سبک ہے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;293 بے وقوف کی ہم نشینی اختیا ر نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے سامنے اپنے کاموں کو سجا کر پیش کرے گا اور یہ چاہے گا کہ تم اسی کے ایسے ہوجاؤ.&lt;br /&gt;بے وقوف انسان اپنے طریق کار کو صحیح سمجھتے ہوئے اپنے دوست سے بھی یہی چاہتا ہے کہ وہ اس کا سا طور طریقہ اختیار کرے، اور جیسا وہ خود ہے ویسا ہی وہ ہوجائے.اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ یہ چاہتاہے کہ اس کا دوست بھی اس جیسا بے وقوف ہوجائے۔ کیونکہ وہ اپنے کو بے وقوف ہی کب سمجھتا ہے جو یہ چاہے اوراگر سمجھتا ہوتا تو بے وقو ف ہی کیوں ہوتا۔ بلکہ اپنے کو عقلمند اور اپنے طریقہ کار کو صحیح سمجھتے ہوئے وہ اپنے دوست کو بھی اپنے ہی ایسا »عقلمند«دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ اپنی رائے کو سجا کر اس کے سامنے پیش کرتا ہے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا اس سے خواہش مند ہوتاہے اور ہوسکتا ہے کہ اس کا دوست اس کی باتوں سے متاثر ہوکر اس کی راہ پرچل پڑے۔ اس لیے اس سے الگ تھلگ رہنا ہی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔&lt;br /&gt;294 آپ سے دریافت کیا گیا کہ مشرق و مغرب کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟آپ نے فرمایا »سورج کا ایک دن کا راستہ«.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;295 تین قسم کے تمہارے دوست ہیں اور تین قسم کے دشمن۔ دوست یہ ہیں :تمہارا دوست، تمہارے دوست کا دوست، اور تمہارے دشمن کا دشمن اور دشمن یہ ہیں :تمہار ا دشمن، تمہارے دوست کا دشمن اورتمہارے دشمن کا دوست۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;296 حضرت نے ایک ایسے شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دشمن کو ایسی چیز کے ذریعہ سے نقصان پہنچانے کے درپے ہے جس میں خود اس کو بھی نقصان پہنچے گا، تو آ پ نے فرمایا کہ تم اس شخص کی مانند ہوجو اپنے پیچھے والے سوار کو قتل کرنے کے لیے اپنے سینہ میں نیزہ مارے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;297 نصیحتیں کتنی زیادہ ہیں اور ان سے اثر لینا کتنا کم ہے۔&lt;br /&gt;اگر زمانہ کے حوادث و انقلابات پر نظر کی جائے اور گزشتہ لوگوں کے احوال و واردات کو دیکھا اور ان کی سرگزشتوں کو سناجائے تو ہر گوشہ سے عبرت کی ایک ایسی داستان سنی جاسکتی ہے جو روح کو خواب غفلت سے جھنجھوڑنے پند و نصیحت کرنے اور عبر ت و بصیرت دلانے کا پورا سرو سامان رکھتی ہے۔ چنانچہ دنیا میں ہرچیز کا بننا اور بگڑنا اور پھولوں کا کھلنا اور مرجھانا سبزے کا لہلہانا اور پامال ہونا اور ہر ذرہ کا تغیر وتبدل کی آماجگاہ بننا ایسا درس عبرت ہے جو سیراب زندگی سے جامِ بقا کے حاصل کرنے کے توقعا ت ختم کردیتا ہے۔ بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان ان عبرت افزا چیزوں سے بند نہ ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کاخ جہاں پراست نہ ذکر گزشتگاں لیکن کسیکہ گوش دہد، ایں مذاکم است;&lt;br /&gt;298 جو لڑائی جھگڑے میں حد سے بڑھ جائے وہ گنہگار ہوتا ہے اور جو اس میں کمی کرے، اس پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں اور جو لڑتا جھگڑتا ہے اس کے لیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ خوف خدا قائم رکھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;299 وہ گناہ مجھے اندوہناک نہیں کرتا جس کے بعد مجھے مہلت مل جائے کہ میں دو رکعت نماز پڑھوں اور اللہ سے امن و عافیت کاسوال کروں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;300 امیرالمومنین علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ خداوند عالم اس کثیر التعداد مخلوق کا حساب کیونکر لے گا؟ فرمایا جس طرح اس کی کثرت کے باوجود روزی انہیں پہنچاتا ہے۔ پوچھا وہ کیونکر حساب لے گا جب کہ مخلوق اسے دیکھے گی نہیں؟ فرمایا جس طرح انہیں روزی دیتا ہے اور وہ اسے دیکھتے نہیں۔&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-3663034409347650551?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/3663034409347650551/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=3663034409347650551' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/3663034409347650551'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/3663034409347650551'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_5222.html' title='اقوال ۲۷۱ تا ۳۰۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-8295679099685911177</id><published>2010-08-27T10:24:00.001-07:00</published><updated>2010-08-27T10:24:30.648-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>اقوال ۲۴۱ تا ۲۷۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;اقوال ۲۴۱ تا ۲۷۰&lt;br /&gt;241 مظلوم کے ظالم پر قابو پانے کا دن اس دن سے کہیں زیادہ ہوگا جس میں ظالم مظلوم کے خلاف اپنی طاقت دکھاتا ہے۔&lt;br /&gt;دنیا میں ظلم سہہ لینا آسان ہے. مگر آخرت میں اس کی سزا بھگتنا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ ظلم سہنے کا عرصہ زندگی بھر کیوں نہ ہو پھر بھی محدود ہے۔ اور ظلم کی پاداش جہنم ہے، جس کا سب سے زیادہ ہولنا ک پہلو ہے کہ وہا ں زندگی ختم نہ ہو گی کہ موت دوزخ کے عذاب سے بچا لے جائے چنانچہ ایک ظالم اگر کسی کو قتل کر دیتا ہے تو قتل کے ساتھ ظلم کی حد بھی ختم ہوجائے گی، اور اب اس کی گنجائش نہ ہو گی کہ اس پر مزید ظلم کیا جاسکے مگر اس کی سزا یہ ہے کہ اسے ہمیشہ کے لیے دوزخ میں ڈالا جائے کہ جہاں وہ اپنے کئے کی سزا بھگتتا رہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پنداشت ستمگر کہ جفا برما کرد درگرد ن او بماند ر برما بگذشت&lt;br /&gt;242 اللہ سے کچھ تو ڈرو، چاہے وہ کم ہی ہو، اور اپنے اور اللہ کے درمیان کچھ تو پردہ رکھو، چاہے وہ باریک ہی سا ہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;243 جب (ایک سوال کے لیے) جوابات کی بہتات ہوجائے توصحیح بات چھپ جایا کرتی ہے۔&lt;br /&gt;اگر کسی سوال کے جواب میں ہر گوشہ سے آوازیں بلند ہونے لگیں۔ تو ہر جواب نئے سوال کا تقاضا بن کر بحث و جدل کا دروازہ کھول دے گا اور جوں جوں جوابات کی کثرت ہوگی، اصل حقیقت کی کھوج اور صحیح جواب کی سراغ رسائی مشکل ہوجائے گی۔ کیونکہ ہر شخص اپنے جواب کو صحیح تسلیم کرانے کے لیے ادھر ادھر سے دلائل فراہم کرنے کی کوشش کرے گا جس سے سارا معاملہ الجھاؤ میں پڑجائے گا۔ اور یہ خواب کثرت تعبیر سے خواب پریشان ہو کر رہ جائے گا۔&lt;br /&gt;244 بے شک اللہ تعالیٰ کے لیے ہر نعمت میں حق ہے تو جو اس حق کو ادا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے نعمت کو اوربڑھاتا ہے۔ اور جو کوتاہی کرتا ہے وہ موجودہ نعمت کو بھی خطرہ میں ڈالتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;245 جب مقدرت زیادہ ہوجاتی ہے تو خواہش کم ہوجاتی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;246 نعمتوں کے زائل ہونے سے ڈرتے رہو کیونکہ ہر بے قابو ہوکر نکل جانے والی چیز پلٹا نہیں کرتی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;247 جذبہ کرم رابطہ قرابت سے زیادہ لطیف و مہر بانی کا سبب ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;248 جو تم سے حسن ظن رکھے، اس کے گمان کو سچاثابت کرو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;249 بہترین عمل وہ ہے جس کے بجالانے پر تمہیں اپنے نفس کو مجبور کرنا پڑے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;250 میں نے اللہ سبحانہ کو پہچانا ارادوں کے ٹوٹ جانے,نیتوں کے بدل جانے، اور ہمتوں کے پست ہوجانے سے۔&lt;br /&gt;ارادوں کے ٹوٹنے اور ہمتوں کے پست ہونے سے خداوند عالم کی ہستی پر اس طرح استدلال کیا جاسکتا ہے کہ مثلاً ایک کام کے کرنے کا ارادہ ہوتا ہے، مگر وہ ارادہ فعل سے ہمکنار ہونے سے پہلے ہی بدل جاتا ہے اور اس کی جگہ کوئی اور ارادہ پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ ارادوں کا ادلنا بدلنااور ان میں تغیر و انقلاب کا رونما ہونا اس کی دلیل ہے کہ ہمارے ارادوں پر ایک بالا دست قوت کا ر فرما ہے جو انہیں عدم سے وجود اور وجود سے عدم میں لانے کی قوت و طاقت رکھتی ہے، اور یہ امر انسان کے احاطہ اختیا رسے باہر ہے۔ لہٰذ ا اسے اپنے مافوق ایک طاقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جو ارادوں میں ردو بدل کرتی رہتی ہے۔&lt;br /&gt;251 دنیا کی تلخی آخرت کی خوشگواری ہے اور دنیا کی خوشگواری آخرت کی تلخی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;252 خداوند عالم نے ایمان کا فریضہ عائد کیا شرک کی آلودگیوں سے پاک کرنے کے لیے۔ اور نماز کو فرض کیا رعونت سے بچانے کے لیے اور زکوۃ کو رزق کے اضافہ کا سبب بنانے کے لیے، اور روزہ کو مخلوق کے اخلاص کو آزمانے کے لیے اور حج کو دین کو تقویت پہنچانے کے لیے، اور جہاد کو اسلام کو سرفرازی بخشنے کے لیے، اور امر بالمعروف کو اصلاحِ خلائق کے لیے اور نہی عن المنکر کو سرپھروں کی روک تھام کے لیے اور حقوقِ قرابت کے ادا کرنے کو (یار و انصار کی) گنتی بڑھانے کے لیے اور قصاص کو خونریزی کے انسداد کے لیے اور حدود شرعیہ کے اجراء کو محرمات کی اہمیت قائم کرنے کے لیے اور شراب خوری کے ترک کو عقل کی حفاظت کے لیے اور چوری سے پرہیز کو پاک بازی کا باعث ہونے کے لیے اور زنا سے بچنے کو نسب کے محفوظ رکھنے کے لیے اور اغلام کے ترک کو نسل بڑھانے کے لیے اور گواہی کو انکارِ حقوق کے مقابلہ میں ثبوت مہیا کرنے کے لیے اور جھوٹ سے علحیدگی کو سچائی کا شرف آشکارا کرنے کے لیے اور قیامِ امن کو خطروں سے تحفظ کے لیے اور امانتوں کی حفاظت کو امت کا نظام درست رکھنے کے لیے اور اطاعت کو امامت کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;253 آپ(علیہ السلام ) فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی ظالم سے قسم لینا ہو تو اس سے اس طرح حلف اٹھواؤ کہ وہ اللہ کی قوت و توانائی سے بری ہے؟ کیونکہ جب وہ اس طرح جھوئی قسم کھائے گا تو جلد اس کی سزا پائے گا اور جب یوں قسم کھائے کہ قسم اُس اللہ کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں تو جلد اس کی گرفت نہ ہو گی، کیونکہ اُس نے اللہ کو وحدت و یکتائی کے ساتھ یاد کیا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;254 اے فرزندِ آدم! اپنے مال میں اپنا وصی خود بن اور جو تو چاہتا ہے کہ تیرے بعد تیرے مال میں سے خیر خیرات کی جائے، وہ خود انجام دے دے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;255 غصہ ایک قسم کی دیوانگی ہے کیونکہ غصہ ور بعد میں پشیمان ضرور ہوتا ہے اور اگر پشیمان نہیں ہوتا تو اُس کی دیوانگی پختہ ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;256 حسد کی کمی بدن کی تندرستی کا سبب ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;257 کمیل ابن زیاد نخعی سے فرمایا: اے کمیل! اپنے عزیز و اقارب کو ہدایت کرو کہ وہ اچھی خصلتوں کو حاصل کرنے کے لیے دن کے وقت نکلیں اور رات کو سو جانے والے کی حاجت روائی کو چل کھڑے ہوں ۔ اُس ذات کی قسم جس کی قوتِ شنوائی تمام آوازوں پر حاوی ہے، جِس کسی نے بھی کسی کے دل کو خوش کیا تو اللہ اُس کے لیے اُس سرور سے ایک لطفِ خاص خلق فرمائے گا کہ جب بھی اُس پر کوئی مصیبت نازل ہو تو وہ نشیب میں بہنے والے پانی کی طرح تیزی سے بڑھے اور اجنبی اونٹوں کو ہنکانے کی طرح اس مصیبت کو ہنکا کر دور کر دے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;258 جب تنگدست ہو جاؤ تو صدقہ کے ذریعے بچو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;259 غداروں سے وفا کرنا اللہ کے نزدیک غداری ہے اور غداروں کے ساتھ غداری کرنا اللہ کے نزدیک عین وفا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;260 کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نعمتیں دے کر رفتہ رفتہ عذاب کا مستحق بنایا جاتا ہے اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ جو اللہ کی پردہ پوشی سے دھوکا کھائے ہوئے ہیں اوراپنے بارے میں اچھے الفاظ سن کر فریب میں پڑ گئے اور مہلت دینے سے زیادہ اللہ کی جانب سے کوئی بڑی آزمائش نہیں ہے۔&lt;br /&gt;سید رضی کہتے ہیں کہ یہ کلام پہلے بھی گذر چکا ہے مگر یہاں اس میں کچھ عمدہ اور مفید اضافہ ہے۔&lt;br /&gt;261 جب امیرالمومنین علیہ السلام کو یہ اطلاع ملی کہ معاویہ کے ساتھیوں نے (شہر)انبار پر دھاوا کیا تو آپ بنفس نفیس پیادہ پا چل کھڑے ہوئے۔ یہاں تک کہ نخیلہ تک پہنچ گئے، اتنے میں لوگ بھی آپ کے پاس پہنچ گئے اور کہنے لگے یا امیر المومنین علیہ السّلام ! ہم دشمن سے نپٹ لیں گے۔ آ پ کے تشریف لے جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے سے تو میرا بچاؤ کر نہیں سکتے دوسروں سے کیا بچاؤ کرو گے۔ مجھ سے پہلے رعایا اپنے حاکموں کے ظلم و جورکی شکایت کیا کرتی تھی مگر میں آج اپنی رعیت کی زیادتیوں کا گلہ کرتا ہوں، گویا کہ میں رعیت ہوں اور وہ حاکم اور میں حلقہ بگوش ہوں اور وہ فرمانروا۔&lt;br /&gt;(سید رضی کہتے ہیں کہ )جب امیرالمومنین علیہ السلام نے ایک طویل کلا م کے ذیل میں کہ جس کا منتخب حصہ ہم خطب میں درج کر چکے ہیں یہ کلمات ارشاد فرمائے توآ پ کے اصحاب میں سے دو شخص اٹھ کھڑے ہوئے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ یا امیر المومنین علیہ السّلام مجھے اپنی ذات اور اپنے بھائی کے علاوہ کسی پر اختیا ر نہیں تو آپ ہمیں حکم دیں ہم اسے بجالائیں گے جس پر حضر ت نے فرمایا کہ میں جو چاہتا ہوں وہ تم دوآدمیوں سے کہاں سرانجا م پاسکتا ہے۔&lt;br /&gt;262 بیان کیا گیا ہے کہ حارث ابن حوط حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ کیا آپ کے خیال میں اس کا گمان بھی ہوسکتا ہے کہ اصحاب جمل گمراہ تھے؟&lt;br /&gt;حضرت نے فرمایا کہ اے حارث !تم نے نیچے کی طرف دیکھا اوپر کی طر ف نگا ہ نہیں ڈالی، جس کے نتیجہ میں تم حیران و سر گردان ہوگئے ہو، تم حق ہی کو نہیں جانتے کہ حق والوں کو جانو اور باطل ہی کو نہیں پہچانتے کہ باطل کی راہ پر چلنے والوں کو پہچانو۔&lt;br /&gt;حارث نے کہا کہ میں سعد ابن مالک اور عبداللہ ابن عمر کے ساتھ گوشہ گزیں ہوجاؤں گا۔&lt;br /&gt;حضرت نے فرمایا کہ !&lt;br /&gt;سعد اور عبداللہ ابن عمر نے حق کی مدد کی، اور نہ باطل کی نصرت سے ہاتھ اٹھایا۔&lt;br /&gt;سعد ابن مالک (سعد ابن ابی وقا ص)اورعبداللہ ابن عمر ان لوگوں میں سے تھے جو امیر المومنین علیہ السّلام کی رفاقت وہمنوائی سے منہ موڑے ہوئے تھے۔ چنانچہ سعد ابن ابی وقاص تو حضر ت عثمان کے قتل کے بعد ایک صحرا کی طرف منتقل ہوگئے اور وہیں زندگی گزار دی، اور حضرت کی بیعت نہ کرنا تھی نہ کی اور عبداللہ ابن عمر نے اگرچہ بیعت کر لی تھی۔ مگر جنگوں میں حضرت کا ساتھ دینے سے انکا ر کردیا تھا اور اپنا عذر یہ پیش کیا تھا کہ میں عبادت کے لیے گوشہ دینی اختیار کرچکاہوں اب حرب و پیکار سے کوئی سروکار رکھنا نہیں چاہتا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;عذر ہائے ایں چنین نزد خرد بیشکے عذرے است بدتر از گناہ&lt;br /&gt;263 باد شاہ کا ندیم و مصاحب ایسا ہے جیسے شیر پر سوار ہونے والا کہ اس کے مرتبہ پر رشک کیا جاتا ہے وہ اپنے موقف سے خوب واقف ہے۔&lt;br /&gt;مقصد یہ ہے کہ جسے بارگاہ سلطانی میں تقرب حاصل ہوتا ہے لوگ اس کے جاہ و منصب اور عزت و اقبال کو رشک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں، مگر خود اسے ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں بادشاہ کی نظریں اس سے پھر نہ جائیں، اور وہ ذلت و رسوائی یا موت و تباہی کے گڑھے میں نہ جاپڑے جیسے شیر سوار کہ لوگ اس سے مرعوب ہوتے ہیں اور وہ اس خطرہ میں گھرا ہوتا ہے کہ کہیں شیر اسے پھاڑنہ کھائے یا کسی مہلک گڑھے میں نہ جاگرائے.&lt;br /&gt;264 دوسروں کے پسماندگان سے بھلائی کرو۔ تاکہ تمہارے پسماند گان پر بھی نظرشفقت پڑے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;265 جب حکماء کا کلا م صحیح ہو تو وہ دوا ہے اور غلط ہوتو سراسر مرض ہے.&lt;br /&gt;علمائے مصلحین کا طبقہ اصلاح کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے، اور فساد کا بھی کیونکہ عوام ان کے زیر اثر ہوتے ہیں اور ان کے قول و عمل کو صحیح و معیار ی سمجھتے ہوئے اس سے استفادہ کرتے اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ اس صورت میں اگر ان کی تعلیم اصلا ح کی حامل ہوگی تو اس کے نتیجہ میں ہزارو ں افراد صلاح و رشد سے آراستہ ہوجائیں گے اور اگر اس میں خرابی ہوگی تو اس کے نتیجہ میں ہزاروں افراد گمراہی و بے راہروی میں مبتلا ہوجائیں گے.اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جب عالم میں فساد رونما ہوتا ہے تو اس فساد کا اثر ایک دنیا پر پڑتا ہے۔&lt;br /&gt;266 حضرت سے ایک شخص نے سوال کیا کہ ایمان کی تعریف کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ کل میرے پاس آنا تاکہ میں تمہیں اس موقع پربتاؤں کہ دوسرے لوگ بھی سن سکیں کہ اگر تم بھول جاؤتو دوسرے یاد رکھیں۔ اس لیے کلام بھڑکے ہوئے شکار کے مانند ہوتاہے کہ اگر ایک کی گرفت میں آجاتا ہے اور دوسرے کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔&lt;br /&gt;(سید رضی کہتے ہیں کہ)حضرت نے اس کے بعد جواب دیا وہ آپ کا یہ ارشا د تھا کہ »الایمان علی اربع شعب «( ایمان کی چار قسمیں ہیں )&lt;br /&gt;267 اے فرزند آدم علیہ السّلام ! اس دن کی فکر کا بارجو ابھی آیا نہیں، آج کے اپنے دن پر نہ ڈال کہ جو آچکا ہے۔ اس لیے کہ اگرایک دن بھی تیری عمر کا باقی ہوگا، تواللہ تیرا رزق تجھ تک پہنچائے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;268 اپنے دوست سے بس ایک حد تک محبت کرو کیونکہ شاید کسی دن وہ تمہارا دشمن ہوجائے اور دشمن کی دشمنی بس ایک حد تک رکھو ہوسکتا ہے کہ کسی دن وہ تمہار ا دوست ہوجائے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;269 دنیا میں کام کرنے والے دو قسم کے ہیں ایک وہ جو دنیا کے لیے سر گرم عمل رہتا ہے اور اسے دنیا نے آخرت سے روک رکھا ہے۔ وہ اپنے پسماندگا ن کے لیے فقر و فاقہ کا خوف کرتا ہے مگر اپنی تنگدستی سے مطمئن ہے تو وہ دوسروں کے فائدہ ہی میں پوری عمر بسر کردیتاہے اور ایک وہ ہے جو دنیا میں رہ کر اس کے لیے عمل کرتا ہے تو اسے تگ ودو کئے بغیر دنیا بھی حاصل ہوجاتی ہے اور اس طرح وہ دونوں حصوں کو سمیٹ لیتا ہے اور دونوں گھر وں کا مالک بن جاتا ہے وہ اللہ کے نزدیک باوقار ہوتا ہے اور اللہ سے کوئی حاجت نہیں مانگتا جو اللہ پوری نہ کرے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;270 بیان کیا گیا ہے کہ عمر ابن خطاب کے سامنے خانہ کعبہ کے زیورات اور ان کی کثرت کا ذکر ہوا تو کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ اگرآپ ان زیورات کو لے لیں اور انہیں مسلمانوں کے لشکر پر صرف کرکے ان کی روانگی کا سامان کریں تو زیادہ باعث اجر ہوگا، خانہ کعبہ کو ان زیورات کی کیا ضرورت ہے۔ چنانچہ عمر نے اس کا ارادہ کر لیا اور امیرالمومنین علیہ السلام سے اس کے بار ے میں مسئلہ پوچھا۔&lt;br /&gt;آپ نے فرمایا کہ جب قرآن مجید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا تو اس وقت چار قسم کے اموال تھے، ایک مسلمانوں کا ذاتی مال تھا اسے آپ نے ان کے وارثوں میں ان کے حصہ کے مطابق تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ دوسرا مال غنیمت تھا، اسے اس کے مستحقین پر تقسیم کیا۔ تیسرا مال خمس تھا، اس مال کے اللہ تعالیٰ نے خاص مصارف مقرر کردیئے۔ چوتھے زکوٰۃ و صدقات تھے۔ انہیں اللہ نے وہاں صرف کرنے کاحکم دیا جو ان کامصرف ہے۔ یہ خانہ کعبہ کے زیورات اس زمانہ میں بھی موجود تھے لیکن اللہ نے ان کو ان کے حال پر رہنے دیا اور ایسا بھولے سے تو نہیں ہوا، اور نہ ان کا وجود اس پر پوشیدہ تھا۔ لہٰذا آپ بھی انہیں وہیں رہنے دیجئے جہاں اللہ اور اس کے رسول نے انہیں رکھاہے۔ یہ سن کر عمر نے کہا کہ اگر آپ نہ ہوتے تو ہم رسوا ہوجاتے اور زیورات ان کی حالت پر رہنے دیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-8295679099685911177?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/8295679099685911177/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=8295679099685911177' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/8295679099685911177'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/8295679099685911177'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_9769.html' title='اقوال ۲۴۱ تا ۲۷۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-8894922675689727147</id><published>2010-08-27T10:22:00.000-07:00</published><updated>2010-08-27T10:23:49.840-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>اقوال ۲۱۱ تا ۲۴۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;   اقوال ۲۱۱ تا ۲۴۰&lt;br /&gt; 211 سخاوت عزت آبر و کی پاسبان ہے بُرد باری احمق کے منہ کا تسمہ ہے، درگزر  کرنا کامیابی کی زکوٰۃ ہے، جو غداری کرے اسے بھول جانا اس کا بدل ہے۔  مشورہ لینا خود صحیح راستہ پا جانا ہے جو شخص رائے پر اعتماد کرکے بے نیاز  ہوجاتا ہے وہ اپنے کو خطرہ میں ڈالتا ہے۔ صبر مصائب و حوادث کا مقابلہ کرتا  ہے۔ بیتابی و بیقرار ی زمانہ کے مدد گاروں میں سے ہے۔ بہتر ین دولتمندی  آرزوؤں سے ہاتھ اٹھا لینا ہے۔ بہت سی غلام عقلیں امیروں کی ہوا و ہوس کے  بارے میں دبی ہوئی ہیں۔ تجربہ و آزمائش کی نگہداشت حسن توفیق کا نتیجہ ہے  دوستی و محبت اکتسابی قرابت ہے جو تم سے رنجیدہ و دل تنگ ہو اس پر اطمینا ن  و اعتماد نہ کرو۔ &lt;span style="font-size:100%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;  212 انسان کی خود پسندی اس کی عقل کے حریفوں میں سے ہے۔  مطلب یہ ہے کہ جس طرح حاسد محسود کی کسی خوبی و حسن کو نہیں دیکھ سکتا، اسی  طرح خود پسندی عقل کے جوہر کا ابھرنا اور اس کے خصائص کا نمایاں ہونا  گوارا نہیں کرتی۔ جس سے مغرور خود بین انسان ان عادات و خصائل سے محروم  رہتا ہے، جو عقل کے نزدیک پسندیدہ ہوتے ہیں۔  213 تکلیف سے چشم پوشی کر و۔ ورنہ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔  ہر شخص میں کوئی نہ کوئی خامی ضرور ہوتی ہے۔ اگر انسان دوسروں کی خامیوں  اور کمزوریوں سے متاثر ہوکر ان سے علیحدگی اختیار کرتا جائے، تو رفتہ رفتہ  وہ اپنے دوستوں کو کھودے گا، اور دنیا میں تنہا اور بے یارو مددگار ہوکر رہ  جائے گا، جس سے اس کی زندگی تلخ اور الجھنیں بڑھ جائیں گی۔ ایسے موقع پر  انسان کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس معاشرہ میں اسے فرشتے نہیں مل سکتے کہ جن سے  اسے کبھی کوئی شکایت پیدا نہ ہو اسے انہی لوگو ں میں رہنا سہنا اور انہی  لوگوں میں زندگی گزارنا ہے۔ لہٰذا جہاں تک ہوسکے ان کی کمزوریوں کو نظر  انداز کرے اور ان کی ایذا رسانیوں سے چشم پوشی کر تا رہے۔  214 جس (درخت) کی لکڑی نرم ہو اس کی شاخیں گھنی ہوتی ہیں۔  جو شخص تند خو اور بدمزاج ہو, وہ کبھی اپنے ماحول کو خوش گوار بنانے میں  کامیاب نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس کے ملنے والے بھی اس کے ہاتھوں، نالاں اور اس  سے بیزار رہیں گے اور جو خوش خلق اور شیریں زبان ہولوگ اس کے قرب کے خواہاں  اور اس کی دوستی کے خواہشمند ہوں گے اور وقت پڑنے پر اس کے معاون و مددگار  ثابت ہوں گے جس سے وہ اپنی زندگی کو کامیاب بنا لے جاسکتا ہے۔  215 مخالفت صحیح رائے کو برباد کردیتی ہے۔  &lt;span style="font-size:100%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt; 216 جو منصب پالیتا ہے دست درازی کرنے لگتا ہے۔   217 حالات کے پلٹوں ہی میں مردوں کے جوہر کھلتے ہیں۔  &lt;span style="font-size:100%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt; 218 دوست کا حسد کرنا دوستی کی خامی ہے۔   219 اکثر عقلوں کا ٹھوکر کھا کر گرنا طمع و حرص کی بجلیاں چمکنے پرہوتا ہے۔  جب انسان طمع و حرص میں پڑ جاتا ہے تو رشوت، چوری، خیانت، سود خور ی اور اس  قبیل کے دوسرے اخلاقی عیوب اس میں پیدا ہوجاتے ہیں اور عقل ان باطل  خواہشوں کی جگمگاہٹ سے اس طرح خیر ہ ہوجاتی ہے کہ اسے ان قبیح افعال کے  عواقب و نتائج نظر ہی نہیں آتے کہ وہ اسے روکے ٹوکے اور اس خواب غفلت سے  جھنجھوڑے البتہ جب دنیا سے رخت سفر باندھنے پر تیار ہوتاہے اور دیکھتا ہے  کہ جو کچھ سمیٹا تھا وہ یہیں کے لیے تھا ساتھ نہیں لے جاسکتا، تو اس وقت  آنکھیں کھلتی ہیں۔  220 یہ انصاف نہیں ہے کہ صرف ظن و گمان پر اعتماد کرتے ہوئے فیصلہ کیا  جائے۔  &lt;span style="font-size:100%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt; 221 آخرت کے لیے بہت برا توشہ ہے بندگا ن خدا پر ظلم و تعدی کرنا۔   222 بلند انسان کے بہتر ین افعال میں سے یہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے چشم پوشی  کرے جنہیں وہ نہیں جانتا ہے۔   223 جس پر حیا نے اپنا لباس پہنا دیا ہے اس کے عیب لوگوں کی نظروں کے سامنے  نہیں آسکتے۔  جو شخص حیا کے جو ہر سے آراستہ ہوتا ہے اس کے لیے حیا ایسے امور کے ارتکاب  سے مانع ہوتی ہے جو معیوب سمجھے جاتے ہیں۔ اس لیے اس میں عیب ہوتا ہی نہیں  کہ دوسرے دیکھیں اور اگر کسی امر قبیح کا اس سے ارتکاب ہو بھی جاتا ہے تو  حیا کی وجہ سے علانیہ مرتکب نہین ہوتا کہ لوگوں کی نگاہیں اس کے عیب پر  پڑسکیں۔  224 زیادہ خاموشی رعب و ہیبت کا باعث ہوتی ہے۔ اور انصاف سے دوستوں میں  اضافہ ہوتا ہے لطف و کرم سے قدر و منزلت بلند ہوتی ہے جھک کر ملنے سے نعمت  تمام ہوتی ہے۔ دوسروں کا بوجھ بٹانے سے لازماً سرداری حاصل ہوتی ہے اور خوش  رفتاری سے کینہ ور دشمن مغلوب ہوتا ہے اور سر پھر ے آدمی کے مقابلہ میں  بردباری کرنے سے اس کے مقابلہ میں اپنے طرفدار زیادہ ہوجاتے ہیں۔  &lt;span style="font-size:100%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مقصد یہ ہے کہ صحت کو ایک گرانقدر نعمت سمجھنا چاہیے اور اس کی حفاظت و  نگہداشت کی طر ف متوجہ رہنا چاہیے  226 طمع کرنے والا ذلت کی زنجیروں میں گرفتار رہتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;/span&gt; 225 تعجب ہے کہ حاسد جسمانی تندرستی پر حسد کرنے سے کیوں غافل ہوگئے.  حاسد دوسروں کے مال و جاہ پر تو حسد کرتا ہے۔ مگر ان کی صحت و توانائی پر  حسد نہیں کرتا حالانکہ یہ نعمت تمام نعمتوں سے زیادہ گرانقدر ہے۔ وجہ یہ ہے  کہ دولت و ثروت کے اثرات ظاہری طمطراق اور آرام و آسائش کے اسباب سے  نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں اور صحت ایک عمومی چیز قرار پاکر نا قدری کا شکار  ہوجا تی ہے اور اسے اتنا بے قدر سمجھا جاتا ہے کہ حاسد بھی اسے حسد کے  قابل نہیں سمجھتے۔ چنانچہ ایک دولت مند کو دیکھتا ہے تو ا س کے مال ودولت  پر اسے حسد ہوتا ہے اور ایک مزدور کو دیکھا کہ جو سر پر بوجھ اٹھائے دن بھر  چلتا پھرتا ہے تو وہ اس کی نظر وں میں قابل حسد نہیں ہوتا۔ گویا صحت و  توانائی اس کے نزدیک حسد کے لائق چیز نہیں ہے کہ اس پر حسد کرے البتہ جب  خود بیمار پڑتا ہے تواسے صحت کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے اور اس موقع  پر اسے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ قابل حسد یہی صحت ہے جو اب تک اس کی  نظرو ں میں کوئی اہمیت نہ رکھتی تھی.  &lt;span style="font-size:100%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt; 227 آپ سے ایمان کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ ایمان دل سے پہچاننا،  زبان سے اقرار کرنا اور اعضا سے عمل کرنا ہے.   228 جو دنیا کے لیے اندوہناک ہو وہ قضا و قدر الہی سے ناراض ہے اور جو اس  مصیبت پر کہ جس میں مبتلا ہے شکوہ کرے تو وہ اپنے پروردگار کا شاکی ہے اور  جو کسی دولت مند کے پاس پہنچ کر اس کی دولتمندی کی وجہ سے جھکے تو اس کا دو  تہائی دین جاتا رہتا ہے اور جو شخص قرآن کی تلاوت کرے پھر مر کر دوزخ میں  داخل ہو تو ایسے ہی لوگوں میں سے ہوگا، جو اللہ کی آیتوں کا مذاق اڑاتے تھے  اور جس کا دل دنیا کی محبت میں وارفتہ ہوجائے تو اس کے دل میں دنیا کی یہ  تین چیزیں پیوست ہوجاتی ہیں۔ ایسا غم کہ جو اس سے جدا نہیں ہوتا اور ایسی  حرص کہ جو اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور ایسی امید کہ جو بر نہیں آتی۔  &lt;span style="font-size:100%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہر قانع شد بخشک و تر شہ بحر و برداشت  230 جس کی طرف فراخِ روزی کئے ہوئے ہو اس کے ساتھ شرکت کرو، کیونکہ اس میں  دولت حاصل کرنے کا زیادہ امکان اور خوش نصیبی کا زیادہ قرینہ ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt; 229 قناعت سے بڑھ کر کوئی سلطنت اور خو ش خلقی سے بڑھ کر کوئی عیش و آرام  نہیں ہے۔ حضرت سے اس آیت کے متعلق دریافت کیاگیا کہ »ہم اس کو پاک و پاکیزہ  زندگی دیں گے «؟ آپ نے فرمایا کہ وہ قناعت ہے۔  حسن خلق کو نعمت سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح نعمت باعث لذت ہوتی  ہے اسی طرح انسان خوش اخلاقی و نرمی سے دوسروں کے دلوں کو اپنی مٹھی میں لے  کر اپنے ماحول کو خوش گوار بناسکتا ہے۔ اور اپنے لیے لذت و راحت کا سامان  کر نے میں کامیاب ہوسکتا ہے اور قناعت کو سرمایہ و جاگیر اس لیے قرار دیا  ہے کہ جس طرح ملک و جاگیر احتیاج کو ختم کردیتی ہے اسی طرح جب انسان قناعت  اختیار کرلیتا ہے اور اپنے رزق پر خوش رہتا ہے تو وہ خلق سے مستغنی اور  احتیاج سے دور ہوتا ہے۔   231خدا وند عالم کے ارشاد کے مطابق کہ اللہ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا  ہے۔ فرمایا ! عدل انصاف ہے اور احسان لطف و کرم۔  &lt;span style="font-size:100%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کسی کو مقابلہ کے لیے خود نہ للکارو۔ ہاں اگر دوسرا للکارے تو فورا ًجواب  دو۔ اس لیے کہ جنگ کی خود سے دعوت دینے والا زیادتی کرنے والا ہے، اور  زیادتی کرنے والا تباہ ہوتا ہے۔  مقصد یہ ہے کہ اگر دشمن آمادہ پیکار ہو اور جنگ میں پہل کرے تو اس موقع پر  اس کی روک تھا م کے لیے قد م اٹھا نا چاہیے اور از خود حملہ نہ کرنا چاہیے۔  کیونکہ یہ سرا سر ظلم و تعدی ہے اور جو ظلم وتعدی کا مرتکب ہوگا، وہ اس کی  پاداش میں خاک مذلت پر پچھاڑ دیا جائے گا۔ چنانچہ امیرالمومنین علیہ  السّلام ہمیشہ دشمن کے للکارنے پر میدان میں آتے اور خود سے دعوت مقابلہ نہ  دیتے تھے۔ چنانچہ ابن الحدید تحریر کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہمارے سننے میں نہیں آیاکہ حضرت نے کبھی کسی کو مقابلہ کے لیے للکا ر ا ہو  بلکہ جب مخصوص طور پر آپ کو دعوت مقابلہ دی جاتی تھی یا عمومی طور پر دشمن  للکارتا تھا، تو اس کے مقابلہ میں نکلتے تھے اور سے قتل کردیتے تھے۔ (شرح  ابن ابی الحدید، جلد 4، صفحہ 344)  234 عورتوں کی بہتر ین خصلتیں وہ ہیں جو مردوں کی بدترین صفتیں ہیں۔ غرور،  بزدلی اور کنجوسی اس لیے کہ عورت جب مغرور ہوگی، تو وہ کسی کو اپنے نفس پر  قابو نہ دے گی اور کنجوس ہوگی تو اپنے اور شوہر کے مال کی حفاظت کرے گی اور  بزدل ہوگی تو وہ ہر اس چیز سے ڈرے گی جو پیش آئے گی۔&lt;br /&gt;&lt;/span&gt; 232 جو عاجز و قاصر ہاتھ سے دیتا ہے اسے بااقتدار ہاتھ سے ملتا ہے۔  سید رضی کہتے ہیں کہ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے مال میں سے کچھ  خیر و نیکی کی راہ میں خر چ کرتا ہے اگرچہ وہ کم ہو، مگر خداوند عالم اس کا  اجر بہت زیادہ قراردیتا ہے اور اس مقام پر دو ہاتھوں سے مراد دو نعمتیں  ہیں اور امیرالمومنین علیہ السلام نے بندہ کی نعمت اور پروردگار کی نعمت  میں فرق بتایا ہے کہ وہ تو عجز و قصور کی حامل ہے اور و ہ بااقتدار ہے۔  کیونکہ اللہ کی عطاکردہ نعمتیں مخلوق کی دی ہوئی نعمتوں سے ہمیشہ بدر جہا  بڑھی چڑھی ہوتی ہیں۔ اس لیے کہ اللہ ہی کی نعمتیں تمام نعمتوں کا سر چشمہ  ہیں۔ لہٰذا ہر نعمت انہی نعمتوں کی طرف پلٹتی ہے، اور انہی سے وجود پاتی  ہے۔  233 اپنے فرزند امام حسن علیہ السّلام سے فرمایا :  &lt;span style="font-size:100%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt; 235 آپ علیہ السّلام سے عرض کیاگیا کہ عقلمند کے اوصاف بیان کیجئے۔ فرمایا!  عقلمند وہ ہے جو ہر چیز کو اس کے موقع و محل پر رکھے۔ پھر آپ سے کہا گیا  کہ جاہل کا وصف بتایئے تو فرمایا میں بیان کر چکا۔  سید رضی فرماتے ہیں کہ مقصد یہ ہے کہ جاہل وہ ہے جو کسی چیز کو اس کے موقع و  محل پر نہ رکھے۔ گویا حضرت کا اسے نہ بیان کر نا ہی بیان کرنا ہے۔ کیونکہ  اس کے اوصاف عقلمند کے اوصاف کے برعکس ہیں۔  236 خد ا کی قسم تمہاری یہ دنیا میرے نزدیک سور کی انتڑیوں سے بھی زیادہ  ذلیل ہے جو کسی کوڑھی کے ہاتھ میں ہوں۔  &lt;span style="font-size:100%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt; 237 ایک جماعت نے اللہ کی عبادت ثواب کی رغبت و خواہش کے پیشِ نظر کی، یہ  سودا کرنے والوں کی عبادت ہے اور ایک جماعت نے خوف کی وجہ سے اس کی عبادت  کی، اور یہ غلاموں کی عبادت ہے او ر ایک جماعت نے ازروئے شکر و سپاس گزاری  اس کی عبادت کی، یہ آزادوں کی عبادت ہے۔  &lt;span style="font-size:100%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt; 238 عورت سراپا برائی ہے اور سب سے بڑی برائی اس میں یہ ہے کہ اس کے بغیر  چارہ نہیں۔  &lt;span style="font-size:100%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt; 239 جو شخص سستی و کاہلی کرتاہے وہ اپنے حقوق کو ضائع وبرباد کردیتا ہے اور  جو چغل خور کی بات پر اعتماد کر تا ہے، وہ دوست کو اپنے ہاتھ سے کھو دیتا  ہے.  &lt;span style="font-size:100%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt; 240 گھر میں ایک غصبی پتھر اس کی ضمانت ہے کہ وہ تباہ و بربا د ہوکر رہے  گا۔  سید رضی فرماتے ہیں کہ ایک روایت میں یہ کلام رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم سے منقول ہوا ہے اور اس میں تعجب ہی کیا ہے کہ دونوں کے کلام ایک  دوسرے کے مثل ہوں کیونکہ دونوں کا سر چشمہ تو ایک ہی ہے.  &lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-8894922675689727147?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/8894922675689727147/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=8894922675689727147' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/8894922675689727147'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/8894922675689727147'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_1272.html' title='اقوال ۲۱۱ تا ۲۴۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-7340513651881511504</id><published>2010-08-27T10:21:00.002-07:00</published><updated>2010-08-27T10:22:35.898-07:00</updated><title type='text'>اقوال ۱۸۱ تا ۲۱۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;    &lt;br /&gt;اقوال ۱۸۱ تا ۲۱۰&lt;br /&gt;181 کوتاہی کا نتیجہ شرمندگی اوراحتیاط و دور اندیشی کا نتیجہ سلامتی ہے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;182 حکیمانہ بات سے خاموشی اختیار کرنے میں بھلائی نہیں جس طرح جہالت کی بات میں کوئی اچھائی نہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;183 جب دو مختلف دعوتیں ہوں گی, تو ان میں سے ایک ضرور گمراہی کی دعوت ہوگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;184 جب سے مجھے حق دکھایا گیا ہے میں نے اس میں کبھی شک نہیں کیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;185 نہ میں نے جھوٹ کہا ہے نہ مجھے جھوٹی خبر دی گئی ہے نہ میں خود گمراہ ہوا، نہ مجھے گمراہ کیا گیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;186 ظلم میں پہل کرنے والا کل (مذامت سے) اپنا ہاتھ اپنے دانتوں سے کاٹتا ہوگا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;187 چل چلاؤقریب ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;188 جو حق سے منہ موڑ تا ہے، تباہ ہوجاتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;189 جسے صبر رہائی نہیں دلاتا، اسے بے تابی و بے قرار ی ہلاک کر دیتی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;190 العجب کیا خلافت کا معیار بس صحابیت اور قرابت ہی ہے۔&lt;br /&gt;سید رضی کہتے ہیں کہ اس مضمون کے اشعار بھی حضرت سے مروی ہیں جو یہ ہیں۔ اگر تم شوری کے ذریعہ لوگوں کے سیاہ و سفید کے مالک ہوگئے ہو تو یہ کیسے جب کہ مشورہ دینے کے حقدار افراد غیر حاضر تھے اور اگر قرابت کی وجہ سے تم اپنے حریف پر غالب آئے ہو تو پھر تمہارے علاوہ دوسر ا نبی کا زیادہ حقدار اور ان سے زیادہ قریبی ہے۔&lt;br /&gt;191دنیا میں انسان موت کی تیر اندازی کا ہدف اور مصیبت و ابتلاء کی غارت گری کی جولانگاہ ہے جہاں ہر گھونٹ کے ساتھ اچھو اور ہر لقمہ میں گلو گیر پھندا ہے اور جہاں بندہ ایک نعمت اس وقت تک نہیں پاتا جب تک دوسری نعمت جدا نہ ہو جائے اور اس کی عمر کا ایک دن آتا نہیں جب تک کہ ایک دن اس کی عمر کا کم نہ ہوجائے ہم موت کے مددگار ہیں اور ہماری جانیں ہلاکت کی زد پر ہیں تو اس صورت میں ہم کہاں سے بقا کی امید کر سکتے ہیں جب کہ شب و روز کسی عمارت کو بلند نہیں کرتے مگر یہ کہ حملہ آور ہو کر جو بنایا ہے اسے گراتے اور جو یکجا کیا ہے اسے بکھیر تے ہوتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;192 اے فرزند آدم علیہ السّلام! تو نے اپنی غذا سے جو زیادہ کمایا ہے اس میں دوسرے کا خزانچی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;193 دلوں کے لیے رغبت و میلان، آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا ہوتا ہے۔ لہٰذا ان سے اس وقت کام لو جب ان میں خواہش و میلان ہو، کیونکہ دل کو مجبور کرکے کسی کام پر لگایا جائے تو اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;194 جب غصہ مجھے آئے تو کب اپنے غصہ کو اتاروں کیا اس وقت کہ جب انتقام نہ لے سکوں اور یہ کہا جائے کہ صبر کیجئے۔ یا اس وقت کہ جب انتقام پر قدرت ہو اور کہا جائے کہ بہتر ہے درگزر کیجئے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;195 آپ کا گزر ہوا ایک گھورے کی طر ف سے جس پر غلاظتیں تھیں۔ فرمایا۔ یہ وہ ہے جس کے ساتھ بخل کرنے والوں نے بخل کیا تھا.ایک اور روایت میں ہے کہ اس موقع پر آپ نے فرمایا :یہ وہ ہے جس پر تم لوگ کل ایک دوسرے پر رشک کرتے تھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;196 تمہار ا وہ مال اکارت نہیں گیا جو تمہارے لیے عبرت و نصیحت کا باعث بن جائے۔&lt;br /&gt;جو شخص مال و دولت کھو کر تجربہ و نصیحت حاصل کرے اسے ضیاع مال کی فکر نہ کر نا چاہیے اور مال کے مقابلہ میں تجربہ کو گراں سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ مال تو یوں بھی ضائع ہوجاتا ہے مگر تجربہ آئندہ کے خطرات سے بچالے جاتا ہے۔ ایک عالم سے جو مالدار ہونے کے بعد فقیر و نادار ہوچکا تھا، پوچھا گیا کہ تمہارا مال کیا ہوا ؟ اس نے کہا کہ میں نے اس سے تجربات خرید لیے ہیں جو میرے لیے مال سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔ لہٰذا سب کچھ کھو دینے کے بعد بھی میں نقصان میں نہیں رہا ہوں۔&lt;br /&gt;197 یہ دل بھی اسی طرح تھکتے ہیں جس طرح بدن تھکتے ہیں۔ لہٰذا (جب ایسا ہو تو )ان کے لیے لطیف حکیمانہ جملے تلاش کرو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;198جب خوار ج کا قول »لاَ حُکمَ اِلاَّ اللّٰہ «(حکم اللہ سے مخصوص ہے )سنا تو فرمایا :یہ جملہ صحیح ہے مگرجو اس سے مراد لیا جاتا ہے وہ غلط ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;199 بازاری آدمیوں کی بھیڑ بھاڑ کے بارے میں فرمایا: یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ مجتمع ہوں تو چھا جاتے ہیں۔ جب منتشر ہوں تو پہچانے نہیں جاتے۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ نے فرمایا :کہ جب اکٹھا ہوتے ہیں تو باعث ضرر ہوتے ہیں اور جب منتشر ہوجاتے ہیں تو فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں لوگوں نے کہا کہ ہمیں ان کے مجتمع ہونے کا نقصان تو معلوم ہے مگر ان کے منتشر ہونے کا فائدہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ پیشہ ور اپنے اپنے کاروبار کی طرف پلٹ جاتے ہیں تو لوگ ان کے ذریعہ فائدہ اٹھاتے ہیں جیسے معمار اپنی (زیر تعمیر )عمار ت کی طرف جولاہا اپنے کاروبار کی جگہ کی طرف اور نانبائی اپنے تنور کی طرف.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;200 آپ کے سامنے ایک مجرم لایا گیا جس کے ساتھ تماشائیوں کا ہجوم تھا توآ پ نے فرمایا :ان چہروں پر پھٹکار کہ جو ہر رسوائی کے موقع پر ہی نظر آتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;201ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں اور جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ اس کے اور موت کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں اور بے شک انسان کی مقررہ عمر اس کے لیے ایک مضبوط سپر ہے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;202 طلحہ وزبیر نے حضرت سے کہا کہ ہم اس شرط پر آپ کی بیعت کرتے ہیں کہ اس حکومت میں آپ کے ساتھ شریک رہیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ تم تقویت پہنچانے اور ہاتھ بٹانے میں شریک اور عاجزی اور سختی کے موقع پر مددگار ہو گے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;203 اے لوگو! اللہ سے ڈرو کہ اگر تم کچھ کہو تو وہ سنتا ہے اور دل میں چھپاکر رکھو تو وہ جان لیتا ہے اس موت کی طر ف بڑھنے کا سرو سامان کرو کہ جس سے بھاگے تو وہ تمہیں پالے گی اور اگر ٹھہرے تو وہ تمہیں گرفت میں لے لے گی اور اگر تم اسے بھول بھی جاؤ تو وہ تمہیں یاد رکھے گی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;204 کسی شخص کا تمہارے حسن سلوک پر شکر گزا ر نہ ہونا تمہیں نیکی اور بھلائی سے بددل نہ بنا دے اس لیے کہ بسا اوقات تمہاری اس بھلائی کی وہ قدر کرے گا، جس نے اس سے کچھ فائدہ بھی نہیں اٹھایا اور اس ناشکرے نے جتنا تمہاراحق ضائع کیا ہے، اس سے کہیں زیادہ تم ایک قدردان کی قدر دانی سے حاصل کرلو گے اور خدا نیک کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;205 ہر ظرف اس سے کہ جو اس میں رکھا جائے تنگ ہوتا جاتا ہے، مگر علم کا ظرف وسیع ہوتا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;206 بردبار کو اپنی بردباری کا پہلا عوض یہ ملتا ہے۔ کہ لوگ جہالت دکھانے والے کے خلاف اس کے طرفدار ہوجاتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;207 اگر تم بردبار نہیں ہو تو بظاہر برد بار بننے کی کوشش کرو، کیونکہ ایسا کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی جماعت سے شباہت اختیار کرے اور ان میں سے نہ ہو جائے۔&lt;br /&gt;مطلب یہ ہے کہ اگر انسان طبعاً حلیم و برد بار ہو تو سے برد بار بننے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اس طرح کہ اپنی افتادہ طبیعت کے خلاف حلم و بردباری کا مظاہرہ کرے اگرچہ طبیعت کا رخ موڑنے میں کچھ زحمت محسوس ہوگی مگر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آہستہ آہستہ حلم طبعی خصلت کی صور ت اختیار کر لے گا اور پھر تکلف کی حاجت نہ رہے گی کیونکہ عادت رفتہ رفتہ طبیعت ثانیہ بن جایا کرتی ہے۔&lt;br /&gt;208 جو شخص اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے وہ فائدہ اٹھاتا ہے اور جو غفلت کرتا ہے وہ نقصان میں رہتا ہے جو ڈرتا ہے وہ (عذاب سے )محفوظ ہو جاتا ہے اور جو عبرت حاصل کرتا ہے وہ بینا ہوجاتا ہے اور جو بینا ہوجاتا ہے وہ بافہم ہوجاتا ہے اور جو بافہم ہوتا ہے اسے علم حاصل ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;209 یہ دنیا منہ زور ی دکھانے کے بعد پھر ہماری طرف جھکے گی جس طرح کاٹنے والی اونٹنی اپنے بچے کی طرف جھکتی ہے۔ اس کے بعد حضرت نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو لوگ زمین میں کمزور کردیئے گئے ہیں، ان پر احسان کریں اور ان کو پیشوا بنائیں اور انہی کو اس زمین کا مالک بنائیں۔&lt;br /&gt;یہ ارشاد امام منتظر کے متعلق ہے جو سلسلہ امامت کے آخری فرد ہیں۔ ان کے ظہور کے بعد تمام سلطنتیں اور حکومتیں ختم ہوجائیں گی اور »لیظھرہ علی الدین کلہ «کا مکمل نمونہ نگاہوں کے سامنے آجائے گا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہر کسے رادو لتے از آسمان آید پدید دولت آل علی علیہ السّلام آخر زمان آید پدید&lt;br /&gt;210 اللہ سے ڈرو اس شخص کے ڈرنے کے مانند جس نے دنیا کی وابستگیوں کو چھوڑ کر دامن گردان لیا اور دامن گردان کر کوشش میں لگ گیا اور اچھائیوں کے لیے اس وقفہ حیات میں تیز گامی کے ساتھ چلا اور خطروں کے پیش نظر اس نے نیکیوں کی طرف قدم بڑھایا اور اپنی قرار گاہ اور اپنے اعمال کے نتیجہ اور انجام کار کی منزل پر نظر رکھی۔&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-7340513651881511504?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/7340513651881511504/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=7340513651881511504' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/7340513651881511504'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/7340513651881511504'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_9906.html' title='اقوال ۱۸۱ تا ۲۱۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-7422044469821843034</id><published>2010-08-27T10:21:00.001-07:00</published><updated>2010-08-27T10:21:35.241-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>اقوال ۱۵۱ تا ۱۸۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;    &lt;br /&gt;اقوال ۱۵۱ تا ۱۸۰&lt;br /&gt;151 ہر شخص کا ایک انجام ہے۔ اب خواہ وہ شیریں ہو یا تلخ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;152 ہر آنے والے کے لیے پلٹنا ہے اور جب پلٹ گیا تو جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;153 صبر کرنے والا ظفرو کامرانی سے محروم نہیں ہوتا، چاہے اس میں طویل زمانہ لگ جائے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;154 کسی جماعت کے فعل پر رضا مند ہونے والا ایسا ہے جیسے اس کے کام میں شریک ہو۔ اور غلط کام میں شریک ہو نے والے پر دو گناہ ہیں۔ ایک اس پر عمل کرنے کا اور ایک اس پر رضا مند ہونے کا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;155 عہد و پیمان کی ذمہ داریوں کو ان سے وابستہ کرو جو میخوں کے ایسے (مضبوط) ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;156 تم پر اطاعت بھی لازم ہے ان کی جن سے ناواقف رہنے کی بھی تمہیں معافی نہیں۔&lt;br /&gt;خداوند عالم نے اپنے عدل و رحمت سے جس طرح دین کی طرف رہبری و رہنمائی کر نے کے لیے انبیاء کا سلسلہ جاری کیا اسی طرح سلسلہ نبوت کے ختم ہونے کے بعد دین کو تبدیلی و تحریف سے محفوظ رکھنے کے لیے امامت کا نفاذ کیا تاکہ ہر امام علیہ السّلام اپنے اپنے دور میں تعلیمات الہیہ کو خواہش پرستی کی زد سے بچا کر اسلام کے صحیح احکام کی رہنمائی کرتا رہے اور جس طرح شریعت کے مبلغ کی معرفت واجب اسی طرح شریعت کے محافظ کی بھی معرفت ضروری ہے اور جاہل کو اس میں معذور نہیں قراردیا جاسکتا۔ کیونکہ منصب امامت پر صدہا ایسے دلائل و شواہد موجود ہیں جن سے کسی بابصیرت کے لیے گنجائش انکار نہیں ہوسکتی چنانچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:&lt;br /&gt;جو شخص اپنے دور حیات کے امام کو نہ پہچانے اور دنیا سے اٹھ جائے، اس کی موت کفر و ضلالت کی موت ہے۔&lt;br /&gt;ابن ابی الحدید نے بھی اس ذات سے کہ جس سے ناواقفیت و جہالت عذر مسمو ع نہیں بن سکتی حضرت کی ذات کو مراد لیا ہے اور ان کی اطاعت کا اعتراف اور منکر امامت کے غیر ناجی ہونے کا اقرار کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ:&lt;br /&gt;جو شخص حضرت علی علیہ السلام کی امامت سے جاہل اور اس کی صحت و لزوم کا منکر ہو وہ ہمارے اصحاب کے نزدیک ہمیشہ کے لیے جہنمی ہے.نہ اسے نماز فائدہ دے سکتی ہے نہ روزہ۔ کیونکہ معرفت امامت ان بنیادی اصولوں میں شمار ہوتی ہے جو دین کے مسلمہ ارکان ہیں۔ البتہ ہم آپ کی امامت کے منکر کو کافر کے نام سے نہیں پکارتے بلکہ اسے فاسق خارجی اور بے دین وغیرہ کے ناموں سے یاد کرتے ہیں اور شیعہ ایسے شخص کو کافر سے تعبیر کرتے ہیں، اور یہی ہمارے اصحاب اور ان میں فر ق ہے۔ مگر صرف لفظی فرق ہے کوئی واقعی اور معنوی فرق نہیں ہے. (شرح ابن ابی الحدید، جلد 4، صفحہ 1319)&lt;br /&gt;157 اگر تم دیکھو، تو تمہیں دکھایا جاچکا ہے اور اگر تم ہدایت حاصل کرو تو تمہیں ہدایت کی جاچکی ہے اور اگر سننا چاہو تو تمہیں سنایا جاچکا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;158 اپنے بھائی کو شرمندہ احسان بنا کر سر زنش کرو اور لطف و کرم کے ذریعہ سے اس کے شر کو دور کرو۔&lt;br /&gt;اگر برائی کا جواب برائی سے اور گالی کا جواب گالی سے دیا جائے، تواس سے دشمنی کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اور اگر برائی سے پیش آنے والے کے ساتھ نرمی و ملائمت کا رویہ اختیار کیا جائے تو وہ بھی اپنا رویہ بدلنے پر مجبور ہوجائے گا۔ چنانچہ ایک دفعہ امام حسن علیہ السلام بازار مدینہ میں سے گزر رہے تھے کہ ایک شامی نے آپ کی جاذب نظر شخصیت سے متاثر ہوکر لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ کو ن ہیں؟ اسے بتایا گیا کہ یہ حسن ابن علی علیہ السلام ہیں۔ یہ سن کر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور آپ کے قریب آکر انہیں بر ا بھلا کہنا شروع کیا۔ مگر آپ خاموشی سے سنتے رہے جب وہ چپ ہوا توآپ علیہ السّلام نے فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تم یہاں نووارد ہو؟ اس نے کہا کہ ہاں ایسا ہی ہے۔ فرمایا کہ پھر تم میرے ساتھ چلو میرے گھر میں ٹھہرو، اگر تمہیں کوئی حاجت ہو گی تو میں اسے پورا کروں گا، اور مالی امداد کی ضرورت ہوگی تو مالی امداد بھی دوں گا۔ جب اس نے اپنی سخت و درشت باتوں کے جواب میں یہ نرم روی و خوش اخلاقی دیکھی، تو شرم سے پانی پانی ہو گیا اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے عفو کا طالب ہوا، اورجب آپ سے رخصت ہوا تو روئے زمین پر ان سے زیادہ کسی کی قدر و منزلت ا س کی نگاہ میں نہ تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگر مرد ی احسن الی من اساء&lt;br /&gt;159 جوشخص بدنامی کی جگہوں پر اپنے کو لے جائے تو پھر اسے برا نہ کہے جو اس سے بدظن ہو.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;160 جو اقتدار حاصل کرلیتا ہے جانبدار ی کرنے ہی لگتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;161 جو خود رائی سے کام لے گا، وہ تباہ و برباد ہو گا اور جو دوسروں سے مشورہ لے گا وہ ان کی عقلوں میں شریک ہو جائے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;162 جو اپنے راز کو چھپائے رہے گا اسے پورا قابو رہے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;163 فقیری سب سے بڑی موت ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;164 جو ایسے کا حق ادا کرے کہ جو اس کا حق ادا نہ کرتا ہو، تو وہ اس کی پرستش کرتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;165 خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;166 اگر کوئی شخص اپنے حق میں دیر کرے تو اس پر عیب نہیں لگایا جاسکتا۔ بلکہ عیب کی بات یہ ہے کہ انسان دوسرے کے حق پر چھاپا مارے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;167 خود پسندی ترقی سے مانع ہوتی ہے.&lt;br /&gt;جو شخص جویائے کمال ہوتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ ابھی وہ کمال سے عاری ہے، اس سے منزل کمال پر فائز ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ لیکن جو شخص اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ وہ تمام و کمال ترقی کے مدارج طے کرچکا ہے وہ حصول کمال کے لیے سعی و طلب کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا۔ کیونکہ وہ بزعم خود کمال کی تمام منزلیں ختم کرچکاہے اب اسے کوئی منزل نظرہی نہیں آتی کہ اس کے لیے تگ ودو کرے چنانچہ یہ خود پسند برخود غلط انسان ہمیشہ کمال سے محروم ہی رہے گا۔ اور یہ خود پسند ی اس کے لیے ترقی کی راہیں مسدود کردے گی۔&lt;br /&gt;168 آخرت کا مرحلہ قریب اور (دنیا میں) باہمی رفاقت کی مدت کم ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;169 آنکھ والے کے لیے صبح روشن ہوچکی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;170 ترک گناہ کی منزل بعد میں مدد مانگنے سے آسان ہے۔&lt;br /&gt;اول مرتبہ میں گناہ سے باز رہنا اتنا مشکل نہیں ہوتا، جتنا گناہ سے مانوس اور اس کی لذت سے آشنا ہونے کے بعد کیونکہ انسان جس چیز کا خو گر ہوجاتا ہے اس کے بجا لانے میں طبیعت پر بار محسوس نہیں کرتا۔ لیکن اسے چھوڑنے میں لوہے لگ جاتے ہیں اور جوں جوں عادت پختہ ہوتی جاتی ہے۔ ضمیر کی آواز کمزور پڑجاتی ہے اور توبہ میں دشواریاں حائل ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا یہ کہہ کر دل کو ڈھارس دیتے رہنا کہ »پھر توبہ کر لیں گے «.اکثر بے نتیجہ ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ جب ابتداء میں گناہ سے دستبردار ہونے میں دشواری محسوس ہورہی ہے تو گناہ کی مدت کو بڑھا لے جانے کے بعد توبہ دشوار تر ہوجائے گی۔&lt;br /&gt;171بسا اوقات ایک دفعہ کا کھانا بہت دفعہ کے کھانوں سے مانع ہوجاتا ہے۔&lt;br /&gt;یہ ایک مثل ہے جو ایسے موقعوں پر استعمال ہوتی ہے جہاں کوئی شخص ایک فائدہ کے پیچھے اس طرح کھو جائے کہ اسے دوسرے فائدوں سے ہاتھ اٹھا لینا پڑے جس طرح وہ شخص کہ جو ناموافق طبع یا ضرورت سے زیادہ کھالے تو اسے بہت سے کھانوں سے محروم ہونا پڑتا ہے۔&lt;br /&gt;172 لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے نہیں جانتے۔&lt;br /&gt;انسان جس علم وفن سے واقف ہوتا ہے اسے بڑی اہمیت دیتا ہے اور جس علم سے عاری ہوتاہے اسے غیر اہم قرار دے کر اس کی تنقیص و مذمت کرتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ جس محفل میں اس علم و فن پر گفتگو ہوتی ہے۔ اسے ناقابل اعتنا سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے جس سے وہ ایک طرح کی سبکی محسوس کرتا ہے اور یہ سبکی اس کے لیے اذیت کا باعث ہوتی ہے اور انسان جس چیز سے بھی اذیت محسوس کر ے گا اس سے طبعا ًنفرت کرے گا اور اس سے بغض رکھے گا۔ چنانچہ افلاطون سے دریافت کیا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ نہ جاننے والا جاننے والے سے بغض رکھتا ہے مگر جاننے والا نہ جاننے والے سے بغض و عناد نہیں رکھتا ؟اس نے کہا کہ چونکہ نہ جاننے والا اپنے اندر ایک نقص محسوس کرتا ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ جاننے والا اس کی جہالت کی بنا پر اسے حقیر و پست سمجھتا ہوگا جس سے متاثر ہوکر وہ اس سے بغض رکھتا ہے اور جاننے والا اس کی جہالت کے نقص سے بری ہوتا ہے اس لیے وہ یہ تصور نہیں کرتا کہ نہ جاننے والا اسے حقیر سمجھتا ہوگا۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں ہوتی کہ وہ اس سے بغض رکھے۔&lt;br /&gt;173 جو شخص مختلف رایوں کا سامنا کرتا ہے وہ خطا و لغزش کے مقاما ت کو پہچان لیتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;174 جو شخص اللہ کی خاطر سنان غضب تیز کرتا ہے، وہ باطل کے سورماؤں کے قتل پر توانا ہو جاتا ہے۔&lt;br /&gt;جو شخص محض اللہ کی خاطر باطل سے ٹکرانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اسے خداوند عالم کی طرف سے تائید و نصرت حاصل ہوتی ہے اور کمزوری و بے سروسامانی کے باوجود باطل قوتیں اس کے عزم میں تزلزل اور ثبات قدم میں جنبش پیدا نہیں کرسکتیں اور اگر اس کے اقدام میں ذاتی غرض شریک ہو تو اسے بڑی آسانی سے اس کے ارادہ سے باز رکھا جاسکتاہے۔ چنانچہ سید نعمت جز ائری علیہ الرحمہ نے زہرا الربیع میں تحریر کیا ہے کہ ایک شخص نے کچھ لوگوں کو ایک درخت کی پرستش کرتے دیکھا تو اُس نے جذبہ دینی سے متاثر ہوکر اس درخت کو کاٹنے کا ارادہ کیا اور جب تیشہ لے کر آگے بڑھا تو شیطان نے اس کا راستہ روکا اور پوچھا کہ کیا ارادہ ہے؟ اس نے کہا کہ میں اس درخت کو کاٹناچاہتا ہوں تاکہ لوگ مشرکانہ طریق عبادت سے باز رہیں۔ شیطان نے کہا کہ تمہیں اس سے کیا مطلب وہ جانیں اور ا ن کاکام، مگر وہ اپنے ارادہ پر جما رہا جب شیطان نے دیکھا کہ یہ ایسا کرہی گزرے گا، تواس نے کہا کہ اگر تم واپس چلے جاؤ تو میں تمہیں چار درہم ہر روز دیا کروں گا۔ جو تمہیں بستر کے نیچے سے مل جایا کریں گے یہ سن کر اس کی نیت ڈانواں ڈول ہونے لگی اور کہا کہ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ اس نے کہا کہ تجربہ کرکے دیکھ لو، اگر ایسا نہ ہو ا درخت کے کاٹنے کا موقع پھر بھی تمہیں مل سکتا ہے۔ چنانچہ وہ لالچ میں آکر پلٹ آیا اور دوسرے دن وہ درہم اسے بستر کے نیچے سے مل گئے۔ مگر دو چار روز کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ اب وہ پھر طیش میں آیا۔ اور تیشہ لے کر درخت کی طرف بڑھا کہ شیطان نے آگے بڑھ کر کہا کہ اب تمہارے بس میں نہیں کہ تم اسے کاٹ سکو، کیونکہ پہلی دفعہ تم صرف اللہ کی رضامند ی حاصل کرنے کے لیے نکلے تھے اور اب چند پیسوں کی خاطر نکلے ہو۔ لہٰذا تم نے ہاتھ اٹھایا تو میں تمہاری گردن توڑ دوں گا۔ چنانچہ وہ بے نیل مرام پلٹ آیا۔&lt;br /&gt;175 جب کسی امر سے دہشت محسوس کرو تو اس میں پھاند پڑو، اس لیے کہ کھٹکا لگا رہنا اس ضرر سے کہ جس کا خوف ہے، زیادہ تکلیف دہ چیز ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;176 سر برآوردہ ہونے کا ذریعہ سینہ کی وسعت ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;177 بد کار کی سر زنش نیک کو اس کا بدلہ دے کر کرو۔&lt;br /&gt;مقصد یہ ہے کہ اچھوں کو ان کی حسن کارکردگی کا پورا پورا صلہ دینا اور ان کے کارناموں کی بنا پر ان کی قدر افزائی کرنا بروں کو بھی اچھائی کی راہ پر لگا تا ہے۔ اور یہ چیز اخلاقی مواعظ اور تنبیہ و سرزنش سے زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے کیونکہ انسان طبعاً ان چیزوں کی طرف راغب ہوتا ہے جن کے نتیجہ میں اسے فوائد حاصل ہوں اور اس کے کانوں میں مدح و تحسین کے ترانے گونجیں۔&lt;br /&gt;178 دوسرے کے سینہ سے کینہ و شرکی جڑ اس طرح کاٹو کہ خود اپنے سینہ سے اسے نکال پھینکو.&lt;br /&gt;اس جملہ کے دومعنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اگر تم کسی کی طرف سے دل میں کینہ رکھو گے تو وہ بھی تمہاری طرف سے کینہ رکھے گا۔ لہٰذا اپنے د ل کی کدورتوں کو مٹا کر اس کے دل سے بھی کدورت کو مٹا دو۔ کیونکہ دل دل کا آئینہ ہوتا ہے۔ جب تمہارے آئینہ دل میں کدورت کا زنگ باقی نہ رہے گا، تو اس کے دل سے بھی کدورت جاتی رہے گی اور اسی لیے انسان دوسرے کے دل کی صفائی کااندازہ اپنے دل کی صفائی سے بآسانی کرلیتا ہے۔ چنانچہ ایک شخص نے اپنے ایک دوست سے پوچھا کہ تم مجھے کتنا چاہتے ہو؟ اس نے جواب میں کہا سَل قَلبَکَ اپنے دل سے پوچھو.یعنی جتنا تم مجھے دوست رکھتے ہو اتنا ہی میں تمہیں دوست رکھتا ہوں۔&lt;br /&gt;دوسرے معنی یہ ہیں کہ اگر یہ چاہتے ہو کہ دوسرے کو برائی سے روکو تو پہلے خود اس برائی سے باز آؤ. اس طرح تمہاری نصیحت دوسرے پر اثر انداز ہوسکتی ہے ورنہ بے اثر ہوکر رہ جائے گی۔&lt;br /&gt;179 ضد اور ہٹ دھرمی صحیح رائے کو دور کردیتی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;180 لالچ ہمیشہ کی غلامی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-7422044469821843034?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/7422044469821843034/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=7422044469821843034' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/7422044469821843034'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/7422044469821843034'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_919.html' title='اقوال ۱۵۱ تا ۱۸۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-6982380861709391273</id><published>2010-08-27T10:19:00.001-07:00</published><updated>2010-08-27T10:21:01.480-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>اقوال ۱۲۱ تا ۱۵۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;اقوال ۱۲۱ تا ۱۵۰&lt;br /&gt;121 ان دونوں قسم کے عملوں میں کتنا فرق ہے ایک وہ عمل جس کی لذت مٹ جائے لیکن اس کا وبال رہ جائے اور ایک وہ جس کی سختی ختم ہوجائے لیکن اس کا اجر وثواب باقی رہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;122 حضرت ایک جنازہ کے پیچھے جارہے تھے کہ ایک شخص کے ہنسنے کی آواز سنی جس پر آپ نے فرمایا.&lt;br /&gt;گویا اس دنیا میں موت ہمارے علاوہ دوسروں کے لیے لکھی گئی ہے او رگویا یہ حق (موت )دوسروں ہی پر لاز م ہے اور گویا جن مرنے والوں کو ہم دیکھتے ہیں ,وہ مسافر ہیں جو عنقریب ہماری طرف پلٹ آئیں گے .ادھر ہم انہیں قبروں میں اتارتے ہیں ادھر ان کا ترکہ کھانے لگتے ہیں گویا ان کے بعد ہم ہمیشہ رہنے والے ہیں .پھر یہ کہ ہم نے ہر پندو نصیحت کرنے والے کو وہ مرد ہو یا عور ت بھلا دیا ہے اور ہر آفت کا نشانہ بن گئے ہیں .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;123 خوشانصیب اس کے کہ جس نے اپنے مقام پر فروتنی اختیا ر کی جس کی کمائی پاک و پاکیزہ نیت نیک اورخصلت و عادت پسندیدہ رہی جس نے اپنی ضرورت سے بچا ہو امال خداکی راہ میں صرف کیا بے کار باتوں سے اپنی زبان کو روک لیا ,مردم آزادی سے کنارہ کش رہا ,سنت اسے ناگوار نہ ہوئی اور بدعت کی طرف منسوب نہ ہوا .&lt;br /&gt;سید رضی کہتے ہیں .&lt;br /&gt;کہ کچھ لو گوں نے اس کلام کو اور اس سے پہلے کلام کو رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے .&lt;br /&gt;124 عورت کا غیر ت کر نا کفر ہے ,اور مرد کا غیور ہونا ایمان ہے .&lt;br /&gt;مطلب یہ ہے کہ جب مر دکو چار عورتیں تک کر نے کی اجازت ہے تو عورت کا سوت گوارا نہ کر نا حلال خدا سے ناگواری کا اظہار اور ایک طرح سے حلال کو حرام سمجھنا ہے اور یہ کفر کے ہمپایہ ہے ,اور چونکہ عورت کے لیے متعدد شوہر کرنا جائز نہیں ہے ,اس لیے مرد کا اشتراک گوارا نہ کرنا اس کی غیرت کا تقاضا اور حرام خدا کو حرام سمجھنا ہے اور یہ ایمان کے مترادف ہے .&lt;br /&gt;مردوعورت میں یہ تفریق اس لیے ہے تاکہ تولید و بقائے نسل انسانی میں کوئی روک پیدا نہ ہو ,کیونکہ یہ مقصد اسی صورت میں بدرجہ اتم حاصل ہوسکتا ہے جب مرد کے لیے تعددازواج کی اجازت ہو ,کیونکہ ایک مرد سے ایک ہی زمانہ میں متعدد اولادیں ہوسکتی ہیں اور عور ت اس سے معذورو قاصر ہے کہ وہ متعدد مردوں کے عقد میں آنے سے متعدد اولادیں پیدا کرسکے .کیونکہ زمانہ حمل میں دوبارہ حمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا .اس کے علاوہ اس پر ایسے حالات بھی طاری ہوتے رہتے ہیں کہ مرد کو اس سے کنارہ کشی اختیا ر کرنا پڑتی ہے . چنانچہ حیض اور رضاعت کا زمانہ ایساہوتاہی ہے جس سے تولید کا سلسلہ رک جاتا ہے اور اگرمتعدد ازواج ہونگی تو سلسلہ تولید جاری رہ سکتا ہے کیونکہ متعدد بیویوں میں سے کوئی نہ کوئی بیوی ان عوارض سے خالی ہوگی جس سے نسل انسانی کی ترقی کا مقصد حاصل ہوتا رہے گا . کیونکہ&lt;br /&gt;مرد کے لیے ایسے مواقع پیدا نہیں ہوتے کہ جو سلسلہ تولید میں روک بن سکیں .اس لیے خدا وند عالم نے مردوں کے لیے تعدد ازواج کو جائز قرار دیا ہے ,اور عورتوں کے لیے یہ صورت رکھی کہ وہ بوقت واحد متعدد مردوں کے عقد میں آئیں .کیونکہ ایک عورت کا کئی شوہر کرنا غیرت و شرافت کے بھی منافی ہے اور اس کے علاوہ ایسی صورت میں نسب کی بھی تمیز نہ ہوسکے گی کہ کون کس کی صلب سے ہے چنانچہ امام رضا علیہ السلام سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ مر دایک وقت میں چار بیویا ںتک کر سکتا ہے اور عورت ایک وقت میں ایک مرد سے زیادہ شوہر نہیں کرسکتی .&lt;br /&gt;حضرت نے فرمایا کہ مرد جب متعدد عورتوں سے نکاح کر ے گا تو اولاد بہرصورت اسی کی طرف منسوب ہوگی اور اگر عورت کے دو 2یا دو سے زیادہ شوہر ہوں گے تو یہ معلوم نہ ہوسکے گا کہ کو ن کس کی اولاد اور کس شوہر سے ہے لہٰذا یسی صورت میں نسب مشتبہ ہو کر رہ جائے گا اور صحیح باپ کی تعیین نہ ہوسکے گی .اور امر اس مولود کے مفاد کے بھی خلاف ہوگا .کیونکہ کوئی بھی بحیثیت باپ کے اس کی تربیتکی طرف متوجہ نہ ہوگا جس سے وہ اخلاق و آداب سے بے بہرہ اور تعلیم و تربیت سے محروم ہوکر رہ جائے گا .&lt;br /&gt;125 میں اسلام کی ایسی صحیح تعریف بیان کر تا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی .اسلام سر تسلیم خم کر نا ہے اور سر تسلیم جھکانا یقین ہے اور یقین تصدیق ہے اور تصدیق اعتراف فرض کی بجاآوری ہے اور فرض کی بجاآوری عمل ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;126 مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جس فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے ,ا س کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور جس ثروت و خوش حالی کا طالب ہوتا ہے وہی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے وہ دنیا میں فقیروں کی سی زندگی بسر کرتا ہے اورآخرت میں دولت مندوں کا سا اس سے محاسبہ ہوگا ,اور مجھے تعجب ہوتا ہے .متکبر و مغرور پر کہ جس کل ایک نطفہ تھا ,او ر کل کو مردا ر ہوگا .اور مجھے تعجب ہے اس پر جو اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات کو دیکھتا ہے اورپھر اس کے وجود میں شک کرتا ہے اور تعجب ہے اس پر جو مرنے والوں کو دیکھتا ہے اور پھر موت کو بھولے ہوئے ہے .اور تعجب ہے اس پر کہ جو پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھاءے جانے سے انکار کرتاہے اور تعجب ہے ا س پر جو سرائے فانی کو آباد کرتا ہے اور منزل جاودانی کو چھوڑ دیتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;127 جو عمل میں کوتاہی کرتا ہے ,وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے اور جس کے مال و جان میں اللہ کا کچھ حصہ نہ ہو اللہ کو ایسے کی کوئی ضرورت نہیں .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;128 شروع سردی میں سردی سے احتیاط کرو اور آخر میں اس کاخیر مقدم کر و ,کیونکہ سردی جسموں میں وہی کرتی ہے ,جو وہ درختو ںمیں کرتی ہے کہ ابتدائ میں درختوں کو جھلس دیتی ہے ,اور انتہا میں سرسبز و شاداب کرتی ہے.&lt;br /&gt;موسم خزاں میںسردی سے بچاؤاس لیے ضروری ہے کہ موسم کی تبدیلی سے مزاج میں انحراف پیدا ہوجاتا ہے ,اور نزلہ و زکام اور کھانسی وغیرہ کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے .وجہ یہ ہوتی ہے کہ بد ن گرمی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں کہ ناگا ہ سردی سے دوچار ہونا پڑتا ہے جس سے دماغ کے مسامات سکڑجاتے ہیں ,اور مزاج میں برودت و پیوست بڑھ جاتی ہے چنانچہ گرم پانی سے غسل کرنے کے بعد فورا ًٹھنڈے پانی سے نہانا اسی لیے مضر ہے کہ گرم پانی سے مسامات کھل چکے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ پانی کے اثرات کو فوراًقبول کرلیتے ہیں&lt;br /&gt;اور نتیجہ میں حرارت غریزی کو نقصان پہنچتا ہے البتہ موسم بہار میں سردی سے بچاؤ کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ وہ صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے کیونکہ پہلے ہی سے سردی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں اس لیے بہار کی معتدل سردی بدن پر ناخوشگوار اثرنہیں ڈالتی ,بلکہسردی کا زور ٹوٹنے سے بدن میں حرارت و رطوبت بڑھ جاتی ہے جس سے نشوونما میں قوت آتی ہے ,حرارت غزیری ابھرتی ہے اور جسم میں نمو طبیعت میں شگفتگی اور روح میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے .&lt;br /&gt;اسی طرح عالم نباتا ت پر بھی تبدیلی موسم کا یہی اثر ہوتا ہے چنانچہ موسم خزاں میں برودت و پیوست کے غالب آنے سے پتے مرجھا جاتے ہیں روح نباتاتی افسردہ ہو جاتی ہے ,چمن کی حسن و تازگی مٹ جاتی ہے اور سبزہ زاروں پر موت کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور موسم بہار ان کے لیے زندگی کا پیغام لے کر آتا ہے او ربار آور ہواؤں کے چلنے سے پتے اور شگوفے پھوٹنے لگتے ہیں اور شجر سر سبز و شاداب اور دشت و صحرا سبزہ پوش ہوجاتے ہیں .&lt;br /&gt;129 اللہ کی عظمت کا احساس تمہاری نظروں میں کائنات کو حقیر و پست کردے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;130 صفین سے پلٹتے ہوئے کوفہ سے باہر قبرستان پر نظر پڑی تو فرمایا:&lt;br /&gt;اے وحشت افزا گھروں ,اجڑے مکانوں اور اندھیری قبروں کے رہنے والو!اے خاک نشینو !اے عالم غربت کے ساکنوں اے تنہائی اور الجھن میں بسر کرنے والو !تم تیز رو ہو جو ہم سے آگے بڑھ گئے ہو اور ہم تمہارے نقش قدم پر چل کر تم سے ملا چاہتے ہیں .اب صورت یہ ہے کہ گھروں میں دوسرے بس گئے ہیں بیویوں سے اوروں نے نکاح کر لیے ہیں اور تمہار ا مال و اسباب تقسیم ہوچکا ہے یہ تو ہمارے یہاں کی خبر ہے .اب تمہارے یہاں کی کیا خبر ہے.&lt;br /&gt;(پھر حضرت اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا)اگر انہیں بات کرنے کی اجازت دی جائے .تو یہ تمہیں بتائیں گے کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;131 ایک شخص کو دنیا کی برائی کرتے ہوئے سنا تو فرمایا !اے دنیا کی برائی کرنے والے اس کے فریب میں مبتلا ہو نے والے !اور غلط سلط باتوں کے دھوکے میں آنے والے !تم اس پر گرویدہ بھی ہوتے ہو ,اور پھر اس کی مذمت بھی کرتے ہو .کیا تم دنیا کو مجرم ٹھہرنے کا حق رکھتے ہو؟یا وہ تمہیں مجرم ٹھہرائے تو حق بجانب ہے ؟دنیا نے کب تمہارے ہوش وحواس سلب کئے اور کس بات سے فریب دیا ؟کیا ہلاکت و کہنگی سے تمہارے باپ دادا کے بے جان ہو کر گر نے سے یا مٹی کے نیچے تمہاری ماؤں کی خواب گاہوں سے ؟کتنی تم نے بیماروں کی دیکھ بھال کی ,اور کتنی دفعہ تو خود تیمار دار ی کی اس صبح کو کہ جب نہ دوا کارگر ہوتی نظر آتی تھی ,اور نہ تمہارا رونا دھونا ان کے لیے کچھ مفید تھا . تم ان کے لیے شفا کے خواہشمند تھے اور طبیبوں سے دوا دارو پوچھتے پھرتے تھے ان میں سے کسی ایک کے لیے بھی تمہارا اندیشہ فائدہ مند ثابت نہ ہو سکا اور تمہارا اصل مقصد حاصل نہ ہوا اوراپنی چارہ سازی سے تم موت کو ا س بیمار سے نہ ہٹا سکے تو دنیا نے تو اس کے پردے میں خود تمہار ا انجا م اور اس کے ہلاک ہونے سے خود تمہاری ہلاکت کا نقشہ تمہیں دکھایا دیا بلاشبہ دنیا اس شخص کے لیے جو باور کرے ,سچائی کا گھر ہے اور جو اس کی ان باتوں کو سمجھے اس کے لیے امن و عافیت کی منزل ہے اور اس سے زادراہ حاصل کرلے ,اس کے لیے دولتمندی کی منزل ہے اور جو اس سے نصیحت حاصل کر ے ,اس کے لیے وعظ ونصیحت کا محل ہے .وہ دوستان خدا کے لیے عبادت کی جگہ ,اللہ کے فرشتوں کے لیے نماز پڑھنے کا مقام وحی الہی کی منزل اور اولیاء اللہ کی تجارت گاہ ہے انہوں نے اس میں فضل و رحمت کا سودا کیا اور اس میں رہتے ہوئے جنت کو فائدہ میں حاصل کیا تو اب کون ہے جو دنیا کی برائی کرے ,جب کہ اس نے اپنے جدا ہونے کی اطلاع دے دی ہے چنانچہ اس نے اپنی ابتلاء سے ابتلائ کا پتہ دیا ہے اور اپنی مسرتوں سے آخرت کی مسرتو ں کا شوق دلایا ہے ,وہ رغبت دلانے اور ڈرانے خوفزدہ کرنے اور متنبہ کرنے کے لیے شام کو امن و عافیت کا اور صبح کو درد و اندوہ کا پیغام لے کر آتی ہے توجن لوگوں نے شرمسار ہوکر صبح کی وہ اس کی برائی کرنے لگے .اور دوسرے لوگ قیامت کے دن اس کی تعریف کریں گے کہ دنیا نے ان کو آخرت کی یاد دلائی تو انہو ں نے یاد رکھا اور اس نے انہیں خبر دی تو انہوں نے تصدیق کی اور اس نے انہیں پند و نصیحت کی تو انہوں نے نصیحت حاصل کی .&lt;br /&gt;ہر متکلم و خطیب کی زبان منجے ہوئے موضوع پر زور بیان دکھایاکرتی ہے اور اگر سے موضوع سخن بدلنا پڑے تو نہ ذہن کا م کرے گا اور نہ زبان کی گویائی ساتھ دے گی ,مگر جس کے ذہن میں صلاحیت تصرف اور دماغ میں قوت و فکر ہو ,وہ جس طرح چاہے کلام کو گردش دے سکتا ہے اور جس موضوع پر چاہے »قادر الکلامی«کے جو ہر دکھاسکتا ہے .چنانچہ وہ زبان جو ہمیشہ دنیا کی مذمت اور اس کی فریب کار یوں کو بے نقاب کرنے میں کھلتی تھی جب اس کی مدح میں کھلتی ہے تو وہی قدرت کلام و قوت استدلال نظر آتی ہے جو اس زبان کا طرہ امتیاز ہے اور پھر الفاظ کو توصیفیسانچہ میں ڈھالنے سے نظر یہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہو تی اور راہوں کے الگ الگ ہونے کے با وجود منزلگہ مقصود ایک ہی رہتی ہے .&lt;br /&gt;132 اللہ کا ایک فرشتہ ہر روز یہ ندا کر تا ہے .کہ موت کے لیے اولاد پیدا کرو ,برباد ہونے کے لیے جمع کرو اور تباہ ہونے کے لیے عمارتیں کھڑی کرو .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;133 »دنیا «اصل منز ل قرار کے لیے ایک گزرگاہ ہے .اس میں دو 2قسم کے لوگ ہیں :ایک وہ جنہوں نے اس میںاپنے نفس کو بیچ کر ہلاک کر دیا اورایک وہ جنہوں نے اپنے نفس کو خریدکرآزاد کردیا.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;134 دوست اس وقت تک دوست نہیں سمجھا جاسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کی تین موقعوں پر نگہداشت نہ کرے , مصیبت کے موقع پر اس کے پس پشت اور اس کے مرنے کے بعد :.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;135 جس شخص کو چار چیزیں عطا ہوئی ہیں وہ چار چیزوں سے محروم نہیں رہتا ,جو دعا کرے وہ قبولیت سے محروم نہیں ہوتا . جسے توبہ کی توفیق ہو ,وہ مقبولیت سے ناامید نہیں ہوتا جسے استغفار نصیب ہو وہ مغفرت سے محروم نہیں ہوتا .اور جوشکرکرے وہ اضافہ سے محروم نہیں ہوتا اور اس کی تصدیق قرآن مجید سے ہوتی ہے .چنانچہ دعا کے متعلق ارشاد الہی ہے:تم مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا قبول کروںگا .اور استغفار کے متعلق ارشاد فرمایا ہے .جو شخص کوئی برا عمل کرے یا اپنے نفس پر ظلم کرے پھر اللہ سے مغفرت کی دعا مانگے تو وہ اللہ کو بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا پائے گا .اور شکر کے بارے میں فرمایا ہے اگر تم شکر کرو گے تو میں تم پر (نعمت میں )اضافہ کروں گا .اور توبہ کے لیے فرمایا ہے .اللہ ان ہی لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو جہالت کی بناء پر کوئی بری حرکت نہ کر بیٹھیں پھر جلدی سے توبہ کر لیں تو خدا ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور خدا جاننے والا اور حکمت والاہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;136 نماز ہر پرہیز گار کے لیے باعث تقرب ہے اور حج ہر ضعیف و ناتواں کا جہاد ہے .ہر چیز کی زکوٰۃ ہوتی ہے ,اور بدن کی زکوٰۃ روزہ ہے اور دعوت کا جہاد شوہر سے حسن معاشرت ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;137 صدقہ کے ذریعہ روزی طلب کرو .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;138 جسے عوض کے ملنے کا یقین ہو وہ عطیہ دینے میں دریا دلی دکھاتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;139 جتنا خرچ ہو .اتنی ہی امداد ملتی ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;140 جو میانہ روی اختیار کرتاہے وہ محتاج نہیں ہوتا .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;141متعلقین کی کمی دو قسموں میں سے ایک قسم کی آسودگی ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;142 میل محبت پیدا کر نا عقل کا نصف حصہ ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;143 غم آدھا بڑھاپا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;144 مصیبت کے اندازہ پر اللہ کی طرف صبر کی ہمت حاصل ہوتی ہے .جو شخص مصیبت کے وقت ران پر ہاتھ مارے اس کا عمل اکارت ہوجاتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;145 بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزوں کا ثمرہ بھوک پیاس کے علاوہ کچھ نہیں ملتا اور بہت سے عابد شب زندہ دار ایسے ہیں جنہیں عبادت کے نتیجہ میں جاگنے اور زحمت اٹھانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا .زیرک و دانا لوگوں کا سونا اور روزہ نہ رکھنا بھی قابل ستائش ہوتا ہے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;146 صدقہ سے اپنے ایمان کی نگہداشت کرو ,او ر دعا سے مصیبت و ابتلائ کی لہروں کو دور کرو .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;147 کمیل ابن زیاد نخعی کہتے ہیں کہ :&lt;br /&gt;امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور قبر ستان کی طرف لے چلے جب آبادی سے باہر نکلے تو ایک لمبی آہ کی .پھر فرمایا:&lt;br /&gt;اے کمیل !یہ دل اسرار و حکم کے ظروف ہیں ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو زیادہ نگہداشت کرنے والا ہو .لہٰذا تو جو میں تمہیں بتاؤں اسے یاد رکھنا .&lt;br /&gt;دیکھو!تین قسم کے لو گ ہوتے ہیں ایک عالم ربانی دوسرا متعلم کہ جو نجات کی راہ پر برقرار رہے اور تیسرا عوام الناس کا وہ پست گروہ ہے کہ جو ہر پکارنے والے کے پیچھے ہولیتا ہے اور ہر ہو اکے رخ پر مڑ جاتا ہے .نہ انہوں نے نور علم سے کسب ضیا کیا ,نہ کسی مضبوط سہارے کی پناہ لی .&lt;br /&gt;اے کمیل !یا د رکھو,کہ علم مال سے بہتر ہے (کیونکہ)علم تمہاری نگہداشت کرتا ہے اورمال کی تمہیں حفاظت کرنا پڑتی ہے اور مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے لیکن علم صرف کرنے سے بڑھتا ہے ,اورمال و دولت کے نتائج و اثرات مال کے فنا ہونے سے فنا ہوجاتے ہیں .&lt;br /&gt;اے کمیل !علم کی شناسائی ایک دین ہے کہ جس کی اقتدا کی جاتی ہے اسی سے انسان اپنی زندگی میں دوسروں سے اپنی اطاعت منواتا ہے اور مرنے کے بعد نیک نامی حاصل کرتا ہے .یاد رکھو کہ علم حاکم ہو تا ہے اور مال محکوم .&lt;br /&gt;اے کمیل !مال اکٹھا کرنے والے زندہ ہونے کے باوجود مردہ ہوتے ہیں اور علم حاصل کرنے والے رہتی دنیا تک باقی رہتے ہیں , بے شک ان کے اجسام نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں .مگر ان کی صورتیں دلوں میں موجود رہتی ہیں (اس کے بعد حضرت نے اپنے سینہ اقدس کی طر ف اشارہ کیا اورفرمایا)دیکھو!یہاں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے کا ش اس کے اٹھانے والے مجھے مل جاتے ,ہاں ملا ,کوئی تو,یا ایسا جو ذہین تو ہے مگر ناقابل اطمینان ہے اور جودنیا کے لیے دین کو آلہ کا ر بنا نے والاہے اور اللہ کی ان نعمتوں کی وجہ سے اس کے بندوں پر اور اس کی حجتوں کی وجہ سے اس کے دوستوں پر تفوق و برتری جتلانے والا ہے .یا جو ارباب حق و دانش کا مطیع توہے مگر اس کے دل کے گوشوں میں بصیرت کی روشنی نہیں ہے ,بس ادھر ذرا سا شبہہ عارض ہو ا کہ اس کے دل میں شکوک و شبہات کی چنگاریاں بھڑکنے لگیں تو معلوم ہونا چاہیے کہ نہ یہ اس قابل ہے اور نہ وہ اس قابل ہے یا ایسا شخص ملتا ہے کہ جو لذتوں پر مٹا ہوا ہے اور بآسانی خواہش نفسانی کی راہ پر کھنچ جانے والا ہے یا ایسا شخص جو جمع آوری و ذخیر ہ اندوزی پر جان دیئے ہوءے ہے یہ دونوں بھی دین کے کسی امر کی رعایت و پاسداری کرنے والے نہیں ہیں ان دونوں سے انتہائی قریبی شباہت چرنے والے چوپائے رکھتے ہیں .اسی طرح تو علم کے خزینہ داروں کے مرنے سے علم ختم ہوجاتا ہے&lt;br /&gt;ہا ں !مگر زمین ایسے فرد خالی نہیں رہتی کہ جو خد اکی حجت کو برقرا ر رکھتا ہے چاہے وہ ظاہر و مشہور ہو ا یا خائف و پنہاں تاکہ اللہ کی دلیلیں اور نشان مٹنے نہ پائیں اور وہ ہیں ہی کتنے اور کہاں پر ہیں -؟خدا کی قسم وہ تو گنتی میں بہت تھوڑے ہوتے ہیں ,اور اللہ کے نزدیک قدرومنزلت کے لحاظ سے بہت بلند .خدا وند عالم ان کے ذریعہ سے اپنی حجتوںاور نشانیوں کی حفاظت کرتا ہے .یہاں تک کہ وہ ان کو اپنے ایسوں کے سپرد کردیں اور اپنے ایسوں کے دلوں میںانہیں بودیں .علم نے انہیں ایک دم حقیقت و بصیرت کے انکشافات تک پہنچا دیا ہے .وہ یقین و اعتماد کی رو ح سے گھل مل گئے ہیں اور ان چیز وں کو جنہیں آرام پسند لوگوں نے دشوار قرار دے رکھا تھا اپنے لیے سہل و آسان سمجھ لیا ہے اور جن چیزوں سے جاہل بھڑک اٹھتے ہیں ان سے وہ جی لگائے بیٹھے ہیں .وہ ایسے جسموں کے ساتھ دنیامیں رہتے سہتے ہیں کہ جن کی روحیں ملائ اعلیٰ سے وابستہ ہیں یہی لوگ توزمین میں اللہ کے نائب اور اس کے دین کی طرف دعوت دینے والے ہیں .ہائے ان کی دید کے لیے میرے شوق کی فراوانی (پھر حضرت نے کمیل سے فرمایا)اے کمیل !(مجھے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکا )اب جس وقت چاہو واپس جاؤ.&lt;br /&gt;کمیل ابن زیاد نخعی رحمتہ اللہ اسرار امامت کے خزینہ دار اور امیرالمومنین کے خواص اصحاب میں سے تھے ,علم و فضل میں بلند مرتبہ اور زہد و درع میں امتیاز خاص کے حامل تھے .حضرت کی طرف سے کچھ عرصہ تک ہیت کے عامل رہے 38ئھج میں 09برس کی عمر میں حجاج ابن یوسف ثقفی کے ہاتھ سے شہید ہوئے اور بیرون کوفہ دفن ہوئے .&lt;br /&gt;148 انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہو ا ہے .&lt;br /&gt;مطلب یہ ہے کہ انسان کی قدرو قیمت کا اندازہ اس کی گفتگو سے ہوجاتا ہے .کیونکہ ہر شخص کی گفتگو اس کی ذہنیواخلاقی حالت کی آئینہ دار ہوتی ہے جس سے اس کے خیالات و جذبات کا بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے .لہٰذا جب تک وہ خامو ش ہے اس کا عیب و ہنر پوشیدہ ہے اور جب انسان کی زبان کھلتی ہے تو اس کا جوہر نمایا ں ہوجاتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مرد پنہاں است در زیر زبان خوشیتن قیمت و قدرش نداتی تانیاءد در سخن&lt;br /&gt;149 جو شخص اپنی قدرو منزلت کو نہیں پہچانتا وہ ہلاک ہو جاتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;150 ایک شخص نے آپ سے پندو موعظت کی درخواست کی ,تو فرمایا!&lt;br /&gt;تم کوان لوگوں میں سے نہ ہونا چاہیے کہ جو عمل کے بغیر حسن انجا م کی امید رکھتے ہیں اور امید یں بڑھاکر تو بہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں جو دنیا کے بارے میں زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے اعمال دنیا طلبوں کے سے ہوتے ہیں .اگر دنیا انہیں ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو قناعت نہیں کرتے جو انہیں ملاہے اس پر شکر سے قاصر رہتے ہیں اور جو بچ رہا اس کے اضافہ کے خواہشمند رہتے ہیں دوسروں کو منع کرتے ہیں اور خود باز نہیں آتے اور دوسروں کو حکم دیتے ہیں ایسی باتوں کا جنہیں خود بجانہیں لاتے نیکوں کو دوست رکھتے ہیں مگر ان کے سے اعمال نہیں کرتے اور گنہگاروں سے نفرت و عناد رکھتے ہیں حالانکہ وہ خود انہی میں داخل ہیں اپنے گناہوں کی کثرت کے باعث موت کو برا سمجھتے ہیں مگر جن گناہوںکی وجہ سے موت کو ناپسند کرتے ہیں انہی پر قائم ہیں .اگر بیمار پڑتے ہیں تو پشیمان ہوتے ہیں . جب بیماری سے چھٹکارا پاتے ہیں تواترانے لگتے ہیں .اور مبتلا ہوتے ہیں تو ان پر مایوسی چھا جاتی ہے .جب کسی سختی و ابتلا میں پڑتے ہیں تو لاچار و بے بس ہوکر دعائیں مانگتے ہیں اور جب فراخ دستی نصیب ہوتی ہے تو فریب میں مبتلا ہو کر منہ پھیر لیتے ہیں .ان کا نفس خیالی باتوں پر انہیں قابو میں لے آتا ہے اور وہ یقینی باتوں پر اسے نہیں دبالیتے .دوسروں کے لیے گناہ سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اپنے لیے اپنے اعمال سے زیادہ جزا کے متوقع رہتے ہیں .اگر مالدار ہوجاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں اور اگر فقیر ہوجاتے ہیں تو ناامید ہوجاتے ہیں اور سستی کرنے لگتے ہیں .جب عمل کرتے ہیں تو اس میں سستی کرتے ہیں اور جب مانگنے پرآتے ہیں تو اصرار میں حد سے بڑھ جاتے ہیں .اگر ان پر خواہش نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے تو گناہ جلد سے جلد کرتے ہیں ,اور توبہ کو تعویق میں ڈالتے رہتے ہیں ,اگر کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو جماعت اسلامی کے خصوصی امتیازات سے الگ ہوجاتے ہیں .عبرت کے واقعات بیان کرتے ہیں مگر خود عبرت حاصل نہیں کرتے اور وعظ و نصیحت میں زور باندھتے ہیں مگر خود اس نصیحت کا اثر نہیں لیتے چنانچہ وہ بات کرنے میں تو اونچے رہتے ہیں .مگر عمل میں کم ہی کم رہتے ہیں .فانی چیزوں میں نفسی نفسی کرتے ہیں اور باقی رہنے والی چیزوں میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں وہ نفع کو نقصان اور نقصا ن کو نفع خیال کرتے ہیں .موت سے ڈرتے ہیں .مگر فرصت کا موقع نکل جانے سے پہلے اعمال میں جلدی نہیں کرتے .دوسرے کے ایسے گناہ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں جس سے بڑے گناہ کو خود اپنے لیے چھوٹا خیال کرتے ہیں .اور اپنی ایسی اطاعت کو زیادہ سمجھتے ہیں جسے دوسرے سے کم سمجھتے ہیں .لہٰذا وہ لوگوں پر معترض ہوتے ہیں اور اپنے نفس کی چکنی چپڑی باتوں سے تعریف کرتے ہیں .دولتمندوں کے ساتھ طرب ونشاط میں مشغول رہنا انہیں غریبوں کے ساتھ محفل ذکر میں شرکت سے زیادہ پسند ہے اپنے حق میں دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگاتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں کرتے کہ دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگائیں .اوروں کو ہدایت کرتے ہیں اور اپنے کو گمراہی کی راہ پر لگا تے ہیں وہ اطاعت لیتے ہیں اور خود نافرمانی کرتے ہیں او رحق پوراپور ا وصول کرلیتے ہیں مگر خود انہیں کرتے .وہ اپنے پروردگا ر کو نظر انداز کر کے مخلوق سے خو ف کھاتے ہیں اور مخلوقات کے بارے میں اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتے .&lt;br /&gt;سید رضی فرماتے ہیں کہ اگر اس کتاب میں صرف ایک یہی کلام ہوتا تو کامیاب موعظہ اور موثر حکمت اور چشم بینا رکھنے والے کے لیے بصیرت اور نظر و فکر کرنے والے کے لیے عبرت کے اعتبار سے بہت کافی تھا .&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-6982380861709391273?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/6982380861709391273/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=6982380861709391273' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/6982380861709391273'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/6982380861709391273'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_1058.html' title='اقوال ۱۲۱ تا ۱۵۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-8638192405074817598</id><published>2010-08-27T10:19:00.000-07:00</published><updated>2010-08-27T10:20:10.779-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>اقوال ۱۲۱ تا ۱۵۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;اقوال ۱۲۱ تا ۱۵۰&lt;br /&gt;121 ان دونوں قسم کے عملوں میں کتنا فرق ہے ایک وہ عمل جس کی لذت مٹ جائے لیکن اس کا وبال رہ جائے اور ایک وہ جس کی سختی ختم ہوجائے لیکن اس کا اجر وثواب باقی رہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;122 حضرت ایک جنازہ کے پیچھے جارہے تھے کہ ایک شخص کے ہنسنے کی آواز سنی جس پر آپ نے فرمایا.&lt;br /&gt;گویا اس دنیا میں موت ہمارے علاوہ دوسروں کے لیے لکھی گئی ہے او رگویا یہ حق (موت )دوسروں ہی پر لاز م ہے اور گویا جن مرنے والوں کو ہم دیکھتے ہیں ,وہ مسافر ہیں جو عنقریب ہماری طرف پلٹ آئیں گے .ادھر ہم انہیں قبروں میں اتارتے ہیں ادھر ان کا ترکہ کھانے لگتے ہیں گویا ان کے بعد ہم ہمیشہ رہنے والے ہیں .پھر یہ کہ ہم نے ہر پندو نصیحت کرنے والے کو وہ مرد ہو یا عور ت بھلا دیا ہے اور ہر آفت کا نشانہ بن گئے ہیں .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;123 خوشانصیب اس کے کہ جس نے اپنے مقام پر فروتنی اختیا ر کی جس کی کمائی پاک و پاکیزہ نیت نیک اورخصلت و عادت پسندیدہ رہی جس نے اپنی ضرورت سے بچا ہو امال خداکی راہ میں صرف کیا بے کار باتوں سے اپنی زبان کو روک لیا ,مردم آزادی سے کنارہ کش رہا ,سنت اسے ناگوار نہ ہوئی اور بدعت کی طرف منسوب نہ ہوا .&lt;br /&gt;سید رضی کہتے ہیں .&lt;br /&gt;کہ کچھ لو گوں نے اس کلام کو اور اس سے پہلے کلام کو رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے .&lt;br /&gt;124 عورت کا غیر ت کر نا کفر ہے ,اور مرد کا غیور ہونا ایمان ہے .&lt;br /&gt;مطلب یہ ہے کہ جب مر دکو چار عورتیں تک کر نے کی اجازت ہے تو عورت کا سوت گوارا نہ کر نا حلال خدا سے ناگواری کا اظہار اور ایک طرح سے حلال کو حرام سمجھنا ہے اور یہ کفر کے ہمپایہ ہے ,اور چونکہ عورت کے لیے متعدد شوہر کرنا جائز نہیں ہے ,اس لیے مرد کا اشتراک گوارا نہ کرنا اس کی غیرت کا تقاضا اور حرام خدا کو حرام سمجھنا ہے اور یہ ایمان کے مترادف ہے .&lt;br /&gt;مردوعورت میں یہ تفریق اس لیے ہے تاکہ تولید و بقائے نسل انسانی میں کوئی روک پیدا نہ ہو ,کیونکہ یہ مقصد اسی صورت میں بدرجہ اتم حاصل ہوسکتا ہے جب مرد کے لیے تعددازواج کی اجازت ہو ,کیونکہ ایک مرد سے ایک ہی زمانہ میں متعدد اولادیں ہوسکتی ہیں اور عور ت اس سے معذورو قاصر ہے کہ وہ متعدد مردوں کے عقد میں آنے سے متعدد اولادیں پیدا کرسکے .کیونکہ زمانہ حمل میں دوبارہ حمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا .اس کے علاوہ اس پر ایسے حالات بھی طاری ہوتے رہتے ہیں کہ مرد کو اس سے کنارہ کشی اختیا ر کرنا پڑتی ہے . چنانچہ حیض اور رضاعت کا زمانہ ایساہوتاہی ہے جس سے تولید کا سلسلہ رک جاتا ہے اور اگرمتعدد ازواج ہونگی تو سلسلہ تولید جاری رہ سکتا ہے کیونکہ متعدد بیویوں میں سے کوئی نہ کوئی بیوی ان عوارض سے خالی ہوگی جس سے نسل انسانی کی ترقی کا مقصد حاصل ہوتا رہے گا . کیونکہ&lt;br /&gt;مرد کے لیے ایسے مواقع پیدا نہیں ہوتے کہ جو سلسلہ تولید میں روک بن سکیں .اس لیے خدا وند عالم نے مردوں کے لیے تعدد ازواج کو جائز قرار دیا ہے ,اور عورتوں کے لیے یہ صورت رکھی کہ وہ بوقت واحد متعدد مردوں کے عقد میں آئیں .کیونکہ ایک عورت کا کئی شوہر کرنا غیرت و شرافت کے بھی منافی ہے اور اس کے علاوہ ایسی صورت میں نسب کی بھی تمیز نہ ہوسکے گی کہ کون کس کی صلب سے ہے چنانچہ امام رضا علیہ السلام سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ مر دایک وقت میں چار بیویا ںتک کر سکتا ہے اور عورت ایک وقت میں ایک مرد سے زیادہ شوہر نہیں کرسکتی .&lt;br /&gt;حضرت نے فرمایا کہ مرد جب متعدد عورتوں سے نکاح کر ے گا تو اولاد بہرصورت اسی کی طرف منسوب ہوگی اور اگر عورت کے دو 2یا دو سے زیادہ شوہر ہوں گے تو یہ معلوم نہ ہوسکے گا کہ کو ن کس کی اولاد اور کس شوہر سے ہے لہٰذا یسی صورت میں نسب مشتبہ ہو کر رہ جائے گا اور صحیح باپ کی تعیین نہ ہوسکے گی .اور امر اس مولود کے مفاد کے بھی خلاف ہوگا .کیونکہ کوئی بھی بحیثیت باپ کے اس کی تربیتکی طرف متوجہ نہ ہوگا جس سے وہ اخلاق و آداب سے بے بہرہ اور تعلیم و تربیت سے محروم ہوکر رہ جائے گا .&lt;br /&gt;125 میں اسلام کی ایسی صحیح تعریف بیان کر تا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی .اسلام سر تسلیم خم کر نا ہے اور سر تسلیم جھکانا یقین ہے اور یقین تصدیق ہے اور تصدیق اعتراف فرض کی بجاآوری ہے اور فرض کی بجاآوری عمل ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;126 مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جس فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے ,ا س کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور جس ثروت و خوش حالی کا طالب ہوتا ہے وہی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے وہ دنیا میں فقیروں کی سی زندگی بسر کرتا ہے اورآخرت میں دولت مندوں کا سا اس سے محاسبہ ہوگا ,اور مجھے تعجب ہوتا ہے .متکبر و مغرور پر کہ جس کل ایک نطفہ تھا ,او ر کل کو مردا ر ہوگا .اور مجھے تعجب ہے اس پر جو اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات کو دیکھتا ہے اورپھر اس کے وجود میں شک کرتا ہے اور تعجب ہے اس پر جو مرنے والوں کو دیکھتا ہے اور پھر موت کو بھولے ہوئے ہے .اور تعجب ہے اس پر کہ جو پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھاءے جانے سے انکار کرتاہے اور تعجب ہے ا س پر جو سرائے فانی کو آباد کرتا ہے اور منزل جاودانی کو چھوڑ دیتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;127 جو عمل میں کوتاہی کرتا ہے ,وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے اور جس کے مال و جان میں اللہ کا کچھ حصہ نہ ہو اللہ کو ایسے کی کوئی ضرورت نہیں .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;128 شروع سردی میں سردی سے احتیاط کرو اور آخر میں اس کاخیر مقدم کر و ,کیونکہ سردی جسموں میں وہی کرتی ہے ,جو وہ درختو ںمیں کرتی ہے کہ ابتدائ میں درختوں کو جھلس دیتی ہے ,اور انتہا میں سرسبز و شاداب کرتی ہے.&lt;br /&gt;موسم خزاں میںسردی سے بچاؤاس لیے ضروری ہے کہ موسم کی تبدیلی سے مزاج میں انحراف پیدا ہوجاتا ہے ,اور نزلہ و زکام اور کھانسی وغیرہ کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے .وجہ یہ ہوتی ہے کہ بد ن گرمی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں کہ ناگا ہ سردی سے دوچار ہونا پڑتا ہے جس سے دماغ کے مسامات سکڑجاتے ہیں ,اور مزاج میں برودت و پیوست بڑھ جاتی ہے چنانچہ گرم پانی سے غسل کرنے کے بعد فورا ًٹھنڈے پانی سے نہانا اسی لیے مضر ہے کہ گرم پانی سے مسامات کھل چکے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ پانی کے اثرات کو فوراًقبول کرلیتے ہیں&lt;br /&gt;اور نتیجہ میں حرارت غریزی کو نقصان پہنچتا ہے البتہ موسم بہار میں سردی سے بچاؤ کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ وہ صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے کیونکہ پہلے ہی سے سردی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں اس لیے بہار کی معتدل سردی بدن پر ناخوشگوار اثرنہیں ڈالتی ,بلکہسردی کا زور ٹوٹنے سے بدن میں حرارت و رطوبت بڑھ جاتی ہے جس سے نشوونما میں قوت آتی ہے ,حرارت غزیری ابھرتی ہے اور جسم میں نمو طبیعت میں شگفتگی اور روح میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے .&lt;br /&gt;اسی طرح عالم نباتا ت پر بھی تبدیلی موسم کا یہی اثر ہوتا ہے چنانچہ موسم خزاں میں برودت و پیوست کے غالب آنے سے پتے مرجھا جاتے ہیں روح نباتاتی افسردہ ہو جاتی ہے ,چمن کی حسن و تازگی مٹ جاتی ہے اور سبزہ زاروں پر موت کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور موسم بہار ان کے لیے زندگی کا پیغام لے کر آتا ہے او ربار آور ہواؤں کے چلنے سے پتے اور شگوفے پھوٹنے لگتے ہیں اور شجر سر سبز و شاداب اور دشت و صحرا سبزہ پوش ہوجاتے ہیں .&lt;br /&gt;129 اللہ کی عظمت کا احساس تمہاری نظروں میں کائنات کو حقیر و پست کردے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;130 صفین سے پلٹتے ہوئے کوفہ سے باہر قبرستان پر نظر پڑی تو فرمایا:&lt;br /&gt;اے وحشت افزا گھروں ,اجڑے مکانوں اور اندھیری قبروں کے رہنے والو!اے خاک نشینو !اے عالم غربت کے ساکنوں اے تنہائی اور الجھن میں بسر کرنے والو !تم تیز رو ہو جو ہم سے آگے بڑھ گئے ہو اور ہم تمہارے نقش قدم پر چل کر تم سے ملا چاہتے ہیں .اب صورت یہ ہے کہ گھروں میں دوسرے بس گئے ہیں بیویوں سے اوروں نے نکاح کر لیے ہیں اور تمہار ا مال و اسباب تقسیم ہوچکا ہے یہ تو ہمارے یہاں کی خبر ہے .اب تمہارے یہاں کی کیا خبر ہے.&lt;br /&gt;(پھر حضرت اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا)اگر انہیں بات کرنے کی اجازت دی جائے .تو یہ تمہیں بتائیں گے کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;131 ایک شخص کو دنیا کی برائی کرتے ہوئے سنا تو فرمایا !اے دنیا کی برائی کرنے والے اس کے فریب میں مبتلا ہو نے والے !اور غلط سلط باتوں کے دھوکے میں آنے والے !تم اس پر گرویدہ بھی ہوتے ہو ,اور پھر اس کی مذمت بھی کرتے ہو .کیا تم دنیا کو مجرم ٹھہرنے کا حق رکھتے ہو؟یا وہ تمہیں مجرم ٹھہرائے تو حق بجانب ہے ؟دنیا نے کب تمہارے ہوش وحواس سلب کئے اور کس بات سے فریب دیا ؟کیا ہلاکت و کہنگی سے تمہارے باپ دادا کے بے جان ہو کر گر نے سے یا مٹی کے نیچے تمہاری ماؤں کی خواب گاہوں سے ؟کتنی تم نے بیماروں کی دیکھ بھال کی ,اور کتنی دفعہ تو خود تیمار دار ی کی اس صبح کو کہ جب نہ دوا کارگر ہوتی نظر آتی تھی ,اور نہ تمہارا رونا دھونا ان کے لیے کچھ مفید تھا . تم ان کے لیے شفا کے خواہشمند تھے اور طبیبوں سے دوا دارو پوچھتے پھرتے تھے ان میں سے کسی ایک کے لیے بھی تمہارا اندیشہ فائدہ مند ثابت نہ ہو سکا اور تمہارا اصل مقصد حاصل نہ ہوا اوراپنی چارہ سازی سے تم موت کو ا س بیمار سے نہ ہٹا سکے تو دنیا نے تو اس کے پردے میں خود تمہار ا انجا م اور اس کے ہلاک ہونے سے خود تمہاری ہلاکت کا نقشہ تمہیں دکھایا دیا بلاشبہ دنیا اس شخص کے لیے جو باور کرے ,سچائی کا گھر ہے اور جو اس کی ان باتوں کو سمجھے اس کے لیے امن و عافیت کی منزل ہے اور اس سے زادراہ حاصل کرلے ,اس کے لیے دولتمندی کی منزل ہے اور جو اس سے نصیحت حاصل کر ے ,اس کے لیے وعظ ونصیحت کا محل ہے .وہ دوستان خدا کے لیے عبادت کی جگہ ,اللہ کے فرشتوں کے لیے نماز پڑھنے کا مقام وحی الہی کی منزل اور اولیاء اللہ کی تجارت گاہ ہے انہوں نے اس میں فضل و رحمت کا سودا کیا اور اس میں رہتے ہوئے جنت کو فائدہ میں حاصل کیا تو اب کون ہے جو دنیا کی برائی کرے ,جب کہ اس نے اپنے جدا ہونے کی اطلاع دے دی ہے چنانچہ اس نے اپنی ابتلاء سے ابتلائ کا پتہ دیا ہے اور اپنی مسرتوں سے آخرت کی مسرتو ں کا شوق دلایا ہے ,وہ رغبت دلانے اور ڈرانے خوفزدہ کرنے اور متنبہ کرنے کے لیے شام کو امن و عافیت کا اور صبح کو درد و اندوہ کا پیغام لے کر آتی ہے توجن لوگوں نے شرمسار ہوکر صبح کی وہ اس کی برائی کرنے لگے .اور دوسرے لوگ قیامت کے دن اس کی تعریف کریں گے کہ دنیا نے ان کو آخرت کی یاد دلائی تو انہو ں نے یاد رکھا اور اس نے انہیں خبر دی تو انہوں نے تصدیق کی اور اس نے انہیں پند و نصیحت کی تو انہوں نے نصیحت حاصل کی .&lt;br /&gt;ہر متکلم و خطیب کی زبان منجے ہوئے موضوع پر زور بیان دکھایاکرتی ہے اور اگر سے موضوع سخن بدلنا پڑے تو نہ ذہن کا م کرے گا اور نہ زبان کی گویائی ساتھ دے گی ,مگر جس کے ذہن میں صلاحیت تصرف اور دماغ میں قوت و فکر ہو ,وہ جس طرح چاہے کلام کو گردش دے سکتا ہے اور جس موضوع پر چاہے »قادر الکلامی«کے جو ہر دکھاسکتا ہے .چنانچہ وہ زبان جو ہمیشہ دنیا کی مذمت اور اس کی فریب کار یوں کو بے نقاب کرنے میں کھلتی تھی جب اس کی مدح میں کھلتی ہے تو وہی قدرت کلام و قوت استدلال نظر آتی ہے جو اس زبان کا طرہ امتیاز ہے اور پھر الفاظ کو توصیفیسانچہ میں ڈھالنے سے نظر یہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہو تی اور راہوں کے الگ الگ ہونے کے با وجود منزلگہ مقصود ایک ہی رہتی ہے .&lt;br /&gt;132 اللہ کا ایک فرشتہ ہر روز یہ ندا کر تا ہے .کہ موت کے لیے اولاد پیدا کرو ,برباد ہونے کے لیے جمع کرو اور تباہ ہونے کے لیے عمارتیں کھڑی کرو .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;133 »دنیا «اصل منز ل قرار کے لیے ایک گزرگاہ ہے .اس میں دو 2قسم کے لوگ ہیں :ایک وہ جنہوں نے اس میںاپنے نفس کو بیچ کر ہلاک کر دیا اورایک وہ جنہوں نے اپنے نفس کو خریدکرآزاد کردیا.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;134 دوست اس وقت تک دوست نہیں سمجھا جاسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کی تین موقعوں پر نگہداشت نہ کرے , مصیبت کے موقع پر اس کے پس پشت اور اس کے مرنے کے بعد :.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;135 جس شخص کو چار چیزیں عطا ہوئی ہیں وہ چار چیزوں سے محروم نہیں رہتا ,جو دعا کرے وہ قبولیت سے محروم نہیں ہوتا . جسے توبہ کی توفیق ہو ,وہ مقبولیت سے ناامید نہیں ہوتا جسے استغفار نصیب ہو وہ مغفرت سے محروم نہیں ہوتا .اور جوشکرکرے وہ اضافہ سے محروم نہیں ہوتا اور اس کی تصدیق قرآن مجید سے ہوتی ہے .چنانچہ دعا کے متعلق ارشاد الہی ہے:تم مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا قبول کروںگا .اور استغفار کے متعلق ارشاد فرمایا ہے .جو شخص کوئی برا عمل کرے یا اپنے نفس پر ظلم کرے پھر اللہ سے مغفرت کی دعا مانگے تو وہ اللہ کو بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا پائے گا .اور شکر کے بارے میں فرمایا ہے اگر تم شکر کرو گے تو میں تم پر (نعمت میں )اضافہ کروں گا .اور توبہ کے لیے فرمایا ہے .اللہ ان ہی لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو جہالت کی بناء پر کوئی بری حرکت نہ کر بیٹھیں پھر جلدی سے توبہ کر لیں تو خدا ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور خدا جاننے والا اور حکمت والاہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;136 نماز ہر پرہیز گار کے لیے باعث تقرب ہے اور حج ہر ضعیف و ناتواں کا جہاد ہے .ہر چیز کی زکوٰۃ ہوتی ہے ,اور بدن کی زکوٰۃ روزہ ہے اور دعوت کا جہاد شوہر سے حسن معاشرت ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;137 صدقہ کے ذریعہ روزی طلب کرو .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;138 جسے عوض کے ملنے کا یقین ہو وہ عطیہ دینے میں دریا دلی دکھاتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;139 جتنا خرچ ہو .اتنی ہی امداد ملتی ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;140 جو میانہ روی اختیار کرتاہے وہ محتاج نہیں ہوتا .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;141متعلقین کی کمی دو قسموں میں سے ایک قسم کی آسودگی ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;142 میل محبت پیدا کر نا عقل کا نصف حصہ ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;143 غم آدھا بڑھاپا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;144 مصیبت کے اندازہ پر اللہ کی طرف صبر کی ہمت حاصل ہوتی ہے .جو شخص مصیبت کے وقت ران پر ہاتھ مارے اس کا عمل اکارت ہوجاتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;145 بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزوں کا ثمرہ بھوک پیاس کے علاوہ کچھ نہیں ملتا اور بہت سے عابد شب زندہ دار ایسے ہیں جنہیں عبادت کے نتیجہ میں جاگنے اور زحمت اٹھانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا .زیرک و دانا لوگوں کا سونا اور روزہ نہ رکھنا بھی قابل ستائش ہوتا ہے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;146 صدقہ سے اپنے ایمان کی نگہداشت کرو ,او ر دعا سے مصیبت و ابتلائ کی لہروں کو دور کرو .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;147 کمیل ابن زیاد نخعی کہتے ہیں کہ :&lt;br /&gt;امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور قبر ستان کی طرف لے چلے جب آبادی سے باہر نکلے تو ایک لمبی آہ کی .پھر فرمایا:&lt;br /&gt;اے کمیل !یہ دل اسرار و حکم کے ظروف ہیں ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو زیادہ نگہداشت کرنے والا ہو .لہٰذا تو جو میں تمہیں بتاؤں اسے یاد رکھنا .&lt;br /&gt;دیکھو!تین قسم کے لو گ ہوتے ہیں ایک عالم ربانی دوسرا متعلم کہ جو نجات کی راہ پر برقرار رہے اور تیسرا عوام الناس کا وہ پست گروہ ہے کہ جو ہر پکارنے والے کے پیچھے ہولیتا ہے اور ہر ہو اکے رخ پر مڑ جاتا ہے .نہ انہوں نے نور علم سے کسب ضیا کیا ,نہ کسی مضبوط سہارے کی پناہ لی .&lt;br /&gt;اے کمیل !یا د رکھو,کہ علم مال سے بہتر ہے (کیونکہ)علم تمہاری نگہداشت کرتا ہے اورمال کی تمہیں حفاظت کرنا پڑتی ہے اور مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے لیکن علم صرف کرنے سے بڑھتا ہے ,اورمال و دولت کے نتائج و اثرات مال کے فنا ہونے سے فنا ہوجاتے ہیں .&lt;br /&gt;اے کمیل !علم کی شناسائی ایک دین ہے کہ جس کی اقتدا کی جاتی ہے اسی سے انسان اپنی زندگی میں دوسروں سے اپنی اطاعت منواتا ہے اور مرنے کے بعد نیک نامی حاصل کرتا ہے .یاد رکھو کہ علم حاکم ہو تا ہے اور مال محکوم .&lt;br /&gt;اے کمیل !مال اکٹھا کرنے والے زندہ ہونے کے باوجود مردہ ہوتے ہیں اور علم حاصل کرنے والے رہتی دنیا تک باقی رہتے ہیں , بے شک ان کے اجسام نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں .مگر ان کی صورتیں دلوں میں موجود رہتی ہیں (اس کے بعد حضرت نے اپنے سینہ اقدس کی طر ف اشارہ کیا اورفرمایا)دیکھو!یہاں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے کا ش اس کے اٹھانے والے مجھے مل جاتے ,ہاں ملا ,کوئی تو,یا ایسا جو ذہین تو ہے مگر ناقابل اطمینان ہے اور جودنیا کے لیے دین کو آلہ کا ر بنا نے والاہے اور اللہ کی ان نعمتوں کی وجہ سے اس کے بندوں پر اور اس کی حجتوں کی وجہ سے اس کے دوستوں پر تفوق و برتری جتلانے والا ہے .یا جو ارباب حق و دانش کا مطیع توہے مگر اس کے دل کے گوشوں میں بصیرت کی روشنی نہیں ہے ,بس ادھر ذرا سا شبہہ عارض ہو ا کہ اس کے دل میں شکوک و شبہات کی چنگاریاں بھڑکنے لگیں تو معلوم ہونا چاہیے کہ نہ یہ اس قابل ہے اور نہ وہ اس قابل ہے یا ایسا شخص ملتا ہے کہ جو لذتوں پر مٹا ہوا ہے اور بآسانی خواہش نفسانی کی راہ پر کھنچ جانے والا ہے یا ایسا شخص جو جمع آوری و ذخیر ہ اندوزی پر جان دیئے ہوءے ہے یہ دونوں بھی دین کے کسی امر کی رعایت و پاسداری کرنے والے نہیں ہیں ان دونوں سے انتہائی قریبی شباہت چرنے والے چوپائے رکھتے ہیں .اسی طرح تو علم کے خزینہ داروں کے مرنے سے علم ختم ہوجاتا ہے&lt;br /&gt;ہا ں !مگر زمین ایسے فرد خالی نہیں رہتی کہ جو خد اکی حجت کو برقرا ر رکھتا ہے چاہے وہ ظاہر و مشہور ہو ا یا خائف و پنہاں تاکہ اللہ کی دلیلیں اور نشان مٹنے نہ پائیں اور وہ ہیں ہی کتنے اور کہاں پر ہیں -؟خدا کی قسم وہ تو گنتی میں بہت تھوڑے ہوتے ہیں ,اور اللہ کے نزدیک قدرومنزلت کے لحاظ سے بہت بلند .خدا وند عالم ان کے ذریعہ سے اپنی حجتوںاور نشانیوں کی حفاظت کرتا ہے .یہاں تک کہ وہ ان کو اپنے ایسوں کے سپرد کردیں اور اپنے ایسوں کے دلوں میںانہیں بودیں .علم نے انہیں ایک دم حقیقت و بصیرت کے انکشافات تک پہنچا دیا ہے .وہ یقین و اعتماد کی رو ح سے گھل مل گئے ہیں اور ان چیز وں کو جنہیں آرام پسند لوگوں نے دشوار قرار دے رکھا تھا اپنے لیے سہل و آسان سمجھ لیا ہے اور جن چیزوں سے جاہل بھڑک اٹھتے ہیں ان سے وہ جی لگائے بیٹھے ہیں .وہ ایسے جسموں کے ساتھ دنیامیں رہتے سہتے ہیں کہ جن کی روحیں ملائ اعلیٰ سے وابستہ ہیں یہی لوگ توزمین میں اللہ کے نائب اور اس کے دین کی طرف دعوت دینے والے ہیں .ہائے ان کی دید کے لیے میرے شوق کی فراوانی (پھر حضرت نے کمیل سے فرمایا)اے کمیل !(مجھے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکا )اب جس وقت چاہو واپس جاؤ.&lt;br /&gt;کمیل ابن زیاد نخعی رحمتہ اللہ اسرار امامت کے خزینہ دار اور امیرالمومنین کے خواص اصحاب میں سے تھے ,علم و فضل میں بلند مرتبہ اور زہد و درع میں امتیاز خاص کے حامل تھے .حضرت کی طرف سے کچھ عرصہ تک ہیت کے عامل رہے 38ئھج میں 09برس کی عمر میں حجاج ابن یوسف ثقفی کے ہاتھ سے شہید ہوئے اور بیرون کوفہ دفن ہوئے .&lt;br /&gt;148 انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہو ا ہے .&lt;br /&gt;مطلب یہ ہے کہ انسان کی قدرو قیمت کا اندازہ اس کی گفتگو سے ہوجاتا ہے .کیونکہ ہر شخص کی گفتگو اس کی ذہنیواخلاقی حالت کی آئینہ دار ہوتی ہے جس سے اس کے خیالات و جذبات کا بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے .لہٰذا جب تک وہ خامو ش ہے اس کا عیب و ہنر پوشیدہ ہے اور جب انسان کی زبان کھلتی ہے تو اس کا جوہر نمایا ں ہوجاتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مرد پنہاں است در زیر زبان خوشیتن قیمت و قدرش نداتی تانیاءد در سخن&lt;br /&gt;149 جو شخص اپنی قدرو منزلت کو نہیں پہچانتا وہ ہلاک ہو جاتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;150 ایک شخص نے آپ سے پندو موعظت کی درخواست کی ,تو فرمایا!&lt;br /&gt;تم کوان لوگوں میں سے نہ ہونا چاہیے کہ جو عمل کے بغیر حسن انجا م کی امید رکھتے ہیں اور امید یں بڑھاکر تو بہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں جو دنیا کے بارے میں زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے اعمال دنیا طلبوں کے سے ہوتے ہیں .اگر دنیا انہیں ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو قناعت نہیں کرتے جو انہیں ملاہے اس پر شکر سے قاصر رہتے ہیں اور جو بچ رہا اس کے اضافہ کے خواہشمند رہتے ہیں دوسروں کو منع کرتے ہیں اور خود باز نہیں آتے اور دوسروں کو حکم دیتے ہیں ایسی باتوں کا جنہیں خود بجانہیں لاتے نیکوں کو دوست رکھتے ہیں مگر ان کے سے اعمال نہیں کرتے اور گنہگاروں سے نفرت و عناد رکھتے ہیں حالانکہ وہ خود انہی میں داخل ہیں اپنے گناہوں کی کثرت کے باعث موت کو برا سمجھتے ہیں مگر جن گناہوںکی وجہ سے موت کو ناپسند کرتے ہیں انہی پر قائم ہیں .اگر بیمار پڑتے ہیں تو پشیمان ہوتے ہیں . جب بیماری سے چھٹکارا پاتے ہیں تواترانے لگتے ہیں .اور مبتلا ہوتے ہیں تو ان پر مایوسی چھا جاتی ہے .جب کسی سختی و ابتلا میں پڑتے ہیں تو لاچار و بے بس ہوکر دعائیں مانگتے ہیں اور جب فراخ دستی نصیب ہوتی ہے تو فریب میں مبتلا ہو کر منہ پھیر لیتے ہیں .ان کا نفس خیالی باتوں پر انہیں قابو میں لے آتا ہے اور وہ یقینی باتوں پر اسے نہیں دبالیتے .دوسروں کے لیے گناہ سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اپنے لیے اپنے اعمال سے زیادہ جزا کے متوقع رہتے ہیں .اگر مالدار ہوجاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں اور اگر فقیر ہوجاتے ہیں تو ناامید ہوجاتے ہیں اور سستی کرنے لگتے ہیں .جب عمل کرتے ہیں تو اس میں سستی کرتے ہیں اور جب مانگنے پرآتے ہیں تو اصرار میں حد سے بڑھ جاتے ہیں .اگر ان پر خواہش نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے تو گناہ جلد سے جلد کرتے ہیں ,اور توبہ کو تعویق میں ڈالتے رہتے ہیں ,اگر کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو جماعت اسلامی کے خصوصی امتیازات سے الگ ہوجاتے ہیں .عبرت کے واقعات بیان کرتے ہیں مگر خود عبرت حاصل نہیں کرتے اور وعظ و نصیحت میں زور باندھتے ہیں مگر خود اس نصیحت کا اثر نہیں لیتے چنانچہ وہ بات کرنے میں تو اونچے رہتے ہیں .مگر عمل میں کم ہی کم رہتے ہیں .فانی چیزوں میں نفسی نفسی کرتے ہیں اور باقی رہنے والی چیزوں میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں وہ نفع کو نقصان اور نقصا ن کو نفع خیال کرتے ہیں .موت سے ڈرتے ہیں .مگر فرصت کا موقع نکل جانے سے پہلے اعمال میں جلدی نہیں کرتے .دوسرے کے ایسے گناہ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں جس سے بڑے گناہ کو خود اپنے لیے چھوٹا خیال کرتے ہیں .اور اپنی ایسی اطاعت کو زیادہ سمجھتے ہیں جسے دوسرے سے کم سمجھتے ہیں .لہٰذا وہ لوگوں پر معترض ہوتے ہیں اور اپنے نفس کی چکنی چپڑی باتوں سے تعریف کرتے ہیں .دولتمندوں کے ساتھ طرب ونشاط میں مشغول رہنا انہیں غریبوں کے ساتھ محفل ذکر میں شرکت سے زیادہ پسند ہے اپنے حق میں دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگاتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں کرتے کہ دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگائیں .اوروں کو ہدایت کرتے ہیں اور اپنے کو گمراہی کی راہ پر لگا تے ہیں وہ اطاعت لیتے ہیں اور خود نافرمانی کرتے ہیں او رحق پوراپور ا وصول کرلیتے ہیں مگر خود انہیں کرتے .وہ اپنے پروردگا ر کو نظر انداز کر کے مخلوق سے خو ف کھاتے ہیں اور مخلوقات کے بارے میں اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتے .&lt;br /&gt;سید رضی فرماتے ہیں کہ اگر اس کتاب میں صرف ایک یہی کلام ہوتا تو کامیاب موعظہ اور موثر حکمت اور چشم بینا رکھنے والے کے لیے بصیرت اور نظر و فکر کرنے والے کے لیے عبرت کے اعتبار سے بہت کافی تھا .&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-8638192405074817598?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/8638192405074817598/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=8638192405074817598' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/8638192405074817598'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/8638192405074817598'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_6976.html' title='اقوال ۱۲۱ تا ۱۵۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-452934529325317094</id><published>2010-08-27T10:18:00.000-07:00</published><updated>2010-08-27T10:19:10.327-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>اقوال ۹۱ تا ۱۲۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;    &lt;br /&gt;اقوال ۹۱ تا ۱۲۰&lt;br /&gt;91 یہ دل بھی اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بدن اکتا جاتے ہیں۔لہٰذا (جب ایسا ہوتو)ان کے لیے لطیف حکیمانہ نکات تلاش کرو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;92 وہ علم بہت بے قدروقیمت ہے جو زبان تک رہ جائے، اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے جو اعضا و جوارح سے نمودار ہو.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;93 تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ »اے اللہ! میں تجھ سے فتنہ و آزمائش سے پناہ چاہتا ہوں اس لیے کہ کوئی شخص ایسا نہیں جو فتنہ کی لپیٹ میں نہ ہو، بلکہ جو پناہ مانگے وہ گمراہ کرنے والے فتنوں سے پناہ مانگے کیونکہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے اور اس بات کو جانے رہو کہ تمہارا مال اور اولاد فتنہ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ لوگوں کومال اور اولاد کے ذریعے آزماتا ہے تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ کون اپنی قسمت پر شاکرہے اگرچہ اللہ سبحانہ ان کو اتنا جانتا ہے کہ وہ خود بھی اپنے کو اتنا نہیں جانتے۔لیکن یہ آزمائش اس لیے ہے کہ وہ افعال سامنے آئیں جن سے ثواب و عذاب کا استحقاق پیدا ہوتا ہے کیونکہ بعض اولاد نرینہ کو چاہتے ہیں، اور لڑکیوں سے کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اور بعض مال بڑھانے کو پسند کرتے ہیں اور بعض شکستہ حالی کو برا سمجھتے ہیں۔&lt;br /&gt;سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ ان عجیب و غریب باتوں میں سے ہے جو تفسیر کے سلسلہ میں آپ سے وارد ہوئی ہیں۔&lt;br /&gt;94 آپ سے دریافت کیا گیا کہ نیکی کیاچیز ہے توآپ نے فرمایا کہ نیکی یہ نہیں کہ تمہارے مال و اولاد میں فراوانی ہوجائے۔بلکہ خوبی یہ ہے کہ تمہارا علم زیادہ اور حلم بڑا ہو، اور تم اپنے پروردگار کی عباد ت پر ناز کرسکو اب اگر اچھا کام کرو۔تو اللہ کا شکر بجالاؤ، اور اگر کسی برائی کا ارتکاب کرو۔تو توبہ و استغفار کرو، اور دنیا میں صرف دو شخصوں کے لیے بھلائی ہے۔ایک و ہ جو گناہ کرے تو توبہ سے سے اس کی تلافی کرے اور دوسرا وہ جو نیک کام میں تیز گام ہو.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;95 جو عمل تقوی ٰ کے ساتھ انجام دیا جائے وہ تھوڑا نہیں سمجھا جاسکتا، اور مقبول ہونے والا عمل تھوڑ اکیونکر ہوسکتا ہے ؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;96 انبیاء سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ان کی لائی ہوئی چیزوں کازیادہ علم رکھتے ہوں (پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی)ابراہیم سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کی تھی جو ان کے فرمانبردار تھے۔اور اب اس نبی اور ایمان لانے والوں کو خصوصیت ہے۔(پھرفرمایا)حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوست وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے اگرچہ ان سے کوئی قرابت نہ رکھتا ہو، اور ان کا دشمن وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے، اگرچہ نزدیکی قرابت رکھتا ہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;97 ایک خارجی کے متعلق آپ علیہ السّلام نے سنا کہ وہ نماز شب پڑھتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا ہے توآپ نے فرمایا یقین کی حالت میں سونا شک کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;98 جب کوئی حدیث سنو تو اسے عقل کے معیار پر پرکھ لو,صرف نقل الفاظ پر بس نہ کرو، کیونکہ علم کے نقل کرنے والے تو بہت ہیں اور اس میں غور کرنے والے کم ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;99 ایک شخص کو انا للہ و انا الیہ راجعون,(ہم اللہ کے ہیں اور اللہ کی طرف پلٹنا ہے )کہتے سنا تو فرمایا کہ ہمارا یہ کہنا کہ »ہم اللہ کے ہیں «.اس کے مالک ہونے کا اعتراف ہے اور یہ کہنا کہ ہمیں اسی کی طرف پلٹنا ہے۔یہ اپنے لیے فنا کا اقرار ہے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;100 کچھ لوگوں نے آپ علیہ السّلام کے روبرو آپ علیہ السّلام کی مدح و ستائش کی، تو فرمایا۔اے اللہ! تومجھے مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے، اور ان لوگوں سے زیادہ اپنے نفس کومیں پہچانتا ہوں۔اے خدا جو ان لوگوں کاخیال ہے ہمیں اس سے بہتر قرار دے اور ان (لغزشوں )کو بخش دے جن کا انہیں علم نہیں.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;101حاجت روائی تین چیزوں کے بغیر پائدار نہیں ہوتی۔اسے چھوٹا سمجھاجائے تاکہ وہ بڑی قرار پائے اسے چھپایا جائے تاکہ وہ خود بخود ظاہر ہو، اور اس میں جلدی کی جائے تاکہ وہ خوش گوار ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;102 لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جس میں وہی بارگاہوں میں مقرب ہوگا جو لوگوں کے عیوب بیان کرنے والا ہو, اور وہی خوش مذاق سمجھا جائے گا, جو فاسق و فاجر ہو اور انصا ف پسند کو کمزور و ناتواں سمجھا جائے گا صدقہ کو لوگ خسارہ اور صلہ رحمی کو احسان سمجھیں گے اور عبادت لوگوں پر تفو ق جتلانے کے لیے ہوگی۔ایسے زمانہ میں حکومت کا دارومدار عورتوں کے مشورے، نو خیز لڑکوں کی کار فرمائی اور خواجہ سراؤں کی تدبیر و رائے پر ہوگا.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;103 آپ کے جسم پر ایک بوسیدہ اور پیوند دار جامہ دیکھا گیا تو آپ سے اس کے بارے میں کہاگیا، آپ نے فرمایا !اس سے دل متواضع اور نفس رام ہوتا ہے اور مومن اس کی تاسی کرتے ہیں۔دنیا اورآخرت آپس میں دو ناساز گار دشمن اور دو جدا جدا راستے ہیں۔چنانچہ جو دنیا کو چاہے گا اور اس سے دل لگائے گا۔وہ دونوں بمنزلہ مشرق و مغرب کے ہیں اور ان دونوں سمتوں کے درمیان چلنے والا جب بھی ایک سے قریب ہوگا تو دوسرے سے دور ہونا پڑے گا۔پھر ان دونوں کا رشتہ ایسا ہی ہے جیسا دو سوتوں کاہوتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;104 نوف ابن فضالہ بکالی کہتے ہیں کہ میں نے ایک شب امیرالمومنین علیہ السلام کو دیکھاکہ وہ فرش خواب سے اٹھے ایک نظر ستاروں پر ڈالی اور پھر فرمایا اے نوف !سوتے ہو یا جاگ رہے ہو ؟میں نے کہا کہ یا امیرالمومنین علیہ السّلام جاگ رہا ہوں۔فرمایا ! اے نوف!&lt;br /&gt;خوشانصیب ان کے کہ جنہوں نے دنیا میں زہد اختیار کیا، اور ہمہ تن آخرت کی طرف متوجہ رہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زمین کو فرش، مٹی کو بستر اور پانی کو شربت خوش گوار قرار دیا۔قرآن کو سینے سے لگایا اور دعا کو سپر بنایا. پھر حضرت مسیح کی طرح دامن جھاڑ کر دنیا سے الگ ہوگئے.&lt;br /&gt;اے نوف ! داؤد علیہ السلام رات کے ایسے ہی حصہ میں اٹھے اور فرمایا کہ یہ وہ گھڑی ہے کہ جس میں بندہ جو بھی دعا مانگے مستجاب ہوگی سوا اس شخص کے جو سرکاری ٹیکس وصول کرنے والا، یا لوگوں کی برائیاں کرنے والا، یا ( کسی ظالم حکومت کی) پولیس میں ہو یا سارنگی یا ڈھول تاشہ بجانے والا ہو.&lt;br /&gt;سید رضی کہتے ہیں کہ عرطبہ کے معنی سارنگی اورکوبہ کے معنی ڈھول کے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ عرطبہ کے معنی ڈھول اور کوبہ کے معنی طنبورہ کے ہیں۔&lt;br /&gt;105 اللہ نے چند فرائض تم پرعائد کئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو۔اورتمہارے حدود کار مقرر کر دیئے گئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو.اس نے چند چیز وں سے تمہیں منع کیا ہے اس کی خلاف ورزی نہ کرو، اور جن چند چیزوں کا اس نے حکم بیان نہیں کیا، انہیں بھولے سے نہیں چھوڑ دیا.لہٰذا خواہ مخواہ انہیں جاننے کی کوشش نہ کرو.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;106 جو لوگ اپنی دنیا سنوارنے کے لیے دین سے ہاتھ اٹھالیتے ہیں تو خدا اس دنیاوی فائدہ سے کہیں زیادہ ان کے لیے نقصان کی صورتیں پیدا کردیتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;107 بہت سے پڑھے لکھوں کو (دین سے) بے خبری تباہ کردیتی ہے اورجوعلم ان کے پاس ہوتا ہے انہیں ذرا بھی فائدہ نہیں پہنچاتا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;108 اس انسان سے بھی زیادہ عجیب وہ گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جو اس کی ایک رگ کے ساتھ آویزاں کردیاگیا ہے اور وہ دل ہے جس میں حکمت و دانائی کے ذخیرے ہیں اور اس کے برخلاف بھی صفتیں پائی جاتی ہیں اگر اسے امید کی جھلک نظر آتی ہے تو طمع اسے ذلت میں مبتلا کر تی ہے اور اگر طمع ابھرتی ہے تو اسے حرص تباہ وبرباد کردیتی ہے۔اگر ناامیدی اس پر چھا جاتی ہے تو حسرت و اندوہ اس کے لیے جان لیوا بن جاتے ہیں اور اگر غضب اس پر طاری ہوتا ہے تو غم و غصہ شدت اختیار کرلیتا ہے اور اگر خوش و خوشنود ہوتا ہے تو حفظ ماتقدم کو بھول جاتاہے اور اگر اچانک اس پر خوف طاری ہوتاہے تو فکر و اندیشہ دوسری قسم کے تصورات سے اسے روک دیتا ہے۔اگر امن امان کا دور دورہ ہوتا ہے تو غفلت اس پر قبضہ کرلیتی ہے اور اگر مال دولتمند ی اسے سرکش بنادیتی ہے اور اگر اس پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو بے تابی و بے قرار ی اسے رسوا کر دیتی ہے۔اور اگر فقر و فاقہ کی تکلیف میں مبتلا ہو۔تو مصیبت و ابتلاء اسے جکڑلیتی ہے اور اگر بھوک اس پر غلبہ کرتی ہے۔ ناتوانی اسے اٹھنے نہیں دیتی اور اگر شکم پری بڑھ جاتی ہے تو یہ شکم پری اس کے لیے کرب و اذیت کا باعث ہوتی ہے کوتاہی اس کے لیے نقصان رساں اور حد سے زیادتی اس کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;109 ہم (اہلبیت )ہی وہ نقطہ اعتدال ہیں کہ پیچھے رہ جانے والے کو اس سے آکر ملنا ہے اور آگے بڑھ جانے والے کو اس کی طرف پلٹ کر آنا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;110 حکم خدا کا نفاذ وہی کر سکتا ہے جو (حق معاملہ میں) نرمی نہ برتے عجز و کمزوری کا اظہار نہ کرے اور حرص و طمع کے پیچھے نہ لگ جائے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;111سہل ابن حنیف انصار ی حضرت کو سب لوگو ں میں زیادہ عزیز تھے یہ جب آپ کے ہمراہ صفین سے پلٹ کر کوفہ پہنچے تو انتقال فرماگئے جس پر حضرت نے فرمایا.&lt;br /&gt;اگر پہاڑبھی مجھے دوست رکھے گا تووہ بھی ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔&lt;br /&gt;سید رضی فرماتے ہیں کہ چونکہ اس کی آزمائش کڑی اور سخت ہوتی ہے۔اس لیے مصیبتیں اس کی طرف لپک کر بڑھتی ہیں اور ایسی آزمائش انہی کی ہوتی ہے جو پرہیز گار نیکو کار منتخب و برگزیدہ ہوتے ہیں اور ایسا ہی آپ کا دوسرا ارشاد ہے۔&lt;br /&gt;112 جو ہم اہل بیت سے محبت کرے اسے جامہ فقر پہننے کے لیے آمادہ رہناچاہیے۔&lt;br /&gt;سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت کے اس ارشا د کے ایک اور معنی بھی کئے گئے ہیں جس کے ذکر کا یہ محل نہیں ہے۔&lt;br /&gt;شاید اس روایت کے دوسرے معنی یہ ہوں کہ جو ہمیں دوست رکھتا ہے اسے دنیاطلبی کے لیے تگ و دو نہ کرنا چاہیے خواہ اس کے نتیجہ میں اسے فقر و افلاس سے دو چار ہونا پڑے بلکہ قناعت اختیار کرتے ہوئے دنیا طلبی سے الگ رہنا چاہیے۔&lt;br /&gt;113 عقل سے بڑھ کر کوئی مال سود مند اور خود بینی سے بڑھ کر کوئی تنہائی وحشتناک نہیں اور تدبر سے بڑھ کر کوئی عقل کی بات نہیں اور کوئی بزرگی تقویٰ کے مثل نہیں اور خوش خلقی سے بہتر کوئی ساتھی اور ادب کے مانند کوئی میراث نہیں اور توفیق کے مانند کوئی پیشرو اور اعمال خیر سے بڑھ کر کوئی تجارت نہیں اور ثواب کا ایسا کوئی نفع نہیں اور کوئی پرہیز گاری شبہات میں توقف سے بڑھ کر نہیں اور حرام کی طرف بے رغبتی سے بڑھ کر کوئی زہد اور تفکر اور پیش بینی سے بڑھ کر کوئی علم نہیں اور ادائے فرائض کے مانند کوئی عبادت اور حیا و صبر سے بڑھ کر کوئی ایمان نہیں اور فروتنی سے بڑھ کر کوئی سرفرازی نہیں اور علم کے مانند کوئی بزرگی وشرافت نہیں حلم کے مانند کوئی عزت اور مشورہ سے مضبوط کوئی پشت پناہ نہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;114 جب دنیا اور اہل دنیا میں نیکی کا چلن ہو، اور پھر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے کہ جس سے رسوائی کی کوئی بات ظاہر نہیں ہوئی سؤِ ظن رکھے تو اس نے اس پر ظلم و زیادتی کی اور جب دنیا واہل دنیا پر شر و فساد کا غلبہ ہو اور پھر کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے حسن ظن رکھے تو اس نے (خود ہی اپنے کو ) خطرے میں ڈالا.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;115 امیر المومنین علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ آپ علیہ السّلام کا حال کیسا ہے ؟ تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا کہ ا س کا حال کیا ہوگا جسے زندگی موت کی طرف لیے جارہی ہو، اور جس کی صحت بیماری کا پیش خیمہ ہو اور جسے اپنی پناہ گاہ سے گرفت میں لے لیا جائے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;116 کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نعمتیں دے کر رفتہ رفتہ عذاب کا مستحق بنایا جاتا ہے اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی پردہ پوشی سے دھوکا کھائے ہوئے ہیں اور اپنے بارے میں اچھے الفاظ سن کر فریب میں پڑ گئے ہیں اور مہلت دینے سے زیادہ اللہ کی جانب سے کوئی بڑی آزمائش نہیں ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;117 میرے بارے میں دو قسم کے لوگ تباہ و برباد ہوئے۔ایک وہ چاہنے والا جو حد سے بڑھ جائے اور ایک وہ دشمنی رکھنے والا جو عداوت رکھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;118 موقع کو ہاتھ سے جانے دینا رنج و اندوہ کا باعث ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;119 دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے جو چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندر زہر ہلاہل بھرا ہوتا ہے، فریب خوردہ جاہل اس کی طرف کھینچتا ہے اور ہوشمند و دانا اس سے بچ کر رہتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;120 حضرت سے قریش کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ (قبیلہ)بنی مخزوم قریش کا مہکتا ہوا پھول ہیں، ان کے مردوں سے گفتگو اور ان کی عورتوں سے شادی پسندیدہ ہے اور بنی عبد شمس دور اندیش اور پیٹھ پیچھے کی اوجھل چیزوں کی پوری روک تھا م کرنے والے ہیں لیکن ہم (بنی ہاشم )توجو ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اسے صرف کر ڈالتے ہیں، اور موت آنے پر جان دیتے ہیں۔ بڑے جوانمرد ہوتے ہیں اور یہ بنی (عبد شمس )گنتی میں زیادہ حیلہ باز اور بدصورت ہوتے ہیں اور ہم خوش گفتار خیر خواہ اور خوب صورت ہوتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-452934529325317094?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/452934529325317094/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=452934529325317094' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/452934529325317094'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/452934529325317094'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_1552.html' title='اقوال ۹۱ تا ۱۲۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-3543417247783039003</id><published>2010-08-27T10:16:00.000-07:00</published><updated>2010-08-27T10:18:12.576-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>اقوال ۶۱ تا ۹۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;اقوال ۶۱ تا ۹۰&lt;br /&gt;61 عورت ایک ایسا بچھو ہے جس کے لپٹنے میں بھی مزہ آتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;62 جب تم پرسلام کیا جائے تو اس سے اچھے طریقہ سے جواب دو .اور جب تم پر کوئی احسان کرے تو اس سے بڑھ چڑھ کر بدلہ دو ,اگرچہ اس صورت میں بھی فضیلت پہل کرنے والے ہی کی ہوگی .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;63 سفارش کرنے والا امیدوار کے لیے بمنزلہ پرد بال ہوتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;64 دنیا والے ایسے سواروں کے مانند ہیں جو سو رہے ہیں اور سفر جاری ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;65 دوستوں کو کھو دینا غریب الوطنی ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;66 مطلب کا ہاتھ سے چلا جانا اہل کے آگے ہاتھ پھیلانے سے آسان ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;67 نااہل کے سامنے حاجت پیش کرنے سے جو شرمندگی حاصل ہوتی ہے وہ محرومی کے اندوہ سے کہیں زیادہ روحانی اذیت کا باعث ہوتی ہے .اس لیے کے مقصد سے محرومی کو برداشت کیا جاسکتا ہے .مگر ایک دنی و فر و مایہ کی زیر باری ناقابل برداشت ہوتی ہے .چنانچہ ہر باحمیت انسان نا اہل کے ممنون احسان ہونے سے اپنی حرمان نصیبی کو ترجیح دے گا ,اور کسی پست و دنی کے آگے دست سوال دراز کرنا گوارا نہ کرے گا .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;67 تھوڑا دینے سے شرماؤ نہیں کیونکہ خالی ہاتھ پھیرنا تو اس سے بھی گری ہوئی بات ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;68عفت فقر کا زیور ہے اور شکر دولت مندی کی زینت ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;69 اگر حسب منشا تمہارا کام نہ بن سکے تو پھر جس حالت میں ہو مگن رہو .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;70 جاہل کو نہ پاؤ گے مگر یا حد سے آگے بڑھا ہو ,اور یا اس سے بہت پیچھے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;71 جب عقل بڑھتی ہے ,تو باتیں کم ہو جاتی ہیں .&lt;br /&gt;بسیار گوئی پریشان خیالی کا اور پریشان خیالی عقل کی خامی کا نتیجہ ہوتی ہے .اور جب انسان کی عقل کامل اور فہم پختہ ہوتا ہے تو اس کے ذہن اور خیالا ت میں توازن پید ا ہوجاتا ہے .اور عقل دوسرے قوائے بدنیہ کی طرح زبان پر بھی تسلط و اقتدار حاصل کر لیتی ہے جس کے نتیجہ میں زبان عقل کے تقاضوں سے ہٹ کر اور بے سوچے سمجھے کھلنا گوارا نہیں کرتی اور ظاہر ہے کہ سوچ بچار کے بعد جو کلام ہوگا ,وہ مختصر اور زوائد سے پاک ہوگا .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مروچوں عقلس بیفزائد بکا ہددر سخن تانیا بدفرصت گفتار نکشاید ذہن&lt;br /&gt;72 زمانہ جسموں کو کہنہ و بوسیدہ اور آرزوؤں کو دور کرتا ہے .جو زمانہ سے کچھ پا لیتا ہے .وہ بھی رنج سہتا ہے اور جو کھو دیتا ہے وہ تو دکھ جھیلتا ہی ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;73 جو لوگوں کا پیشوا بنتا ہے تو اسے دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے اپنے کو تعلیم دینا چاہیے اور زبان سے درس اخلا ق دینے سے پہلے اپنی سیرت و کردار سے تعلیم دینا چاہیے .اورجو اپنے نفس کی تعلیم و تادیب کرلے ,وہ دوسروں کی تعلیم و تادیب کرنے والے سے زیادہ احترام کا مستحق ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;74 انسان کی ہر سانس ایک قدم ہے جو اسے موت کی طرف بڑھائے لیے جارہا ہے.&lt;br /&gt;یعنی جس طرح ایک قدم مٹ کر دوسرے قدم کے لیے جگہ خالی کرتا ہے اور یہ قدم فرسائی منزل کے قرب کا باعث ہوتی ہے , یونہی زندگی کی ہر سانس پہلی سانس کے لیے پیغام فنا بن کر کاروان زندگی کو موت کی طرف بڑھائے لیے جاتی ہے .گویا جس سانس کی آمد کو پیغام حیات سمجھا جاتا ہے ,وہی سانس زندگی کے ایک لمحے کے فنا ہو نے کی علامت اورمنزل موت سے قرب کا باعث ہوتی ہے کیونکہ ایک سانس کی حیات دوسری سانس کے لیے موت ہے اور انہی فنا بردوش سانسوں کے مجموعے کا نا م زندگی ہے #&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانی&lt;br /&gt;زندگی نام ہے مرمر کے جیے جانے کا&lt;br /&gt;75 جوچیز شمار میں آئے اسے ختم ہونا چاہیے اور جسے آنا چاہیے ,وہ آکر رہے گا .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;76 جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے توآغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچان لینا چاہیے .&lt;br /&gt;ایک بیج کو دیکھ کر کاشتکار یہ حکم لگا سکتا ہے کہ اس سے کو ن سا درخت پیدا ہوگا .اس کے پھل پھول اور پتے کیسے ہوں گے ,اس کا پھیلاؤ اور بڑھاؤ کتنا ہو گا .اسی طرح ایک طالب علم سعی و کوشش کو دیکھ کر اس کی کامیابی پر ,اور دوسرے کی آرام طلبی و غفلت کو دیکھ کر اس کی ناکامی پر حکم لگایا جاسکتا ہے ,کیونکہ ادائل اواخر کے اور مقدمات ,نتائج کے آئینہ دار ہوتے ہیں .لہٰذا کسی چیز کا انجام سجھائی نہ دیتا ہو تو اس کی ابتداء کو دیکھا جائے .اگر ابتداء بری ہوگی تو انتہا بھی بری ہو گی اور اگر ابتداء اچھی ہوگی تو انتہا بھی اچھی ہوگی .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;سالے کہ نکواست ازبہارش پیدا&lt;br /&gt;77 جب ضرار ابن ضمرۃ صنبائی معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ نے امیرالمومنین علیہ السّلام کے متعلق ان سے سوال کیا ,تو انہوں نے کہاکہ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بعض موقعوں پر آپ کو دیکھا جب کہ رات اپنے دامن ظلمت کو پھیلا چکی تھی .تو آپ محراب عبادت میں استادہ ریش مبارک کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے مار گزیدہ کی طرح تڑپ رہے تھے اورغم رسیدہ کی طرح رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے .&lt;br /&gt;اے دنیا ! اے دنیا دور ہو مجھ سے .کیامیرے سامنے اپنے کو لاتی ہے؟ یا میری دلدادہ و فریفتہ بن کر آئی ہے .تیرا وہ وقت نہ آئے (کہ تو مجھے فریب دے سکے)بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے ,جاکسی اور کو جل دے مجھے تیری خواہش نہیں ہے .میں تو تین بار تجھے طلاق دے چکا ہوں کہ جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں .تیری زندگی تھوڑی , تیری اہمیت بہت ہی کم اور تیری آرزو ذلیل و پست ہے افسوس زادِ راہ تھوڑا , راستہ طویل سفر دور دراز اور منزل سخت ہے .&lt;br /&gt;اس روایت کا تتمہ یہ ہے کہ جب معاویہ نے ضرار کی زبان سے یہ واقعہ سنا تو ا س کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور کہنے لگا کہ خدا ابو الحسن پر رحم کرے وہ واقعا ًایسے ہی تھے ,پھر ضرار سے مخاطب ہو کر کہا کہ اے ضرار ان کی مفارقت میں تمہارے رنج و اندوہ کی کیا حالت ہے ضرا ر نے کہا کہ بس یہ سمجھ لو کہ میرا غم اتنا ہی ہے جتنا اس ماں کاہوتا ہے جس کی گود میں اس کا اکلوتا بچہ ذبح کر دیا جائے .&lt;br /&gt;78 ایک شخص نے امیرالمومنین علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا ہمارا اہل شام سے لڑنے کے لیے جانا قضا و قدر سے تھا؟ تو آپ نے ایک طویل جواب دیا .جس کا ایک منتخب حصہ یہ ہے .&lt;br /&gt;خدا تم پر رحم کرے شاید تم نے حتمی و لازمی قضاء و قدر سمجھ لیا ہے (کہ جس کے انجام دینے پر ہم مجبور ہیں )اگر ایسا ہوتا تو پھر نہ ثواب کا کوئی سوال پیدا ہوتا نہ عذاب کا نہ وعدے کے کچھ معنی رہتے نہ وعید کے .خدا وند عالم نے تو بندوں کو خود مختار بناکر مامو ر کیا ہے اور (عذاب سے )ڈراتے ہوئے نہی کی ہے۔ اُس نے سہل و آسان تکلیف دی ہے اور دشواریوں سے بچائے رکھا ہے وہ تھوڑے کئے پر زیادہ اجر دیتا ہے .ا س کی نافرمانی اس لیے نہیں ہوتی کہ وہ دب گیا ہے اور نہ اس کی اطاعت اس لیے کی جاتی ہے کہ اس نے مجبور کر رکھا ہے اس نے پیغمبروں کو بطور تفریح نہیں بھیجا اور بندوں کے لیے کتابیں بے فائدہ نہیں اتاری ہیں اور نہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کو بیکار پیدا کیا ہے .یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے .جنہوں نے کفر اختیار کیا آتش جہنم کے عذاب سے&lt;br /&gt;اس روایت کا تتمہ یہ ہے پھر اس شخص نے کہا کہ وہ کون سی قضاء و قدر تھی جس کی وجہ سے ہمیں جانا پڑا آپ نے کہا کہ قضاکے معنی حکم باری کے ہیں جیسا کہ ارشاد ہے .وقضی ربّک الا تعبدوا الا ایاہ اور تمہارے پروردگار نے تو حکم دے دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کرنا .یہاں پر قضی بمعنی امر کے ہے .&lt;br /&gt;79 حکمت کی بات جہاں کہیں ہو ,اسے حاصل کرو ,کیونکہ حکمت منافق کے سینہ میں بھی ہوتی ہے .لیکن جب تک اس (کی زبان)سے نکل کر مومن کے سینہ میں پہنچ کر دوسر ی حکمتوں کے ساتھ بہل نہیں جاتی تڑپتی رہتی ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;80 حکمت مومن ہی کی گمشدہ چیز ہے اسے حاصل کرو ,اگرچہ منافق سے لینا پڑے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;81 ہرشخص کی قیمت وہ ہنر ہے ,جو اس شخص میں ہے .&lt;br /&gt;سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ ایک ایسا انمول جملہ ہے کہ نہ کوئی حکیمانہ بات اس کے ہم وزن ہو سکتی ہے ,اور نہ کوئی جملہ اس کا ہم پایہ ہوسکتا ہے .&lt;br /&gt;انسان کی حقیقی قیمت اس کا جوہر علم و کمال ہے .وہ علم و کمال کی جس بلندی پر فائز ہوگا ,اسی کے مطابق اس کی قدر و منزلت ہوگی چنانچہ جوہر شناس نگاہیں شکل و صورت ,بلندی قدو قامت اور ظاہری جاہ و حشمت کو نہیں دیکھتیں بلکہ انسان کے ہنر کو دیکھتی ہیں اور اسی ہنر کے لحاظ سے اس کی قیمت ٹھہراتی ہیں .مقصد یہ ہے کہ انسان کو اکتساب فضائل و تحصیل علم و دانش میں جدوجہد کرنا چاہیے.&lt;br /&gt;82 تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے. کہ اگر انہیں حاصل کرنے کے لیے اونٹوں کو ایڑ لگا کر تیز ہنگاؤ, تو وہ اسی قابل ہوں گی .تم میں سے کوئی شخص اللہ کے سوا کسی سے آس نہ لگائے اور اس کے گناہ کے علاوہ کسی شے سے خو ف نہ کھائے اور اگر تم میں سے کسی سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے کہ جسے و ہ نہ جانتا ہو تو یہ کہنے میں نہ شرمائے کہ میں نہیں جانتا اور اگر کوئی شخص کسی بات کو نہیں جانتا تو اس کے سیکھنے میں شرمائے نہیں ,اور صبر و شکیبائی اختیار کرو کیونکہ صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے.اگر سر نہ ہو تو بدن بیکار ہے ,یونہی ایمان کے ساتھ صبر نہ ہو تو ایمان میں کوئی خوبی نہیں .&lt;br /&gt;ہر کر اصبر نیست ایمان نیست&lt;br /&gt;83 ایک شخص نے آپ کی بہت زیادہ تعریف کی حالانکہ وہ آپ سے عقیدت و ارادت نہ رکھتا تھا ,تو آپ نے فرمایا جو تمہاری زبان ہر ہے میں اس سے کم ہوں اور جو تمہارے دل میں ہے اس سے زیادہ ہوں.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;84 تلوار سے بچے کھچے لوگ زیادہ باقی رہتے ہیں اور ان کی نسل زیادہ ہوتی ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;85 جس کی زبان پر کبھی یہ جملہ نہ آئے کہ »میں نہیں جانتا «.تو وہ چوٹ کھانے کی جگہو ں پر چوٹ کھا کر رہتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;86 بوڑھے کی رائے مجھے جوان کی ہمت سے زیادہ پسند ہے (ایک روایت میں یوں ہے کہ بوڑھے کی رائے مجھے جوان کے خطرہ میں ڈٹے رہنے سے زیادہ پسند ہے )&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;87 اس شخص پر تعجب ہوتا ہے کہ جو توبہ کی گنجائش کے ہوتے ہوئے مایوس ہو جائے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;88 ابو جعفر محمد ابن علی الباقر علیہ السلام نے روایت کی ہے کہ امیرالمومنین علیہ السّلام نے فرمایا .&lt;br /&gt;دنیا میں عذاب خدا سے دو چیزیں باعث امان تھیں ایک ان میں سے اٹھ گئی ,مگر دوسری تمہارے پاس موجود ہے .لہٰذا اسے مضبوطی سے تھامے رہو .وہ امان جو اٹھالی گئی وہ رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم تھے اور وہ امان جو باقی رہ گئی ہے وہ توبہ و استغفار ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرمایا.»اللہ لوگوں پر عذاب نہیں کرے گا جب تک تم ان میں موجود ہو «.اللہ ان لوگوں پر عذاب نہیں اتارے گا ,جب کہ یہ لوگ توبہ و استغفار کررہے ہوں گے .&lt;br /&gt;سید رضی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں کہ یہ بہترین استخراج اور عمد ہ نکتہ آفرینی ہے .&lt;br /&gt;89 جس نے اپنے اور اللہ کے مابین معاملات کو ٹھیک رکھا ,تو اللہ اس کے اور لوگوں کے معاملات سلجھائے رکھے گا اور جس نے اپنی آخرت کو سنوار لیا .تو خدا اس کی دنیا بھی سنوار دے گا اور جو خود اپنے کو وعظ و پند کرلے ,تو اللہ کی طرف سے اس کی حفاظت ہوتی رہے گی.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;90 پورا عالم و دانا وہ ہے جو لوگوں کو رحمت خدا سے مایو س او ر اس کی طرف سے حاصل ہونے والی آسائش و راحت سے نا امید نہ کرے ,اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن کر دے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt; &lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-3543417247783039003?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/3543417247783039003/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=3543417247783039003' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/3543417247783039003'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/3543417247783039003'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_7280.html' title='اقوال ۶۱ تا ۹۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-3814108362345433976</id><published>2010-08-27T10:14:00.000-07:00</published><updated>2010-08-27T10:15:50.321-07:00</updated><title type='text'>اقوال ۳۱ تا ۶۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;اقوال ۳۱ تا ۶۰&lt;br /&gt;31 کفر بھی چار ستونوں پر قائم ہے .حد سے بڑھی ہوئی کاوش ,جھگڑا لُو پن ,کج روی اور اختلاف .تو جو بے جا تعمق و کاوش کرتا ہے , وہ حق کی طرف رجوع نہیں ہوتا اور جو جہالت کی وجہ سے آئے دن جھگڑے کرتا ہے , وہ حق سے ہمیشہ اندھا رہتا ہے اور جو حق سے منہ موڑ لیتا ہے .وہ اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھنے لگتا ہے اور گمراہی کے نشہ میں مدہوش پڑا رہتا ہے اور جو حق کی خلاف ورزی کرتا ہے , اس کے راستے بہت دشوار اور اس کے معاملات سخت پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور بچ نکلنے کی راہ اس کے لیے تنگ ہو جاتی ہے ,شک کی بھی چار شاخیں ہیں ,کٹھ حجتی خوف سرگردانی اور باطل کے آگے جبیں سائی .چنانچہ جس نے لڑائی جھگڑ ے کو شیوہ بنالیا ,اس کی رات کبھی صبح سے ہمکنار نہیں ہو سکتی اور جس کو سامنے کی چیزوں نے ہول میں ڈال دیا ,وہ الٹے پیر پلٹ جاتا ہے اور جو شک و شبہہ میں سر گرداں رہتا ہے .اسے شیاطین اپنے پنجوں سے روند ڈالتے ہیں اور جس نے دنیا و آخرت کی تباہی کے آگے سر تسلیم خم کردیا.وہ دوجہاں میں تباہ و برباد ہوا .&lt;br /&gt;سید رضی فرماتے ہیں کہ ہم نے طوالت کے خوف اور اس خیال سے کہ اصل مقصد جو اس بات کا ہے فوت نہ ہو ,بقیہ کلام کو چھوڑ دیا ہے .&lt;br /&gt;32 نیک کام کر نے والا خود اس کام سے بہتر اور برائی کا مرتکب ہونے والا خود اس برائی سے بدتر ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;33 سخاوت کرو ,لیکن فضول خرچی نہ کرو اور جز رسی کرو ,مگر بخل نہیں .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;34 بہتر ین دولت مند ی یہ ہے کہ تمناؤں کو ترک کرے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;35 جو شخص لوگوں کے بار ے میں جھٹ سے ایسی باتیں کہہ دیتا ہے جو انہیں ناگوار گزریں ,تو پھر وہ اس کے لیے ایسی باتیں کہتے ہیں کہ جنہیں وہ جانتے نہیں .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;36 جس نے طول طویل امیدیں باندھیں ,اس نے اپنے اعمال بگاڑ لیے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;37 امیرالمومنین علیہ السّلام سے شام کی جانب روانہ ہو تے وقت مقام انبار کے زمینداروں کا سامنا ہوا ,تو وہ آپ کو دیکھ کر پیادہ ہو گئے اور آپ کے سامنے دوڑنے لگے .آپ نے فرمایا یہ تم نے کیا کیا ؟انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا عام طریقہ ہے .جس سے ہم اپنے حکمرانوں کی تعظیم بجالا تے ہیں .آپ نے فرمایا .خدا کی قسم اس سے تمہارے حکمرانوں کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتا البتہ تم اس دنیا میں اپنے کو زحمت و مشقت میں ڈالتے ہو ,اور آخرت میں اس کی وجہ سے بدبختی مول لیتے ہو ,وہ مشقت کتنی گھاٹے والی ہے جس کا نتیجہ سزائے اخروی ہو , اور وہ راحت کتنی فائدہ مند ہے جس کا نتیجہ دوزخ سے امان ہو .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;38 اپنے فرزند حضرت حسن علیہ السلام سے فرمایا مجھ سے چار, اور پھر چار باتیں یاد رکھو .ان کے ہوتے ہوئے جو کچھ کرو گے ,وہ تمہیں ضرر نہ پہنچائے گا سب سے بڑی ثروت عقل و دانش ہے اور سب سے بڑی ناداری حماقت و بے عقلی ہے اور سب سے بڑی وحشت غرور خود بینی ہے اور سب سے بڑا جوہر ذاتی حسن اخلاق ہے .&lt;br /&gt;اے فرزند !بیوقوف سے دوستی نہ کرنا کیونکہ وہ تمہیں فائدہ پہنچانا چاہے گا ,تو نقصان پہنچائے گا .اور بخیل سے دوستی نہ کرنا کیونکہ جب تمہیں اس کی مدد کی انتہائی احتیاج ہوگی ,وہ تم سے دور بھاگے گا .اور بدکردار سے دوستی نہ کرنا ,وہ تمہیں کوڑیوں کے مول بیچ ڈالے گا اور جھوٹے سے دوستی نہ کرنا کیونکہ وہ سراب کے مانند تمہارے لیے دور کی چیزوں کو قریب اور قریب کی چیزوں کو دور کر کے دکھائے گا .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;39 مستحبات سے قرب الہی نہیں حاصل ہوسکتا ,جب کہ وہ واجبات میں سدراہ ہوں .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;40 عقل مند کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہے اور بے قوف کا دل اس کی زبان کے پیچھے ہے .&lt;br /&gt;سید رضی کہتے ہیں کہ یہ جملہ عجیب و پاکیزہ معنی کا حال ہے.مقصد یہ ہے کہ عقلمند اس وقت زبان کھولتا ہے جب دل میں سوچ بچار اور غور و فکر سے نتیجہ اخذ کر لیتا ہے .لیکن بے وقو ف بے سوچے سمجھے جو منہ میں آتا ہے کہہ گذرتا ہے .اس طرح گویا عقلمند کی زبان اس کے تابع ہے اور بے وقوف کا دل اس کی زبان کے تابع ہے .&lt;br /&gt;41 یہی مطلب دوسرے لفظوں میں بھی حضرت سے مروی ہے اور وہ یہ کہ »بے وقوف کا دل اس کے منہ میں ہے اور عقلمند کی زبان اس کے دل میں ہے «.بہر حال ان دونوں جملوں کا مقصد ایک ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;42 اپنے ایک ساتھی سے اس کی بیماری کی حالت میں فرمایا .اللہ نے تمہارے مرض کو تمہارے گناہوں کو دور کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے .کیونکہ خود مرض کا کوئی ثواب نہیں ہے .مگر وہ گناہوں کو مٹاتا ,اور انہیں اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت سے پتے جھڑتے ہیں. ہاں ! ثواب اس میں ہوتا ہے کہ کچھ زبان سے کہا جائے اور کچھ ہاتھ پیروں سے کیا جائے ,اورخدا وند عالم اپنے بندوں میں سے نیک نیتی اور پاکدامنی کی وجہ سے جسے چاہتا ہے جنت میں داخل کرتا ہے .&lt;br /&gt;سیدرضی فرماتے ہیں کہ حضرت نے سچ فرمایا کہ مرض کا کوئی ثواب نہیں ہے کیونکہ مرض تو اس قسم کی چیزوں میں سے ہے جن میں عوض کا استحقاق ہوتا ہے .اس لیے کہ عوض اللہ کی طرف سے بندے کے ساتھ جو امر عمل میں آئے .جیسے دکھ ,درد ,بیماری وغیر ہ . اس کے مقابلہ میں اسے ملتا ہے .اور اجر و ثواب وہ ہے کہ کسی عمل پر اسے کچھ حاصل ہو .لہٰذا عوض اور ہے ,اور اجر اور ہے اس فرق کو امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے علم روشن اور رائے صائب کے مطابق بیان فرما دیا ہے .&lt;br /&gt;43 جناب ابن ارت کے بارے میں فرمایا .خدا خباب ابن ارت پر رحمت اپنی شامل حال فرمائے وہ اپنی رضا مند ی سے اسلام لائے اور بخوشی ہجرت کی اور ضرور ت بھر قناعت کی اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہے اور مجاہد انہ شان سے زندگی بسر کی .&lt;br /&gt;حضرت خباب ابن ارت پیغمبر کے جلیل القدر صحابی اور مہاجرین اولین میں سے تھے .انہوں نے قریش کے ہاتھوں طرح طرح کی مصیبتیں اٹھائیں .چلچلاتی دھوپ میں کھڑے کئے گئے آگ پر لٹائے گئے .مگر کسی طرح پیغمبر اکرم کا دامن چھوڑنا گوارا نہ کیا .بدر اور دوسرے معرکوں میں رسالت مآب کے ہمرکاب رہے .صفین و نہروان میں امیرالمومنین علیہ السّلام کا ساتھ دیا.مدینہ چھوڑ کر کو فہ میں سکو نت اختیار کر لی تھی .چنانچہ یہیں پر 73 برس کی عمر میں 39 ہجری میں انتقال فرمایا .نماز جنازہ امیرالمومنین علیہ السّلام نے پڑھائی اور بیرون کوفہ دفن ہوئے اور حضرت نے یہ کلمات ترحم ان کی قبر پر کھڑے ہو کر فرمائے .&lt;br /&gt;44 خوشا نصیب اس کے جس نے آخرت کو یاد رکھا ,حساب و کتاب کے لیے عمل کیا .ضرورت بھر قناعت کی اور اللہ سے راضی و خوشنود رہا .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;45 اگر میں مومن کی ناک پر تلواریں لگاؤں کہ وہ مجھے دشمن رکھے ,تو جب بھی وہ مجھ سے دشمنی نہ کرے گا .اور اگر تمام متاعِ دنیا کافر کے آگے ڈھیر کر دوں کہ وہ مجھے دوست رکھے تو بھی وہ مجھے دوست نہ رکھے گا اس لیے کہ یہ وہ فیصلہ ہے جو پیغمبر امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے ہو گیا ہے کہ آپ نے فرمایا :&lt;br /&gt;اے علی علیہ السّلام ! کوئی مومن تم سے دشمنی نہ رکھے گا اور کوئی منافق تم سے محبت نہ کرے گا.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;46 وہ گناہ جس کا تمہیں رنج ہو اللہ کے نزدیک اس نیکی سے کہیں اچھا ہے جو تمہیں خود پسند بنا دے.&lt;br /&gt;جو شخص ارتکاب گناہ کے بعد ندامت و پشیمانی محسوس کرے اور اللہ کی بارگاہ میں توبہ کر ے وہ گناہ کی عقوبت سے محفوظ اور توبہ کے ثواب کا مستحق ہوتا ہے اور جو نیک عمل بجا لانے کے بعد دوسروں کے مقابلہ میں برتری محسوس کرتا ہے اور اپنی نیکی پر گھمنڈ کرتے ہوئے یہ سمجھتا ہے کہ اب اس کے لیے کوئی کھٹکا نہیں رہا وہ اپنی نیکی کو برباد کردیتا ہے اور حسن عمل کے ثواب سے محروم رہتا ہے .ظاہر ہے کہ جو توبہ سے معصیت کے داغ کو صاف کر چکا ہو وہ اس سے بہتر ہوگا جو اپنے غرور کی وجہ سے اپنے کئے کرائے کو ضائع کرچکا ہو اور توبہ کے ثواب سے بھی اس کا دامن خالی ہو .&lt;br /&gt;47 انسان کی جتنی ہمت ہو اتنی ہی اس کی قدر و قیمت ہے اور جتنی مروت اور جوانمردی ہوگی اتنی ہی راست گوئی ہو گی ,اور جتنی حمیت و خودداری ہو گی اتنی ہی شجاعت ہو گی اور جتنی غیرت ہوگی اتنی ہی پاک دامنی ہو گی .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;48 کامیابی دور اندیشی سے وابستہ ہے اور دور اندیشی فکر و تدبر کو کام میں لانے سے اور تدبر بھیدوں کو چھپاکر رکھنے سے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;49 بھوکے شریف اور پیٹ بھرے کمینے کے حملہ سے ڈرتے رہو .&lt;br /&gt;مطلب یہ ہے کہ باعزت و باوقار آدمی کبھی ذلت و توہین گوارا نہیں کرتا .اگر اس کی عزت و وقار پر حملہ ہوگا تو وہ بھو کے شیر کی طرح جھپٹے گا اور ذلت کی زنجیروں کو توڑ کر رکھ دے گا اور اگر ذلیل و کم ظرف کو اس کی حیثیت سے بڑھا دیا جائے گا تو اس کا ظرف چھلک اٹھے گا اور وہ اپنے کو بلند مرتبہ خیال کرتے ہوئے دوسروں کے وقار پر حملہ آور ہو گا .&lt;br /&gt;50 لوگوں کے دل صحرائی جانور ہیں ,جو کہ ان کو سدھائے گا ,اس کی طرف جھکیں گے .&lt;br /&gt;اس قول سے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے کہ انسانی قلوب اصل فطرت کے لحاظ سے وحشت پسند واقع ہوئے ہیں اور ان میں انس و محبت کا جذبہ ایک اکتسابی جذبہ ہے .چنانچہ جب انس و محبت کے دواعی اسباب پیدا ہوتے ہیں تو وہ مانوس ہو جاتے ہیں اور جب اس کے دواعی ختم ہوجاتے ہیں یا اس کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو وحشت کی طرف عود کر جاتے ہیں اور پھر بڑ ی مشکل سے محبت کی راہ پر گامز ن ہوتے ہیں .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مرنجا ں و لے راکہ ایں مرغ وحشی زبامے کہ برخوست مشکل نشنید&lt;br /&gt;51 جب تک تمہارے نصیب یاور ہیں تمہارے عیب ڈھکے ہوئے ہیں.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;52 معاف کر نا سب سے زیادہ اسے زیب دیتا ہے جو سزادینے پر قادر ہو.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;53 سخاوت وہ ہے جو بن مانگے ہو ,اور مانگے سے دینا یا شرم ہے یا بدگوئی سے بچنا .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;54 عقل سے بڑھ کر کوئی ثروت نہیں اور جہالت سے بڑھ کر کوئی بے مائیگی نہیں .ادب سے بڑھ کر کوئی میراث نہیں اور مشورہ سے زیادہ کوئی چیز معین و مددگار نہیں .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;55 صبر دو طرح کا ہوتاہے ایک ناگوار باتوں پر صبر اور دوسرے پسندیدہ چیزوں سے صبر.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;56 دولت ہو تو پردیس میں بھی دیس ہے اور مفلسی ہو تو دیس میں بھی پردیس&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;57 قناعت وہ سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہو سکتا.&lt;br /&gt;»علامہ رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی مروی ہے «.&lt;br /&gt;قناعت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو جو میسر ہو اس پر خوش و خرم رہے اور کم ملنے پر کبیدہ خاطر و شاکی نہ ہو اور اگر تھوڑے پر مطمئن نہیں ہو گا تو رشوت ,خیانت اور مکر و فریب ایسے محرمات اخلاقی کے ذریعہ اپنے دامن حرص کو بھر نے کی کوشش کرے گا .کیونکہ حرص کا تقاضا ہی یہ ہے جس طرح بن پڑے خواہشات کو پورا کیا جائے اور ان خواہشات کا سلسلہ کہیں پر رکنے نہیں پاتا ,کیونکہ ایک خواہش کا پورا ہونا دوسری خواہش کی تمہید بن جایا کرتا ہے اور جوں جوں انسان کی خواہش کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے اس کی احتیاج بڑھتی ہی جاتی ہے .اس لیے کبھی محتاجی و بے اطمینانی سے نجات حاصل نہیں کر سکتا اگر اس بڑھتی ہوئی خواہش کو روکا جاسکتا ہے تو وہ صرف قناعت سے کہ جو ناگزیر ضرورتوں کے علاوہ ہر ضرورت سے مستغنی بنا دیتی ہے اور لازوال سرمایہ ہے جو ہمیشہ کے لیے فارغ البال کردیتا ہے .&lt;br /&gt;58 مال نفسانی خواہشوں کا سر چشمہ ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;59 جو (برائیوں سے )خوف دلائے وہ تمہارے لیے مژدہ سنانے والے کے مانند ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;60 زبان ایک ایسا درندہ ہے کہ اگر اسے کھلا چھوڑ دیا جائے تو پھاڑ کھائے .&lt;br /&gt;   &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-3814108362345433976?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/3814108362345433976/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=3814108362345433976' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/3814108362345433976'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/3814108362345433976'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_7074.html' title='اقوال ۳۱ تا ۶۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-3734534286263371660</id><published>2010-08-27T10:12:00.000-07:00</published><updated>2010-08-27T10:14:36.185-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مصنف:           علامہ شریف رضی علیہ رحمہ'/><title type='text'>اقوال ۱ تا ۳۰</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;اقوال ۱ تا ۳۰&lt;br /&gt;اس باب میں سوالات کے جوابات اور چھوٹے چھوٹے حکیمانہ جملوں کا انتخاب درج ہے جو مختلف اغراض و مقاصد کے سلسلہ میں بیان کئے گئے ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;1 فتنہ و فساد میں اس طرح رہو جس طرح اونٹ کا وہ بچہ جس نے ابھی اپنی عمر کے دو سال ختم کئے ہوں کہ نہ تو اس کی پیٹھ پر سواری کی جاسکتی ہے اور نہ اس کے تھنوں سے دودھ دوہا جاسکتا ہے&lt;br /&gt;لبون دودھ دینے والی اونٹنی کو اورابن اللبون اس کے دو سالہ بچے کو کہتے ہیں اور وہ اس عمر میں نہ سوار ی کے قابل ہوتا ہے ,اور نہ اس کے تھن ہی ہوتے ہیں کہ ان سے دودھ دوہا جاسکے .اسے ابن اللبون اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس دو سال کے عرصہ میں اس کی ماں عموماً دوسرا بچہ دے کر دودھ دینے لگتی ہے .&lt;br /&gt;مقصد یہ ہے کہ انسان کو فتنہ و فساد کے موقع پر اس طرح رہنا چاہیے کہ لوگ اسے ناکارہ سمجھ کر نظر انداز کردیں اور کسی جماعت میں اس کی شرکت کی ضرورت محسوس نہ ہو .کیونکہ فتنوں اور ہنگاموں میں الگ تھلگ رہنا ہی تباہ کاریوں سے بچا سکتا ہے .البتہ جہاں حق و باطل کا ٹکراؤ ہو وہاں پر غیر جانبداری جائز نہیں اور نہ اسے فتنہ و فساد سے تعبیر کیاہے .بلکہ ایسے موقع پر حق کی حمایت اور باطل کی سرکوبی کے لیے کھڑا ہونا واجب ہے .جیسے جمل و صفین کی جنگوں میں حق کا ساتھ دینا ضروری اور باطل سے نبرد آزما ہو نا لازم تھا .&lt;br /&gt;2 جس نے طمع کو اپنا شعار بنایا ,اس نے اپنے کو سبک کیا اور جس نے اپنی پریشان حالی کا اظہار کیا وہ ذلت پر آمادہ ہوگیا ,اور جس نے اپنی زبان کو قابو میں نہ رکھا ,اس نے خود اپنی بے وقعتی کا سامان کر لیا .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;3 بخل ننگ و عار ہے اور بزدلی نقص و عیب ہے اورغربت مرد زیرک و دانا کی زبان کو دلائل کی قوت دکھانے سے عاجز بنا دیتی ہے اور مفلس اپنے شہرمیں رہ کر بھی غریب الوطن ہوتا ہے اور عجز ودرماندگی مصیبت ہے اور صبر شکیبائی شجاعت ہے اور دنیا سے بے تعلقی بڑی دولت ہے اور پرہیز گاری ایک بڑی سپر ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;4 تسلیم و رضا بہترین مصاحب اور علم شریف ترین میراث ہے اور علمی و عملی اوصاف خلعت ہیں اور فکر صاف شفاف آئینہ ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;5 عقلمند کا سینہ اس کے بھیدوں کا مخزن ہوتا ہے اور کشادہ روئی محبت و دوستی کا پھندا ہے اور تحمل و برد باری عیبوں کا مدفن ہے . (یا اس فقرہ کے بجائے حضرت نے یہ فرمایا کہ )صلح صفائی عیبوں کو ڈھانپنے کا ذریعہ ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;6 جو شخص اپنے کو بہت پسند کرتا ہے وہ دوسروں کو ناپسند ہوجاتا ہے اور صدقہ کامیاب دوا ہے ,اور دنیا میں بندوں کے جو اعمال ہیں وہ آخرت میں ان کی آنکھوں کے سامنے ہوں گے&lt;br /&gt;یہ ارشاد تین جملوں پر مشتمل ہے ;پہلے جملہ میں خود پسندی سے پیدا ہونے والے نتائج و اثرات کا ذکر کیا ہے کہ اس سے دوسروں کے دلوں میں نفرت و حقارت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے .چنانچہ جو شخص اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے لے بات بات میں اپنی بر تر ی کا مظاہر ہ کرتا ہے وہ کبھی عزت و احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتااور لو گ اس کی تفو ق پسندانہ ذہنیت کو دیکھتے ہوئے اس سے نفر ت کرنے لگتے ہیں اور اسے اتنا بھی سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے جتنا کچھ وہ ہے چہ جائیکہ جو کچھ وہ اپنے آپ کو سمجھتا ہے وہی کچھ اسے سمجھ لیں .&lt;br /&gt;دوسرا جملہ صدقہ کے متعلق ہے اور اسے ایک »کامیاب دوا« سے تعبیر کیا ہے کیونکہ جب انسان صدقہ وخیرات سے محتاجوں اور ناداروں کی مدد کرتا ہے تو وہ د ل کی گہرایوں سے ا س کے لیے دعائے صحت و عافیت کرتے ہیں جو قبولیت حاصل کرکے اس کی شفایابی کا باعث ہوتی ہے .چنانچہ پیغمبر اکر م کا ارشاد ہے کہ راو و امرضا کم بالصدقہ .اپنے بیماروں کا علا ج صدقہ سے کرو .&lt;br /&gt;تیسرا جملہ حشر میں اعمال کے بے نقا ب ہو نے کے متعلق ہے کہ انسان ا س دنیا میں جو اچھے اور برے کام کرتا ہے وہ حجاب عنصری کے حائل ہونے کی وجہ سے ظاہر ی حواس سے ادراک نہیں ہوسکتے .مگر آخرت میں جب مادیت کے پردے اٹھادیئے جائیں گے تو وہ اس طرح آنکھوں کے سامنے عیاں ہوجائیں گے کہ کسی کے لیے گنجائش انکار نہ رہے گی .چنانچہ ارشاد الہی ہے .&lt;br /&gt;ا س دن لوگ گروہ گروہ (قبروں سے )اٹھ کھڑے ہو ں گے تاکہ وہ اپنے اعمال کو دیکھیں توجس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا او ر جس نے ذرہ بھر بھی برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا .&lt;br /&gt;7 یہ انسان تعجب کے قابل ہے کہ وہ چربی سے دیکھتا ہے اور گوشت کے لوتھڑے سے بولتا ہے اور ہڈی سے سنتا ہے اور ایک سوراخ سے سانس لیتا ہے.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;8 جب دنیا (اپنی نعمتوں کو لے کر)کسی کی طرف بڑھتی ہے تو دوسروں کی خوبیاں بھی اسے عاریت دے دیتی ہے .اور جب اس سے رخ موڑ لیتی ,تو خود اس کی خوبیاں بھی اس سے چھین لیتی ہے .&lt;br /&gt;مقصد یہ ہے کہ جس کابخت یاور اور دنیا اس سے ساز گار ہوتی ہے اور اہل دنیا اس کی کارگزاریوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں اور دوسروں کے کارناموں کا سہرا بھی اس کے سر باندھ دیتے ہیں اور جس کے ہاتھ سے دنیا جاتی رہتی ہے اور نحوست کی گھٹا اس پر چھا جاتی ہے اس کی خوبیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں اور بھولے سے بھی اس کا نام زبان پر لانا گوار انہیں کرتے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دوستند آنکہ راز مانہ نواحت دشمنند آنکہ رازمانہ فگند&lt;br /&gt;9 لوگوں سے اس طریقہ سے ملو کہ اگر مرجاؤ تو تم پر روئیں اور زند ہ رہو تو تمہارے مشتاق ہوں .&lt;br /&gt;جو شخص لوگوں کے ساتھ نرمی اور اخلاق کا برتاؤ کرتا ہے .لوگ اس کی طرف دست تعاون بڑھاتے ا س کی عزت و توقیر کرتے اور اس کے مرنے کے بعد اس کی یاد میں آنسو بہاتے ہیں۔ لہٰذ ا انسان کو چاہیے کہ وہ اس طرح مرنجاں مرنج زندگی گزارے کہ کسی کو اس سے شکایت نہ پیدا ہو اور نہ اس سے کسی کو گزند پہنچے تاکہ اسے زندگی میں دوسروں کی ہمدردی حاصل ہو ,اور مرنے کے بعد بھی اسے اچھے لفظو ں میں یاد کیا جائے .&lt;br /&gt;چناں بانیک و بد سرکن کہ بعد از مرونت عرفی مسلمانت بز مزم شویدو کافر بسو زاند&lt;br /&gt;10 دشمن پر قابو پاؤ تو اس قابو پانے کا شکرانہ اس کو معاف کر دینا قرار دو .&lt;br /&gt;عفو و درگزر کا محل وہی ہوتا ہے جہاں انتقام پر قدرت ہو ,اور جہاں قدرت ہی نہ ہو وہاں انتقام سے ہاتھ اٹھا لینا ہی مجبوری کا نتیجہ ہوتا جس پر کوئی فضیلت مرتب نہیں ہوتی .البتہ قدرت و اقتدارکے ہوتے ہوئے عفو درگذر سے کام لینا فضیلت انسانی کا جوہر اور اللہ کی اس بخشی ہوئی نعمت کے مقابلہ میں اظہار شکر ہے .کیونکہ شکر کا جذبہ اس کا مقتضی ہو تا ہے کہ انسان اللہ کے سامنے تذلل و انکسارسے جھکے جس سے اس کے دل میں رحم و رافت کے لطیف جذبات پیدا ہوں گے اور غیظ وغضب کے بھڑکتے ہوئے شعلے ٹھنڈے پڑجائیں گے جس کے بعد انتقام کا کوئی داعی ہی نہ رہے گا کہ وہ اس قوت و قدرت کو ٹھیک ٹھیک کام میں لانے کی بجائے اپنے غضب کے فرو کر نے کا ذریعہ قرار دے&lt;br /&gt;11 لوگوں میں بہت درماندہ وہ ہے جو اپنی عمر میں کچھ بھلائی اپنے لیے نہ حاصل کرسکے ,اور اس سے بھی زیادہ درماندہ وہ ہے جو پاکر اسے کھو دے .&lt;br /&gt;خوش اخلاقی و خندہ پیشانی سے دوسر وں کو اپنی طرف جذب کرنا اور شیریں کلامی سے غیروں کو اپنانا کوئی دشوار چیز نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے نہ جسمانی مشقت کی ضرورت اور نہ دماغی کد و کاوش کی حاجت ہوتی ہے اور دوست بنانے کے بعد دوستی اور تعلقات کی خوشگواری کو باقی رکھنا تو اس سے بھی زیادہ آسان ہے کیونکہ دوستی پیدا کرنے کے لیے پھر بھی کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے مگر اسے باقی رکھنے کے لیے تو کوئی مہم سرکرنا نہیں پڑتی .لہٰذا جو شخص ایسی چیز کی بھی نگہداشت نہ کر سکے جسے صر ف پیشانی کی سلو ٹیں دور کر کے باقی رکھا جاسکتا ہے اس سے زیادہ عاجز و درماندہ کون ہوسکتا ہے .&lt;br /&gt;مقصد یہ ہے کہ انسان کو ہر ایک سے خو ش خلقی و خندہ روئی سے پیش آنا چاہیے تاکہ لوگوں اس سے وابستگی چاہیں اور اس کی دوستی کی طرف ہاتھ بڑھائیں .&lt;br /&gt;12 جب تمہیں تھوڑی بہت نعمتیں حاصل ہوں تو ناشکری سے انہیں اپنے تک پہنچنے سے پہلے بھگا نہ دو .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;13جسے قریبی چھوڑ دیں اسے بیگانے مل جائیں گے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;14 ہر فتنہ میں پڑ جانے والا قابل عتاب نہیں ہوتا .&lt;br /&gt;جب سعد ابن ابی وقا ص ,محمد ابن مسلمہ اور عبداللہ ابن عمر نے اصحاب جمل کے مقابلہ میں آپ کا ساتھ دینے سے انکا ر کیا تو اس موقع پر یہ جملہ فرمایا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ مجھ سے ایسے منحرف ہوچکے ہیں کہ ان پر نہ میری بات کا کچھ اثر ہوتا ہے اور نہ ان پرمیری عتاب و سرزنش کار گر ثابت ہوتی ہے&lt;br /&gt;15سب معا ملے تقدیر کے آگے سر نگوں ہیں یہاں تک کہ کبھی تدبیر کے نتیجہ میں موت ہوجاتی ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;16پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے متعلق کہ بڑھاپے کو (خضاب کے ذریعہ)بدل دو .اور یہود سے مشابہت اختیار نہ کرو .آپ علیہ السّلام سے سوال کیاگیا ,تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ اس موقع کے لیے فرمایا تھا .جب کہ دین (والے) کم تھے اور اب جب کہ اس کا دامن پھیل چکا ہے اور سینہ ٹیک کر جم چکا ہے تو ہر شخص کو اختیار ہے .&lt;br /&gt;مقصد یہ ہے کہ چونکہ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اس لیے ضرورت تھی کہ مسلمانوں کی جماعتی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں یہودیوں سے ممتاز رکھا جائے .اس لیے آنحضرت سے خضاب کا حکم دیا کہ جو یہودیوں کے ہاں مرسوم نہیں ہے .اس کے علاوہ یہ مقصد بھی تھا کہ وہ دشمن کے مقابلہ میں ضعیف و سن رسیدہ دکھائی نہ دیں .&lt;br /&gt;17 ان لوگوں کے بارے میں کہ جو آپ کے ہمراہ ہوکر لڑنے سے کنارہ کش رہے .فرمایا ان لوگوں نے حق کو چھوڑدیا اور باطل کی بھی نصرت نہیں کی .&lt;br /&gt;یہ ارشاد ان لوگوں کے متعلق ہے جو اپنے کو غیر جانبدار ظاہر کرتے تھے .جیسے عبداللہ ابن عمر ,سعد ابن ابی وقاص ,ابو موسیٰ اشعری ,احنف ابن قیس اور انس ابن مالک وغیرہ.بیشک ان لوگوں نے کھل کر باطل کی حمایت نہیں کی .مگر حق کی نصر ت سے ہاتھ اٹھا لینا بھی ایک طرح سے باطل کو تقویت پہنچانا ہے.اس لیے ان کا شمار مخالفین حق کے گروہ ہی میں ہو گا .&lt;br /&gt;18جو شخص امید کی راہ میں میں بگ ٹُٹ دوڑتا ہے وہ موت سے ٹھوکر کھاتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;19بامروت لوگو ں کی لغزشوں سے درگزر کرو .(کیونکہ )ان میں سے جو بھی لغزش کھا کر گرتا ہے تو اللہ اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اسے اوپر اٹھالیتا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;20 خوف کا نتیجہ ناکامی اور شرم کانتیجہ محرومی ہے اور فرصت کی گھڑیاں (تیزرو) ابر کی طرح گزر جاتی ہیں .لہٰذا بھلائی کے ملے ہوئے موقعوں کو غنیمت جانو.&lt;br /&gt;عوام میں ایک چیز خواہ کتنی ہی معیوب خیال کی جائے اور تحقیر آمیز نظر وں سے دیکھی جائے اگر اس میں کوئی واقعی عیب نہیں ہے تو اس سے شرمانا سراسر نادانی ہے کیونکہ اس کیوجہ سے اکثر ان چیز وں سے محروم ہونا پڑتا ہے جو دنیا وآخرت کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا باعث ہوتی ہیں .جیسے کوئی شخص اس خیال سے کہ لو گ اسے جاہل تصور کریں گے کسی اہم اور ضرور ی بات کے دریافت کرنے میں عار محسوس کرے تو یہ بے موقع و بے محل خودداری اس کے لیے علم ودانش سے محرومی کا سبب بن جائے گی ,اس لیے کوئی ہوشمند انسان سیکھنے اور دریافت کرنے میں عار نہیں محسوس کرے گا .چنانچہ ایک سن رسیدہ شخص سے کہ جو بڑھاپے کے باوجود تحصیل علم کرتا تھا کہا گیا کہ ما تستحیٌ ان تتعلم علی الکبر«تمہیں بڑھاپے میں پڑھتے ہوئے شرم نہیں آتی .اس نے جواب میں کہا کہ» انالا استحی من الجھل علی الکبر فکیف استحی من التعلم علی الکبر «جب مجھے بڑھاپے میں جہالت سے شرم نہیں آئی تو اس بڑھاپے میں پڑھنے سے شرم کیسے آسکتی ہے .البتہ جن چیزوں میں واقعی برائی مفسد ہو ان کے ارتکاب سے شرم محسوس کرنا انسانیت اور شرافت کا جوہر ہے جیسے وہ اعمال ناشائستہ کہ جو شروع وعقل اور مذہب و اخلاق کی رو سے مذموم ہیں .بہر حال حیاء کی پہلی قسم قبیح اور دوسر ی قسم حسن ہے .چنانچہ پیغمبر اکرم کا ارشاد ہے .&lt;br /&gt;حیا کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو بتقاضائے عقل ہوتی ہے .یہ حیا علم و دانائی ہے .اور ایک وہ جو حماقت کے نتیجہ میں ہوتی ہے . یہ سراسر جہل و نادانی ہے .&lt;br /&gt;21 ہمارا ایک حق ہے اگر وہ ہمیں دیا گیا تو ہم لے لیں گے .ورنہ ہم اونٹ کے پیچھے والے پٹھوں پر سوار ہوں گے .اگرچہ شب روی طویل ہو .&lt;br /&gt;سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ بہت عمدہ اور فصیح کلام ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں ہمارا حق نہ دیاگیا ,تو ہم ذلیل و خوار سمجھے جائیں گے اورمطلب اس طرح نکلتا ہے کہ اونٹ کے پیچھے کے حصہ پر ردیف بن کر غلام اور قیدی یا ا س قسم کے لوگ ہی سوار ہوا کرتے تھے&lt;br /&gt;سید رضی علیہ الرحمتہ کے تحریر کرو معنی کا ماحصل یہ ہے کہ حضر ت فرمانا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے حق کا کہ جوامام مفترض الطاعتہ ہونے کی حیثیت سے دوسروں پر واجب ہے اقرار کرلیا گیا اور ہمیں ظاہری خلافت کا موقع دیاگیا تو بہتر ورنہ ہمیں ہر طرح کی مشقتوں اور خواریوں کو برداشت کرنا پڑے گا ,اور ہم اس تحقیر و تذلیل کی حالت میں زندگی کا ایک طویل عرصہ گزارنے پر مجبور ہوں گے.&lt;br /&gt;بعض شارخین نے اس معنی کے علاوہ اور معنی بھی تحریر کئے ہیں .اور وہ یہ کہ اگر ہمیں ہمارے مرتبہ سے گرا کر اونٹ کے پٹھے پر سوار ہوتا ہے وہ آگے ہوتا ہے اوربعض نے یہ معنی کہے ہیں کہ اگر ہمار ا حق دے دیا گیا تو ہم اسے لے لیں گے ,اور اگرنہ دیا گیا,تو اس سوار کی مانند نہ ہوں گے جو اپنی سواری کی باگ دوسرے کے ہاتھ میں دے دیتا ہے .کہ وہ جدھر اسے لے جانا چاہے لے جائے .بلکہ اپنے مطالبہ حق پر برقرار رہیں گے خواہ مدت دراز کیوں نہ گزر جائے اور کبھی اپنے حق سے دستبردار ہوکر غضب کرنے والوں کے سامنے سر تسلیم خم نہ کریں گے .&lt;br /&gt;22 جسے اس کے اعمال پیچھے ہٹا دیں اسے حسب و نسب آگے نہیں بڑھا سکتا .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;23 کسی مضطرب کی داد فریاد سننا ,اور مصیبت زدہ کو مصیبت سے چھٹکارا دلا نا بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;24 اے آدم علیہ السّلام کے بیٹے جب تو دیکھے کہ اللہ تجھے پے درپے نعمتیں دے رہا ہے اور تو اس کی نافرمانی کررہا ہے تو اس سے ڈرتے رہنا .&lt;br /&gt;جب کسی کو گناہوں کے باوجود پے درپے نعمتیں حاصل ہورہی ہوں ,تو وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ اللہ اس سے خوش ہے اور یہ اس کی خوشنودی و نظر کرم کا نتیجہ ہے .حالانکہ نعمتوں میں زیادتی شکر گزاری کی صورت میں ہوتی ہے .اور ناشکری کے نتیجہ میں نعمتوں کا سلسلہ قطع ہوجاتا ہے .جیسا کہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے .&lt;br /&gt;اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہیں اور زیادہ نعمتیں دوں گا او ر اگر ناشکر ی کی تو پھر یاد رکھو کہ میرا عذاب سخت عذاب ہے .&lt;br /&gt;لہٰذا عصیان و ناسپاسی کی صورت میں برابر نعمتو ں کاملنا اللہ کی خوشنود ی و رضا مند ی کا ثمرہ نہیں ہوسکتا اورنہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس صورت میں اسے نعمتیں دے کر شبہہ میں ڈال دیا ہے کہ وہ نعمتوں کی فراوانی کو اس کی خوشنودی کا ثمرہ سمجھے .کیونکہ جب وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ خطا کار عاصی ہے اور گناہ کو گناہ اور برائی کو برائی سمجھ کر اس کا مرتکب ہو رہا ہے ,تو اشتباہ کی کیا وجہ کہ وہ اللہ کی خوشنودی و رضامندی کا تصور کرے بلکہ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک طرح کی آزمائش اور مہلت ہے تاکہ جب اس کی طغیانی و سر کشی انتہا کو پہنچ جائے تو اسے دفعتاً گرفت میں لے لیا جائے .لہٰذا ایسی صورت میں اسے منتظر رہنا چاہیے کہ کب اس پر غضب الہی کا ورود ہو اور یہ نعمتیں اس سے چھین لی جائیں .اور محرومی و نامرادی کی عقوبتوں میں اسے جکڑ لیا جائے .&lt;br /&gt;25جس کسی نے بھی کوئی بات دل میں چھپا کہ رکھنا چاہی وہ اس کی زبان سے بے ساختہ نکلے ہوئے الفاظ اور چہرہ کے آثار سے نمایاں ضرور ہو جاتی ہے .&lt;br /&gt;انسان جن باتوں کو دوسروں سے چھپانا چاہتا ہے ,وہ کسی نہ کسی وقت زبان سے نکل ہی جاتی ہےں اور چھپانے کی کو شش ناکام ہو کر رہ جاتی ہے .وجہ یہ ہے کہ عقل مصلحت اندیش اگرچہ انہیں پوشیدہ رکھنا چاہتی ہے .مگر کبھی کسی اور اہم معاملہ میں الجھ کر ادھر سے غافل ہو جاتی ہے اور وہ بے اختیار لفظوں کی صورت میں زبان سے نکل جاتی ہیں اور جب عقل ملتفت ہوتی ہے تو تیر از کمان جستہ واپس پلٹایا نہیں جاسکتا اور اگر یہ صورت نہ بھی پیش آئے اور عقل پورے طور سے متنبہ و ہوشیار رہے,تب بھی وہ پوشیدہ نہیں رہ سکتیں .کیونکہ چہرے کے خط وخال ذہنی تصورات کے غماز اور قلبی کیفیات کے آئینہ دار ہوتے ہیں .چنانچہ چہرے کی سرخی سے شرمندگی کا اور زردی سے خوف کا بخوبی پتہ چل سکتا ہے .&lt;br /&gt;26 مرض میں جب تک ہمت ساتھ دے چلتے پھرتے رہو .&lt;br /&gt;مقصد یہ ہے کہ جب تک مرض شدت اختیار نہ کر ے اسے اہمیت نہ دینا چاہیے کیونکہ اہمیت دینے سے طبیعت احساس مرض سے متاثر ہوکر اس کے اضافہ کا باعث ہوجایاکر تی ہے .اس لیے چلتے پھرتے رہنا اور اپنے کو صحت مند تصور کرنا تحلیل مرض کے علاوہ طبیعت کی قوت مدافعت کو مضحمل ہونے نہیں دیتا اور اس کی قوت کو معنوی کو برقرار رکھتا ہے اور قوت معنوی چھوٹے موٹے مرض کو خود ہی دبایا کرتی ہے بشرطیکہ مرض کے وہم میں مبتلا ہوکر اسے سپر انداختہ ہونے پر مجبور نہ کردیا جائے .&lt;br /&gt;27 بہترین زہد، زہد کا مخفی رکھنا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;28 جب تم (دنیا کو ) پیٹھ دکھا رہے ہو .اور موت تمہاری طرف رخ کئے ہوئے بڑھ رہی ہے تو پھر ملاقات میں دیر کیسی ؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;29 ڈرو !ڈرو !اس لیے کہ بخدا اس نے اس حد تک تمہاری پردہ پوشی کی ہے ,کہ گویا تمہیں بخش دیا ہے .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;30 حضرت علیہ السّلام سے ایمان کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا .ایمان چار ستونوں پر قائم ہے .صبر ,یقین ,عدل اور جہاد . پھرصبر کی چار شاخیں ہیں .اشتیاق ,خوف ,دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار .اس لیے کہ جو جنت کا مشتاق ہو گا ,وہ خواہشوں کو بھلا دے گا اور جو دوزخ سے خوف کھائے گا وہ محرمات سے کنارہ کشی کرے گا اور جو دنیا سے بے اعتنائی اختیار کر ے گا ,وہ مصیبتوں کو سہل سمجھے گا اور جسے موت کا انتظار ہو گا ,وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا .اور یقین کی بھی چار شاخیں ہیں .روشن نگاہی ,حقیقت رسی ,عبرت اندوزی اور اگلوں کا طور طریقہ .چنانچہ جو دانش و آگہی حاصل کرے گا اس کے سامنے علم و عمل کی راہیں واضح ہو جائیں گی .اور جس کے لیے علم وعمل آشکار ہو جائے گا ,وہ عبرت سے آشنا ہوگا وہ ایسا ہے جیسے وہ پہلے لوگوں میں موجود رہا ہو اور عدل کی بھی چار شاخیں ہیں ,تہوں تک پہنچنے والی فکر اور علمی گہرائی اور فیصلہ کی خوبی اور عقل کی پائیداری .چنانچہ جس نے غور و فکر کیا ,وہ علم کی گہرائیوں میں اترا ,وہ فیصلہ کے سر چشموں سے سیراب ہوکر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی .اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کر زندگی بسر کی اورجہاد کی بھی چار شاخیں ہیں .امر بالمعروف ,نہی عن المنکر ,تمام موقعوں پر راست گفتاری اور بدکرداروں سے نفرت .چنانچہ جس نے امر بالمعروف کیا ,اس نے مومنین کی پشت مضبوط کی ,اور جس نے نہی عن المنکر کیا اس نے کافروں کو ذلیل کیا اور جس نے تمام موقعوں پر سچ بولا ,اس نے اپنا فرض اداکردیا اور جس نے فاسقوں کو براسمجھا اور اللہ کے لیے غضبناک ہوا اللہ بھی اس کے لیے دوسروں پر غضبناک ہو گا اور قیامت کے دن اس کی خوشی کا سامان کرے گا.&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-3734534286263371660?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/3734534286263371660/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=3734534286263371660' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/3734534286263371660'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/3734534286263371660'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_27.html' title='اقوال ۱ تا ۳۰'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-4592192135810587819</id><published>2010-08-10T14:14:00.000-07:00</published><updated>2010-08-10T14:15:28.133-07:00</updated><title type='text'>نھج البلا غہ کتاب حق و حقیقت</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;&lt;br /&gt;اگرجس دن ھم نے نھج البلاغہ کا ادراک کر لیا اور تمام تعصبات و جانبداریوں سے مبرا ھوتے ھوئے اسکی کنہ حقیقت تک پھنچ گئے، اس دن ھم تمام سماجی، اخلاقی، معاشی اور فلسفیانہ مکاتب فکر سے بے نیاز ھوجائیں گے۔&lt;br /&gt; حقیقت تو یہ ھے کہ ان چند جملو ں کے ذریعہ نھج البلا غہ کی شناخت حاصل نھیں کی جا سکتی کیو نکہ اگر ارباب علم وفلسفہ ،  گذشتہ تا ریخی حقائق کے سلسلے میں نھج البلاغہ سے استفادہ کرلیں تب بھی ان کیلئے مستقبل تو مجھول ھی ھے جبکہ نھج البلاغہ فقط ماضی وحال ھی سے مربو ط نھیں ھے بلکہ یہ ایک ایسی کتاب ھے جو آئندہ سے بھی مر بوط ھے کیو نکہ نھج البلاغہ میں انسان و کا ئنات کے بارے میں جاودانہ طور پر مبسوط بحث کی گئی ھے۔ بشر وکا ئنات کے حوا لے سے جن اصول وقو انین کا تذکرہ کیا گیا ھے وہ کسی ایک زبان ومکان کو پیش نظر رکہ کرو ضع نھیں کئے گئے ھیں کہ کسی ایک محدود زمانے میں مقید ھو کر رہ جا ئیں ۔ زمانے تبدیل ھو تے رھتے ھیں اورھر زمانے کے افراد اپنے فھم وا دراک کے مطا بق اس آفاقی کتاب سے استفادہ وبھرہ بر داری کرتے رھتے ھیں ۔&lt;br /&gt;ایسی کونسی کتاب ھے جس میں نھج البلا غہ کی طرح حیات ور موز حیات کے متعلق اسقدر عمیق اور جامع بحث کی گئی ھو اور زندگی کے دونو ں پھلوؤ ں اور اسکی حقیقت کو با لتفصیل وا ضح کیا گیا ھو ؟&lt;br /&gt;آیا ممکن ھے کہ نھج البلا غہ کے علاوہ کسی اور کتاب میں مفھو م اوررموز موت وحیات تک دسترسی پیدا کی جا سکے ؟&lt;br /&gt;کیا ممکن ھے کہ بشر کے محدود ذھن کے ذریعہ سا ختہ شدہ ، ناقص مکاتب فکر سے اقتصادیات کے ان تمام نکات اور پھلوؤں کا استخراج کرلیا جا ئے جو نھج البلاغہ میں مو جو د ھیں ؟&lt;br /&gt; ھر اقتصادی مکتب فکر جھاں کچہ امتیازات و محاسن کا حا مل ھوتا ھے و ھیں اسمیں کچہ نقائص بھی پا ئے جا تے ھیں۔&lt;br /&gt;ایک مکتب فکر انسا ن کو اقتصادیات پر قربان کر دیتا ھے&lt;br /&gt; جبکہ دوسر ے مکتب کی نگا ہ میں انسان کیلئے معا شیات کی کوئی حیثیت نھیں ھے ،&lt;br /&gt;تیسرا مکتب ، بشر کو اس حدتک آزادی کا اختیار دے دیتا ھے کہ معاشرے کی تمام اھمیت وارزش ھی ختم ھو کر رہ جاتی ھے ،&lt;br /&gt; چو تھا مکتب آتا ھے اور اسکی ساری توجھات معاشرے پر مر کوزھو جاتی ھیں&lt;br /&gt;لیکن نھج البلاغہ نے اسلام کی معتدل روش کا اتباع کرتے ھوئے سماج کے ھر طبقے کے حقوق کی محا فظت کی ھے اس طرح کہ فرد ومعا شرہ،دونو ں کا یکسا ں خیال رکھا ھے یعنی فردی آزادی اور اختیار ات فقط اس حد تک قا بل قبو ل ھیں جھا ں تک سماجی زندگی میں خلل پیدا نہ ھو،ورنہ معا شرتی زندگی مذکورہ صورت میں بھر حال برتری کی حامل ھے یعنی سماجی زندگی ، فردی زندگی پر فو قیت رکھتی ھے ۔&lt;br /&gt;نھج البلاغہ نے زندگی کے معاشی شعبے میں اسلام کے اصول وقوا نین اس قدر واضح طور پر بیان کئے ھیںکہ خودبخو د ھر حقدار تک اسکا حق پھنچ جاتا ھے ۔سماجی نظام حیات کو اس طرح مرتب کیا ھے کہ معا شرے کے تمام افراد ایک انسانی بدن کے اعضاء کی مانند نظر آتے ھیں ۔ اگر پیر میں تکلیف ھو تی ھے تو آنکہ بھی اس درد کا احساس کرتی ھے لیکن جو کام آنکہ کر سکتی ھے، ایک پیر نھیں کر سکتا اور پیر سے ایسی تو قع رکھی بھی نھیں جا سکتی لھذا اسی وجہ سے معا شرہ کو فردی زندگی پر مقدم رکھا گیاھے ۔&lt;br /&gt;اسلامی نقطئہ نظر سے کسی شخصیت کا معیار فقط وفقط تقویٰ ھے ۔ اسلامی معا شرے میں وھی شخص مقام و مرتبہ کا حامل ھے جو اپنی ذمہ داریوں اور وظائف کو خاطر خواہ طور پر انجام دیتا ھے ۔&lt;br /&gt;اسی طرح نھج البلاغہ میں ذکر شدہ حکومت و سیاست سے متعلق امور و اصول معاشرے میں ممکنہ طور پر موجو د مسائل کا راہ حل بھی پیش کر تے ھیں ۔ نھج البلاغہ میں حضرت علی (ع) کے ذریعے ما لک اشترکے لئے صادر شدہ فر مان میں ھر اس قانون کامشاھدہ کیا جاسکتا ھے جوحکومت وعوام کے رابطے کے متعلق ایک انسانی ذھن وضع کر سکتا ھے خواہ یہ قانون کسی ایک ملک و مملکت سے متعلق ھو یا عالمی برادری کو مد نظر رکھتے ھو ئے بنا یا گیا ھو ۔ ساتھ ھی ساتھ حضرت علی (ع) کے اس فرمان کا خاصہ یہ بھی ھے کہ اس فرمان میں موجودہ نکات اور پھلوؤں تک ایک عام انسان کا ذھن پھنچ بھی نھیں سکتا ۔&lt;br /&gt;      نھج البلاغہ کا طرئہ امتیاز یہ ھے کہ اس نے مختلف النوع مضامین ومطالب کو اتنے جاذب اسلوب میں بیان کیا ھے کہ گویا یہ کتا ب ایک مسلسل مضمون پر مشتمل ھے۔ جھاں ماوراء الطبیعت مسائل کا تذکرہ کیاگیا ھے ،قطعاًً ایسا محسوس نھیں ھوتا کہ عقل وقلب ان مسائل کے ادراک میں ایک دوسرے کی مخالف جھت میں جارھے ھوں جبکہ فلسفہ کی کتابو ں میں جب ایک فلسفی کسی مسئلے کی تحلیل کرتا ھے تو فقط عقلی نقطھٴنظر کو مد نظر رکھتے ھوئے ۔ ایک فلسفی کے لئے ممکن ھی نھیں ھے کہ ایک ھی مسئلے کی تحلیل عقل وقلب دونوںاعتبار سے کر سکے ۔ یھی وجہ ھے کہ عقل فطر ی اور عقل عملی (1صطلاحاً جسے ادراک قلبی ووجدانی بھی کھا جاتا ھے ) کو ایک دوسرے سے جدا رکھا جاتا ھے کیونکہ رو ح انسانی میںان دونو ں حقیقتو ں کی روش مختلف ھے ۔&lt;br /&gt;      نھج البلاغہ کی ایک خا صیت یہ بھی بیان کی گئی ھے کہ جس حد تک انسان وکا ئنا ت کے متعلق حقائق و وا قعات اس کتاب میں ذکر کر دئے گئے ھیں، ان سے بالا تر حقا ئق کا تصو ر بھی نھیں کیا جا سکتا ۔ مثال کے طور پر جھاں زھد وتقویٰ سے متعلق گفتگوکی گئی ھے وھاں ایسا معلوم ھوتاھے کہ یہ جملے اس شخص کی زبان سے جاری ھو رھے ھیں جسکی ساری زندگی صرف اور صرف زھد وپارسا ئی کے درمیان ھی گزری ھے ۔&lt;br /&gt;اسی طرح جن مقا مات پر جنگ اور مقدمات جنگ کے حوالے سے گفتگو کی گئی ھے وھا ں ایسا محسوس ھوتا ھے کہ یہ جملے اس شخص کی زبان سے جاری ھو رھے ھیں جسکی ولادت میدان جنگ میں ھو ئی ھے اور نہ فقط ولا دت بلکہ اس نے جنگ کے دوران ھی اس دنیا سے کوچ کیا ھے ۔&lt;br /&gt;جھا ں حضرت علی (ع) نے دنیا کی بے ثبا تی اور متضا د صفات کا تذکرہ کیا ھے وھا ں محسوس ھو تا ھے کہ گو یا علی (ع) نے دنیا کی خلقت کے او لین مر حلے ھی سے بشر یت کے ساتھ زندگی گزاری ھے اور دنیا کے خاتمے تک تمام حوادث کا بذات خود مشا ھدہ کیا ھے&lt;br /&gt;      مالک اشتر کو حکو مت وسیاست کے اصول تعلیم فر ماتے ھیں تو ایک عام انسانی ذھن خیال کرتاھے کہ روز اول ھی سے امام (ع)نے اپنی زندگی انھیں امور کو انجا م دینے میں گزاری ھے ۔&lt;br /&gt;      آج جب کہ چا رو ں طرف زمانہ میں تمدن وتھذیب کا دور دورا یے ،نھج البلا غہ میں مذکورہ دستورات کے تحت معا شرے کو مکمل طور پر مھذب و متمدن بنا یا جاسکتا ھے ۔&lt;br /&gt;جھا ں لطیف تشبیھات وکنایات کا ذکر فرمایا ھے وھاں محسوس ھوتا ھے گویا آپ کی تمام عمر ادب وفنون لطیفہ کے درمیان گزری ھے ۔تو حید کے ارفع وا علی مبا حث کے متعلق خطبہ ارشاد فرماتے ھیں تو تمام فلسفی گنگ ھو کر رہ جاتے ھیں ۔&lt;br /&gt;مختصراً یہ کہ جس طرح حضرت علی(ع) کی شخصیت ایسی مختلف اور متضادصفا ت کی حامل ھے کہ کسی ایک فرد میں اسکا اجتما ع ممکن نھیں ھے اسی طرح نھج البلاغہ بھی مختلف ومتضا د فردی واجتما عی مسائل وامور کا سمندر اپنے اندر سموئے ھوئے ھے ۔&lt;br /&gt;نھج البلاغہ سے متعلق ایک غورطلب نکتہ یہ بھی ھے کہ بعض سادہ لوح حقیقت سے بے خبریا با خبر لیکن خودغرض افراد یہ سمجھتے ھیں کہ نھج البلاغہ سید رضی (رح) کی تخلیق ھے۔ ھاں! اتنا ضرور ھے کہ حضرت علی (ع) کی زبان سے جاری شدہ بعض الفاظ یا جملے بھی اس میں شامل ھیں ۔اس طرح کے بے بنیا د دعوے ابن خلکان سے شروع ھو ئے اور دوسرے افراد نے اسکی پیر وی کی ھے۔&lt;br /&gt;اولاًسید رضی (رح)کے ذریعے تخلیق کردہ علم وحکمت اور ادب پارے ھما ری دسترس میں ھیں۔ ان کا شعر ی دیو ان بھی کافی مشھور ومعروف ھے ۔ اگر سید رضی(رح) کو درجھٴاول کے شعراء اور ادباء میں فرض بھی کرلیا جائے تو سید رضی (رح)ماھر اقتصادیات و سماجیات یا حکیم وغیرہ نھیں ھیںیعنی حضرت علی(ع)کے سماجی زندگی اور حکمت سے متعلق عام خطبات تک بھی سید رضی (رح)کے ذھن کی رسائی نھیں ھے ۔&lt;br /&gt;ثا نیاً مو جو دہ نھج البلا غہ میں مو جو د آنحضرت(ع) کے خطب ومکتو بات، سےرضی(رح) کی ولا دت سے پھلے ھی سے دوسری کتا بو ں میں بیا ن کئے گئے ھیں ۔ ایسا قطعاًً نھیں ھے کہ نھج البلا غہ سید رضی (رح)کی تخلیق ھے بلکہ فقط تعصب، خود غر ضی اور جھا لت اس بے بنیاد دعوے کا سبب ھیں۔&lt;br /&gt;ثالثاًکون ھے جس نے حضرت علی(ع) کے زمانے سے لیکر سید رضی بلکہ آج تک اس بلند و بالا فصا حت وبلا غت اور مختلف حقائق ومسائل کواس قدر سلیس انداز سے ایک ھی اسلوب میں بیان کیا ھو ؟&lt;br /&gt;ما قبل و ما بعد اسلام عرب میں مو جو د اکثر خطب و مکتو بات تاریخ میں موجو د ھیں اور سینکڑ وں کتابیں اس مو ضو ع پر لکھی گئی ھیں لیکن ایسی ایک کتا ب بھی مشا ھدے میں نھیں آسکی ھے کہ جسکا اسلو ب اور انداز بیان نھج البلا غہ کے درجے تک پھنچ سکے ۔&lt;br /&gt;  کس قدر مضحکہ خیز ھے کہ نھج البلا غہ کے مشھورومعروف خطبے” ان الد نیا دار مجا ز والاخر ة دار قرار “کو معاویہ بن ابوسفیان سے منسوب کیا گیا ھے ۔ ”بیان اور تبیین “ میں جاحظ کے بقو ل معا ویہ کے پاس دنیا پر ستی اور حکو مت پرستی کی وجہ سے اتنی فر صت ھی کھاں تھی کہ ان بلند وبالا مضامین ومطا لب میں اپنا سرکھپا سکتا ۔&lt;br /&gt;اگر ” بیان اور تبیین “ کا مطا لعہ کیا جائے (سید رضی (رح)نے بھی عین عبارت کو نقل کیا ھے ) تو خود بخود وا ضح ھو جائیگا کہ معاویہ جیسے شخص کیلئے محال ھے کہ ان عالی مضامین کے حامل خطبے کو اپنی زبان سے جاری کرسکے ۔&lt;br /&gt;رابعاً سید رضی (رح) جیسی بلند شخصیت سے بعید ھے کہ کسی شخص کے کلام کو کسی دوسرے شخص سے منسوب کرے ۔ بعض مخا لفین اپنے تقلیدی عقائد اور اعتقا دات کو ثابت کر نے کیلئے نہ فقط یہ کہ سید رضی (رح) جیسے عادل شخص کو فا سق اور دروغ گوٹھر اتے ھیں بلکہ حضرت علی (ع) کے والد بزرگوار جناب ابوطالب(ع) اور جناب ابوذر تک کو بھی کفار کی فھرست میں شامل کر دیتے ھیں ۔ ایسے افراد کیلئے سید رضی(رح) کو دروغ گو قرار دینا قطعاً اھمیت نھیں رکھتا کیونکہ تا ریخ میں بعض حضرات کے نزدیک کسی کو درو غ گو ثابت کر دینا بھی ایک فن ھے ۔&lt;br /&gt;خا مساً اگر نھج البلاغہ وا قعی سید رضی(رح) کی تخلیق اور ذھنی کاوشوں کا نتیجہ ھے تو پھر کیوں سیدرضی(رح)نے اسقدر ان کلمات وجملا ت کو ازحداھمیت دی ھے ۔ مثلاًایک خطبے کو نقل کر نے کے بعد سید رضی(رح) تحریر فر ماتے ھیں :” یہ خطبہ گز شتہ صفحات میں بھی نقل کیا جا چکا ھے لیکن روایات کے اختلاف کی بنا پر یھاں اسکو دوبارہ نقل کیا گیا ھے ۔“ یا ” مذکورہ جملے، گز شتہ خطبے میں دوسرے انداز سے نقل کئے گئے تھے لیکن اختلاف کی وجہ سے یھاں دوبارہ نقل کیا جارھا ھے ۔“&lt;br /&gt;نھج البلاغہ کو حضرت علی (ع) سے منسو ب نہ کر نے کی دواھم وجوھات بیان کی گئی ھیں :&lt;br /&gt;(1) ۔ طر فداران حضرت علی (ع) آپ کی برتری ثابت کرنے کیلئے نھج البلاغہ کو بطور مثا ل پیش کرتے ھیں اورنتیجتاً کھتے ھیں :” اگر دوسرے افراد بھی حضرت علی (ع) ھی کی طرح بلند مقامات و مناصب کے حامل تھے تو نھج البلا غہ کا کم ازکم ایک تھائی یا چو تھا ئی حصہ ھی ان سے نقل کیا گیا ھو تا ۔ دوسرے الفاظ میں علی (ع) کے پا س نھج البلاغہ جیسا شاھکار ھے، دوسرو ں کے پاس کیا ھے ؟“&lt;br /&gt;(2) ۔ حضرت علی (ع) نے نھج البلاغہ میں اکثر مقا مات پر گز شتہ افراد کے متعلق اپنی ناراضگی اور عدم رضایت وا ضح طورپربیان کی ھے اور یھیں سے واضح ھو جاتا ھے کہ حضرت(ع) کے بارے میںرسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فر ما ئشا ت کو ز مانے نے فرا موش کر دیا تھا ۔&lt;br /&gt;نھج البلاغہ حضرت علی(ع)سے صادر ھوئی ھے اس کے لئے عمدہ تر ین اور بھتر ین دلیل یھی ھے کہ تاحال نھیں سناگیا ھے بلکہ غیر ممکن ھے کہ کوئی دعوی کرے کہ نھج البلاغہ کا کوئی بھی خطبہ یا مکتوب امیرالمو منین (ع) سے صادر نھیں ھواھے کیو نکہ تمام شیعہ وسنی محدثین ومورخین اس پر متفق ھیں کہ نھج البلاغہ کا کم از کم کچہ حصہ تو حتمی اور یقینی طور پر حضرت علی (ع) سے صا در ھواھے اور اگر کو ئی شخص محد ثین و مور خین کے اس اتفاق کی تصدیق کردے ( اس بات سے انکار فقط اسی صورت میں کیا جاسکتا ھے جب اسلامی اصول وا حا دیث کو طا ق پر اٹھا کر رکہ دیاجا ئے ) تو اسکو لا محا لہ یہ اقرار کر نا پڑے گا کہ نھج البلاغہ از اول تا آخر حضرت علی (ع) سے صا در ھو ئی ھے کیو نکہ عربی ادبیا ت سے ذرہ برابرآشنائی اورواقفیت رکھنے والا شخص بغیر کسی شک وتر دید کے کھہ دیگا کہ نھج البلاغہ فقط ایک اسلوب اورسبک پرمحیط ھے اور ایک ھی شخص سے صا در ھو ئی ھے۔&lt;br /&gt;اگر خور شید کو بھی اپنی نورافشا نی کی تصدیق کیلئے دوسرے خود غرض افراد کی ضرورت ھوتی تونہ جانے کب کا اس کا ئنات کو الوداع کھہ چکا ھوتا اور کسی مجھو ل ومبھم گوشے میں پوشیدہ ھوکررہ گیاھوتا ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-4592192135810587819?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/4592192135810587819/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=4592192135810587819' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/4592192135810587819'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/4592192135810587819'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_4074.html' title='نھج البلا غہ کتاب حق و حقیقت'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-1017297264179148316</id><published>2010-08-10T14:13:00.000-07:00</published><updated>2010-08-10T14:14:30.997-07:00</updated><title type='text'>اهميت نهج البلاغه</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt; الحمد للہ رب العالمين والصلا والسلام علي سيد الانبيائ والمرسلين و علي آلہ الطاھرين المعصومين&lt;br /&gt;    بغداد کے ايک شريف اور نجيب سادات کے گھرانے ميں ۳۵۹ھ کو ايک بچے نے آنکھ کھولي&lt;br /&gt;آنے والے کا نام سيد محمد رضي رکھا گيااور جب يہ بچہ کچھ سيکھنے کي عمر کو پہنچا تو اُس وقت کے فخرِ تشيع علّامہ شيخ مفيد عليہِ الرحمه نے خواب ديکھا کہ جناب فاطمہ زھرا اپنے دونوں بيٹوں امام حسن و حسين عليہما السلام کے ہمراہ مسجد ميں تشريف لائيں اور فرمايا:&lt;br /&gt; اے شيخ، ميرے اِن بچوں کو علمِ دين پڑھائيں&lt;br /&gt; جناب شيخ مفيد اِس خواب کي تعبير کے بارے سوچ رہے تھے صبح ہوئي تو فاطمہ بنتِ حسين کنيزوں کے جھرمٹ ميں اپنے دو بچوں سيد مرتضي و سيدرضي کے ساتھ مسجد ميں تشريف لائيں شيخ مفيد کو اِس سيدزادي نے وہي خواب والے جملے کہے اور يوں شيخ مفيد کو اپنے خواب کي مجسم تعبير سامنے نظر آئي۔ شيخ کي آنکھوں ميں آنسو بھر آئے اور اپنا خواب اُس سيد زادي کو بھي سُنا ديا&lt;br /&gt;شيخ مفيد عليہ الرحمہ کے يہ دونوں شاگرد علمي مراحل طے کرتے رہے سيد رضي نے جواني کي عمر ميں ہی عزت و وقار کي بلنديوں کو پا ليا اور اسي جواني ميں حقائق التاويل ، تلخيص البيان عن مجاز القرآن ، مجازات الآ ثار النبويہ اور خصائص الآئمہ جيسي کتب تصنيف فرمائيں جنہيں بہت شہرت حاصل ہوئي&lt;br /&gt;سيد رضي عليہ الرحمہ خود تحرير فرماتے ہيں کہ ميں نے اوائل عمرانہ جواني کے ايام ميں آئمہ عليہم السلام کے حالات و فضائل ميں ايک کتاب کي تا ليف شروع کي تھي جو آئمہ عليہم السلام کے نفيس واقعات اور ان کے کلام کے جواہر ريزوں پر مشتمل تھي اس کتاب کا وہ حصہ جو اميرالمومنين علي عليہِ السلام کے فضائِلوں سے متعلق تھا وہ مکمل ہوا ليکن حالات نے بقيہ کتاب مکمل نہ ہونے دي جناب امير المومنين کے حالات کي آخري فصل ميں امام سے منقول پند ونصائح ، حکم و امثلہ اور اخلاقيات کے مختصر جملے درج تھےجب احباب و برادرانِ ديني نے ان کلمات کو ديکھا انہوں نے ان پر تعجب و حيرت کا اظہار کيا اور مجھ سے خواہش کي کہ ميں ايک ايسي کتاب ترتيب دوں ، جو امير المومنين عليہِ السلام کے خطبات و خطوط اور نصائح وغيرہ پر مشتمل ہوںچنانچہ ميں نے اس فرمائش کو قبول کيا اور خطبات و خطوط اور مختصر فرامين کو جمع کيا اور اِس کتاب کا نام نہج البلاغہ دیا&lt;br /&gt;جناب امير المومنين عليہِ السلام کے کلمات کو امام کي زندگي ميں آپ کے صحابہ جمع کرتے رہے اور لوگوں کو سناتے رہے امام زين العابدين علیہ السلام کے بيٹے جناب زيد شہيدحضرتِ امير عليہ السلام کے خطبات کو اکثر دہراتے رہے 90 ھ ميں وفات پانے والے زيد بن وھب نے امام کے خطبات کو جمع کيا شاہ عبد العظيم حسني جن کا تہران ميں مزار ہے اور امام علي نقي عليہ السلام کے اصحاب ميں سے تھے انہوں نے جناب امير المومنين علیہ السلام کے خطبات کو ايک کتاب ميں جمع کيا&lt;br /&gt;فرامِينِ امامعلیہ السلام، سيد رضي سے صديوں پہلے جمع ہوتے رہے اور کتابوں کي زينت بنتے رہےمگر نہ معلوم وہ کونسي قبوليت کي گھڑي تھي اور سيد رضي کے خلوص کا کونسا مرتبہ تھا کہ سيد رضي کي ترتيب دي ہوئي کتاب نہج البلاغہ کو وہ شہرت ملي جو کسي اور مجموعہ کو نہ مل سکي اس کتاب کي شہرت کا اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب تک اس کي مکمل يا بعض حصوں کي تين سو سے زيادہ شرحيں لکھي جا چکي ہيں&lt;br /&gt;جامع نہج البلاغہ اس دنيا ميں فقط سينتاليس سال رہے اور 406 ھ کو اس جہان فاني سے کوچ کر گئے مگر نہج البلاغہ جو جنابِ امير المومنين عليہ السلام کي پہچان کا ايک ذريعہ بن گيا وہ ياد ميں چھوڑ گئے جس کي وجہ سے ان کا نام ہميشہ زندہ ہے&lt;br /&gt;آپ کے بڑے بھائي سيد مرتضي علم الہدي نے آپ کے مرثيہ ميں کہا تھا&lt;br /&gt; ’’تمہاري چھوٹي عمر مگر پاک و پاکيزہ عمر کي خوبيوں کا کيا کہنا‘‘&lt;br /&gt;نہج البلاغہ ميں کيا کيا درج ہے اور اس ميں کون کون سے موضوعات بيان ہوئے ہيں اسے صاحبانِ ايمان مطالعہ کر کے جان سکتے ہيں ہمارے ليئے اس کا احاطہ کرنا مشکل ہے کيونکہ سيد رضي کے بقول يہ کلمات علمِ الہي کا عکس و شعاع اور کلامِ نبوي کي خوشبو کے حامل ہيںان کلمات کے کہنے والے نے زہد و تقوي اور جرآت وشجاعت جيسي متضاد صفات کو سميٹ ليا اور بکھرے ہوئے کمالات کو پيوند لگا کر جوڑ ديا&lt;br /&gt;ايک عرب شاعر جناب صفي الدين حلي نے جناب امير المومنين عليہ السلام کے بارے ميں کيا خوب لکھا کہ&lt;br /&gt;’’آپ کي صفات ميں متضاد جمع ہيں آپ کي مثال لانا مشکل ہے؟&lt;br /&gt;آپ زاہد بھي ہيں اور حاکم بھي،حليم بھي ہيں اور شجاع بھي آپ دلير و بہادر بھي ہيں اور عابد و زاہد بھي،آپ فقير بھي ہيں اور سخي بھي۔&lt;br /&gt;آپ ميں ايسي خصلتيں جمع ہيں جو ہر گز کسي بشر ميں اکٹھي نہيں ہوسکتيں اور نہ ان جيسي فضيلتوں کو بندوں ميں تلاش کيا جا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;آپ خلق ومروت ميں ايسے نرم ہيں کہ نسيمِ صبح بھي شرما جائے اور شدت و قوت ميں ايسے ہيں کہ پتھر بھي پگھل جائے؟&lt;br /&gt;آپ کي صفاتِ حميدہ اس سے بلند ہيں کہ اشعار ميں ان کا احاطہ کيا جاسکے يا انہيں کوئي نقاد شمار کر سکے‘‘&lt;br /&gt;نہج البلاغہ کے کلمات اس شخصيت کے رُخِ انور کي جھلک ہے لہذا يہ تمام موضوعات اس کتاب ميں چھلکتے ہوئے نظر آتے ہيں اس کتاب سے عالم و متعلم اپني ضرورتيں پوري کرتا ہے اور صاحبِ بلاغت و تارکِ دنيا بھي اپنے مقاصد حاصل کرتا ہےنہج البلاغہ علم کے بہت سے بند دروازے کھولتا ہے اور راہِ حق کي تلاش کرنے والوں کو منزل کے قريب کرتا ہے&lt;br /&gt;يہ کيوں نہ ہو اس ليئے کہ يہ اس کا کلام ہے جو فرماتے ہيں&lt;br /&gt; ’’ہم اہل بيت سلطنتِ کلام و سخن کے امير و حاکم ہيں‘‘(خطبہ ۲۳۰)&lt;br /&gt;کبھي فرماتے ہيں’’ ہم ہي سے ہدايت کي طلب کي جا سکتي ہے اور ہم سے ہي گمراہي کي تاريکيوں کو دور کرنے کي خواہش کي جا سکتي ہے‘‘(خطبہ۱۴۲)&lt;br /&gt;ان کلمات کا متکلم فرماتا ہے&lt;br /&gt;’’آلِ َ محمد علم کي زندگي اور جہالت کي موت کا سبب ہيں‘‘(خطبہ ۲۳۶)&lt;br /&gt;پھر فرماتے ہيں’’ميں ہي وہ حق پرست ہوں جس کي پيروي کي جانا چاہيئے‘‘(خطبہ ۱۲۰)&lt;br /&gt;ان کلمات سے ہم نے کيا سيکھا ہے اور کيا سيکھنا چاہيئے امام خود فرماتے ہيں&lt;br /&gt;’’ہر ماموم کا ايک امام ہوتا ہے جس کي وہ پيروي کرتا ہے اور جس کے علم کے نور سے روشني حاصل کرتا ہے ديکھو تمہارے امام کي حالت‘‘(خط۴۵)&lt;br /&gt;کيا ہم امام کي پيروي کرتے ہيں؟&lt;br /&gt;ہمارے امام تو وہ ہيں جو فرماتے ہيں&lt;br /&gt;’’جو چاہو مجھ سے پوچھ لو اس سے پہلے کہ مجھے نہ پاؤ‘‘(خطبہ۹۱)&lt;br /&gt;کيا ہم امام کے علمي سرمائے سے کچھ لے رہے ہيں اور امام سے کچھ پوچھ رہے ہيں؟&lt;br /&gt;امام تو توحيد کے اس بلند مقام کو بيان فرماتے ہيں جسے عام آدمي سوچ بھي نہيں سکتا فرمايا&lt;br /&gt;’’کيا ميں اس اللہ کي عبادت کرتا ہوں جسے ميں نے ديکھا نہيں‘‘(خطبہ۱۷۷)&lt;br /&gt;کيا ہم توحيد کي ان باريک ابحاث کو اپنے امام سے سيکھتے ہيں يا امام کے مخالفوں سے؟&lt;br /&gt;امام فرماتے ہيں’’بلاشبہ آئمہ اللہ کے ٹھہرائے ہوئے حاکم ہيں اور اللہ کو بندوں سے پہچنوانے والے ہيں‘‘(خطبہ ۱۵۰)&lt;br /&gt;کيا ہم بھي اللہ کو ان اماموں کے ذريعہ سے پہچانتے ہيں يا غيروں سے؟&lt;br /&gt;رسالت پر ايمان کي بات آتي ہے تو امام فرماتے ہيں&lt;br /&gt;’’ميں نے کبھي ايک لحظہ کے لئے بھي اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے سرتابي نہيں کي‘‘(خطبہ ۱۹۵)&lt;br /&gt;امام فرماتے ہيں ’’يہ دنيا دھوکے باز،نقصان رساں اور بھاگ جانے والي ہے‘‘(کلماتِ قصار ۴۱۵)&lt;br /&gt;کيا ہم امام کے کلمات کو بھلا کر اس دھوکہ باز دنيا کے پيچھے تو نہيں بھاگ رہے؟&lt;br /&gt;آئيے نہج البلاغہ کو پڑھيں&lt;br /&gt;جورج جرداق عيسائي لکھتا ہے ميں نے نہج البلاغہ کو دو سو با ر پڑھا&lt;br /&gt;ابن حديد اہل سنت کا عالم کہتا ہے ميں نے ايک خطبہ ۲۱۸ کو ايک ہزار بار پڑھا&lt;br /&gt;کيا ہم اپنے آپ سے پوچھ سکتے ہيں کہ ہم نے اسے کتني بار پڑھا؟&lt;br /&gt;آئيے نہج البلاغہ کے ذريعے اپنے امام کي صداوں کو غور سے سنيں،امام مدد کے ليئے پکار رہے ہيں جلدي سے لبيک کہيں،امام اتباع کا حکم دے رہے ہيں ہم اتباع ميں تيزي سے قدم بڑھائيںان فرامين کو سمجھيں،اپني زندگيوں ميں اپنائيں اور پھر زمانے بھر کو اپنے امام علي عليہ السلام کا غلام بن کردکھائيں؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6832636511114994731-1017297264179148316?l=fazaelnahjulbalagha.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/feeds/1017297264179148316/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=6832636511114994731&amp;postID=1017297264179148316' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/1017297264179148316'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6832636511114994731/posts/default/1017297264179148316'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://fazaelnahjulbalagha.blogspot.com/2010/08/blog-post_4249.html' title='اهميت نهج البلاغه'/><author><name>نہج البلاغہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/05896441924141081707</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6832636511114994731.post-2402146520031019990</id><published>2010-08-10T14:11:00.000-07:00</published><updated>2010-08-10T14:13:05.534-07:00</updated><title type='text'>عظمت نهج البلاغه( سید العلماءمولانا سید علی نقی صاحب)</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center; font-weight: bold;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;&lt;br /&gt;بسم اللہ الرحمن ا لرحیم&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;الحمد للہ رب العالمین والصلوة والسلام علی سید الا نبیاء والمرسلین واٰلہ الطیبین الطاہرین&lt;br /&gt;نہج البلاغہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ الصلوة والسلام کے کلام کا وہ مشہور ترین مجموعہ ہے جسے جناب سید رضی برادر شریف مرتضیٰ علم الہدیٰ نے چوتھی صدی ہجری کے اواخر میں مرتب فرمایا تھا ۔&lt;br /&gt;۔ اس کے بعد پانچویں صدی کے پہلے عشرہ میں آپ کا ا نتقال ہوگیا ہے اور نہج البلاغہ کے انداز تحریر سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے طویل جستجو کے ساتھ درمیان میں خالی اوراق چھور کر امیرالمومنین کے کلام کو متفرق مقامات سے یکجا کیا تھا، جس میں ایک طویل مدت انہیں صرف ہوئی ہوگی اور اس میں اضافہ کا سلسلہ ان کے آخر عمر تک قائم رہا ہوگا .&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہاں تک کہ بعض کلام جو کتاب کے یکجا ہونے کے بعد ملا ہے ،اس کو تعجیل میں انہوں نے اس مقام کی تلاش کئے بغیر جہاں اسے درج ہونا چاہئے تھا ،کسی اور مقام پر شامل کردیا ہے اور وہاں پریہ لکھ دیا ہے کہ یہ کلام کسی اورروایت کے مطابق اس کے پہلے کہیں پر درج ہوا ہے ۔ یہ انداز جمع وتالیف خود ایک غیر جانبدار شخص کے لئے یہ پتہ دینے کے واسطے کافی ہے کہ اس میں خود سید رضی کے ملکہٴ انشا اورقوت تحریر کا کوئی دخل نہیں ہے ،بلکہ انہوں نے صرف مختلف مقامات سے جمع آوری کرکے امیر المومنین کے کلام کو یکجا کردینے پراکتفا کی ہے یہ پاشانی اور پریشانی جیسے بحیثیت تالیف کے کتاب کا ایک نقص سمجھنا چاہئے ۔ مقام اعتبار میں اس پر اعتماد پیدا کرنے والا ایک جوہر ہوگیا ہے ۔ انہوں نے مختلف نسخوں اورمختلف راویوں کی یادداشت کے مطابق نقل الفاظ میں اتنی احتیاط کی ہے کہ بعض وقت دیکھنے والے کے ذوق پر بار ہوجاتا ہے کہ اس عبارت کے نقل کرنے سے فائدہ ہی کیا ہوا جبکہ ابھی ابھی ہم ایسی ہی عبارت پڑھ چکے ہیں جیسے ذم اہل بصرہ میں اس شہر کے غرقابی کے تذکرے میں اس کی مسجد کا نقشہ کھینچنے میں مختلف عبارات کبھی نعامة، جاثمة اورکبھی کجوء جوء طیر فی لجة بحر اوراس سے ملتے جلتے ہوئے اور الفاظ ،یہ اسی طرح کا اہتمام صحت نقل میں ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جیسے موجودہ زمانہ میں اکثر کتابوں کی عکس تصویر شائع کی جاتی ہے جس میں اغلاط کتابت تک کی اصلاح نہیں کی جاتی اور صرف حاشیہ پر لکھ دیا جاتاہے کہ بظاہر یہ لفظ غلط ہے صحیح اس طرح ہونا چاہئے۔ دیکھنے والے کا دل تو ایسے مقام پر یہ چاہتا ہے کہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;"اصل عبارت ہی میں غلطی کو کاٹ کر صحیح لفظ لکھ د ی گئی ہوتی "&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مگر صحت نقل کے اظہار کے لئے یہ صورت اختیار کی جایا کرتی ہے، جیسے قرآن مجید میں بعض جگہ تالیف عثمان کے کاتب نے جو کتابت کی غلطیاں کردی تھیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جیسے لا ذبحنہ میں" لا" کے بعد ایک الف جویقینا غلط ہے،اس لئے کہ یہ لائے نافیہ نہیں،جس کے بعد اذبحنہ فعل آئے ، بلکه لا م تاکید ہے جس سے اذبحنہ فعل متصل ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مگر اس قسم کے اغلاط کو بھی دور کرنا،بعد کے مسلمانوں نے صحت نقل کے خلاف سمجھا۔ اسی طرح املائے قرآن گویا ایک تعبدی شکل سے معین ہوگیا۔ بعض جگہ "رحمة" کی "ت" لمبی لکھی جاتی ہے ،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بعض جگہ جنّٰت بغیر الف کے لکھا جاتا ہے ۔ بعض جگہ یدعوجیسے فعل واحد میں بھی وہ ا لف لکھا ہوا ہے کہ جو جمع کے بعد غیر ملفوظی ہونے کے باوجود لکھا جایا کرتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ان سب خصوصیات کی پابندی ضروری سمجھی جاتی ہے ، جس سے مقصود و ثاقبِ نقل میں قوت پیدا کرنا ہے ۔ اسی طرح علامہ سید رضی نے جس شکل میں جو فقرہ دیکھا اس کو د رج کرنا ضروری سمجھا تاکہ کسی قسم کا تصرف کلام میں ہونے نہ پائے۔ یہ ایک ورایتی پہلو ہے جو اس تصور کو بالکل ختم کردیتا ہے کہ یہ کتاب سید رضی رحمہ اللہ کی تصنیف کی حیثیت رکھتی ہو۔&lt;br /&gt;دوسرا پہلو خطبوں کے درمیان کے ومنہا،ومنہ ہیں، جس میں عموما بعد کا حصہ قبل سے بالکل غیر مرتبط ہوتا ہے بلکہ ایسا بھی ہوا ہے کہ قبل کا حصہ قبل بعثت سے متعلق ہے یا اوائل بعثت سے اوربعد کا حصہ بعد وفات رسول سے متعلق ہے ۔ یہ بھی دیکھنے والے کے ذوق پربار ہوجایا کرتا ہے ۔ مگر اس سے بھی اس مقصد کو تقویت حاصل ہوتی ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگریه سید رضی کاکلام ہوتا تو فطری طورپر اس سے تسلسل ہوتا یاا گر انہیں دو موضوعوں پر لکھنا ہوتا تو اسے وہ دو خطبوں میں مستقل طورپر تحریر کرتے،لیکن وہ کیا کرتے جبکہ انہیں کلام امیر المومنین ہی کا انتخاب پیش کرنا تھا۔ اس لئے جہاں خطبہ کا پہلا جز اور آخر کا جز دو مختلف موضوعوں سے متعلق ہے اور درمیان کا حصہ کسی وجہ سے وہ درج نہیں کررہے ہیں تو نہ وہ اس کو کلام واحد بنا سکتے ہیں نہ مستقل دو خطبے بلکہ انہیں ایک ہی کلام میں و منہا کے فاصلے قائم کر نا پڑتے ہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرا خیال یہ ہے کہ یہ شکل بعض جگہ تو انتخاب کی وجہ سے ہوئی ہے اوربعض جگہ یہ بھی وجہ ہوسکتی ہے کہ سابق میں قلمی کتابوں کے سوا کوئی دوسری شکل مواد کے فراہم ہونے کی نہ ہوتی تھی اور قلمی کتابوں کے اکثر نسخے منحصر بفرد ہوتے تھے۔ اب اگر ان میں درمیان کا حصہ کرم خوردہ ہوگیا ہے یا اوراق ضائع ہوگئے ہیں یا رطوبت سے روشنائی پھیل جانے کی وجہ سے وہ قبل ناقراٴت ہے تو علامہ سید رضی اس موقع پر درمیان کا حصہ نقل کرنے سے قاصر رہے ہیں اور حرص جمع و حفاظت میں انہوں نے اس کے قبل یا بعد یا وسط کے وہ سطور تلاش کئے ہیں جو کسی مستقل مفاد کے حامل ہیں اور اس طرح درمیان کے حصوں میں انہوں نے ومنہا کہہ کر اس کے درج کرنے سے عاجزی ظاہری کی ہے یہ بھی ہے کہ اس وقت علم کا ایک بڑاذخیرہ حفاظ و ادباء و محدثین کے سینوں میں ہوتا تھا ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;فرض کیجئے کسی اپنے استاد اور شیخ حدیث سے علامہ سید رضی نے کسی موقعہ کی مناسبت سے خطبہ کاابتدائی حصہ سن لیا اور انہوں نے اسے فوراً قلم بند کرلیا، پھر دوسرے موقعہ پر انہوں نے ان کی زبان سے اسی خطبہ کے کچھ دوسرے فقرات سنے اور انہیں محفوظ کرلیا اور اتنا موقعہ نہ مل سکا کہ درمیانی اجزاء ان سے دریافت کرکے لکھتے ۔ اس طرح انہوں نے اس کی خانہ پری و منہا کے ذریعہ سے کی ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ بھی اس کی دلیل قوی ہے کہ انہوں نے اصل کلام امیر المومنین کے ضبط وحفظ ہی کی کوشش کی ہے ،قطعاً کوئی تصرف خود نہیںکرنا چاہا۔&lt;br /&gt;تیسرا شاہد اس کا خود جناب رضی کے وہ مختصر تبصرے ہیں جوکہیں کہیں کچھ خطبوں کے بعد انہوں نے اس کلام کے متلعق ا پنے احساسات و تاثرات کے اظہار پر مشتمل درج کردیئے ہیں یا بعض جگہ کچھ الفاظ کی تشریح ضرور سمجھی ہے ۔ ان تبصروں کی عبارت نے ان خطبوں سے متصل ہوکر ہر صاحب ذوق عربی دان کے لئے یہ انداز ہ قطعی طور پر آسان کردیا کہ ان تبصروں کا انشاپرداز وہ ہرگز نہیں ہوسکتا ،جوان خطبوں کا انشاپرداز ہے جس طرح خود علامہ رضی  نے اپنے مایہ ٴ ناز تفسیر حقائق تنزیل میں اعجازِقرآن کے ثبوت میں پیش کیا ہے کہ باوجودیه کہ امیر المومنین کا کلام جو فصاحت وبلاغت میں مافوق البشر ہے مگر جب خود حضرت کے کلام میں کوئی قرآن کی آیت آجاتی ہے تو وہ اس طرح چمکتی ہے جس طرح سنگریزوں میں گوہر شاہوار باکل اسی شکل سے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ا گر چہ علامہ سید رضی اپنے دور کے افصح زمانہ تھے اور ادب عربی میں معراج کمال پر فائز تھے ،مگر نہج البلاغہ میں امیرالمومنین کے کلام کے بعد جب ان کی عبارت آجاتی ہے تو ہردیکھنے والا محسوس کرتا ہے کہ اس کی نگاہ بلندیوںسے گر کر نشیب میں پہنچ چکی ہے، حالانکہ ان عبارتوں میں علامہ سید رضی نے ادبیت صرف کی ہے اور انپی حد بھر اپنی قابلیت دکھائی ہے،مگر سابق کلام کی بندی کو ہر مطالعہ کرنے والے کے لئے ایک امر محسوس کی حیثیت سے ظاہر کردیا ۔ یہ بھی ایک بہت بڑا داخلی شاہد ہے، اس تصور کے غلط ہونے کا وہ علامہ سید رضی کا کلام ہو۔&lt;br /&gt;چوتھا امر:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ ہے کہ جنا ب سید رضی اپنے دور کے کوئی گمنام شخص نہ تھے وہ دینی ودینوی دونوں قسم کے ذمہ دار منصبوں پر فائز تھے یہ دور بھی وہ تھا جومذہب و ملت کے علماء و فضلاء سے بھرا ہوا تھا ۔ بغداد سلطنت عباسیہ کا دارالسلطنت ہونے کی وجہ سے مرکز علم وادب بھی تھا ۔خود سید رضی کے استاد شیخ مفید بھی نہج البلاغہ کے جمع وتالیف کے دور میں موجود تھے اس لئے کہ جنا ب شیخ مفید خو دسید رضی کی وفات کے بعد تک کوموجود رہے ہیں اورشاگرد کا انتقال استاد کی زندگی ہی میں ہوگیا تھا او رمعاصرین کو تو ایک شخص کے متعلق الزامات کی تلاش رہتی ہے۔پھر شریف رضی سے تو خود حکومت وقت کو بھی مخاصمت پیدا ہوچکی تھی۔ اس محضر پردستخط نہ کرنے کی وجہ سے جوفاطمیین مصر کے خلاف حکومت نے مرتب کیا تھا اور جس پر علامہ رضی کے عواقب و نتائج سے بے نیاز ہوکر اس پر دستخط سے انکار کردیا تھا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;علاوہ اس کے کہ اس کردار کا شخص جو صداقت کو ایسے قوی ترین محرکات کے خلاف محفوظ رکھے اس طرح کی چھچھوری بات کر ہی نہیں سکتا کہ وہ ایک پوری کتاب خود لکھ کر امیر المومنین علیه السلام کی جانب منسوب کردے جس کا غلط ہونا علمائے عصر سے مخفی نہیں رہ سکتا تھااور اگر بالفرض وہ ایسا کرتے اس دور میںان کے خلاف علمائے وقت اورارکان حکومت کی طرف سے اس الزام کوشدت سے اچھالا جاتا اور سخت سے سخت نکتہ چینی کی جاتی ۔ حالانکہ ہمارے سامنے خود ان کے عصر کے علما کی کتابیں اور ان کے بعدکے کئی صدی تک کے مصنفین کے تحریرات موجود ہیں ان میں سے کسی میں کمزور سے کمزور طریقہ پربھی ان کے حالات زندگی میں اس قسم کے الزام کا عائدکیا جانا یا اس بارے میں ان پر کسی قسم کی نکتہ چینی کا ہونا موجود نہیں ہے ۔ اس سے ظاہرہے کہ یہ صرف نہج البلاغہ کے بعض مندرجات کوا پنے معتقدات کے خلاف پاکر کچھ متعصب افراد کی بعد کی کارستانی ہے جو انہوں نے نہج البلاغہ کوکلام ِ سید رضی قرار دینے کی کوشش کی ہے ۔ ورنہ خود جناب سید رضی علیٰ اللہ مقامہ کے دور میں اس کے مندرجات کاکلام امیرالمومنین علیه السلام ہونا بالا تفریق فرقہ و مذہب ایک مسلّم چیز تھی اور اسی لئے ان پر اس بارے میں کوئی الزام عائد نہیں کیا جاسکا۔&lt;br /&gt;پانچواں امر:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ ہے کہ سید رضی علی اللہ مقامہ کے قبل ایسا نہیں ہے کہ امیرالمومنین علیه السلام کے خطبوںکا کوئی نام ونشان عالم اسلامی میں نہ پایا جاتا ہو،بلکہ کتب تاریخ وادب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مسلم الثبوت ذخیرہ بحیثیت خطب امیر المومنین علیه السلامکے سید رضی کے قبل سے موجود تھا ۔ چنانچہ مورّخ مسعودی نے جو علامہ سید رض سے مقدم طبقہ میں ہیں بلکہ ان کی ولادت کے قبل وفات پاچکے تھے۔ اس لئے علامہ سید رضی کا دور شباب ہی میں ۴۰۶ھ میں ا نتقال ہوا ہے اور مسعود کی وفات ۳۴۰ھ میں ہوچکی تھی،جس وقت سید رضی کے استاد شیخ مفید ہی نہیں بلکہ ان کے بھی استاد شیخ صدوق محمد بن علی ابن بابویہ قمی بھی زندہ تھے ۔ مسعودی نے اپنی تاریج مروج الذہب میں لکھا ہے کہ:&lt;br /&gt;والذی حفظ الناس عنہ من خطبہ فی سائر مقاماتہ اربعمائہ خطبة و نیف و ثمانون خطبة یوردہا علی البدیہة تد اول الناس ذالک عنہ قولاً و عملاً۔(مروج الذہب،ج۲،ص۳۳،طبع مصر)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;لوگوں نے آپ( حضرت علی ابن ابی طالب -) کی جو خطبے مختلف موقعوںکے محفوظ کر لئے ہیں ، وہ چار سو اسّی سے کچھ زیادہ تعداد میں ہیں ۔ جنہیں آپ نے فی البدیہہ ارشاد فرمایا تھا،جنہیں لوگوں نے نقل قول کے طور بھی بتواتر نقل کیا ہے اور انپے خطب ومضامین میں ان کے اقتباسات وغیرہ سے بکثرت کام بھی لیتے رہے ہیں۔&lt;br /&gt;ظاہر ہے کہ یہ چارسواسّی سے کچھ اوپر خطبے ا گر تمام و کمال یکجا کئے جائیں تو بلا شبہ نہج البلاغہ سے بڑی کتا ب مرتّب ہو سکتی ہے ۔جب یہ ا تنا بڑا ذخیرہ سید رضی کی ولاد ت سے پہلے سے موجود تھا توپھر علامہ سید رضی کو اس کی ضرورت ہی کیا تھی کہ اس ذخیرہ سے کام نہ لیں اورا پنی طرف سے نہج البلاغہ ایسی کتاب کو تحریر کردیں۔ ایسا اس شخص کے لئے کیا جاتا ہے جوگمنام ہو اور جس کا کارنامہ کوئی موجود نہ ہو اور اس کے اخلاف یا منتسبین خواہ مخواہ اس کو نمایا بنانے کے لئے اس کی جانب سے کوئی کارنامہ تصنیف کردیں۔ صرف علامہ مسعودی کا یہ قول ہی اس ذخیرہ کے ثبوت کے لئے کافی تھا ، جبکہ اس سے یہ بھی ثابت ہے کہ وہ ذخیرہ آثار قدیمہ کے طورپر کسی دور و دراز عجائب خانہ یا کسی ایک عالم کے متروکات میں شامل نہیں تھاجس تک رسائی کسی زحمت کی طلبگار ہوتی ہو،بلکہ حفظ الناس اور تداول الناس کے الفاظ صاف بتارہے ہیں کہ وہ عموماً اہل علم کے ہاتھوں میں موجود اورمتداول تھا ۔ اس کے علاوہ دور عباسیہ کے یگانہٴ روزگار کابت عبد الحمید بن یحییٰ متوفیٰ ۱۳۲ھ کا یہ مقولہ علامہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں درج کیا ہے کہ:&lt;br /&gt;"حفظت سبعین خطبة من خطب الاصلع ففاضت ثم فاضت"&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں نے ستر خطبے علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ازبر کئے ہیں،جن کے فیوض وبرکات میرے یہاں نمایاں ہیں۔&lt;br /&gt;اس کے بعد ابن المقفع متوفیٰ ۱۳۲ ھ کا اعتراف ہے جسے علامہ حسن الندوبی نے اپنے ان حواشی میں ، جو کتاب "البیان والاتبیین للجاحظ" پرلکھے ہیں ،وہ ابن مقفع کے بارے میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;الظاہرانہ تخرج فی البلاغة علی خطب الامام علی ولذلک کان یقول شربت من الخطب من ریا ولم اضبط لہا رویا ففاضت ثم فاضت۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;غالباً ابن المقفع نے بلاغت میں امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے خطبوں سے استفادہ کیا تھا اور اسی بناپروہ کہتے تھے کہ میں خطبوں کے چشمہ سے سیراب ہوکر پیا ہے اور اسے کسی ایک طریقہ سے محد ود نہیں رکھا ہے تو اس چشمہ کے برکات بڑھے اورہمیشہ بڑھتے رہے ۔&lt;br /&gt;اس کے بعد ابن نباتہ متوفیٰ ۳۷۴ھ یہ بھی سید رضی سے مقدم ہیں اور ان کا یہ قول ہے :&lt;br /&gt;حفظت من الخطابة کنز الا یزیدہ الانفاق الا سعة و کثرة حفظت ماٴتہ فصل من مواعظ علی ابن ابی طالب۔&lt;br /&gt;میں نے خطابت کا ایک خزانہ محفوظ کیا ہے ،جس سے جتنا زیادہ کام لیا جائے، پھر بھی اس میں برکت زیادہ ہی ہوتی رہے گی۔میں نے سو فصلیں علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے مواعظہ میں سے یاد کی ہیں۔&lt;br /&gt;ابن نباتہ کے اس قول کا بھی ابن ابی حدید نے تذکرہ کیا ہے ۔&lt;br /&gt;رجال کشی میں ابو الصباح کنانی کے حالات میں لکھا ہے کہ زید ابن علی ابن الحسین علیہ السلام کہ جو زید شہید کے نام سے مشہور ہیں اور جن کی شہادت امام جعفر صادقعلیہ السلام کے زمانہٴ امامت میں ہوئی وہ برابر امیرالمومنین علیہ السلام کے خطبوں کوسنا کرتے تھے۔&lt;br /&gt;ابو الصباح کہتے ہیں: کان یسمع منی خطب امیر المومنین علیہ السلام۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ دوسری صدی ھجری کا ذکر ہے اور اس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ ایک ذخیرہ خطبوں کا اس وقت بھی موجود تھا ۔جو مسلّم طور پر حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی طرف نسبت رکھتا تھا۔&lt;br /&gt;رجال کبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ زید ابن وہب جہنی متوفیٰ حدود ۹۰ھ نے جو خود حضرت امیرالمومنین علیہ السلامکے رواة احادیث میں سے ہیں ۔ آپ کے خطبوں کو جمع کیا تھا اوراس کے بعد اورمتعدد افراد ہیں،جنہوں نے سیدرضی کے پہلے حضرت نے خطب و اقوال کو جمع کیا جیسے:&lt;br /&gt;۱۔ ہشام ابن محمد ابن سائب کلبی متوفّیٰ ۱۴۶ھ ان کے جمع و تالیف کا ذکر فہرست ابن ندیم ج،۷، ،ص، ۲۵۱ میں موجود ہے۔&lt;br /&gt;۲۔ ا براہیم ابن ظہیر فرازی،ان کاذکر فہرست طوسی میں یوں ہے :&lt;br /&gt;صنّف کتبا منہا کتاب الملاحم وکتاب خطب علی علیہ السلام۔&lt;br /&gt;متعدد کتابیں تصنیف میں ۔ منجملہ ان کے کتاب الملاحم اور کتاب خطب علی علیہ السلام ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اوررجال نجاشی میں بھی ان کا تذکرہ ہے۔&lt;br /&gt;۳۔ ابو محمد مسعدہ ابن صدقہ عبدی ۔ ان کے متعلّق رجال نجاشی میں ہے:&lt;br /&gt;لہ کتب منہا کتاب خطب امیر المومنین علیہ السلام&lt;br /&gt;ان کے متعدد تصنیفات ہیں ،جن میں سے ایک کتاب خطب علی علیہ السلام ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;۴۔ ابو القاسم عبد العظیم ابن عبد اللہ حسنی، جن کا مزارتہران کے تھوڑے فاصلہ پر شاہ عبد العظیم کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ امام علی نقی علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے ۔ ان کے جمع کردہ خطبوں کاذکر رجال نجاشی میں اس طرح ہے۔&lt;br /&gt;لہ کتاب خطب امیر المومنین علیہ السلام&lt;br /&gt;ان کی ایک کتاب خطب علی علیہ السلام ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;۵۔ ابو الخیر صالح ابن ابی حماد رازی، یہ بھی امام علی - کے اصحاب میں سے ہیں ۔ نجاشی میں ہے :&lt;br /&gt;لہ کتب منہا کتاب خطب امیر المومنین علیہ السلام&lt;br /&gt;منجملہ آپ کی تالیفات کے خطب امیر المومنین علیہ السلام ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;۶۔ علی ابن محمد ابن عبد اللہ مدائنی متوفی ۳۳۵ھ ۔ انہوں نے حضرت کے خطبوں کو اور ان مکاتیب کوجمع کیا،جو حضرت نے اپنے عمال کو تحریر فرمائے تھے ،اس کا ذکر معجم الادبار یاقوت حموی ج۵،ص ۳۱۳ میں ہے ۔&lt;br /&gt;۷۔ ابومحمد عبد العزیز جلودی بصری توفی ۳۳۰ ھ کے تصانیف میں کتاب خطب علی علیہ السلام،کتاب رسائل ،کتاب مواعظِ علی علیہ السلام کتاب خطب علی علیہ السلام فی الملاحم ،کتا ب دعائے علی علیہ السلام موجود ہیں،جن کا تذکرہ شیخ طوسی نے فہرست میں اورنجاشی نے ان کے طویل تصنیفات کے ذیل میں اپنے رجال میں کیا ہے ۔&lt;br /&gt;۸۔ ابو محمدحسن ابن علی ابن شعبہٴ حلبی متوفیٰ ۳۲۰ ھء نے اپنے مشہور کتاب تحف العقول (ص۱۳، طبع ایران) میں امیر المومنین کے کچھ کلمات امثال اور خطب کودرج کرنے کے بعد لکھا ہے :&lt;br /&gt;اننالو استغرقنا جمیع ما وصل الینا من خطبہ وکلامہ فی التوحید خاصةدون ماسواہ من المعانی لکان مثل جمیع ہذا الکتاب۔&lt;br /&gt;اگر ہم وہ سب لکھنا چاہیں ،جو ہم تک حضرت علیہ السلام کے خطبے اور آپ کا کلام صرف توحید کے بارے میں پہنچا ہے علاوہ دوسرے موضوعات کے تو وہ پوری اس کتاب (تحف العقول) کے برابر ہوگا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب مذکورہ بالا تفصیل پر نظر ڈالی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پہلی صدی میں زید بن وہب جہنی نے حضرت کے خطبوں کا ایک مجموعہ تیا ر کیا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دوسری صدی میں عبد الحمید ابن یحییٰ کاتب اور ابن مقفع کے دور میں وہ ذخیرہ مسلّم طورپر موجود تھاا ور اس صدی کے وسطی دورمیں وہ خطبے پڑھے اور سنے جاتے تھے ، جیسا کہ زید شہید کے واقعہ سے ظاہر ہوا او رادباء اس کو زبانی حفظ کرتے تھے ، جیسا کہ عبد الحمید اور ابن مقفّع کے تصریحات سے ظاہر ہوا۔&lt;br /&gt; تیسری صدی میں متعدد مصنفین نے جو جو خطبے ان تک پہنچے تھے،ان کو مدوّن کیا۔ ایسی صورت میں جناب سید رضی کواس کی ضرورت ہی کیا تھی کہ وہ ان تمام ذخیروں کونظر انداز کر کے یہ دماغی کاوش و کاہش گوارا کریں کہ وہ از خود کلام امیر المومنین علیہ السلام کے نام سے کوئی چیز تصنیف کریں۔&lt;br /&gt;چھٹا امر:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ ہے کہ ان تمام ذخیروں کے سابق سے موجود ہونے کے بعد ظاہر ہے کہ علامہ سید رضی کے لئے یہ تو قطعی ممکن نہیں تھا کہ وہ ان تمام ذخائر کو تلّف کرادیتے اور پھر اسی کی ترویج کرتے جو انہوں نے کلامِ امیر المومنین علیہ السلام قرار دیا تھا یہ قطعی ناممکن تھا اگر وہ ذخیرہ کسی ایک مصنّف کے پاس کسی ایک دور ودراز جگہ ہوا ،تو امکان بھی تھا ، جیسا کہ مشہور ہے کہ شیخ ابوعلی سینا نے فارابی کے تمام مصنّفات کوکسی شخص سے حاصل کر کے انہیں تلف کردیا اور ان چیزوں کو اپنی طرف منسوب کر لیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہاں یہ صورت قطعاً ناممکن تھی جبکہ وہ کلام ادباء کے سینوں میں محفوظ تھا۔ اطراف و اقطار عالم اسلامی میں منتشر تھا اور بہت سے مصنّفین اس کی تدوین کر چکے تھے۔پھر جبکہ سید رضی کی تصنیف کے ساتھ ان ذخائر کا موجود ہونا لازمی تھا تو اگر سید رضی کا جمع کردہ کلام اس ذخیرہ سے مختلف ہوتا یا اسلوب بیان میں اس سے جدا ہوتا تووہ تمام ادبائے زمانہ، خطبائے رزوگار، علمائے وقت جو اس کالم کود یکھتے ہوئے، پڑھے ہوئے یا یاد کئے ہوئے تھے،صدائے احتجاج بلند کر دیتے، ان میں تلاطم ہوجاتا اور سید رضیّ تمام دنیا میں اس کی وجہ سے بدنام ہوجاتے ۔ کم از کم کوئی ان کے ہم عصر ادباء میں سے اس کی تنقید ہی کرتا ہوا ایک کتاب ہی اس موضوع پر لکھ دیتا کہ امیرالمومنین علیہ السلام کا جو کلام اب تک محفوظ رہا یہ سید رضی کے جمع کئے ہوئے ذخیرہ سے مختلف ہے خصوصاً جب وہ وجہ جو بعد میں ایک طبقہ کو اس باب میں انکار یا تشکیک کی موجب ہوئی، جس کی تفصیل کسی حد تک آئندہ درج ہوگی۔ وہ ایک مذہبی بنیاد تھی یعنی یہ کہ نہج البلاغہ میں ان افراد کے بارے میں جنہیں سواد اعظم قابل احترام سمجھتا ہے کچھ تعریفات یا انتقادی کلمات ہیں۔&lt;br /&gt;ظاہر ہے کہ نہج البلاغہ سلطنت عباسیہ کے دار السلطنت میں لکھی گئی جو اہل سنت کاعلمی مر کز تھا اس قوت بڑے بڑے علما،حفاظ،ادبا، خطبا،اہل سیر اور محدثین اہل سنت میں موجود تھے اور ان کا جم غفیر خاص بغداد میں موجود تھا اگر امیر المومنین علیہ السلام کے وہ خطبات جو ابن المقفع ،ابن نباتہ ، عبدالحمید ابن یحییٰ، جاحظ اوردیگر مسلّم الثبوت ادباء کے دور میںموجود تھے ، ان تعریضات سے خالی تھے اور اس قسم کے مضامین ان میں نہ تھے ،بلکہ فطری طورپر اس صورت میں اس کے خلاف چیزوں پر انہیں مشتمل ہونا چاہئے تھا،تو اس وقت کے اہل سنت کے علماء اس پر قیامت برپا کردیتے اور اس کے اپنے مذہب کے خلاف ایک عظیم حملہ تصور کر کے پورے طور سے اس کا مقابلہ کرتے اور اس کی دھجیاں اڑادیتے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا،کوئی دھیمی سی آواز بھی اس کے خلاف بلند نہیں ہوئی۔ یہ ا س کا قطعی ثبوت ہے کہ سید رضی کے جمع کردہ مجموعہ میں کوئی نئی چیز نہ تھی بلکہ وہ وہی تھا جو اس کے پہلے مضبوط و مدون،متداول و محفوظ رہ تھا،علماء قطعا اس سے اجنبیت نہ رکھتے تھے بلکہ اس سے مانوس اورا س کے سننے کے اور یاد کرنے کے عادی تھے وہ اس ادبی ذخیرہ کو اس کی ادبی افادیت کے اعتبار سے سر آنکھوں پر رکھتے تھے اور اس تنگ نظری میں مبتلا نہ تھے کہ چونکہ اس میں کچھ چیزیں ہمارے مذہب کے خلاف ہیں ،اس لئے اس کا انکار کیا جائے یا اس سے اجنبیت برتی جائے۔&lt;br /&gt;ساتوںامر :&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ ہے کہ بہت سی کتابیں علامہ سید رضی کے قبل کی اس وقت بھی ایسی موجود تھی،جن میں امیرالمومنین علیہ السلام کے اکثر مواقع کے کلامی خطبات کو کسی مناسبت سے ذکر کیا ہے جیسے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جاحظ متوفی ۲۵۵ ھ کی البیان والتبیین،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ابن قتیبہ دنیوری متوفی ۲۷۶ ھ کی عیون الاخبار و غریب الحدیث،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ابن واضح یعقوبی متوفی ۲۷۸ ھ کی مشہور تاریخ،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ابوحنیفہ دینوری متوفی ۲۸۰ ھ کی لاخبار الطوال،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ابوالعباس المبرد متوفی ۲۸۶ ھ کی کتاب المبرد&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مشہور مورخ ابن جریر طبری متوفی ۳۱۰ھ کی مشہور تاریخ کبیر،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ابن ورید متوفی ۳۲۱ھء کی کتاب المجتنیٰ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ابن عبد ربہ متوفی ۳۲۸ ھ کی عقد الفرید ،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ثقة الاسلام کلینی متوفی ۳۲۹ ھ کی مشہور کتاب کافی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مسعودی متوفی ۳۴۶ ھ کی تاریخ مروج الذہب،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ابو الفرج اصفہانی متوفی ۳۵۶ ھ کی کتاب اغانی ،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ابوعلی قالی متوفی ۳۵۶ ھ کی کتاب النوادر،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شیخ صدوق متوفی ۳۸۱ ھ کی کتاب التوحید اور ان کے دوسرے جوامع حدیث ،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شیخ مفید رحمہ اللہ، متوفی ۳۱۶ ھ ، اگر چہ تاریخ وفات کے اعتبار سے جناب رضی موخر ہیں مگر ان کے استاد ہونے کی وجہ سے طبقةً مقدم ہیں ،ان کی کتاب الارشاد او رکتاب الجمل ،ان تمام کتابوں میں جو حضرت کے خطبے درج ہیں، ان کا جب مقابلہ علامہ سید رضی کے مندرجہ خطب اور اجزاء کلام سے کیا جاتا ہے تو اکثر تووہ بالکل متحد ہوتے ہیں اور نہج البلاغہ میں ایسا درج شدہ کلام اگر کوئی ہے جو ان کتابوں میں درج نہیں ہے یا ان کتابوںمیں کوئی کلام ایسا ہے جونہج البلاغہ میں مذکور نہیں ہے۔ تو اسلوب بیان اورانداز کلام،تسلسل و بلند آہنگی ، جو ش و حقائق نگاری کے لحاظ سے یقیناًمتحد ہوتا ہے جس میں کسی واقف عربیت کو شک نہیں ہوسکتا ۔امیر المومنین کے اس کلام کاجونہج البلاغہ میں درج ہے اس تمام کلام سے جو حضرت کی طرف نسبت دے کر اور دوسری کتابوں میں درج ہے متحد الاسلوب ہونا پھر اس پہلو کے ضمیمہ کے ساتھ جس کا پہلے تذکرہ ہوجگا ہے کہ وہ خود سید رضی کے اس کلام سے جونہج البلاغہ میں بطور مقدمہ یا یہ تبصرہ موجود ہے ۔ بالکل مختلف ہونا ایک غیر جانب دار شخص کے لئے اس کا کافی ثبوت ہے کہ یہ واقعی امیر المومنین ہی کاکلام ہے جسے علامہ سید رضی نے صرف جمع کیا ہے۔&lt;br /&gt;آٹھواں امر :&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ ہے کہ کہ خو د علامہ سید رضی کے معاصرین یا ان سے قریب العہد متعدد لوگوں نے بطور خود بھی کلام امیر المومنین علیہ السلام جمع کرنے کی کوشش کی ہے اور بعض نے اپنی کتابوں کے ضمن میں درج کیا ہے جیسے:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ابن مسکویہ متوفی ۴۲۱ ھء نے تجازب الامم میں ،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;حافظ ابونعیم اصفہانی متوفی ۴۳۰ ھ نے حلیة الاولیا میں،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شیخ الطائفہ ابوجعفر طوسی متوفی ۴۶۰ ھ نے جو شیخ مفید رحمہ اللہ نے تلمذ کی حیثیت سے علامہ رضی  کے ہم طبقہ اور علم الہدیٰ سید مرتضیٰ کے شاگرد ہونے کی حیثیت سے اورنیز سال وفات کے ا عتبار سے ان سے ذرا موخر ہیں ۔ اپنی کتاب ،تہذیب اور کتاب الامالی میں ،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نیز عبد الواحد ابن محمد ابن عبد الواحد آمدی جواسی عصر کے تھے اپنی مستقل کتاب غرر الحکم و دررالکلم جوامیر المومنین علیہ السلام کے مختصر کلمات پر مشتمل ہے او رمصر وصیدا اورہندوستان میں طبع ہوچکی ہے اور اس کا اردومیں ترجمہ بھی ہوچکا ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نیز ابو سعید منصور ابن حسین آبی وزیر متوفی ۴۲۲ھ اپنی کتاب نزہة الادب و نثر الدرر میں جس کا ذکر کشف الظنون باب النون میں اورقاضی ابو عبد الہ محمد بن سلامہ قطاعی شافعی متوفی ۴۵۳ھ جن کی عظیم الشان کتاب اس موضوع پر دستور معالم الحکم کے نام سے ہے اور وہ مصر میں طبع ہوجگی ہے یہ سب تقریبا سید رضی کے معاصرین ہی ہیں۔ ان سب کی کاوشیں ہمارے سامنے موجود ہیں ۔ سوائے ابو سعید منصور کی کتاب کے جس کا کشف الظنون میں تذکرہ ہے باقی یہ سب کتابیں مطبوع و متداول ہیں ۔ ان میں جو کلام مندرج ہے وہ بھی علامہ سید رضی  کے درج کردہ کلام سے عیناً متحد یا اسلوب میں متفق ہی ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھر اگر سید رضی کی نسبت یہ تصور کیا جائے کہ انہوں نے خود اس کلام کو تصنیف کردیا ہے تو ان تمام جامعین اور اپنی کتابوں کے ضمن میں درج کرنے والے دوسرے افراد کو کیا کہا جائے گا ۔ پھر ان کی نسبت بھی یہی تصورکرنا چاہئے، جبکہ ان میں سے سب یا زیادہ افراد یقینا جلالت شان اور ورع وتقویٰ وغیرہ میں علامہ سید رضی سے بالاتر نہیں معلوم ہوتے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب اگر ان سب کی نسبت یہی خیال کیا جائے ، تو خیر علامہ سید رضی تو اشعر الطالبین تھے اورکتب سیرانہیں خود ادبیت اور فصاحت و بلاغت میں معراج کمال پر ظاہر کرتے ہیں ۔ مگران میںسے ہر شخص کی نسبت تو یہ تصور قطعی غلط ہے کہ وہ سب علامہ سید رضی ہی کے ادبی حیثیت سے ہم پایہ تھے پھر ایسے مختلف المرتبہ اشخاص کی ذہنی کا وشوں اور قلمی ثمرات میں اتنا ہی فرق کیوں نہیں ہے ،جو خود ان اشخاص کے مبلغ علمی میں یقینی طورپر پایا جاتا ہے ۔ اشخاص کہ جو کلام کے جمع کرنے والے ہیں ان میں آپس میں زمین و آسمان کافرق اور کلام جو انہوں نے جمع کیا ہے وہ سب ایک ہی مرتبہ ،ایک ہی شان کا اسے دیکھتے ہوئے سوائے ایسے شخص کے جو جان بوجھ کر حقیقت کے انکار کرنے پرتلا ہوا ہواور کسی کو اس میں شک وشبہ بھی باقی نہیں رہ سکتا کہ ان اشخاص کا کار نامہ صرف جمع و تالیف ہی ہے ۔ جس میں ان کے سلیقہ اورذوق کا ااختلاف فقط شان ترتیب اور عنوان تالیف میں نمودار ہوتا ہے ، لیکن اصل کلام میں ان کی ذاتی قابلیت ،ذہانت اور مبلغ علمی اورمعیا رادبی کو ذرہ برابر بھی دخل نہیں ہے ۔&lt;br /&gt;نواں امر :&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ ہے کہ مذکورہ بالا افراد اگر چہ اپنے زمانہٴ حیات کے کچھ حصوں میں علامہ سید رضی سے متحدہیں، مگر ان میں سے متعدد افراد کے سال وفات کو دیکھتے ہوئے یہ یقین ہے کہ ان کا زمانہ جمع وتالیف نہج البلاغہ سے موخر ہے اور اس کے بعد ایک ایسا طبقہ ہے جو بالکل علامہ رضی سے موخّر ہی ہے ۔ جیسے ابن ابی الحدید متوفی ۶۵۵ھ ،سبط ابن جوزی متوفی ۶۰۶ھ اوراس کے بعد بہت سے مصنفین ۔ظاہر ہے کہ علامہ رضی کی کتاب نہج البلاغہ گوشہٴ گمنامی میں اور ان لوگوں سے مخفی نہ تھی۔ ان لوگوں کا محرّک اس جمع و تالیف پر صرف یہ تھا کہ علامہ سید رضی نے انتخاب سے کام لیتے ہوئے یا ماخذوں کی کمی سے یا ان نسخوں کے کرم خوردہ یا ناقص ہونے کی وجہ سے جوان کے پاس تھے، بہت سے اجزائے کلام امیرالمومنینعلیہ السلام کے نقل نہیں بھی کئے تھے۔ اس لئے مصنفین کو مستدرک اور مستدرک درمستدرک کی ضرورت پڑتی رہی، جس کا سلسلہ ماضی قریب میں علامہ شیہ ہادی آل کاشف الغطا تک جاری رہا۔ جنہوںنے مستدرک نہج البلاغہ تحریر فرمایا جونجف اشرف میں طبع ہوچکا ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگر علامہ سید رضی کے قریب العہد یا ان کے بعدکے اہل قلم کو بھی نہج البلاغہ کے مندرجہ کلمات و خطب میں یہ خیا ل ہوتا کہ یہ جناب سید رضی نے تصنیف کرکے اس میں شامل کردیئے ہیں تو وہ سب بالخصوص معاصرین جو کسی رعایت کے لئے کبھی تیا رنہیں ہوتے ،اپنی کتابوں کی وجہ تالیف میں اس کا تذکرہ ضرور سمجھتے چونکہ اس کے قبل جو کتاب امیرالمومنین کے خطبوں پر مشتمل کہہ کر لکھی گئی ہے اس میں آپ کا اصل کلام موجود نہیں ہے ۔ بلکہ وہ ساختہ وپرداختہ اوروضعی ہے ، اس لئے ہمیں ضرورت محسوس ہوئی کہ ہم آپ کا اصلی کلام منظر عام پر لائیں،جبکہ ایسا نہیں ہوا اور یہ بالکل مشاہدہ ہے کہ ایسا نہیں ہوا تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ان سب کے نزدیک علامہ سید رضی نے جو کلام جمع کیا،وہ بلاشبہ کلام امیر المومنین علیہ السلام کی حیثیت سے اس کے پہلے سے مدوّن و متداول تھا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ان کی سید رضی سے شکایت صرف بعض خطبوں کو چھوڑدینے یا احاطہ واستقاضہ نہ کرنے یا شان ترتیب و عنوان تالیف میں کسی مناسب تر صورت کو اختیار نہ کرنے ہی کی تھی جس کے لئے انہوں نے بھی اس بارے میں کوشش ضروری سمجھی،جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اورممکن ہے کہ بعض مصنفین اب بھی کسی خاص ترتیب سے نہج البلاغہ کے مندرجہ خطب کو دےکھنے کے متمنی ہوں ۔ یہ دوسری چیز ہے اورا صل کلام کے بارے میں کسی شک و شبہ کا رکھنا دوسری چیز ہے ۔&lt;br /&gt;دسواں امر:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تلاش کی جاتی ہے کہ نہج البلاغہ کے مندرجہ خطب واقوال کا پتہ اب بھی بعینہ الفاظ نہج البلاغہ کے قبل تالیف شدہ کتابوں میں مل جاتا ہے اور جبکہ اکثر حصہ اس کاقبل کی کتابوں میں مندرج موجود ہے تو تھوڑا سا حصہ اگر دستیاب نہ بھی ہو توایک معتدل ذہن میں اس سے کوئی شک و شبہ پیدا نہیں ہوسکتا ،جبکہ یہ معلوم ہے کہ دنیا میں مختلف حوادث کے ذیل میں کتابوں کے اتنے ذخیرے تلّف ہوئے ہیں جو اگر موجود ہوتے تو یقینا موجودہ ذخائر سے بدرجہازیادہ ہوتے خود تاریخ نے کلام امیر المومنینعلیہ السلام کے جن جمع شدہ ذخیروں کا پتہ علامہ سید رضی کے قبل ہم تک پہنچتا ہے وہی سب اس وقت کہاں موجود ہیں؟ اس لئے اگر بعض مندرجات رائج الوقت کتابوں میں نہیں بھی ملتے تو ذہن یہی فیصلہ کرتا ہے کہ ان کتابوں میں موجود ہوں گے ،جن تک ہماری اس وقت دسترس نہیں ہے ۔ نہج البلاغہ کے مندرج کے ان حوالوں کو پہلے علامہ شیخ ہادی کاشف الغطا نے مستدرک نہج البلاغہ کے اثنائے تالیف ہی میں مدارک نہج البلاغہ کے نام سے مرتّب کیا تھا، جو غالباً مکمل شائع نہیں ہوا ہے اور ایک قابل قدر کوشش رامپور کے ایک سنی فاضل عرشی صاحب نے کی ہے ، جو فاران کراچی میں مقالہ کی صورت میں شائع ہوئی ہے اورمزید تلاش کی جائے تو اس سلسلہ میں مزید کامیابی کا بھی امکان ہے ۔&lt;br /&gt;گیارہواں امر:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;محققین علمائے شیعہ کا رویہ دیکھا جائے تووہ ہر اس کتاب مجموعہ کوجو معصومین علیہم السلاممیں سے کسی کی طرف منسوب ہو بلا چون و چرا صرف اس لئے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوجاتے کہ وہ معصومین علیہم السلامکی جانب منسوب ہے بلکہ وہ پوری فراخ حوصلگی کے ساتھ محققانہ فریضہ کو انجام دیتے ہوئے اگر وہ قابل انکار ہوتا توکھل کر اس کا انکار کردیتے ہیں اوراگر مشکوک ہوتا ہے تو شک وشبہ کا اظہار کردیا کرتے ہیں اور اس طرح بہت سے وہ ذخیرے جو معصومینعلیہم السلام کے نام سے موجود ہیں ۔ مقام اعتبار میں مختلف درجے اختیار کر چکے ہیں مثلا دیوان امیرالمومنینعلیہ السلامبھی تو بطور کلام علی علیہ السلامہی رائج ہے مگر علمائے شیعہ بلا رورعایت اسے غلط سمجھتے ہیں اس سے بالاتردرجہ تفسیر امام حسن عسکری علیہ السلام کا ہے ۔ حالانکہ وہ شہرت میں تقریباً نہج البلاغہ سے کم نہیں ہے اور شیخ صدوق ایسے بلند مرتبہ قدیم محدث نے اس پر اعتماد کیا ہے مگر اکثر علمائے شیعہ اسے تسلیم نہیں کرتے ،یہاں تک کہ ہمارے قریبی دور کے محقق علامہ شیخ محمد جواد بلاغی نے ایک پورا رسالہ اس کے غلط ہونے کے اثبات میں لکھ دیا ہے ،فقہ الرضا، امام رضا علیہ السلام کی طرف منسوب ہے مگر اس کے اعتبار اور عدم اعتبار کی بحث ایک مہتم بالشان علمی مسئلہ بن گئی ہے جس پر مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں ۔اسی طرح جعفریات اور امام رضا علیہ السلام کا رسالہ ذہبیہ وغیرہ کوئی نقد و بحث سے نہیں بچا ہے اس رویہ کے باوجود سید رضی کے بعد سے اس وقت تک کسی دور میں بھی کسی شیعہ عالم کا نہج البلاغہ کے خلاف آواز بلند نہ کرنا اور اس میں ذرہ بھر بھی شک و شبہ کا اظہار نہ کرنا اس کا ثبوت قطعی ہے کہ ان سب کی نظر میں اس کی حیثیت ان تمام مجموعوں سے ممتاز اور جدا گانہ ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نہج البلاغہ کے ہم پلہ اس حیثیت سے اگر کوئی کتاب ہے تو صرف صحیفہ کاملہ جو اسی طرح مسلم طور پر امام زین العابدین علیہ السلام کے کلام کا مجموعہ ہے اورکوئی کتاب اس ذیل میں ان دونوں کے ہم مرتبہ نہیں ہے ۔&lt;br /&gt;مذکورہ بالاوجوہ کا نتیجہ یہ ہے کہ علامہ سید رضی کے بعد تقریباً دوڈھائی سو برس تک نہج البلاغہ کے خلاف کوئی آواز اٹھتے ہوئے معلوم نہیں ہوتی بلکہ متعدد علمائے اہل سنت نے اس کی شرحیں لکھیں جیسے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ابو الحسن ابن ابی القاسم بیہقی متوفی ۵۶۵ ھ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ابن ابی الحدید ۶۵۵ ھ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;علامہ سعد الدین تفتازانی وغیرہ ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;غالباً انہیں علمائے اہل سنت کے شروح وغیرہ لکھنے کا یہ نتیجہ تھا کہ عوام میں نہج البلاغہ کا چرچا پھیلا اور اس کے ان مضامین کے بارے میں جو خلفائے ثلاثہ کے بارے میں ہیں اہل سنت میں بے چینی پیدا ہوئی اور اب آپس میں بحثیں شروع ہوگئیں اور اس کی وجہ سے علما کو اپنے اصول عقائد سنبھالنے کے لئے اور عوام کو تسلی دینے کے لئے نہج البلاغہ کے بارے میں شکوک وشبہات اور رفتہ رفتہ انکار ضرورت پڑی،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;چنانچہ سب سے پہلے ابن خلکان متوفی ۶۸۱ ھ نے اس کو مشکوک بنانے کی کوشش کی اور علامہ سید رضی کے حالات میں یہ لکھا کہ:&lt;br /&gt;قد اختلف الناس فی کتاب نہج البلاغہ المجموعة من کلام علی ابن ابی طالب ہل ہوجمع اواخوہ الرضی و قد قبل انہ لیس من کلام علی ابن ابی طالب و انما الذی جمعہ و نسبہ الیہ ہو الذین وضعہ واللہ اعلم۔&lt;br /&gt;لوگوں میں کتاب نہج البلاغہ کے بارے میں جو امیر المومنین علی ابن ابی طالبعلیہ السلام کے کلام کا مجموعہ ہے اختلاف ہے کہ وہ انہی (سید مرتضیٰ) کا جمع کردہ ہے یا ان کے بھائی سید رضی کا اور بعض کہتے ہیں کہ یہ جنا ب امیرالمومنین علیہ السلامکا کلام ہی نہیں ہے ،بلکہ جسے جامع سمجھا جاتا ہے، اسی کی یہ تصنیف ہے ۔ واللہ اعلم۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;       یہ امر بہت قابل لحاظ ہے کہ نہج البلاغہ کے بارے میں اختلافی آواز ڈھائی صدی کے بعد بھی نہج البلاغہ کے تالیف کے مرکز یعنی بغداد یا ملک عراق کے کسی شہر سے بلند نہیں ہوئی، بلکہ مغربی مملکت جہاں بنی امیہ کی سلطنت تھی اور قیروان و قرطبہ میں جس سلطنت کے زیراثر علماء کی پرورش ہور رہی تھی وہاں ابن خلکان مغربی کی زبان سے یہ آواز بلند ہورہی ہے ظاہر ہے کہ یہ لوگ جنہیں اختلف الناس کہا جارہا ہے یہ مسلمان دارالخلافہ کے کوئی ذمہ دار افراد نہیں ہیں ورنہ اختلف العلماء ، اختلف المحققون،اختلف الادباء ایسے کوئی وقیع الفاظ درج کئے جاتے بلکہ یہ الناس اموی سلطنت کے پرودرہ مملکت مغربیہ کے سنی عوام ہیں جنہیں یہ خبر تک نہیں ہے کہ یہ کتاب سید رضی کی جمع کردہ ہے یا سیدمرتضیٰ کی اور یہ جناب ابن خلکان کا تقیہ ہے کہ وہ خود اپنے اطلاعات کو جو اس کتاب اوراس کے جامع کے بارے میں یقینا ان کو تھے، پیش نہیں کرتے بلکہ عوام کے جذبات کی تسلی کے لئے خود اپنے اطلاعات کوجواس کتاب اور اس کو جامع کے بارے میں یقینا ان کو تھے ، پیش نہیں کرتے بلکہ عوام کے جذبات کی تسلی کے لئے خود انہیں عوام کے اختلافات کی ترجمانی کر دینا مناسب سمجھتے ہیں کہ بعض لوگ اسے سید مرتضیٰ کا جمع کردہ کہتے ہیں اور بعض سید رضی کا اور خود ان کے ضمیر کا فیصلہ پہلے آجاتا ہے کہ جمع کرنے والا کوئی بھی ہو،لیکن ہے وہ کلام امیر المومنینعلیہ السلامہی کا اور پھر عوامی جذبات کو دھچکا پہنچنے کے اندیشے سے وہ بعض ان متعصب مجہول الاسم والرسم اشخاص کے اس عذر کو جواس کے مضامین کے تسلیم کرنے سے گریز کے لئے وہ مقام مناظرہ میں پیش کرتے تھے کہ ہم اسے کلام علیعلیہ السلام یہی تسلیم نہیں کرتے وہ قیل کہہ کے ذکر کر دیتے ہیں کہ بعض ایسا کہتے ہیں کہ یہ امیر المومنین علیہ السلام کا کلام ہے ہی نہیں بلکہ جس نے جمع کیا ہے اسی نے اس کو تصنیف کردیا ہے ۔ یہ خود قیل اس قول کے ضعف کے لئے کافی تھا لیکن خود ان کا ضمیر اس قیل سے چونکہ مطمئن نہیں ہے لہذا آخر میں واللہ اعلم کہہ کے وہ اس میں مزید شک و شبہ کا اظہار کردینا چاہتے ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس سے صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ ابن خلکان اس بارے میں اپنے فیصلہ کو ماحول کے دباؤ سے ظاہر کرنا نہیں چاہتے اور وہ صرف عوام کی باہمی چہ میگوئیوں کا تذکرہ کرکے اپنا دامن بچالے جانا چاہتے ہیں ظاہر ہے کہ اس قسم کی تشکیک کا علمی دنیا میں کوئی وزن ہی نہیں مانا جاسکتا۔&lt;br /&gt;ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بہت ہوتا ہے اگر چہ علامہ ابن خلکان نے اپنے ضمیر کی تحریک سے بہت حد تک اپنے کو نہج البلاغہ کے انکار کی ذمہ داری سے بچایا تھا مگر ان کے ان الفاظ نے بعد والے میدان مناظرہ کے پہلوانوں کو آسانی سے یہ داوٴں بتادیا کہ وہ نہج البلاغہ کے کلام امیر المومنین ہونے کا انکار کردیں چنانچہ اس کے ایک صدی کے بعد ذہبی نے جو اپنے دورکے انتہائی متعصب شخص تھے ،یہ جراٴت کی کہ وہ اس شک کو یقین کا درجہ دے دیں اورانہوں نے سید مرتضیٰ کے حالات میں لکھ دیا کہ:&lt;br /&gt;من طالع کتابہ نہج البلاغہ جزم بانہ مکذوب علی امیرالمومنین نفیہ السب الصریح بل حط علی السیدین ابی بکر و عمر۔&lt;br /&gt;جو شخص ان کی کتاب نہج البلاغہ کو دیکھے وہ یقین کر سکتا ہے کہ امیر المومنین حضرت علی کی طرف اس کی نسبت بالکل جھوٹ ہے ۔اس لئے کہ اس میں کھلا ہوا سب و شتم اور ہمارے دونوں سرداروں ابوبکر و عمر کی تنقیص ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب آپ ذرا اس عجیب رفتار کو دیکھئے کہ تالیف نہج البلاغہ سے دو ڈھائی سو برس بعد یعنی ابن خلکان کے عہد تک توا ختلاف یا شک و شبہ کا بھی نہج البلاغہ کے بار ے میں یہ پتہ نہیں چلتا ۔اس کے بعد ابن خلکان ملک مغرب میں بیٹھ کر عوام الناس کے اختلاف کا اس بارے میں اظہار کرتے ہیں کہ یہ سید رضی کی جمع کردہ کتاب ہے یا سید رضی کی اور ایک ضعیف قول اس کا بیان کرتے ہیں کہ اس کی نسبت امیر المومنین علیہ السلامکی جانب غلط ہے اورپھر واللہ اعلم کہہ کر اس تغلیط کو مشکوک کرتے ہیں ۔ یہ اس وقت جبکہ قرب عہدکی وجہ سے پھر بھی ذرائع اطلاع زیادہ ہوسکتے تھے اور اس کے ایک صدی کے بعد ذہبی پہلے تو بیک گردش قلم اس اختلاف کو جوجامع کے بارے میں تھا ، ختم کر کے اسے سید مرتضی کا کارنامہ قرار دے دیتے ہیں اور پھر اس کے شک کو یقین کا درجہ دے کر یہ کہتے ہیں کہ جو بھی نہج البلاغہ کا مطالعہ کرے و ہ ایسا ہی یقین کرے گا، اس کے معنی یہ ہیںکہ ان کے وقت تک تین سو برس میں گویاکسی نے اس کتاب کا مطالعہ ہی نہ کیا تھا یا انہیں کوئی ا یسی عینک ملی ہے جواس سے پہلے کسی کے پاس نہ تھی اور اب وہ اسی عینک سے اپنے دور کے بعد ہرشخص کونہج البلاغہ کے مطالعہ کی دعوت دے رہے ہیں وہ عینک کیا ہے اسے خود اپنے آخر کلام میں درج کردیتے ہیں ۔علمی حیثیت سے اصول روایت کے لحاظ سے تنقیدی قوانین کے پیش نظر انہیں چاہئے تھا کہ اس کی نسبت غلط ہونے کے ثبوت میں امیر المومنین علیہ السلام کا وہ مسلّم کلام پیش کرتے جو سید رضی کے علاوہ دوسرے مستند ماخذوں سے ان کے نزدیک مسلم ہوتا اوروہ سید رضی کے مندرجہ مضامین سے مختلف ہوتا خود سید رضی کے زمانہ والے مصنفین کے انتقادات کا حوالہ دیتے کہ انہیں نے بھی اسے غلط قرار دیا ہے ۔ اس تین سوبرس کی مدت میں دوسرے علما و ناقدین نے جو کچھ اس کی ردوقدح کی ہوتی اسے پیش کرتے مگر ان کے جیب و دامن تحقیق میں کوئی ایسی سند موجود نہیں ہے ۔ان کی دلیل اس نسبت کے یقینی طورپر جھوٹ ہونے کی صرف یہ ہے کہ اس میں ان کے دوسرداروں کی تنقیص ہے ۔کیا علمی دنیا میں اس دلیل کی کوئی قیمت ہوسکتی ہے ۔یہ بالکل ایسا ہے جیسے قرآن نازل ہونے کے چند صدی بعد کوئی طبقہ مشرکین کا قرآن کے کلام الٰہی ہونے کاصرف اس لئے انکار کرے کہ اس میں ان کے اللہ کے خلا ف تنقیص ومذمت کی آیتیں ہیں حقیقت یہ ہے کہ حقیقت کو اپنے جذبات کا تابع بناکر اگر چانچا جائے ، توکوئی حقیقت باقی ہی نہیں رہ سکتی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;"لو اتبع الحق اہوائہم لفسدت السموات والارض"&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس دروازہ کے کھل جانے کے بعد تمام اصول رویات ودرایت معطل وبیکار ہوجاتے ہیں۔ اس لئے کہ ہر عقیدہ اور خیال کا انسان پھر ہر قوی سے قوی نص کو صرف اس بناپر رد کردے گا کہ وہ اس کے عقیدہ اور حیال کے خلاف ہے ،جہاں تک خلفائے ثلاثہ کے مقابل میں شیعوں کے استدلال کا تعلق ہے وہ احادیث رسول یہاں تک کہ صحاح ستہ میں درجہ شدہ اخبار و احادیث سے بھی اس میں تمسک کرتے ہیں اور نہج البلاغہ کے مندرجات سے کچھ وہ احادیث پیغمبر سے فائدہ نہیں اٹھاتےمحتاط اور علمی اصول کے کسی حد تک پابندعلمائے اہل سنت کا یہ طریقہ رہا کہ وہ ان احادیث کے مضامین و مطالب کے تاویلوں سے ہمیشہ کام لیتے رہے اور بالکل ان احادیث کے انکار کی جراٴت نہیں کی ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مناظرانہ ضرورتوں سے انکار نصوص کا یہ رجحان جس کا مظاہرہ ذہبی نے کیا ہے یہ بڑھتے بڑھتے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے زمانہ میں یہاں تک آیا کہ شروع شروع عیسائی مبلّغین سے مناظرہ میں انہیں وفات مسیح کے خیال کو پیش کرنے کی ضرورت ہوئی۔ صرف اس جذبہ کے ما تحت کہ جنا ب عیسیٰ علیہ السلام کی یہ ایک طرح کی فضیلت عیسائی پیش کرتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں ،لہٰذا اس کو ختم کرنا چاہئیں ۔انہوں نے اس مناظرانہ ترکیب کو اصل قرار دیا اور پھر جواسلامی نصوص اور منتفق علیہ احادیث اس بارے میں تھے ان کا انکار کردیا او ر آخر میں خود ان کے دعوائے مسیحیت کے لئے ایک راستہ بن گیا،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہی جذبہ ترقی کرکے اب اہل قرآن کے ہاتھوں ،جن کی نمائندگی کی طلوع اسلام وغیرہ کررہے ہیں ،یہاں تک پہنچاہے کہ وہ یہ دیکھتے ہوئے کہ طبری اوردوسرے مفسرین اورمورخین سب کے یہاں کچھ نہ کچھ شیعوں کے موافق باتیں موجود ہیں ،اس لئے کلیةً احادیث تفاسیر اور تواریخ کے اعتبار پر انہوں نے ضر ب لگادی ہے اور ان سب کے انکار کی یہی بنیاد ہے کہ ان لوگوں نے شیعوں کے موافق چیزیں درج کی ہیں لہٰذا یہ سب جھوٹ ہے جو عمارت ایک غلط اساس پرقائم کی جاتی ہے ، اس کا آخری انجام یہی ہوتا ہے ،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کاش یہ لوگ حقیقت کو صر ف حقیقت کے اعتبار سے دیکھتے اور پھر اپنے جذبات کو ا س کے ماتحت لانے کو کوشش کرتے جو ایک عام مسلمان کا فریضہ ایمانی ہے چہ جائیکہ وہ افراد جو اپنے کو علمائے اسلام قراردیتے ہوں یا دنیا میں اس حیثیت سے متعارف ہوں۔&lt;br /&gt;اس کے بعد کی صدیوں میں یہ دروازہ پاٹوں پاٹ کھل ہی گیا تھا ،چنانچہ اب مناظرہ کے میدان کا یہ بہت ہی عام ہتھیار بن گیا کہ جب نہج البلاغہ کا کوئی کلام پیش ہو تو اسے غلط کہہ دیا جائے۔ اس کے بعد پھر موجودہ دور میں تو اوربھی بہت سے جذبات کارفرما ہوگئے ہیں مثلاتجدد پسند طبقے کا یہ رجحان کہ عورت ہر بات میں مرد کے برابر ہے ، جب نہج البلاغہ کے مندرجات سے مجروح ہوتا ہے تو اس جذبہ کے تحفظ کے لئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ حضرت علی کاکلام نہیں ہے اس لئے کہ اس میں عورتوں کی تنقیص ہے اور موجودہ سائنس سے اس کے نظریات کو ٹکراتے ہوئے دیکھا جاتا ہے تو سائنس کو اصل قرار دے کر اس کاانکار کردیا جاتا ہے کہ یہ حضرت علیعلیہ السلامکا کلام ہو ،کبھی اس جذبہ کے ماتحت کہ اس میں ان علوم و فنون کی حقیقتوں کا اظہار ہے جسے بعد والے اپنے وقت کا کارنامہ سمجھتے ہیں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ کلام بعد کی پیداوار ہے ۔ اس لئے کہ اس وقت غرب میں یہ علوم وفنون تھے ہی نہیں ۔ یہاں تک کہ کسی ایک لفظ مثلاً سلطان بمعنی بادشاہ کو حادث قراردے کر اس لفظ کے استعمال کو نہج البلاغہ میں اس کی دلیل بنایا جاتا ہے کہ یہ جناب امیر کی زبان سے نہیں نکل سکتا حالانکہ یہ سب باتیں صرف اپنی خواہشوں کی تکمیل کا ایک بہانہ ہیں اور اپنے مزعومات کو اصل قراردے کر حقیقتوں کو ان کا تابع بنالینے کا کرشمہ ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;           قرآن مجید میں درج شدہ حقائق کب ایسے ہیں جواس وقت کے عربوں کو معلوم ہوں اور احادیث رسول ص کے بہت سے معارف کب اس وقت کی دنیا کو معلوم تھے جو با ب مدینة العلم کے اقوال میں کچھ ایسے علوم و فنون کے ا نکشاف پر تعجب کیا جاتا ہے ظاہر کہ اس شعر سے پہلے اس کے ماخذ کا ہمیں علم نہیں ہوتا ورنہ اس شعر کو ہم سند ہی قراردینے کی کیوں زحمت محسوس کرتے ،تو کیا اس تصور کو حقیقت قرار دے کر کہ اس کے پہلے یہ لفظ کہیں نہیں ہے ،ہم اس شعر کا انکار کردیں گے یا صحیح طریقہ یہ ہوگا اور یہی اصول معمول بہ ہے کہ اس شعر میں اس لفظ کے وجود سے خود ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس لفظ کا زبان عرب میں یہ رواج تھا ، اسی طرح ہم آخر لفظ سلطان میں یہ اصول کیوں اختیار کرتے ہیں کہ ہم اپنے اس مزعومہ کو وحی منزل قراردیں کہ یہ لفظ حادث ہے اورکلام عرب میں موجودنہ تھا خودجناب امیرعلیہ السلام کے کلام اس کا وارد ہونا اس کا ثبوت کیوں نہ ہو کہ یہ لفظ چاہے عام اکثریت کی زبان پر جاری نہ ہو ،لیکن وہ کلیةً مفقود نہیں تھی اوراس کا شاہد یہی کلام امیر المومنینعلیہ السلامکیوں قرار نہ پائے ۔ پھر السلطان کا لفظی طور پر بمعنی ملک قرار دینے کی ضرورت ہے جبکہ وہ بمعنی مصدری یعنی حکومت واقتدار اورغلبہ یقینی موجود تھا اور قرآن مجید میں بھی اس کے نظائر موجود ہیں ذریعہٴ غلبہ ہونے ہی کی بناپر دلیل کو سلطان کہا گیا ہے جس طرح اسی اعتبار سے اس کو حجت کہا جاتا ہے اوریہی معنی مصدری بعد میں اسمی شکل اختیار کر کے بمعنی ملک ہوگئے ہیں تو اس میں کیا دشواری ہے کہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اذا تغیر السلطان تغیر الزمان&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں ہم السلطان کو حاکم کے معنی میں نہیں (بلکہ حکومت واقتداار کے معنی میں لیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;، جو ہماری زبان میں بھی بمعنی حاکم برابر رائج ہے لفظی طورپر یہ معنی نہ کہیں کہ جب بادشاہ بدلتا ہے تو زمانہ بدل جاتا ہے ،بلکہ یہ معنی کہیں کہ جب اقتدار بدلتا ہے تو زمانہ میں بھی تغیر ہوجاتا ہے ، نتیجہ وہی ایک ہے مگر وہ ہمارا مزعومہ بھی اگرہمیں بہت عزیز ہو تو اس صورت میں محفوظ رہتا ہے ۔غرض یہ سب بی بنیاد باتیں ہیں ،جوکسی اصول روایت و درایت پر منطبق نہیں ہوتیں،&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خلفاء کے بارے میں نہج البلاغہ میں ہر گز کوئی ایسی سخت بات نہیں ہے جودوسری کتابوں میںموجود نہ ہو اور جناب امیر علیہ السلامکے ان رحجانات کے مطابق نہ ہو ،جومسلم الثبوت حیثیت سے دوسرے کتب اہل سنت میں بھی موجود ہیں ۔ایسی صورت میں اس قسم کے الفاظ کا حضرت کی زبان پرآنا تو اس کاثبوت ہے کہ وہ آپ کا کلام ہے ۔ ہاں اگر آپ کے واقعی رجحانات کے خلاف اس میں الفاظ ملتے تو اس پر تو غور کرنے کی بھی ضرورت ہوتی کہ وہ کس بناپر ہیں یاانہیں کسی مجبوری کا نتیجہ قراردینا پڑتا جیسے بعض علماء کے خیال کے مطابق للہ بلاء فلان والا خطبہ یہی نوعیت رکھتا ہے مگر وہ کلام جو اپنے متکلم کے خیالات کانمایاں طور پر آئینہ بردار ہو اسے تو کسی حیثیت سے اس متکلم کی طرف نسبت صحیح ماننے میں تامل کا کوئی سبب ہی نہیں ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہی وجہ ہے کہ باوجود ابن خلکان کے اس اظہار تذبذب اور ذہبی کے اس جسارت انکار کے پھر بھی منصف مزاج اور حقیقت پسند علماء و محققین بلا تفریق مذہب و ملت نہج البلاغہ کے مندرجات کو کلام امیر المومنین علیہ السلام مانتے رہے اوراس کا اظہار کرتے رہے جن میں سے کچھ افراد کا جو سردست پیش ر ہیں ذیل میں تذکرہ کیا جاتا ہے ۔&lt;br /&gt;۱۔ علامہ شیخ کمال الدین محمد ابن طلحہ قریشی شافعی متوفی ۶۵۲ھ اپنی کتاب مطالب السوٴل فی مناقب آل الرسول میں جولکھنو میں بھی طبع ہوچکی ہے ۔ علوم امیر المومنینعلیہ السلام کے بیان میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;ورابعہا علم البلاغہ و الفصاحة وکان فیہا امام لا یشق غبارہ و مقدما لا تلحق اثارہ ومن وقف عمی کلامہ المرقوم الموسوم بنہج البلاغة صار الخبر عندہ عن فصاحتہ عیانا والظن بعلم مقامہ فیہ ایقانا۔&lt;br /&gt;چوتھے علم فصاحت و بلاغت آپ اس میں امام کا درجہ رکھتے تھے جن کے گرد قدم تک بھی پہنچناناممکن ہے اور ایسے پیشرد تھے،جن کے نشان قدم کامقابلہ نہیں ہوسکتا اور جوحضر ت کے اس کلام پر مطلع ہو جونہج البلاغہ کے نام سے موجود ہے اس کے لئے آپ کی فصاحت کی سماعی خبرمشاہدہ بن جاتی ہے اور آپ کی بلند ی مرتبہ کا اس باب میں گمان یقین کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دوسر ی جگہ لکھتے ہیں :&lt;br /&gt;النوع الخامس فی الخطب والمواعظ مما نقلتہ الرواة وروتہ الثقات عنہ علیہ السلام قد اشتمل کتاب نہج البلاغہ المنسوب الیہ علی انواع من خطبہ ومواعظہ الصادعة باو امر ہا ونواہیہاالمطلة انوار الفصاحة والبلاغة مشرقة من الفاظہا و معانیہا الجامعة حکم عیون علم المعانی ولابیان علی اختلاف اسالیہا۔&lt;br /&gt;پانچویں قسم ان خطب اورمواعظ کی شکل میں ہے،جس کو راویوں نے بیان کیا ہے اور ثقات نے حضرت سے ان کو نقل کیا ہے اور نہج البلاغہ کتاب جس کی نسبت حضرت یک طرف دی جاتی ہے وہ آپ کے مختلف قسم کے خطبوں اور موعظوں پر مشتمل ہے جو اپنے اوامر و نواہی کو مکمل طورپر ظاہر کرتے اور فصاحت و بلاغت کے انوار کو اپنے الفاظ و معانی سے تابندہ شکل میں نمودار کرتے اور فن معانی و بیان کے اصول اوراسرار کو اپنے مختلف انداز بیان میں ہمہ گیر صورت سے ظاہر کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس میں مندرجات نہج البلاغہ کو معتبر و ثقہ راویوں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے یقینی طور پر کلام امیر المومنینعلیہ السلام تسلیم کیا ہے ایک جگہ جو منسوب کی لفظ ہے ،اس سے کوئی غلط فہمی نہیں ہونا چاہیئے ، وہ بحیثیت مجموعی کتاب بشکل کتاب سے متعلق ہے اوریہ ظاہر ہے کہ یہ کتاب امیرالمومنینعلیہ السلام کی جمع کردہ نہیں ہے ۔کتاب ،تو حقیقتاً سید رضی  ہی کی ہے مگر عوام مجازی طورپر یا ناواقفیت کی نباپر یونہی کہتے ہیں کہ یہ امیر المومنین کی کتاب ہے یہ نسبت اس کلام کے لحاظ سے دی جاتی ہے جو اس کتاب میں درج ہے اور اسی لئے اس محل پر علامہ ابن طلحہ نے منسوب کی لفظ صرف کی ہے جو بالکل درست ہے اس سے اصل کلام کے بارے میں ان کے وثوق و اطمینان کو کوئی دھچکا نہیں پہنچتا۔&lt;br /&gt;۲۔ علامہ ابوحامد عبد لحمید ابن ہبة اللہ المعروف بابن ابی الحدید مدائنی بغدادی متوفی ۶۵۵ ھ جنہوں نے اس کتاب کی مبسوط شرح لکھی ہے وہ حضرت امیر علیہ السلام کے فضائل ذاتیہ میں فصاحت کے ذیل میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;اما الفصاحة فہو امام الفصحاء و سید البلغاء وعن کلامہ قیل دون کلام الخالق و فوق کلام المخلوقین و منہ تعلم الناس الخطابة والکتابة۔&lt;br /&gt;فصاحت کی آپ کا یہ عالم ہے کہ آپ فصحا کے امام اور اہل بلاغت کے سرگروہ ہیں ،آپ ہی کے کلام کے متعلق یہ مقولہ ہے کہ وہ خالق کے کلام کے نیچے اور تمام مخلوق کے کلام سے بالاتر ہے اور آپ ہی سے دنیا نے خطابت و بلاغت کے فن کو سیکھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس کے بعد عبد الحمید بن یحییٰ اورا بن نباتہ کے وہ اقوال درج کئے گئے ہیں ،جن کا تذکرہ ہم پہلے کر چکے ہیں پھر لکھا ہے :&lt;br /&gt;ولما قال محقن ابن ابی محقن لمعاویة جئتک من عند اعیی الناس قال لم و یحک کیف یکون اعیی الناس فواللہ ماسن الفصاحة لقریش غیرہ و یکفی ہذا الکتاب الذی نحن شارحوہ دلالة علی انہ لا یجاری فی الفصاحة ولا یباری فی البلاغة۔&lt;br /&gt;اورجب محقن بن ابی محقن نے (خاشامد میں )معاویہ سے کہا کہ میں سب سے زیادہ گنگ شخص کے پاس سے آیا ہوں معاویہ نے کہا کہ وائے ہو تم پر وہ گنگ کیونکر کہے جاسکتے ہیں حالانکہ خدا کی قسم فصاحت کا راستہ قریش کو سوا ان کے کسی اور نے نہیں دکھایا ہے اور یہی کتاب جس کی ہم شرح لکھ رہے ہیں اس امر کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ حضرت فصاحت میں وہ بلند درجہ رکھتے ہیں کہ کوئی آپ کے ساتھ نہیں چل سکتا اور بلاغت میں آپ کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;علامہ مذکور دوسرے موقعہ پر لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;ابن کثیرا من فصولہ داخل فی باب المعجزات ا لمحمدیة الاشتمالہا علی الاخبار الغیبیة و خروجہا من وسع الطبیعة البشریة۔&lt;br /&gt;اس کتاب کے اکثر مقامات حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کامعجزہ کہے جاسکتے ہیں ۔اس لئے کہ وہ غیبی خبروں پر مشتمل ہیں اور انسانی طاقت کے حدود سے باہر ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;حالانکہ علامہ ابن ابی الحدید اپنے معتقدات میں جوشیعیت کے خلا ف ہیں پورے راسخ ہیں اور اس لئے نہج البلاغہ میں جہاں جہاں ان کے معتقدات کے خلاف چیزیں ہیں ان کو کافی زحمت در پیش ہوئی ہے ،مگر اس کے باوجود کسی ایک مقام پر بھی وہ اس شک وشبہ کا اظہارنہیں کرتے کہ یہ شاید امیر المومنین علیہ السلام کا کلام نہ ہو، بلکہ خطبہ شقشقیہ تک میں جو سب سے زیادہ ان کے جذبات کے خلاف مضامین پر مشتمل ہے وہ اس امر کو بقوت تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ہے علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا کلام اور اس کے خلاف ہر تصور کو دلائل کے ساتھ ردکردیتے ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;انہوں نے خطبہ ہی میں قدم المفضول علی الفاضل خدا نے (معاذ اللہ) کسی مصلحت سے غیر افضل کو افضل پر مقدم کردیا اور اسی طرح خطبہ شقشقیہ وغیرہ کے تشریحات میں انہوں نے اپنے معتقدات کا اظہار کردیا ہے اور امیر المومنین کے الفاظ کو معاذ اللہ آپ کے بشری جذبات کا تقاضہ قراردیا ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ امور اس تصور کو ختم کردیتے ہیں کہ انہوں نے اس کتاب میں اس شیعہ رئیس کی خوشامد مدنظر رکھی ہے جس کے نام پر انہوں نے یہ شرح معنون کی تھی ۔ابن العلقی شیعہ ضرور تھے،مگر وہ سلطنت بنی عباس کے وزیر تھے اوریہ کتاب دولتِ عباسیہ کے سقوط سے پہلے ان کے دور وزارت میں لکھی گئی ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اول اگر خوشامد مدنظر ہوتی تو وزیر کے بجائے خود خلیفہ وقت کے جذبات کا لحاظ کرنا زیادہ ضروری ہوتا ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دوسرے ظاہر ہے کہ سلطنت عباسیہ کے وزیر ہونے کی بناپر خود ابنِ العلقمی بھی کھل کر ایسے شخص کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرسکتے تھے جو حکومت وقت کے مذہب کے موافق کوئی بات کہے نہ وہ خود ہی ایسے جذبات کا علانیہ اظہار کرتے تھے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھر اگر ان کی خوشامد ہی پیش نظر ہوتی تو ابن ابی الحدید اسی کتاب میں شیعیت کی رد کیوں کرتے اور خلافتِ ثلاثہ کوشروع سے لے کر آخر تک بقدر امکان مضبوط کرنے کی کوشش کس لئے کرتے ۔ان کا یہ نظریہ طرز عمل صاف بتارہا ہے کو انہوں نے کتاب میں اپنے حقیقی خیالات اور جذبات کو برابر پیش نظر رکھا ہے وہ اگر نہج البلاغہ کی صحت میں ذراسا شک وشبہ کا بھی اظہار کر دیتے تو وہ اس سے زیادہ ابن العلقمی کے لئے تکلیف دہ نہیں ہوسکتا تھا۔ جتنا خدا کی طرف اس غلط کام کو منسوب کرنا کہ وہ مفضول کو فاضل کو ترجیح دے دیتا ہے یا امیر المومنینعلیہ السلامکے اقوال کو معاذاللہ نفسانیت پر محمول کرنا جوخطبہ شقشقیہ وغیرہ کی شرح میں انہوں نے لکھ ڈالا ہے بلکہ ایک شیعہ کے لئے ان الفاظ کے کلام امیر المومنین علیہ السلامہونے سے انکار کردینا اتنا صدمہ نہیں پہنچاسکتا اور حضرت علی ابن ابی طالب کی اتنی بڑی توہین نہیں ہے جتنا یہ تصور کرنا کہ حضرت نے معا ذاللہ حقیقت کے خلاف صر ف اپنی ذاتی رنجش کے بناپر یہ الفاظ فرمادیئے ہیں۔اس سے صا ف ظاہر ہے کہ ہر گز ابن ابی الحدید کو ابن العلقمی کی کوئی خاطر داری اظہار خیالات میں پیش نظر نہ تھی ا وراس کتا ب پر ابن العلقمی نے اگر کوئی انعام دیا ہو تو یہ صرف ان کے وسعت صدر اوروسعت نظر اور تحمل کاثبوت ہے کہ انہوں نے ایک مخالف مذہب کے ایک علمی کارنامے کی صرف علمی کارنامہ ہونے کی بناپر قدر کی جو کہ ان کے خود عقائد و خیالات سے متضاد مضامین پر بھی مشتمل تھا۔&lt;br /&gt;میرے خیال میں تو ابن ابی الحدید نے اپنی سنیت کو اس کتاب میں اتنا ضرورت سے زیادہ طشت ازبام کیا ہے کہ اس کے ساتھ کسی قسم کی رورعایت کا تصور بھی پیدا ہونا غلط ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;۳۔ ابو السعادات مبارک مجد الدین ابن اثیر جزری متوفی ۶۰۶ھ نے اپنے مشہور کتاب نہایہ میں جواحادیث و آثار کے لغات کی شرح کے موضوع پر ہے کثیر التعداد مقامات پر نہج البلاغہ کے الفاظ کو حل کیا ہے ۔ابن اثیر کی حیثیت فقط ایک عام لغوی کی نہیں ہے بلکہ وہ محدث بھی ہیں اگر صرف ادبی اہمیت کے لحاظ سے ان کوا ن الفاظ کا حل کرنا ہی ضروری تھا تو وہ اس کونہج البلاغہ کانام لکھ کر درج کرتے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھر واقعہ تویہ ہے کہ اگر اس کو وہ کلام امیر المومنین علیہ السلامسمجھتے ہی نہ تو انہیں اس کتاب میں جوصرف احادیث اورآثار کے حل کے لئے لکھی گئی ہے ،ان لغات کو جگہ نہ دینا چاہئے تھی، کیونکہ&lt;br /&gt;(اثر کی تعریف):&lt;br /&gt;(اصطلاحی طور پر اثر صرف صحابہ اورممتاز تابعین کی زبان سے نکلے ہوئے اقوال کو کہتے ہیں )&lt;br /&gt;کسی متاخر عالم کی کتاب کے الفاظ نہ حدیث میں داخل ہیں اور نہ اثر میں ۔ان کا ان الفاظ کو جگہ ہی دینا اس کا ثبوت ہے کہ وہ اس کو سید رضی کاکلام نہیں سمجھتے بلکہ کلام امیر المومنین علیہ السلامقرار دیتے ہیں۔ پھر یہ کہ ان لغات کودرج کرنے میں ہر مقام پر تصریحاً حدیث علی کی لفظ کا استعمال کرتے ہیں ،جیسے لغت جوئی میں منہ حدیثا علی یونہی فتق الاجواء وشق الارجاء میں زیادہ تر ان الفاظ کا تذکرہ حدیث علی کی لفظوں کے ساتھ ہے اورکہیں پر خطبة علی ہے ،جیسے لغت لوط میں فی خطبة علی ولاطہا بالبلة حتی لزبت ایک جگہ لغت ایم میں یہ الفاظ ہیں :&lt;br /&gt;کلام علی مات قیہا وطال تایمہا۔&lt;br /&gt;اسی طرح لغت اسل میں فی کلام علی کے الفاظ ہیںاور ایسے ہی دوایک جگہ اور باقی تمام مقامات کو استقصا کے ساتھ ہم نے اپنی کتاب ”نہج البلاغہ“ کااستناد“ میں درج کیا ہے جو امامیہ مشن لکھنو سے شائع ہوئی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;۴۔ علامہ سعد الدین تفتازانی متوفی ۷۹۱ ئھ شرح مقاصد میں لکھتے ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;واذا ہو افصحلہم لسانا علی مایشہد بہ کتاب نہج البلاغہ۔&lt;br /&gt;حضرت سب سے زیادہ فصیح اللسان بھی تھے ،جس کی گواہی کتاب نہج البلاغہ دے رہی ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;۵۔ جمال الدین ابو الفضل محمد بن مکرم بن علی افریقی مصری متوفی ۷۱۱ھ انہوں نے بھی نہایہ کی طرح اپنی عظیم الشان کتاب لسان العرب میں مندرجہ الفاظ کو کلام علی کہتے ہوئے حل کیا ہے&lt;br /&gt;۶۔ علامہ علاء الدین قوشجی متوفی ۸۷۵ھ شرح تجرید میں قول محقق طوسی افصحہم لسانا کی شرح میں لکھتے ہیں :&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ما یشہد بہ کتاب نہج البلاغہ و قال البلغاء ان کلامہ دون کلام الخالق وفوق کلام المخلوق&lt;br /&gt;کی شاہد ہے۔آپ کی کتاب نہج البلاغہ کا قول ہے کہ آپ کا کلام خالق کے نیچے اور تمام مخلوق کے کلام سے بالاتر ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;۷۔ محمد بن علی بن طباطبائِی معروف بہ ابن طقطقی اپنی کتا ب تاریخ الفخری فی الآداب السلطانیہ والدول الاسلامیہ،مطبوعہ مصر ۹ میں لکھتے ہیں :&lt;br /&gt;عدل ناس الی نہج البلاغہ من کلام امیر المومنین علی ابن ابی طالب فانہ الکتاب الذی یتعلم منہ الحکم والمواعظ والخطب والتوحید والشجاعة والزہد وعلوالہمّة وادنی فوائدہ الفصاحة والبلاغہ۔&lt;br /&gt;بہت سے لوگوں نے کتاب نہج البلاغہ کی طرف توجہ کی جوامیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا کلام ہے ۔ کیونکہ یہ وہ کتاب ہے کہ جسے حکم اورمواعظہ اورتوحید اور زہداو رعلوہمت ،ان تمام باتوں کی تعلیم حاصل ہوتی ہے اور اس کا سب سے ادنی فیض فصاحت و بلاغت ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;۸۔علامہ محدث ملا طاہر فتنی گجراتی ،انہوں نے بھی مجمع بحارالانوار،نہایہ کی طرح احادیث و آثار کے لغات ہی کی شرح میں لکھی ہے اور انہوںنے بھی الفاظ نہج البلاغہ کو کلام امیر المومنین تسلیم کرتے ہوئے ان کی شرح کی ہے ۔&lt;br /&gt;۹۔علامہ احمد بن منصور کازرونی اپنی کتاب مفتاح الفتوح میں امیر المومنین کے حالا ت میں لکھتے ہیں :&lt;br /&gt;ومن تامل فی کلامہ و کتبہ و خطبہ ورسالانہ علم ان علمہ لایوازی علم احد و فضائلہ لا تشاکل فضائل احد بعد محمد صلی اللہ علیہ و سلم ومن جملتہا کتاب نہج البلاغہ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جو حضرت کے کلام اور خطوط او رخطبوں اور تحریروں پرغور کی نگاہ ڈالے اسے معلوم ہوگا کہ حضرت کا علم کسی دوسرے کے علم کی طرح اورحضرت کے فضائل پیغمبر کے بعد کسی دوسرے کے فضائل کے قبیل سے نہیں تھے۔ (یعنی بدر جہازیادہ تھے )اور انہیں میں سے کتاب نہج البلاغہ ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(اس کے معنی یہ ہیں کہ مصنف کے پیش نظر یہ حقیقت تھی کہ حضرت کلام کا ذخیرہ نہج البلاغہ کے علاوہ بھی کثرت کے ساتھ موجود ہے ا ور یہ صرف اس کا ایک جز ہے )&lt;br /&gt;واللہ لقد وقف دونہ فصاحة الفحا وبلاغة البلغاء و حکمة الحکاء۔&lt;br /&gt;اور خدا کی قسم آپ کی فصاحت کے سامنے تمام فصحا کی فصاحت اور بلیغوں کی بلاغت اورحکماء روزگار کی حکمت مفلوج ومعطل ہوکر رہ جاتی ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;۱۰۔ علامہ یعقوب لاہوری شرح تہذیب الکلام میں افصح کی شرح میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;ومن ازاد مشاہدة بلاغتہٖ ومسامعة فصاحتہٖ فلیظر الی نہج البلاغہ ولا ینبیغی ان ینسب ہذا الکلام البلیغ الی رجل شیعی۔&lt;br /&gt;جو شخص آپ کی فصاحت کو دیکھنا اورآپ کی بلاغت کو سننا چاہتا ہو،وہ نہج البلاغہ پرنظر کرے اور ایسے فصیح و بلیغ کلام کو کسی شیعہ عالم کی طرف منسوب کرنا بالکل غلط ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;۱۱۔علامہ شیخ احمد ابن مصطفی معروف بہ طاشکیری زادہ اپنی کتاب شقائق نعمانیہ فی علماء دولة عثمانیہ قاضی قوام الدین یوسف کی تصانیف کی فہرست میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;و شرح نہج البلاغہ اللامام الہامام علی بن ابی طالب کرم اللہ تعالی وجہہ ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;۱۲۔ مفتی دیارمصریہ علامہ شیخ محمد بعدہ متوفی ۱۳۲۳ھ جن کی اس سعی جمیل کے مشکور ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے مصر اور بیروت وغیرہ اہل سنت کے علمی مرکز وں کو نہج البلاغہ کے فیوض سے بہرہ مند بنانے کا سامان کیا اوروہاں کے باشندوں کو ان کے سبب سے اس جلیل القدر کتاب کا تعارف ہوسکا۔ انہوں نے نہج البلاغہ کو اپنے تفسیری حواشی کے ساتھ مصر میں چھپوایا۔ جس کے بہت ایڈیشن اب تک شائع ہوچکے ہیں وہ اپنے اس مقدمہ میں جو شروع کتابت میں درج کیا ہے ،اپنی اس دہشت و حیرت کا اظہار کرتے ہوئے جو نہج البلاغہ کے حقائق آگیں عبارات سے ان پر طاری ہوئی ہے ،تحریر کرتے ہیں:&lt;br /&gt;کان یخیل الی فی کل مقام ان حروباشبت و غارات شنت وان للبلاغة دولة وللفصاحة صولة وان الاوہام عرامة وللریب دعارة و ان جحافل الخطابة و کتائب الذرابة فی عقود النظام و صفوف الانتظام تنافح بالصفیح الا بلبج والقویم الاملج وتمثلج المہج بروائع الحجج فتفل من دعارة الوساوس وتصیب مقاتل الخوانس فما انا الا ولاحق متنصر والباطل منکسر و مروج الشک فی خمود وہرج الریب فی رکود وان مدبر تلک الدولة و باسل تلک الصولةہوحامل لوائہا الغالب امیر المومنین علی ابن ابی طالب بل کنت کلما انتقلت من موضع الی موضع احس بتغیر المشاہد وتحول المعاہد فتا رة کنت اجد نی فی عالم یعمرہ من المعانی ارواح عالیہ فی حلل من العبارات الزاہیة نظرف علی النفوس الزاکیة وقدنومن القلوب اصافیة توحی الیہا رشاردہا وتقوم منہا منادہا و تنفربہا عن مداحض المزال الی جواد الفضل ولکمال وطور اکانت تنکشف لی الجمل عن وجوہ باسرہ وانیاب کاشرح وارواح فی اشباح النمور و مخالب النسور قد نحفزت للوثاب ثم النقضت للاختلاب فخلب القلوب عن ہواہا و اخذت الخواطر دون مرماہاواغتالت فاسد الاہواء وباطل الاراء واحیانا کنت اشہد ان عقلا نورانیا لایشبہ خلقا جسدانیا فصل عن الموکب الالٰہی واتصل بالروح الانسانی فخلعہ عن غاشیات الطبیعة و سمابہ الی الملکوت الاعلی ونمابہ الی مشہد النور الاجلی و سکن بہ الی عمار جانب التقدیس بعد استخلاصہ من شوائب التلبیس و انات کانی اسمع خطیب الحکمة ینادی با علیاء الکلمة واولیاء ا مر الامة یعرفہم مواقع الصواب و یبصرہم مواضح الارتیاب و یحذرہم مزلق الاضطراب ویرشدہم الی دقائق السیاسة و یہدیہم طرق الکیاسة ویرتفع یبہم الی مناضات الریاسة و یصعدہم شرف التدبیر و یشرف بہم علی حسن المصیر۔&lt;br /&gt;"ہر مقام پر( اس کے اثنائے مطالعہ میں ) مجھے ایسا تصور ہورہاتھا کہ جیسے لڑائیاں چھڑی ہوئی ہیں۔ نبرد آزمائیاں ہورہی ہیں ۔بلاغت کا زور ہے اور فصاحت پوری قوت سے حملہ آور ہے ۔ توہمات شکست کھارہے ہیں شکوک و شبہات پیچھے ہٹ رہے ہیں خطابت کے لشکر صف بستہ ہیں ۔طلاقت لسان کی فوجیں شمشیر زنی اورنیزہ بازی میں مصروف ہیں ،وسوسوں کا خون بہایا جارہا ہے اور توہمات کی لاشیں گررہی ہیں اور ایک دفعہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ بس حق غالب آگیا اور باطل کی شکست ہوگئی او شک و شبہ کی آگ بجھ گئی اور تصورات باطل کازورختم ہوگیا اور اس فتح و نصرت کا سہرا اس کے علمبردار اسد اللہ الغالب علی ابن ابی طالب کے سرہے۔ بلکہ اس کتاب کے مطالعہ میں جتنا جتنا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوا میں نے مناظرہ کی تبدیلی اورمواقف کے تغیر کو محسوس کیا کبھی میں اپنے کو ایسے عالم میں پاتا تھا جہاں معانی کی بلند روحیں خوشنما عبارتوں کے جامے پہنے ہوئے پاکیزہ نفوس کے گرد چکر لگاتی اور صاف دلوں کو نزدیک آکر انہیں سیدھے راستے پر چلنے کااشارہ کرتی اور نفسانی خواہشوں کا قلع قمع کرتی اور لغزش مقامات متنفر بناکر فضیلت و کمال کے راستوں کا سالک بناتی ہیں اور کبھی ایسے جملے سامنے آجاتے ہیں جو معلوم ہوتا ہے کہ تیوریاں چڑھائے ہوئے اوردانت نکالے ہوئے ہولناک شکلوں میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ایسی روحیں ہیں جو چیتوں کے پیکروں میں اورشکاری پرندوں میں پنجوں کے ساتھ حملہ پرآمادہ ہیں اور ایک دم شکار پر ٹوٹ پڑٹے ہیںاوردلوں کو ان کے ہوا و ہوس کے مرکزوں سے جھپٹ کر لے جاتے ہیں اور ضمیروں کوپست جذبات سے زبر دستی علیحدہ کردیتے اورغلط خواہشوں اورباطل عقیدوں کا قلع قمع کردیتے ہیں اور بعض اوقات میں جیسے مشاہدہ کرتا تھا کہ ایک نورانی عقل جو جسمانی مخلوق سے کسی حیثیت سے بھی مشابہ نہیں ہے خداوندی بارگاہ سے الگ ہوئی اور انسانی روح سے متصل ہوکراسے طبیعت کے پردوں سے اورمادیت کے حجابوں سے نکال لیا اور اسے عالم ملکوت تک پہنچادیا اورتجلیات ربانی کے مرکز تک بلند کردیا اورلے جاکر عالم قدس میں اس کو ساکن بنادیا اور بعض لمحات میں معلوم ہوتا تھا کہ حکمت کاخطیب صاحبان اقتدار اورقوم کےا ہل حل وعقد کو للکار رہا ہے ا ورانہیں صحیح راستے پر چلنے دعوت دے رہا ہے اور ان کی غلطیوں پر متنبہ کررہا ہے اور انہیں سیاست کی باریکیاں ا ور تدبر و حکمت کےدقیق نکتے سمجھا رہا ہے اور ان کی صلاحیتوں کو حکومت کے منصب اور تدبر و سیاست کی اہلیت پیدا کرکے مکمل بنارہا ہے ۔"&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس میں علامہ محمد عبدہ نے جس طرح یقینی طور پر اس کو کلام امیر المومنینعلیہ السلامتسلیم کیا ہے اسی طرح اس کے مضامین کی حقانیت اوراس کے مندرجات کی سچائی کابھی اعتراف کیا ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ اس کتاب کے مضامین حق کی فتح اورباطل کی شکست اورشکوک واوہام کی فنا اور توہمات ووسواس کی بیخ کنی کا سبب ہیں اور وہ شروع سے آخر تک انسانی روح کے لئے روحانیت و طہارت اور جلال و کمال کی تعلیمات کی حامل ہیں۔&lt;br /&gt;علامہ محمد عبدہ کو نہج البلاغہ سے اتنی عقیدت تھی کہ وہ اسے قرآن مجید کے بعد ہر کتاب کے مقابلہ میں ترجیح کامستحق سمجھتے تھے اور انہوں نے اپنا یہ اعتقاد بتایا ہے کہ جامعہٴ اسلامیہ میں اس کتاب کی زیادہ سے زیادہ اشاعت ہونا اسلام کی ایک صحیح خدمت ہے اور یہ صرف اس لئے کہ وہ امیر المومنین علیہ السلامایسے بلند مرتبہ مصلح عالم کاکلام ہے ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;لیس فی اہل ہذہ اللغة الاقائل بان کلام الامام علی بن ابی طالب ہو اشرف الکلام وابلغ۔ بعد کلام اللہ تعالیٰ و کلام نبیة واغزرہ مادةوارفعہ اسلوبا واجمعہ لجلائل المعانی فاجدر بالطالبین لنفائس اللغة والطامعین فی التدرج لمراقیہا ان یجعلوا ہذا الکتاب اہم محفوظہم و افضل ماثور ہم مع تفہم معانیہ فی الاغراض التی جاء ت لاجلہا و تامل الالفاظہ فی المعانی التی صیغت للدلالة علیہا لیصیبوا بذالک افضل غایة وینتہوا الی خیرنہایة۔&lt;br /&gt;اس عربی زبان والوں میں کوئی ایسا نہیں حو اس کاقائل نہ ہو کہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا کلام کلام خدا و کلامِ رسول کے بعد ہر کلام سے بلند تر زیادہ پر معانی اور زیادہ فوائد کاحامل ہے لہٰذا عربی کے نفس ذخیروں کے طلاب کے لئے یہ کتاب سب سے زیادہ مستحق ہے کہ وہ اسے اپنے محفوظات اور منقولات میں اہم درجہ پر رکھیں اور اس کے ساتھ ان معانی و مقاصد کے سمجھنے کی کوشش کریں ،جواس کتاب کے الفاظ میں مضمر ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ واقعہ ہے کہ علامہ محمد عبدہ کی یہ کوشش پورے طور پر بارآور بھی ہوئی ۔ایسے تنگ نظر کے ماحول میں جبکہ علمی دنیا کا یہ افسوسناک رویہ ہے کہ خود اہل سنت کی وہ کتابیں جو اہل بیت معصومین سے یا حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے متعلق ہیں انہیں زیادہ تر ایران کے شیعی مطبعوںنے شائع کیا ہے مگر مصر و بیروت وغیرہ کے علمی مرکزوں نے انہیں کبھی قابل اشاعت نہ سمجھا۔مثلا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;سبط ابن جوزی کتب سیر میں پوری علمی جلالت سے یاد کئے گئے ہیں مگر ان کی کتاب تذکرہ صرف اس لئے سودِ اعظم کی بارگاہ میں درخور اعتنا نہیں سمجھی گئی کہ اس میں ا ہل بیت رسول ص کے حالات زیادہ ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اسی طرح حافظ نسائی کی خصائص وغیرہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مگر نہج البلاغہ اپنے تمام مندرجات کے باوجود جن سے سواد اعظم کو اختلاف ہوسکتا ہے پھر بھی مصر اور بیروت کے علمی حلقوں میں پوری پوری مقبولیت اورمرکزیت رکھتی ہے اس کے مسلسل ایڈیشن شائع ہوتے ہیں اورمدارس اور یونیورسٹیوں کے نصابوں میں داخل ہے یہ صرف ہندوستان یا پاکستان کی مناظرانہ ذہنیت اور اس کی مسموم فضا ہے کہ یہاں کے مدارس میں اکثر اس کے ساتھ وہ سلوک کیا جاتا ہے جو خالص شیعی کتاب سے ہونا چاہئے علامہ شیخ محمد عبدہ نے نہ صرف اس کتاب پر حواشی لکھ دیئے اور اسے طبع کردیابلکہ وہ اپنی گفتگوؤں میں برابر اس کی تبلیغ کرتے رہتے تھے ۔چنانچہ مجلّة الہلال مصر نے اپنی جلد نمبر ۳۵ کے شمارہٴ اول بابت نومبر ۱۹۲۶ ءء کے صفحہ ۷۸ پر چار سوالات علمی طبقہ کی توجہ کے لئے شائع کئے تھے ۔ جن میں پہلا سوال یہ تھا کہ:&lt;br /&gt;ماہوالکتاب اوالکتب التی طالعتموہا فی شبابکم فافادتکم واکان لہااثر فی حیاتکم&lt;br /&gt;وہ کونسی کتاب یا کتابیں ہیں ،جن کاآپ نے دور شباب میں مطالعہ کیاتو انہوں نے آپ کو فائدہ پہنچایا اور ان کی زندگی پر اثر پڑا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس سوال کا جواب استاد شیخ مصطفی عبد الرزاق نے دیا ہے ،وہ شمارہٴ دوم بابت دسمبر ۱۹۲۶ھ کے صفحہ ۱۵۰ پر شائع ہوا ہے ،اس میں وہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;طالعت بارشاد الاستاذ المرحوم الشیخ محمد عبد ہ دیوان الحماسة ونہج البلاغہ&lt;br /&gt;میں نے استاد مرحوم شیخ محمد عبدہ کی ہدایت سے دیوان حماسہ اور نہج البلاغہ کا مطالعہ کیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;عبد المسیح انطاکی نے ابھی جن کی رائے اس کے بعد آئے گی ،اس کا ذ کر کیا ہے علامہ محمد عبدہ نے مجھ سے فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ انشا پردازی کا درجہ حاصل کرو،توا میر المومنین حضرت علیعلیہ السلامکو اپنا استاد بناؤ اور ان کے کلام کو اپنے لئے چراغ ہدایت قرار دو۔&lt;br /&gt;موصوف کا یہ عقیدہ نہج البلاغہ کے متعلق کہ وہ تمام و کمال امیر المومنین علیہ السلام کا کلام ہے ،اتنا نمایاں تھا کہ ان کے تمام شاکرد جوان کے بعدسے اب تک مصر کے بلند پایہ اساتذہ میں رہے ، اس حقیقت سے واقف تھے ،چنانچہ استاد محمد محی الدین عبد الحمید مدرس کلیہٴ نعمت عربیہ جامعہٴ ازہر جن کے خود خیالات ان کی عبارت میں اس کے بعد پیش ہوںگے ،اپنے شائع کردہ ایڈیشن کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;عسیت ان تسئال رای الاستاذ الامام الشیخ محمد عبدہ فی ذٰلک ہو الذی بعث الکتاب من مرقدہ ولم یکن احد اوسع منہ اطلاغاً ولا ادق تفکیر ا والجواب علی ہذا تساؤل انا نعتقد انہ رحمہ اللہ کان مقتنعاً بان الکتاب کلہ للامام علی رحمہ اللہ&lt;br /&gt;ممکن ہے تم اس بارے میں استاد امام شیخ محمد عبدہ کی رائے دریافت کرنا چاہتے ہوجنہوں نے اس کتاب کو خوابِ گمنامی سے بیدارکیا اور ان سے بڑھ کرکوئی وسعتِ اطلاع اور باریکیٴ نگاہ میں مانا بھی نہیں جاسکتا تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس کتاب کو تمام و کمال امیرالمومنینعلیہ السلام کا کلام سمجھتے تھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;علامہ محمد عبدہ کایہ مقدمہ جس کے اقتباسات ہم نے درج کئے ہیں ،خوددنیائے ادبیت میں کافی اہمیت رکھتا ہے چنانچہ سید احمد ہاشمی نے اپنی کتاب جواہر الادب حصہ اول میں صفحہ ۳۱۷،۳۱۸ پرا سے تمام و کمال درج کردیا ہے اور اس پر عنوان قائم کیا ہے وصف نہج البلاغہ للامام المرحوم الشیخ محمد عبدہ المتوفٰی ۱۳۲۲ ھ۔&lt;br /&gt;۱۳۔ ملک عرب کے مشہور مصنف ،خطیب اور انشاء پرداز شیخ مصطفی غلائینی استاذ التفسیر وانفقہ و الاداب العربیہ فی الکلیہ الاسلامیہ بیروت، اپنی کتاب اریج الزہر میں زیرعنوان نہج البلاغة واسالیب الکلام العربی ایک مبسوط مقالہ کے تحت میں تحریر کرتے ہیں:&lt;br /&gt;من احسن ما ینبغی مطالعتہ لمن یتطلب الاسلوب العالی کتاب نہج البلاغہ للامام علی رضی اللہ عنہ وہو الکتاب الذی انشات ہدا المقال لاجلہ فان فیہ من بلیغ الکلام ولاسالیب المدہشة والمعانی الرائقة ومناحی الموضوحات الجلیلة ما یجعل مطالعہ اذ ازاولہ مزاولة صحیحة بلیغاً فی کتابتہ و خطابتہ ومعانیہ۔&lt;br /&gt;بہترین چیز جس کا مطالعہ بلند معیار ادبی کے طلب گاروں کو لازم ہے،وہ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی کتاب نہج البلاغہ ہے اور یہی و ہ کتاب ہے جس کے لئے خاص طور پر یہ مقدمہ لکھا گیا ہے اس کتاب میں بلیغ کلام اور ششدر کردینے والے طرز بیان اور خوش نما مضامین اورمختلف عظیم الشان مطالب ایسے ہیں کہ مطالعہ کرنے والا اگر ان کی صحیح مزاولت کرے تو وہ اپنی انشاپردازی اپنی خطابت اور اپنی گفتگو میں بلاغت کے معیار پر پورا اتر سکتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس کے بعد لکھتے ہیں کہ اس کتاب سے کثیر التعداد افراد بلکہ اقوام نے استفادہ کیاہے جن میں سے ا یک کاتب الحروف ہے ۔ میں ان تمام افراد کو جوعربی کے بلند اسلوبِ تحریر کے مطالب اورکلام بلیغ کے جویاں ہوں ،اس کتاب کے حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔&lt;br /&gt;۱۴۔ استاد محمد کرد علی رئیس مجمع علمی دمشق نے الہلال کے چار سوالات کے جواب میں ،جن میں سے تیسرا سوال یہ تھا کہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ماہی الکتب تنصحون لشبان لیوم بقراٴتہا۔&lt;br /&gt;وہ کونسی کتابیں ہیں جن کے پڑھنے کی موجودہ زمانہ کے نوجوانوں کو آپ ہدایت کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;اس سوال کے جواب میں لکھا ہے:&lt;br /&gt;اذاطلب البلاغة فی اتم مظاہرہا والفصاحة التی لم تشبہہا عجمة فعلیک بنہج البلاغہ دیوان خطب امیر المومنین علی بان ابی طالب و رسائلہ الی عمالہ یرجع الی فصل الانشاء والمنشئین فی کتابی ”القدیم والحدیث“ (طبع مصر ۱۹۲۵)&lt;br /&gt;اگر بلاغت کا اس کے مکمل ترین مظاہرات کے ساتھ مشاہدہ مطلوب ہواور اس فصاحت کو جس میں ذرہ بھر بھی زبان کی کوتاہی شامل نہیں ہے دیکھنا ہوتو تم کو نہج البلاغہ کامطالعہ کرنا چاہئے ،جو امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے خطب و مکاتب کامجموعہ ہے تفصیل کے لئے ہماری کتاب ”القدیم و الحدیث“ مطبوعہ مصر ۱۹۲۵ء فصل الانشاء والمنشوٴن دیکھنا چاہئے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ جواب الہلال کی جلد نمبر پینتیس کے شمارہ نمبر ۵ بابت ماہ مارچ ۱۹۲۷ء میں صفحہ ۵۷۲ پرشائع ہوا ہے ۔&lt;br /&gt;۱۵۔استاد محمد محی الدین المدرس فی کلیة اللغة العربیة بالجامع الازہر جنہوں نے نہج البلاغہ پر تعلیقات تحریر کئے ہیں اورعلامہ شیخ محمد عبدہ کے حواشی برقرار رکھتے ہوئے بہت سے تحقیقات و شرح کااضافہ کیا ہے اور ان حواشی کے ساتھ یہ کتاب مطبع استقامة مصر میں طبع ہوئی ہے انہوں نے اس ایڈیشن کے شروع میں اپنی جانب سے ایک مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ،جس میں نہج البلاغہ کے استناد و اعتبار پر ایک سیر حاصل بحث کی ہے ۔اس کے ضروری اجزا یہاں درج کئے جاتے ہیں:&lt;br /&gt;"و بعد فہذا کتاب نہج ا لبلاغہ وہو مااختارہ الشریف الرضی ابوا لحسن محمد بن الحسن الموسوی من کلام امیر المومنین علی ابن ابی طالب الذی جمع بین دفیتہ عیون البلاغة وفنونہا و تہیاء ت بہ للناظر فیہ اسباب الفصاحة ودنا منہ قطانہا اذکان من کلام افصح الخلق بعد الرسول صلی اللہ علیہ وسلم منطقا واشدہم اقتدار اوابرعہم حجة واملکہم لغة یدیر ہا کیف شاء الحکیم الذی تصدر الحکمة عن بیانہ والخطیب الذی یملاء القلب سحر لسانہ العالم الذی تھیالہ من خلاط الرسول و کتابة الوحی ولکفاح عن الدین بسیفہ لسانہ منذحداثتہ ما لم یتہیا لاحد سواہ ہذا کتاب نہج البلاغہ وانا بہ حفی منذ طراء ة السن ومیعة الشباب فلقد کنت اجد والدی کثیر القراء ة فیہ وکنت اجد عمی الاکبر یقضی معہ طویل الساعات یردد عباراتہ و یستخرج معانیہا و یتقبل اسلوبہ وکان لہما من عظیم التاثیر علی نفسی ما جعلنی اقفو اثرہما فاحلہ من قلبی المحل الاول واجعلہ سمیری الذی لا یمل واینسی الذی اخلوالیہ اذا عز الانیس۔"&lt;br /&gt;"یہ کتاب نہج ا لبلاغہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے کلام کاوہ انتخاب ہے جو شریف رضی ابو الحسن محمد بن حسن موسوی نے کیا ہے یہ وہ کتاب ہے ،جو اپنے دامن میں بلاغت کے نمایاں جوہر اور فصاحت کے بہترین مرقعے رکھتی ہے اورا یسا ہونا ہی چاہئے کیونکہ وہ ایسے شخص کا کلام ہے ،جو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعدتمام خلق میں سب سے زیادہ فصیح البیان سب سے زیادہ قدرتِ کلام کا مالک اور قوت استدلال میںزیادہ اور الفاظ لغت عربی پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والا تھا کہ جس صورت سے چاہتا انہیں گردش دے دیتا تھا اوروہ بلند مرتبہ حکیم جس کے بیان سے حکمت کے سوتے پھوٹتے ہیں اور وہ خطی جس کے جادو بیانی دلو ں کو بھردیتی ہے وہ عالم جس کے لئے پیغمبر خدا کے ساتھ انتہائی روابط اوروحی کی کتابت اوردین کی نصرت میں شمشیر و زبان دونوں سے جہاد کے ابتدائی عمرسے وہ مواقع حاصل ہوئے جو کسی دوسرے کو ان کے سوا حاصل نہیں ہوئے یہ ہے کتاب نہج البلاغہ! اور میں اپنے عنفوانِ شباب اور ابتدائے عمر ہی سے اس کا گرویدہ رہا ہوں،کیونکہ میں اپنے والد کودیکھتا تھا کہ وہ اکثر اس کتاب کو پڑھتے تھے اور اپنے بڑے چچا کو بھی دیکھتا کہ وہ گھنٹوں پڑھتے رہتے اس کے معانی کو سمجھتے رہتے اور اور اس کے ا نداز بیان پر غور کرتے رہتے اوران دونوں بزرگواروں کا میرے دل پراتنا بڑا اثر تھا،جس نے مجھے بھی ان کے نقش قدم پرچلنے کے لئے مجبور کردیا اور میں اس کتاب کو اپنے قلب میں سب سے مقدم درجہ دے دیا اسے اپنا مونس تنہائی قرار دیا جوہمیشہ میرے لئے دل بستگی کا باعث ہے۔"&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس کے بعد علامہ مذکور نے ان اشخاص کاذکر کیا ہے ،جن کا رجحان یہ ہے کہ وہ اسے شریف رضی کا خود کلام قرار دیتے ہیں ان کے خیالات کاجائزہ لیتے ہوئے موصوف رقم طراز ہیں :&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کہتے ہیں کہ کہ سب سے اہم اسباب جواس کتاب کے کلام امیر المومنینعلیہ السلامنہ ہونے سے متعلق پیش کئے جاتے ہیں،صرف چار ہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پہلے یہ کہ اس میں اصحاب رسول کی نسبت ایسے تعریضات ہیں جن کاحضرت علی علیہ السلام سے صادق ہونا تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے،خصوصا معاویہ ،طلحہ، زبیر، عمرو بن عاص اوران کے اتباع کے بارے میں سب وشتم تک موجود ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دوسرے اس میں لفظی آرائش اور عبارت میں صنعت گری اس حد پر ہے جوحضرت علی علیہ السلام کے زمانے میں مفقود تھی ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تیسرے اس میں تشبیہات واستعارات اورواقعات و مناظر کی صورت کشی اتنی مکمل ہے جس کا پتہ صدر اسلام میں اور کہیں نہیں ملتا،اس کے ساتھ حکمت و فلسفہ کی اصطلاحیں اور مسائل کے بیان میں اعداد کاپیش کرنایہ باتیں اس زمانہ میں رائج نہ تھیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;چوتھے اس کتاب کی اکثر عبارتوںسے علم غیب کے ادعاء کاپتہ چلتا ہے ،جو حضرت علی علیہ السلام ایسے پاکباز انسان کی شان سے بعید ہے ۔&lt;br /&gt;موصوف ان خیالات کو رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;خدا گواہ ہے کہ ہمیں ان اسباب میں سے کسی ایک میں اور ان سب مجموعی طور پر بھی کوئی واقعی دلیل ،بلکہ نماشکل بھی اس دعوے کے ثبوت میں نظر نہیں آتی جو ان لوگوں کا مدعا ہے ،بلکہ انہیں تو ایسے شکوک و شبہات کادرجہ بھی نہیں دیا جاسکتا جو کسی حقیقت کے ماننے میں تھوڑا سادغدغہ بھی پیدا کرسکتے ہوں اورجن کے رفع کرنے کی ضرورت ہو۔پھر انہوںنے ایک ایک کر کے ہر بات کو رد بھی کیا ہے ۔ پہلی بات کے متعلق جو کچھ انہوں نے کہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول کے بعد مسئلہ خلافت میں طرز عمل ہی ایسا اختیار کیا گیاجس سے فطرتاًحضرت علی علیہ السلام کو شکایت ہونا ہی چاہئے تھی اور آپ کی خلافت کے دور میں اہل شام نے آپ کے خلاف جو بغاوت کی ،اس سے آپ کو تکلیف ہونا ہی چاہئے ہر دور کے متعلق آپ کے جس طرح کے الفاظ ہیں وہ بالکل تاریخی حالات کے مطابق ہیں ،اس لئے ا س میں شک و شبہ کیا محل ہے ۔&lt;br /&gt;دوسرے اورتیسری دلیل کا جواب یہ ہے کہ حضرت علیعلیہ السلامکا سامرتبہ فصاحت اور حکمت دونوں میں کسی اور شخص کو حاصل نہیں تھا،تو پھر آپ کے کلام کی خصوصیتیں اس دورمیں کسی اور کے یہاں مل ہی کیونکر سکتی ہیں ،رہ گیا سجع و قافیہ کاالتزام اس دور میں عموماً رائج تھا۔&lt;br /&gt;چوتھی دلیل کے جواب میں علامہ مذکور نے جو کہا ہے وہ ہمارے مذہبی عقائد کے بے شک مطابق نہیں ہے مگر وہ خود ان کے نقطہٴ نظر کاحامل ہے وہ کہتے ہیں کہ جسے علم غیب سے تعبیر کیا جاتاہے ، اسے ہم فراست اورزمانہ کی نبض شناسی کانتیجہ سمجھتے ہیں جو علیعلیہ السلام ایسے حکیم انسان سے بعید نہیں ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جیسا کہ ہم نے کہا،یہ جواب انہوں نے مادی ذہنیت کے مطابق دیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اگر خدا کے دیئے ہوئے علم غیب کا مظاہرہ تو اکثر قرآن کی آیات سے نمودار ہی ہے۔ پھر قرآن کی آیتوں کابھی انکار کرنا چاہئے اور اگر علم الہی کی بناپر آیات کو تسلیم کیا جائے تو اس کے عطا کردہ علم سے علیعلیہ السلام ایسے عالم ربانی کی کلام میں اس طرح کی باتوں کے تذکرہ پر بھی کسی حرف گیر ی کا موقع نہیں ہے ۔&lt;br /&gt;۱۶۔ استاد شیخ محمد حسن نائل المرصفی نے بھی نہج البلاغہ کی ایک شرح لکھی ہے ،جودارالکتب العربیہ سے شائع ہوئی ہے ،اس کے مقدمہ میں کلمة فی اللغة العربیہ کا عنوان قائم کر کے لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;ولقد کان المجلّی فی ہذا الحلبةعلی صلوات اللہ علیہ وما حسبنی احتاج فی اثبات ہذا الی دلیل 
